شیخ صدوق علیہ الرحمہ کے خاندان کے علماء
علم رجال کی کتابوں اور علماء کی تاریخ دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ نبی بابویہ کے خاندان کو گردہ علماء مشائخ میں بر فضل و شرف کا حامل سمجھا جاتا تھا اس لئے کہ ان میں بہت سے علماء اور محدثین اور گروہ امامیہ کے بڑے بڑے فقہا پیدا ہوئے جنہوں نے دین کی خدمت کی اور اپنی تالیفات اور مرویات کے ذریعہ اہل بیت علیهم السلام کے آثار کی حفاظت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا چنانچہ میرزا عبداللہ آفندی اپنی کتاب ریاض العماء میں تحریر فرماتے ہیں کہ وہ یعنی حسین بن علی بابو یہ اور ان کے بھائی اور ان کے صاحبزادے اور نواسے اور پوتے شیخ منتخب الدین صاحب فہرست کے زمانہ میں یہاں تشریف لائے جو سب کے سب اکابر علماء میں سے تھے مگر اس کے بعد شیخ منتخب الدین یہ نہیں لکھتے کہ ان کے حالات کیا تھے اور خود شیخ منتخب الدین علیہ الرحمہ ان کے نواسوں میں سے تھے اور شیخ صدوق علیہ الرحمہ کا سلسلہ تو بظاہر سوائے ان کے فرزند کے اور کوئی عالم نہیں ہوا اور شیخ محقق سلیمانی بحرانی نے بابویہ کی اولاد کی تعداد پر ایک رسالہ تصنیف کر دیا ہے اور اس سے حائری نے اپنی کتاب منبتی المقال میں بہت کچھ نقل کیا ہے مگر مجھ کو وہ رسالہ دستیاب نہ ہو سکا ۔ بس ان میں سے چند کے اسمائے گرامی معلوم ہو سکے جو حقیقت میں گروہ شیعہ کے لئے باعث افتخار ہیں اور آسمان علم کے درخشاں ستارے ہیں ۔
والد بزرگوار
اس کے بعد ان فاضل موصوف نے ان میں سے انہیں (۱۹) علماء کے نام تحریر کئے ہیں اور ان میں سے ایک حسن ابو علی بن حسین بن موسی بن بابویہ ہیں اور وہ صدوق اول سے ملقب ہوئے اور ان دونوں کو ملا کر - صدوقان " کہتے ہیں ۔ اور شہید ثانی علیہ الرحمہ کے پوتے شیخ علی کا قول تھا کہ جب میں صدوقان (دونوں صدوق) کہوں تو اس سے میری مراد دونوں بھائی ہوا کرتے ہیں یعنی محمد اور حسین یہاں تک کہ انہوں نے شہید ثانی کو خواب میں دیکھا آپ نے فرمایا کہ اے فرزند صدوقان (دونوں صدوق) سے مراد محمد اور ان کے والد ہیں نجاشی نے اپنی فہرست ص ۱۸۴ میں ان کے حالات تحریر کئے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ علی ابن الحسین بن موسی بن بابویہ تھی ابو الحسن اپنی عمر بھر قمین کے شیخ ان کے فقیہ اور ان کے سردار رہے یہ عراق گئے اور ابو القاسم بن روح رحمہ اللہ سے ملے ان سے مسائل دریافت کئے وغیرہ وغیرہ جس کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں ۔اور ابن ندیم نے اپنی کتاب الفہرست ہیں صفحہ ۲۷ پر تحریر کیا ہے کہ ابن بابویہ اور ان کا نام علی ابن الحسین بن موئی بن بابویہ کمی ہے شیعوں کے فقہاء اور ثقات میں سے ہیں ۔ اور شیخ طوسی نے اپنی دونوں کتابوں میں یعنی فہرست و رجال میں ان کے حالات تحریر کئے ہیں اور علامہ حلی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب خلاصتہ الاقوال میں ان کا ذکر فرمایا ہے بلکہ تمام ارباب تراجم نے اپنی اپنی کتابوں میں ان کا تذکرہ کیا ہے اور تمام علماء نے اپنے اجازوں میں ان کا نام پیش کیا ہے اور بے حد تعریف کی ہے اور ان کے حالات کا مختصر ذکر ہم اس مقدمہ کے ابتدائی صفحات میں بھی کر چکے ہیں اور یہ کہ اپنے گروہ میں ان کو کتنا بلند مقام حاصل تھا اور ان کے شرف کے لئے تو ان کے نام حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا وہ مکتوب گرامی ہی کافی ہے جس میں آپ نے ان کو یا شیخی ، معتمدی ، فقیمی (اے میرے شیخ اے میرے معتمد اور اے میرے فقیہ) سے خطاب کیا ہے ۔ ہی پہلے وہ شخص تھے جنہوں نے اپنے فرزند کے لئے ایک رسالہ لکھا اس میں سارے اسناد کو ترک کر کے حدیث کے قریب ترین رادی کو لیا اور ان کے بعد جتنے لوگ بھی آئے انہوں نے اس طرز کو بہت پسند کیا اور مسائل میں ان احادیث کی طرف رجوع کیا ان کو علم و دین میں ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے ۔
اساتذہ
آپ کو متعدد مشائخ و اساتذہ فقہ حدیث سے شرف تلمذ حاصل رہا اور ان سے احادیث کی روایت کی جن کے اسمائے گرامی کتاب معانی الاخبار کے مقدمہ میں موجود ہیں جس کی تعداد ۳۷ عدد ہے تفصیل کے لئے اسے دیکھیئے۔
تلامذه
اور جن لوگوں نے آپ سے شرف تلمذ حاصل کیا اور آپ سے روائتیں لیں وہ مشائخ کی ایک جماعت ہے اور اسی مقدمہ میں ان کے نام مذکور ہیں ان کی تعداد دس (۳) ہے اگر ضرورت ہو تو اس مقدمہ کی طرف رجوع کیجئے۔
تعداد تصانیف
آپ کی تالیفات کے متعلق ہم فہرس ابن ندیم میں یہ عبارت پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی کتاب کی ایک جلد کی پشت پر ان کے فرزند محمد بن علی کے ہاتھ کی لکھی یہ تحریر پڑھی کہ میں نے فلاں بن فلاں کو اپنے والد بزرگوار کی کتابوں کے لئے اجازت دی وہ دو سو کتابیں ہیں اور اپنی کتابوں کو جو اٹھارہ ہیں ۔ آپ نے جیسا کہ دیکھ لیا کہ وہ دو سو کتابیں ہیں مگر ابن ندیم نے ان کتابوں کے نام تحریر نہیں کئے اور نجاشی اور شیخ طوسی دونوں نے اپنی فہرست میں تقریباً ہیں (۲۰) کتابیں لکھیں ہیں اور افسوس ہے کہ انکی بہت سی کتابیں ضائع ہو گئیں اور ان میں سے کوئی چیز بھی ہم لوگوں کونہیں ملی۔
اللہ تعالی ان لوگوں کو اپنی جوار رحمت میں رکھے وہ ۲۶ ھ کے حدود میں پیدا ہوئے اور اپنے وطن قم میں واپس آنے کے بعد ۳۲۹ ھ میں وفات پانی اور یہی وہ سال ہے جس میں بہت سے ستارے ٹوٹے ان کی قبر بہت مشہور ہے اس پر ایک عالیشان قبہ بنا ہوا ہے اللہ کے صالح بندے ان کی قبر کی زیارت کرتے اور اس سے برکت حاصل کرتے ہیں ۔
شیخ صدوق کے بھائی حسین رحمتہ اللہ
نجاشی نے اپنی کتاب الفہرست میں ان کے حالات تحریر کئے ہیں اور کہا ہے کہ حسین بن علی بن حسین بن موسی ابن بابو یہ تھی ابو عبداللہ ثقہ ہیں انہوں نے اپنے پدر بزرگوار سے روایت کی ہے اور اجازہ روایت کی ہے ان کی متعدد کتابیں ہیں ان میں ایک کتاب التوحید و نفی التشبہ اور ایک عملیہ ہے جو صاحب ابی القاسم ابن عباد کے لئے تحریر کیا مجھ کو اس کے متعلق حسین بن عبید اللہ نے بتایا۔ اور شیخ طوسی رحمہ اللہ نے ان کا ذکر اپنی کتاب الطیبہ میں ۲۰۱ پر کیا ہے اور جس کو نقل کیا ہے ابن حجر نے اپنی کتاب لسان المیزان جلد ۲، ص ۳۰۶ میں اور ان کے حالات نقل کئے ہیں فہرست نجاشی سے مگر نجاشی کی عبارت سے لسان المیزان کی عبارت مختلف ہے اسے دیکھیں ۔
آپ چند مشائخ سے روایت کرتے ہیں جن میں ایک تو ان کے والد ابو الحسن ابن بابویہ ہیں دوسرے ان کے بھائی ابو جعفر ابن بابویہ اور ابو جعفر محمد بن علی الاسود اور علی بن احمد بن عمران الصفار اور حسین بن احمد بن ادریس ہیں اور خودان سے روایت کرتے ہیں شیخ ابو علی حسین بن محمد بن حسن شیبانی صاحب تاریخ قم و سید مرتضی علم الهدی و علی بن حسین بن موسیٰ و حسین بن احمد بن ہیم عملی اور احمد بن محمد بن نوح ابو العباس سیرانی کہتے ہیں کہ آپ ہم لوگوں کے پاس بصرہ کے اندر باہ ربیع الاول ۳۰۰ میں تشریف لائے اور روایت کی ہے کہ ان سے شیخ طوسی رحمہ اللہ نے ایک جماعت کے توسط سے جیسا کہ آپ نے اس کا ذکر اپنی کتاب الغیبیہ کے ص ۲۰۹، ۲۶۲ اور ۲۶۸ پر کیا ہے ۔
شیخ صدوق کے دوسرے بھائی حسن رحمہ اللہ ابن سورہ کے حوالے سے ان کا مختصر سا ذکر اس مقدمہ کے پچھلے صفحات میں گزر چکا کہ وہ عبادت اور زہد میں مشغول رہا کرتے تھے اور لوگوں سے اختلاط کم رکھتے وہ فقیہ نہیں تھے ۔ مگر دونوں کتابوں پر مقدمہ لکھنے والوں نے ان کے قریبی رشتے داروں کے نام بڑی تلاش و جستجو کے بعد سترہ (۱۷) لکھے ہیں اور ان کے اقربا میں شیخ منتخب الدین ابو الحسن علی بن عبید اللہ بن حسن (حسکا) بن حسین بن حسن بن حسین بن علی بن حسین بن موسی بن بابویہ قمی کو بھی شمار کیا ہے یہ ایک مرد فاضل و محدث و حافظ تھے ۔ اور مشہور ثقات اور محدثین میں سے تھے انہوں نے ایک کتاب الفہرست لکھی ہے جو ایران میں بحار الانوار کے آخری جز میں طبع ہو چکی ہے ۔ شیخ منتخب الدین نے اپنے آیا واقارب واسلاف سے بہت زیادہ روائتیں کی ہیں اور کئی کئی طریقوں سے کی ہیں چنانچہ وہ اپنے چچا زاد بھائی شیخ بابویه بن سعد سے بھی روایت کرتے ہیں ۔ اور علامہ مجلسی ثانی نے اپنی کتاب بحار الانوار کے مقدمہ میں ان کی بے حد تعریف کی وہ کہتے ہیں کہ شیخ منتخب الدین کا شمار مشہور محدثین میں ہے ان کی کتاب فہرست بے حد مشہور ہے یہ حسین بن علی بن بابویہ کی اولاد میں سے ہیں اور شیخ صدوق علیہ الرحمہ ان کے بڑے چچا ہیں ۔
ان کی بہت سی مولفات (کتابیں) ہیں ان میں سے ایک کتاب الا ربعين من الاربعين (چالیس احادیث چالیس رادیوں سے) فضائل امیر المومنین میں ہے جو قلمی ہے ۔ اور ایک کتاب فہرست ہے جو طبع ہو چکی ہے جس کا ذکر چند سطر پہلے کر چکا ہوں وہ دراصل شیخ طوسی علیہ الرحمہ کی کتاب الفرست کا تکملہ اور تمہ ہے اور شیخ حر عاملی نے اپنی کتاب امل الامل میں جو طبع ہو چکی ہے دیگر تراجم کے ساتھ ملا کر جدا کر دیا اور اس میں تمام اجازات سے استفادہ کیا ہے جیسا کہ انہوں نے اپنے مقدمہ میں اس کا ذکر کیا ہے اور شیخ منتخب الدین کا رسالہ مواسعت (کشادگی) کے موضوع پر ہے جس کا نام انہوں نے - العصرہ " رکھا ہے جو ابھی غیر مطبوع ہے وہ بہت سے مشائخ سے روایت کرتے ہیں اور صاحب مقدمہ نے ان میں سے تیرہ (۳) نام لکھے ہیں جن میں ان کے والد عبید اللہ کا نام بھی ہے اور متاخرین سوانح نگاروں نے ان کے حالات زندگی لکھے ہیں اور بہت تعریفیں کی ہیں ان کی ولادت ۵۰۴ھ میں ہوئی اور وفات ۵۸۵ ھ کے بعد ہوئی ۔
وفات
شیخ صدوق الرحمہ کی وفات شہر رے کے اندر ۳۸ھ میں ہوئی انکی قبر شہر رے میں سید عبدالعظیم حسنی رضی اللہ عنہ کی قبر کے قریب ایک قطعہ زمین میں ہے جو آپ کو قبر کی وجہ سے زیارت گاہ بن گئی ہے لوگ یہاں زیارت کے لئے ہیں اور اس سے برکتیں حاصل کرتے ہیں اور اس بقعہ مقدسہ کا نام بستان طغرلیہ ہے اس کا یہ نام اس لئے پڑ گیا کہ یہ طغرل بیگ سلجوقی کی قبر کے برج کے قریب واقع ہے ۔ آپ کی وفات کے بعد لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ یہاں سے کرامتیں ، اہر ہوتی ہیں اس لئے سلطان فتح علی شاہ قاچاری نے ۲۳۸ ھ میں آپ کی روضہ کی جدید تعمیر کرا دی۔ ان کرامتوں کا ذکر کتاب و روضات الجنات خوانساری میں صفحہ ۵۵۹ طبع ایران ۱۳۰۶ ھ میں ہے اور سید ناسید حسن صدر کاظمی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب۔ نہایتہ الدرایہ میں بھی اس کا تذکرہ کیا ہے اور مکانبی نے قصص العلماء میں محمد ہاشم خراسانی نے منتخب التواریخ میں ، شیخ عباس قمی نے فوائد رضویہ میں اور ان کے علاوہ بہت سے لوگوں نے وہاں کی کرامتیں لکھی ہیں ۔
قبر شریف
آپ کی قبر شریف کا آج بھی ان چند عظیم روضوں میں شمار ہوتا ہے جہاں شیعہ زائرین حصول برکت کے لئے تمام اقطار و امصار سے پہنچتے ہیں اور اپنی اموات کو وہاں دفن کرتے ہیں روضہ کے صحن میں بہت سے علماء اور اہل فضل وایمان کی قبریں ہیں اب ہم یہاں شیخ صدوق علیہ الرحمہ کے سوانح حیات کو ختم کرتے ہیں اور اس میں سے بہت کچھ ہم نے کتاب دليل القضاء الشرعی جلد ۳ صفحہ ۳۵ یا صفحہ ۱۷۶ سے لیا ہے اور اس کے ساتھ اضافے کئے ہیں
محمد صادق بحر العلوم
نجف اشرف