باب اگر نماز پڑھنے والے کو کوئی ضرورت پیش آجائے
حدیث ١٠٧٤ - ١٠٨٠
١٠٧٤ - عبداللہ بن ابی یعفور نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق روایت کی ہے کہ جس کو حالت نمازمیں کوئی حاجت پیش آجائے تو آپ نے فرمایا وہ شخص سر سے اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کرے گا اور اگرعورت ہے تو تالی بجادیگی ۔
١٠٧٥ - حلبی سے روایت ہے کہ اس نے ایک مرتبہ ان جناب سے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو نماز میں مشغول ہے اور اسے کوئی ضرورت پیش آگئی ؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ سر سے اور ہاتھ سے اشارہ کریگا اور تسبیح پڑھے گا (سبحان اللہ کہے گا) اور اگر عورت کو کوئی ضرورت پیش آجائے تو وہ دونوں ہاتھ سے تالی بجا دے گی۔
١٠٧٦ - حنان بن سدیر نے آپ سے دریافت کیا کہ کیا کوئی شخص نماز میں اشارہ کر سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کی مساجد میں سے کسی مسجد میں اپنے ٹیڑھے سر والے عصا سے اشارہ کیا تھا۔ حنان کا بیان ہے کہ سوائے نبی عبد الاشہل کی مسجد کے مجھے کسی مسجد کا علم نہیں ۔
١٠٧٧ - اور عمار بن موسی نے آپ سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے کہ دروازہ پر کسی کی آواز سنی اور اس نے کھنکھارا تا کہ اسکی کنیز اور اسکے گھر والے سن لیں اگر اس میں تاخیر ہوئی تو اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اس کو یہ بتانے کے لئے کہ وہ دیکھے کہ دروازے پر کوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
پھر ایک مرد ایک عورت کے متعلق دریافت کیا کہ وہ دونوں نماز میں ہیں اور ان دونوں کو کسی چیز کی ضرورت ہے کیا ان دونوں کیلئے جائز ہے کہ وہ سبحان اللہ کہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ دونوں جو چاہتے ہیں اسکی طرف اشارہ کر سکتے ہیں اور اگر عورت کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو وہ اپنے زانو پر ہاتھ مار سکتی ہے حالت نماز میں ۔
1078 - اور محمد بن بجیل برادر علی بن بجیل سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نماز میں مشغول تھے اور آپ ابھی دونوں سجدوں کے درمیان تھے کہ ایک شخص ادھر سے گزرا تو آپ نے اسکی طرف ایک کنکری پھینکی چنانچہ وہ شخص آپ کے پاس آیا ۔
١٠٧٩ - ابو زکریا اعور سے روایت ہے کہ اسکا بیان ہے کہ میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ حضرت ابو الحسن علیہ السلام کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور ایک بوڑھا شخص آپ کے پہلو میں تھا اور وہ کھڑا ہونا چاہتا تھا اسکے ساتھ اسکا عصا تھا اورچاہتا تھا کہ اپنا عصا اٹھائے تو حضرت امام ابو الحسن علیہ السلام جھکے اور اسکا عصا اسکو تھما دیا اور پھر اپنی نماز پڑھنے لگے ۔
١٠٨٠ - اور حبیب ناجیہ نے ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے بیان کیا میرے پاس ایک کو لہو ہے جس میں تل پیلا کرتا ہوں چنانچہ میں کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہوں اور جب محسوس کرتا ہوں کہ غلام سو گیا ہے تو دیوار پر تھپتھپا دیتا ہوں تاکہ وہ جاگ جائے ۔ آپ نے فرمایا ہاں تم اللہ کی عبادت میں بھی مشغول رہتے ہو اور اپنا رزق بھی حاصل کرتے ہو کوئی حرج نہیں ہے ۔