سفر میں نماز
حدیث ١٢٦٥ - ١٣١٦
١٢٦٥ - زرارہ سے اور محمد بن مسلم سے روایت کی گئی ان دونوں نے بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ ہم دونوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ سفر کے اندر نماز کے متعلق آپ کا کیا ارشاد ہے وہ کیسے ہو گی اور کتنی ہو گی ۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے اوَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا۟ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ (اور جب تم سفر پر جاؤ تو تمہارے لئے کوئی حرج نہیں اگر نماز میں قصر کرو) (سورہ نساء آیت نمبر ١٠١) اس لئے سفر میں قصر اسی طرح واجب ہے جیسے حضر میں پوری نماز پڑھنا واجب ہے ۔ ان دونوں کا بیان ہے کہ ہم لوگوں نے عرض کیا مگر اللہ تعالٰی نے تو یہ کہا ہے کہ کوئی حرج نہیں یہ تو نہیں کہا ایسا کرو ۔ پس یہ قصر واجب کیسے ہو گیا جس طرح حضر میں پوری واجب ہے ؟ آپ نے فرمایا کیا اللہ تعالٰی نے صفا اور مروہ کے متعلق یہ نہیں کہا ہے فَمَنْ حَجَّ ٱلْبَيْتَ أَوِ ٱعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا (جو شخص خانہ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے تو کوئی حرج نہیں اگر ان دونوں کے درمیان چکر لگائے) (سورہ البقره آیت نمبر ۱۵۸)
کیا تم نہیں دیکھتے کہ ان دونوں کے درمیان چکر لگانا واجب اور مقروض ہے اس لئے کہ اللہ تعالٰی نے اسکا ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے اسی طرح سفر میں تقصیر ہے یہ ایسی چیز ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسکا ذکر اپنی کتاب میں فرمایا ہے ۔
ان دونوں کا بیان ہے کہ پھر لوگوں نے عرض کیا کہ اچھا اگر کوئی شخص سفر میں چار رکعت پڑھ لے تو پھر سے اس نماز کا اعادہ کرے گا یا نہیں ، آپ نے فرمایا اگر اسکے سامنے تقصیر کی آیت پڑھ دی گئی ہے اور اس کی تفسیر کر دی گئی ہے اور پھربھی اس نے چار رکعت پڑھی تو اعادہ کرے گا ۔ اور اگر اسکے سامنے تقصیر کی آیت نہیں پڑھی گئی ہے اور اسکا اسکو علم نہیں تو پھر وہ اعادہ نہیں کرے گا ۔ اور تمام فرض نماز میں سفر میں دو رکعت کی ہونگی سوائے مغرب کے کہ یہ تین رکعت کی ہوگی اس میں قصر نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسکو تین ہی رکعت رہنے دیا ہے۔
چنانچہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام ذی خشب کا سفر فرمایا جو مدینہ سے ایک دن کی مسافت پر ہے یعنی دو (۲) برید (قاصد) کی راہ ہے اور چو بیس (٢٤) میل ہے تو اس سفر میں آپ نے نماز قصر پڑھی اور (روزہ نہیں رکھا) افطار کیا اور اس طرح یہ بھی سنت قرار پائی ۔
اور ایک مرتبہ آپ نے سفر میں افطار کیا مگر ایک گروہ نے روزہ رکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکو عاصیوں (نافرمانوں) کا گروہ کہا ۔ چنانچہ وہ گروہ تاقیامت عاصی اور نافرمان رہے گا ۔ اور ہم لوگ ان نافرمانوں اور عاصیوں کی اولاد اور اولاد، در اولاد کو آج تک پہچانتے ہیں ۔
١٢٦٦ - اور محمد بن مسلم نے ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا اور کہا کہ ایک شخص سفر کا ارادہ رکھتا ہے وہ کب سے قصر شروع کرے ؟ آپ نے فرمایا جب اسکی آبادی کے مکانات نگاہ سے چھپ جائیں ۔
راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا کہ ایک شخص سفر کا ارادہ کرتا ہے اور زوال آفتاب کے وقت نکلتا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب نکل جاؤ تو دو رکعت نماز پڑھو ۔
١٢٦٧ - اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا جب تم سفر کیلئے اپنی منزل سے نکل جاؤ اس وقت سے اپنی واپسی تک قصر کرو ۔
١٢٦٨ - اورعبداللہ بن یحییٰ کاھلی نے آپ کو نماز میں قصر کے متعلق فرماتے ہوئے سنا کہ برید بر برید (قاصد بر قاصد) یعنی چوبیس (٢٤) میل کا سفر ہونا چاہیئے) پھر فرمایا کہ میرے والد فرمایا کرتے تھے کہ نماز قصر سست رفتار خچریا تیز رفتار گھوڑے پر سفر کے اعتبار سے نہیں رکھی گئی ہے بلکہ اونٹ پر سفر کے اعتبار سے رکھی گئی ہے ۔ اور جب کسی شخص کا سفر آٹھ فرسخ کا ہو تو اس پر قصر کرنا واجب ہے اور اگر کسی کا سفر چار فرسخ کا ہو اور اسی دن واپسی کا ارادہ ہو تو اس پر بھی قصر کرنا واجب ہے اوراگر کسی کا سفر چار فرسخ کا ہو اور اسی دن واپسی کا ارادہ نہ ہو تو اسکو اختیار ہے چاہے قصر کر لے چاہے اتمام کرے ۔
١٢٦٩ - اور معاویہ بن وھب نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ جب تم کسی شہر میں جاؤ اور تمہارا ارادہ وہاں دس دن قیام کا ہو تو جس وقت پہنچو اسی وقت سے پوری نماز پڑھو اور اگر دس دن سے کم کا ارادہ ہو تو نماز قصر پڑھو ۔ اور اگر تم قیام کر رہے ہو مگر یہ کہتے ہوئے کہ کل یہاں سے چلا جاؤں یا پرسوں چلا جاؤں گا یعنی یہ طے نہیں کیا کہ دس دن قیام کروں گا تو نماز قصر پڑھو اور اسی گومگو میں ایک مہینہ پورا ہو جائے تو قصر نماز پڑھتے رہو مگر ایک ماہ کے بعد اگر چہ گومگو ہی ہے لیکن پوری نماز پڑھو۔
راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا کہ اگر میں کسی شہر میں یکم رمضان کو پہنچوں اور وہاں دس دن کا قیام کا ارادہ نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا تو قصر کرو اور افطار کرو۔ میں نے عرض کیا اگر میں اس گومگو میں کہ یہاں سے کل چلا جاؤنگا اور پرسوں چلا جاؤں گا اس میں ایک ماہ وہاں شہر جاؤں تو کیا پورا مہینہ قصر اور افطار کر سکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ ایک ہی بات ہے نماز قصر کرو گے تو افطار کرو گے اور افطار کرو گے تو نماز قصر کر و گے ۔
١٢٧٠ - ابو ولاد حناط کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں نے نیت کی تھی کہ فلاں جگہ پہنچوں گا تو وہاں دس دن قیام کروں گا اور پوری نماز پڑھوں گا ۔ مگر پھر وہاں پہنچ کر میرا ارادہ یہ ہوا کہ نہیں میں وہاں دس دن نہیں ٹہروں گا ایسی صورت میں آپ کا کیا حکم ہے وہاں نماز پوری پڑھوں یا قصر پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا اگر تم نے اس شہر میں داخل ہونے کے بعد ایک نماز فریضہ پوری پڑھ لی تو اب تم وہاں سے جب تک نہ نکلو قصر نماز نہیں پڑھ سکتے ۔ اور اگر جب تم شہر میں داخل ہوئے اور اس نیت سے داخل ہوئے کہ وہاں (دس دن قیام کرونگا اور) پوری نمازپڑھوں گا اور وہاں ایک نماز فریضہ بھی ابھی پوری نہیں پڑھی تھی کہ تمہارا ارادہ ہوا کہ یہاں دس دن قیام نہیں کرونگا تو ایسی صورت میں تم کو اختیار ہے خواہ نیت کر لو کہ دس دن قیام کروں گا اور پوری نماز پڑھو خواہ دس دن قیام کی نیت نہ کرو اور نماز قصر پڑھو مگر یہ صرف ایک ماہ تک اور جب ایک ماہ پورا ہو جائے اور وہی گومگو کی صورت رہے تو (بھی) پوری نماز پڑھو۔
١٢٧١ - اور زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ وہ چند لوگوں کے ساتھ سفر کے ارادے سے نکلا اور ابھی وہ اپنے قریہ سے دور ہی فرسخ پر پہنچے تھے کہ نماز کا وقت آگیا اور سب نے نماز (قصر) پڑھ لی مگر اسکے بعد کچھ لوگوں کو ایسی ضرورت پیش آگئی کہ وہ یہیں سے اپنے قریہ کو واپس آگئے اور پھر سفر کیلئے نہ نکل سکے ۔ تو اب وہ اس دو رکعت نماز کا کیا کریں جو انہوں نے (قصر) پڑھی ہے ۔ آپ نے فرمایا ان کی نماز پوری ہو گئی اعادہ کی پوری ہو گئی اعادہ کی ضرورت نہیں ہے ۔
١٢٧٢ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص سفر میں چار رکعت نماز پڑھے (قصر نہ کرے) تو میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اس شخص سے براءت اور لاتعلقی کا اظہار کروں گا۔ یعنی اگر وہ قصداً و عمداً ایسا کرے ۔
١٢٧٣ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ سفر میں پوری (چار رکعت) نماز پڑھنے والا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص حضر میں قصر نماز پڑھے ۔
١٢٧٤ - اور ابو بصیر نے آنجناب علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جس نے سفر میں بھول کر چار رکعت نماز پڑھ لی ؟ آپ نے فرمایا اگر اسکو اسی دن یاد آجائے تو دوبارہ (قصر) نماز پڑھ لے اور اس دن کے گزر جانے کے بعد اسکو یاد آئے تو اسکو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
١٢٧٥ - زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ چار طرح کے لوگوں پر پوری نماز پڑھنا واجب ہے گماشتہ ، جانور کرایہ پر چلانے والا ، چرواہا، قاصد اس لئے کہ یہ ان کا پیشہ ہے اور روایت کی گئی ہے ملاح قاصد اور کھلیان کی حفاظت کرنے والا ( کہ ان کو بھی قصر نہیں کرنا) ۔
١٢٧٦ - محمد بن مسلم نے ان دونوں آئمہ میں سے کسی ایک سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ملاح جو اپنی ین کشتیوں میں رہتے ہیں ۔ اور گماشتہ (سفارت کار) اور کرایہ پر اونٹ وغیرہ چلانے والے جمال پر تقصیر نہیں (یعنی نماز قصر کرنا نہیں ہے) ۔
١٢٧٧ - عبد اللہ بن سنان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا گماشتہ (سفیر) جب اپنی منزل پر پانچ دن یا اس سے کم قیام کرے تو وہ دن کی نمازوں میں قصر کرے گا اور رات کی نمازوں کو پورا پڑھے گا اور اس پر رمضان کا روزہ رکھنا بھی واجب ہے اور جس شہر میں وہ بھیجا گیا ہے وہاں اسکا قیام دس دن یا اس سے زیادہ ہے اور وہ اپنی منزل کی طرف پلٹ رہا ہے یا ایسی جگہ جا رہا ہے جہاں اسکا قیام دس دن یا اس سے زیادہ رہے گا تو وہ اپنے سفر میں جو دونوں منزلوں کے درمیان کریگا قصر بھی کرے گا اور افطار بھی ۔
١٢٧٨ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جمال اور اجرت پر روانہ کیا ہوا گماشتہ جب سیرمیں مشغول ہوں تو دو منزلوں کے درمیان جب چلیں گے تو قصر کریں گے اور جب دونوں منزلوں پہ رہیں گے تو پوری نماز پڑھیں گے ۔
١٢٧٩ - عبداللہ بن جعفر نے محمد بن جزک سے (جو اصحاب امام ہادی علیہ السلام میں تھے اور از روئے پیشہ جمال تھے) روایت کی ہے ان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام ابو الحسن ثالث علیہ السلام کو خط لکھا کہ میرے پاس چند اونٹ ہیں جن پر ایک نگراں مقرر ہے میں ان کو کسی سفر کیلئے کبھی نہیں نکالتا مگر جب حج کو جی چاہتا ہے تو مکہ کے سفر کیلئے یا ندرہ کے بعض مقامات پر جانے کیلئے ان کو نکالتا ہوں ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ جب میں ان اونٹوں کے ساتھ نکلوں تو کیا عمل کروں ؟ اس سفر میں مجھ پر نماز اور روزہ میں قصر واجب ہے یا پوری نمازیں پڑھوں ؟ آپ نے جواب میں تحریر فرمایا جب تم سوائے سفر مکہ کے اور کسی سفر میں انکو اپنے ساتھ لیکر نہیں نکلتے تو تم پر نماز کا قصر اور روزہ کا افطار واجب ہے ۔
١٢٨٠ - اور عبدالرحمن بن حجاج نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ اس کی چند زراعتیں ہیں جو ایک دوسرے کے قریب اور آس پاس ہیں اور وہ ان ہی میں چکر لگاتا رہتا ہے تو کیا وہ نماز پوری پڑھے یا قصر کرے ؟ آپ نے فرمایا نماز پوری پڑھے ۔
١٢٨١ - اسماعیل بن ابی زیاد نے حضرت جعفر بن محمد سے اور انہوں نے اپنے پدر بزرگوار علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ سات طرح کے لوگ نماز قصر نہیں کریں گے (١) خراج اور زکواۃ کا تحصیلدار جو وصولی کیلئے دورہ پر رہتا ہے (۲) وہ امیر جو اپنی قلم رو کے اندر دورہ کر رہا ہے (۳) وہ تاجر جو اپنی تجارت کے سلسلے میں ایک بازار سے دوسرے بازار جایا کرتا ہے ۔ (٤) چرواہا (۵) اور خانہ بدوش ۔ اور وہ جو چرا گاہوں کی تلاش میں پھرتا رہتا ہے ۔ (٦) وہ شکاری جو محض لہو لعب دنیا کیلئے شکار کی تلاش میں نکلتا ہے (٧) اور وہ قذاق جو رہزنی کیا کرتا ہے ۔
١٢٨٢ - اور موسیٰ بن بکر نے زرارہ سے اور انہوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا اگر کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا بے طہارت کے نماز پڑھ لے تو وہ خواہ مقیم ہو یا مسافر جب اسکو یاد آئے تو اسکی قضا اس پر واجب ہے وہ نہ اس میں زیادتی کرے نہ کمی یعنی جو شخص چار رکعت بھولا ہے وہ چار رکعت قضا پڑھے گا مسافر ہو خواہ مقیم اور اگر وہ دو رکعت بھولا ہے تو جب یاد آئے گا وہ دو رکعت فضا پڑھے گا خواہ مسافر ہو یا مقیم ۔
١٢٨٣ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ پسندیدہ امر یہ ہے کہ انسان چار مقامات پر اپنی پوری نماز پڑھے (قصر نہ کرے) مکہ ومدینہ و مسجد کوفہ اور حائر امام حسین علیہ السلام میں ۔
اس کتاب کے مصنف علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ان مقامات پر دس دن قیام کا ارادہ کرے گا کہ پوری نماز پڑھ سکے اور اس امر کی تصدیق
١٢٨٤ - اس روایت سے ہوتی ہے جو محمد بن اسماعیل بن بزیع نے حضرت امام ابوالحسن رضا علیہ السلام سے کی ہے اسکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ آپ سے مکہ اور مدینہ میں نماز کے متعلق پوچھا گیا وہاں پوری نماز پڑھی جائے یا قصر پڑھی جائے ؟ تو آپ نے فرمایا اگر دس دن کا قیام کا ارادہ نہیں تو قصر کرو ۔
١٢٨٥ - اور حدیث کہ جسکی روایت کی ہے محمد بن خالد برقی نے اور انہوں نے حمزہ بن عبداللہ جعفری سے ان کا بیان ہے کہ جب میں منیٰ سے نکلا تو نیت یہ تھی کہ مکہ میں قیام کرونگا اس لئے پوری نماز پڑھی پھر گھر سے ایک خبر آگئی جسکی بنا پر مجھے گھر جانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اب سمجھ میں نہیں آیا کہ میں پوری نماز پڑھوں یا قصر کروں اتفاق سے حضرت ابو الحسن علیہ السلام اس دن مکہ میں تھے میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور قصہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا تم قصر کی طرف رجوع کر لو ۔
١٢٨٦ - فضیل بن لیسار نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ سفر میں نماز جمعہ نماز عید الضحی و نماز عید الفطر نہیں ہے ۔
١٢٨٧ - اسماعیل بن جابر کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ میں سفرمیں تھا اس میں نماز کا وقت آتا رہا مگر میں نے نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ اپنے گھر پہنچ گیا ؟ آپ نے فرمایا پھر تم پوری نماز پڑھو ( قصر نہ پڑھو ) ۔
میں نے عرض کیا اچھا میں گھر پر اپنے اہل و عیال ہوں اور نماز کا وقت آگیا سفر کا ارادہ کر رہا ہوں اور نماز اس وقت پڑھتا ہوں جب سفر کیلئے نکل جاتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا نماز قصر پڑھو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کرو گے ۔
١٢٨٨ - لیکن حریز کی روایت جو انہوں نے محمد بن مسلم سے اور انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کی ہے کہ میں نے آنجناب سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو سفر پر روانہ ہوا جبکہ نماز کا وقت آچکا تھا اور ابھی راستے میں ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ دو رکعت پڑھے گا اور اگر اسکا سفر ختم ہو گیا اور نماز کا وقت آگیا ہے تو چار رکعت پڑھے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کو وقت نماز نکل جانے کا خوف نہیں ہے تو پوری نماز پڑھے گا اور اگر اسکو وقت نکل جانے کا خوف ہے تو راستے میں قصر نماز پڑھے ۔ اور اسکی تصدیق ذیل کی اس حدیث سے ہوتی ہے ۔
١٢٨٩ - حکم بن مسکین کی کتاب میں تحریر ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک ایسے شخص کے متعلق فرمایا جو نماز کے وقت کے اندر سفر سے واپس آیا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ اسے اگر وقت نماز نکل جانے کا خوف نہیں ہے تو پوری نماز
پڑھے اور اگر وقت نکل جانے کا خوف ہے تو قصر پڑھے ۔
اور یہ اسماعیل بن جابر کی حدیث کے موافق ہے ۔
١٢٩٠ - اور اسحاق بن عمار نے حضرت ابو ابراہیم امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ جو مسافر تھا اور آگے بڑھ کر کوفہ کی آبادی میں پہنچ گیا اب وہ پوری نماز پڑھے یا جب تک اپنے گھر نہ پہنچ جائے نماز قصر پڑھے ؟ آپ نے فرمایا جب تک وہ اپنے گھر نہ پہنچ جائے نماز قصر پڑھے ۔
١٢٩١ - سیف تمار نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے راوی کا بیان ہے کہ ہمارے بعض اصحاب نے آنجناب سے عرض کیا کہ ہم لوگ سفر میں جب کہیں منزل کرتے ہیں تو مغرب و عشاء کے درمیان دن کے نافلہ کی نماز قضا پڑھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں جب اس نے رخصت دی ہے تو وہ بندوں کے حال سے بھی خوب واقف ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مسافر پر صرف دو رکعت واجب کی اور اسکے پہلے یا اسکے بعد کچھ نہیں سوائے نماز شب کے کہ تم یہ نماز اپنے اونٹ کی پشت پر بھی بجا لاؤ جس طرف وہ تمہیں لے جائے اس طرف رخ کر کے ۔
١٢٩٢ - ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیه السلام سے سفر میں دن کے وقت کی نماز نافلہ کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا اگر سفر میں تم نے نافلہ صحیح طور پر پڑھ لیا تو نماز فریضہ پوری ہو گئی ۔
اور کوئی حرج نہیں اگر دن کے وقت سفر میں نماز شب کی قضا پڑھ لی جائے ۔
١٢٩٣ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش کے دن فریضہ اپنی سواری ہی پر پڑھ لیا کرتے تھے ۔
١٢٩٤ - ابراہیم کرخی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں محمل میں بھی قبلہ کی طرف رُخ کر سکتا ہوں آپ نے فرمایا یہ بہت تنگ جگہ ہے کیا تم لوگوں کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت موجود
نہیں ہے؟
١٢٩٥ - سعد بن سعد نے حضرت امام ابو الحسن رضا علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ جس کے ساتھ محمل میں ایک حائض عورت ہے کیا ایسی عورت کی موجودگی میں وہ محمل کے اندر نماز پڑھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔
١٢٩٦ - سعید بن لیسار نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو نماز شب اپنی سواری ہی پر پڑھتا ہے تو کیا وہ نماز پڑھتے وقت اپنے چہرے کو ڈھانکے رہے ؟ آپ نے فرمایا اگر وہ سوروں کی قراءت کر رہا ہے تو ہاں اور اگر وہ اپنے چہرے سے سجدہ کا اشارہ کر رہا ہے تو چہرہ کھول دے چاہے جس سمت سواری اسکو لیجا رہی ہو ۔
١٢٩٧ - اور عبد اللہ بن حجاج نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو تمام امصار و دیار میں اپنی سواری پر بیٹھا ہوا نوافل پڑھتا رہتا ہے جس رخ پر بھی سواری چل رہی ہو آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ۔
١٢٩٨ - اور علی بن یقطین نے حضرت ابو الحسن علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ جو سفر کے لئے نکلا تھا اور نماز پڑھ رہا تھا کہ نماز ہی میں اس نے رائے بولی کہ (دس دن) قیام کروں گا ؟ آپ نے فرمایا جب اسکی قیام کی نیت ہو گئی تو پوری نماز پڑھے نیز ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو اپنے بھائی کو رخصت کرنے کیلئے اس جگہ تک آگیا جہاں اس پر قصر نماز اور افطار صوم واجب ہے ؟ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں اور کوئی حرج نہیں اگر وہ دو نمازیں جمع کر کے پڑھے سفر ہو یا حضر، کسی سبب سے ہویا بلا سبب اور سفر میں اگر نمازمغرب میں اتنی تاخیر کرے کہ شفق غائب ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ۔ اور وہ مسافر جو منزل کی تلاش میں ہے ایک چوتھائی رات تک اگر مغرب کی نماز تاخیر سے پڑھے تو کوئی حرج نہیں ۔
١٢٩٩ - اور ابی بصیر کی روایت میں ہے جو انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کی ہے کہ سفر کے عالم میں تم اگر غروب آفتاب کے بعد پانچ میل کی راہ طے کرو تو نماز مغرب کے وقت ہی میں رہو گے ۔ اور سفر کے اندر غروب شفق سے پہلے اگر نماز عشاء تعجیل سے پڑھ لی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
١٣٠٠ - عمار ساباطی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اس گارے کی حد کیا ہے جس میں سجدہ نہیں کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا اس میں ساری پیشانی ڈوب جائے اور زمین پر نہ ٹکے (تو اس پر سجدہ نہیں ہوگا)
١٣٠١ - اور معاویہ بن عمار نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ اہل مکہ عرفات میں پوری نماز پڑھتے ہیں (قصر نہیں کرتے) آپ نے فرمایا ان پر ویل ہو کونسا سفر اس سے زیادہ شدید ہے ۔ نہیں اس میں پوری نماز نہیں پڑھیں گے ۔
١٣٠٢ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جب حضرت جبرئیل فصر کا حکم لیکر نازل ہوئے تو آپ نے ان سے کہا یہ قصر کتنی مسافت پر ہوگا، حضرت جبرئیل نے کہا ایک برید کی مسافت میں آپ نے فرمایا ایک برید (قاصد) کی مسافت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کوہ عیر کے سایہ سے لیکر کوہ دعیر کے سایہ تک (عیر اور دعیر اطراف مدینہ میں دو پہاڑوں کے نام ہیں) تو بنی امیہ نے اسکی پیمائش کی تو ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کی مسافت بارہ میل ہوئی اور ہر میل ایک ہزار پانچ سو ہاتھ کا ہے ۔ اور یہ چار فرسخ ہوا یعنی اگر سفر چار فرسخ کا ہے اور اسی روز واپس آنا ہے تو اس پر قصر واجب ہے اور اگر اسی روز واپسی کا ارادہ نہ ہو تو اسکو اختیار ہے کہ خواہ پوری نماز پڑھے خواہ قصر پڑھے اور اسکی تصدیق اس سے ہوئی جسکی تفسیر
١٣٠٣ - جمیل بن دراج کی روایت سے کی گئی ہے جو انہوں نے زرارہ بن اعین سے کی ہے ان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے قصر کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایک قاصد کے جانے کی مسافت اور ایک قاصد کے آنے کی مسافت ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوہ ذباب جایا کرتے تو نماز قصر فرمایا کرتے اور ذباب تک ایک قاصد کی مسافت ہے اور آنحضرت نے یہ اس لئے کیا کہ جب واپس ہونگے تو دو قاصد کی مسافت یعنی آٹھ فرسخ ہو جائے گی ۔
١٣٠٤ - ذکریا بن آدم نے حضرت ابو الحسن امام رضا علیہ السلام سے قصر کے متعلق دریافت کیا کہ کتنی مسافت پر آدمی نماز قصر کرے جبکہ وہ اپنے گھر والوں کی جائیداد اور زمینوں پر دو دن دو رات یا تین دن تین رات کیلئے جارہا ہے اور وہاں اس کا حکم چلتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ایک دن اور ایک رات کی مسافت پر قصر ہوگا ۔
١٣٠٥ - محمد بن ابی عمیر نے محمد بن اسحاق بن عمار سے روایت کی ہے اسکا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابو الحسن امام رضا علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک عورت نے مکہ معظمہ کے راستے میں جاتے ہوئے بھی مغرب کی دورکعت نماز پڑھی اور آتے میں بھی مغرب کی دور کعت نماز پڑھی ، آپ نے فرمایا اس پر نماز کا اعادہ لازم نہیں ہے ۔
اور حسین بن سعید کی روایت میں ہے جو انہوں نے ابن ابی عمیر سے اور انہوں نے محمد بن اسحاق بن عمار سے اور انہوں نے حضرت ابی الحسن علیہ السلام سے کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اس عورت پر نماز کی قضا نہیں ہے ۔
١٣٠٦ - اور علماء کی روایت میں ہے جو انہوں نے محمد بن مسلم سے اور انہوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے کی ہے کہ آپ نے فرمایا جب کوئی مرد مسافران لوگوں کے پیچھے نماز پڑھے جو حضر میں ہیں (سفر میں نہیں ہیں) تو اپنی نماز دو رکعتوں پر تمام کر کے سلام پڑھ لے اور جب ان لوگوں کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھے تو اول کی دو رکعتوں کو ظہر قرار دے اور آخر کی دو رکعتوں کو عصر کی نماز قرار دے لے ۔
١٣٠٧ - اور اسماعیل بن فضیل نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف سفر کرتا رہتا ہے اور اپنے قریہ اور اپنی جائیداد میں قیام کرتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا جب تم اپنے
قریہ اور جائیداد میں قیام کرو تو پوری نماز پڑھو اور جب تم اپنے سوا کسی غیر کی جائیداد میں ہو تو قصر کرو۔
اس کتاب کے مصنف علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ جو اپنے قریہ اور اپنی جائیداد میں دس دن کے قیام کی نیت سے قیام کرے اور اگر اسکا ارادہ وہاں دس دن قیام کا نہ ہو تو قصر کرے لیکن اسکا وہاں کوئی گھر ہے کہ جس میں وہ سال میں چھ ماہ رہتا ہے تو جب وہاں پہنچے تو پوری نماز پڑھے اور اسکی تصدیق اس حدیث سے ہے ۔
١٣٠٨ - جس کی محمد بن اسماعیل بن بزیع نے حضرت امام ابو الحسن رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے راوی کا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو اپنی جائیداد اور زمینوں پر جاتا ہے تو قصر کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر اسکی نیت وہاں دس دن قیام کی نہیں ہے تو (قصر میں) کوئی حرج نہیں مگر یہ کہ وہاں اسکا کوئی مکان ہو اور اسکو اس نے وطن بنالیا ہو ۔ میں نے عرض کیا وطن بنانے کا کیا مطلب آپ نے فرمایا مطلب یہ کہ وہاں اسکا کوئی گھر ہو اور وہ وہاں چھ ماہ تک وطن بنا کر رہ چکا ہو اگر ایسا ہو گا تو جب وہ وہاں جائیگا تو پوری نماز پڑھے گا ۔
١٣٠٩ - نیز اس امر کی تصدیق اس روایت سے بھی ہوئی ہے جو علی ابن یقطین نے حضرت ابو الحسن اول سے کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تمہارے تمام گھروں سے ہر وہ گھر جس میں تم اپنا وطن بنا کر نہیں رہے ہو وہاں جاؤ تو تم پر قصر نماز پڑھنی واجب ہے ۔
١٣١٠ - اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس شخص کے متعلق ارشاد فرمایا جوشکار کیلئے ایک دن یا دو دن یا تین ، دن کی مسافت پر نکل گیا اب وہ قصر نماز پڑھے یا پوری نماز پڑھے ، آپ نے فرمایا اگر وہ اپنے اور اپنے اہل وعیال کی روزی کے حصول کیلئے نکلا ہے تو قصر نماز پڑھے اور روزہ افطار کرے اور اگر وہ محض تفریح کیلئے فضول و بے مقصد نکلا ہے تو نہیں (کیونکہ) اس میں کوئی خوبی نہیں ہے ۔
١٣١١ - ابو بصیر نے آنجناب علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ شکاری کیلئے تین دن تک تقصیر نہیں ہے اگراسکا شکار تین دن سے تجاوز کر جائے تو قصر کرنا لازم ہے یعنی فضول شکار کی وجہ سے ۔
١٣١٢ - اور عیص بن قاسم نے آنجناب علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص ، شکار میں مشغول ہے تو آپ نے فرمایا کہ اگر وہ اپنی منزل کے اطراف چکر لگا رہا ہے تو قصر نہیں کرے گا اور اگر اس سے تجاوز کر گیا تو قصر کرے گا اور ایک ایسا مسافر کہ جس پر قصر واجب ہے اگر وہ اپنے راستے سے ہٹ کر شکار کی طرف مائل ہو گیا تو شکار کی تلاش کی وجہ سے وہ نماز پوری پڑھے گا ۔ اور جب شکار سے اپنے راستے کی طرف واپس ہو گا تو واپسی میں اس پر قصر لازم ہے اور وہ شخص جسکا سفر اللہ کی نافرمانی اور معصیت کیلئے ہے تو وہ پوری نماز پڑھے گا اور روزہ رکھے گا ۔
اور مسافر کیلئے یہ لازم ہے کہ جو نماز وہ قصر پڑھے اس کے بعد تیس مرتبہ یہ کہے تاکہ اسکی نماز پوری محسوب ہو سبحان الله و الحمد لله ولا اله الا الله و الله اكبر -
١٣١٣ - اور حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر تمہیں یہ ڈر ہو کہ تم آخر شب میں نہ اٹھ سکو گے یا تم بیمار ہو یا تمہیں ٹھنڈ لگ گئی ہے تو سفر میں اول شب میں نماز نافلہ اور وتر پڑھ لو ۔
١٣١٤ - اور علی بن سعید نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سفر میں نماز نافلہ شب اور نماز وتر کی اول شب میں پڑھ
لینے کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں (پڑھ لی جائے)
١٣١٥ - اور سماعہ بن مہران نے حضرت ابو الحسن اول علیہ السلام سے سفر میں وقت نماز شب کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا تمہارے نماز عشاء پڑھنے سے صبح نمودار ہونے تک ۔
١٣١٦ - حریز نے ایک بیان کرنے والے سے روایت کی ہے اور اس نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے کہ آپ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ ایک آدمی پا پیادہ چلتا ہوا نماز نافلہ پڑھتا رہے لیکن وہ اونٹ نہ ہنکارہا ہو ۔