باب نماز شب کی قضا
حدیث ١٤٢٥ - ١٤٣٥
١٤٢٥ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جب کبھی تمہاری نماز شب فوت ہو جائے تو اس کی قضا دن کو پڑھ لیا کرو چنانچہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے وَهُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ خِلْفَةًۭ لِّمَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًۭا (اور وہی خدا ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا یہ اس کیلئے ہے جو ذکر کرنا چاہے یا شکر گزاری کا ارادہ کرے) (سورہ الفرقان آیت نمبر ٦٢) یعنی اگر رات میں کسی کی کوئی نماز فوت ہو جائے تو وہ دن میں اس کی قضا پڑھے اور اگر دن میں کوئی نماز فوت ہو جائے تو رات میں اسکی قضا پڑھے اور اگر تمہاری شب کی نماز فوت ہو جائے تو اس کی قضا دن یا رات جس وقت چاہو پڑھو بشر طیکہ نماز فریضہ کا وقت نہ ہو ۔ اور اگر تمہاری کوئی نماز فریضہ فوت ہوئی ہے تو جب تمہیں یاد آئے اس وقت پڑھ لو اور اگر تمہیں کسی دوسری نماز فریضہ کے وقت یاد آئے تو پہلے اس نماز فریضہ کو پڑھ لو جس کا وقت ہے پھر فوت شدہ نماز پڑھو ۔
١٤٢٦ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز شب کی قضا بعد نماز صبح اور بعد نماز عصر آل محمد کے اسرار مخزونہ میں سے ہے اور یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنا منع ہے اس لئے کہ آفتاب شیطان کے دونوں سینگھوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے اور شیطان کے دونوں سینگھوں کے درمیان غروب ہوتا ہے ۔ لیکن ہمارے مشائخ کی ایک جماعت نے یہ روایت کی ہے ۔
١٤٢٧ - ابی الحسین محمد بن جعفر اسدی نے روایت کی کہ سائل کے جواب میں جو خطوط محمد بن عثمان عمری قدس اللہ روحہ کے پاس آئے ان میں یہ بھی تھا کہ
اور تم نے طلوع آفتاب و غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے کے متعلق جو دریافت کیا ہے ۔ تو اگر جیسا یہ لوگ کہتے ہیں ایسا ہی ہے کہ آفتاب شیطان کے سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے اور شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے تو پھر شیطان کی ناک رگڑنے کیلئے نماز سے افضل اور بہتر اور کیا چیز ہے لہذا نماز پڑھو اور اس کی ناک رگڑ دو۔
١٤٢٨ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو بندہ نماز شب کی قضا دن کو پڑھ لیتا ہے اس پر اللہ تعالٰی اپنے ملائیکہ کے سامنے فخر کرتا ہے اور کہتا ہے اے میرے ملائیکہ میرے اس بندے کو دیکھو کہ یہ اس نماز کی قضا پڑھ رہا ہے جو میں نے اس پر فرض نہیں کی تم لوگ گواہ رہنا کہ میں نے اس کی مغفرت کر دی ۔
١٤٢٩ - اور برید بن معاویہ عجلی نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ نماز شب کی قضا پڑھنے کا افضل ترین وقت وہ ہے کہ جس وہ وہ فوت ہوئی ہے یعنی شب کے آخری حصہ میں اور اگر تم اس کی قضا دن میں بھی پڑھو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور زوال آفتاب سے پہلے پڑھو ۔
١٤٣٠ - مرازم بن حکیم ازدی سے روایت کی گئی ہے کہ اس کا بیان ہے کہ میں چار مہینہ تک ایسا بیمار رہا کہ نماز نافلہ نہ پڑھ سکا تو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ مولا میں چار ماہ تک بیمار رہا اور کوئی نماز نافلہ نہ پڑھ سکا آپ نے فرمایا تم پر اس کی قضا نہیں مریض ہرگز صحتمند کے مانند نہیں ہے جس اللہ نے تجھ پر مرض غالب کر دیا ہے تو وہی عذر قبول کرنے کا زیادہ سزاوار ہے ۔
١٤٣١ - محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ اسکا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے عرض کیا کہ ایک شخص بیمار ہوا اور اس نے نماز نافلہ ترک کر دی ۔ آپ نے فرمایا اے محمد اس پر اس کی قضا فرض نہیں ہے اور اگر وہ قضا پڑھ لے اچھا کرے گا اور اگر نہیں پڑھتا تو اس پر کچھ نہیں ہے ۔
١٤٣٢ - اور سلیمان بن خالد نے آنجناب سے نماز وتر کی قضا کے متعلق دریافت کیا کہ بعد ظہر پڑھی جائے تو آپ نے فرمایا کہ وتر کے وقت اس کی قضا بھی پڑھو جس وقت وہ فوت ہوئی ہے ہمیشہ ۔
١٤٣٣ - اور حماد بن عثمان نے آپ سے دریافت کیا کہ میں نے نماز وتر نہیں پڑھی اور صبح ہو گئی حتی کہ رات تک نہیں پڑھ سکا اب اس کی قضا کیسے پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا مثل کے ساتھ مثل پڑھو ۔
١٤٣٤ - حزیز نے آپ سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ میرے والد علیہ السلام کبھی کبھی ایک رات میں ہیں (٢٠) وتر پڑھا کرتے تھے ۔
١٤٣٥ - عبداللہ بن مغیرہ نے حضرت ابو ابراہیم موسیٰ بن جعفرعلیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے لئے دریافت کیا کہ جس سے نماز وتر فوت ہو گئی آپ نے فرمایا کہ وہ اسکی وتر ہی کے وقت قضا پڑھے ہمیشہ ۔