باب بستر خواب پر جاتے وقت کیا کہے
حدیث ١٣٥٠ - ١٣٥٩
١٣٥٠ - امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص طہارت وغیرہ کر کے شب کو اپنے بستر پر جائے تو اپنے بستر کو اپنی مسجد کی مانند مجھے اور اگر اسے یاد آئے کہ وہ وضو سے نہیں ہے تو اپنے کمیل پر تم کرلے تو جبتک وہ ذکر خدا کرتا رہے
گا ۔ گو یا نماز میں رہے گا ۔
١٣٥١ - اور علاء نے محمد بن مسلم سے روایت کی ہے اسکا بیان ہے کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے مجھ سے ارشاد لارادة فرمایا کہ جب انسان اپنے داہنے ہاتھ کو تکیہ بنا کر لیے تو کہے بِسْمِ اللهِ اَللّهُمَّ إِنِّىْ أَسْلَمْتُ نَفْسِىْ إِلَيْكَ وَ وَجَّهْتُ وَجْهِىْ إِلَيْكَ ، وَنَوَّضْتُ أَمْرِىْ إِلَيْكَ وَألْجَأتُ ظَهْرِيْ إِلَيْكَ ، وَ تَوَكَّلْتُ عَلَيْكَ رَهْبَةً مِنْكَ وَرَغْبَةً إِلَيْكَ لَاَ مَلْجَأ وَلَا مُنْجِىَ مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِيْ أَنْزَلْتَ وَبِرَسُولِكَ الَّذِىْ أَرْسَلْتَ (اللہ کے نام سے اے اللہ میں اپنی جان تیرے سپرد کرتا ہوں اپنا چہرہ تیری طرف پھیرتا ہوں اور اپنا معاملہ تیرے حوالے کرتا ہوں اور اپنا پشت پناہ تجھے بناتا ہوں اور تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں ، تجھ سے ڈرتے ہوئے اور تیری طرف رغبت کرتے ہوئے ۔ اور تجھ سے نجات پانے اور بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں سوائے اسکے کہ تیری ہی طرف بھاگا جائے ۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اپنے اس رسول پر نازل کی ہے۔ جسکو تو نے خود رسول بنا کر بھیجا) ۔
اس کے بعد تسبیح فاطمہ پڑھے اور اگر کسی شخص کو سوتے وقت کسی چیز کا خوف ہو تو جب اپنے بستر پر جائے تو معوذتين (قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس) اور آیتہ الکرسی پڑھ لے ۔
١٣٥٢ - علاء نے محمد بن مسلم سے اور انہوں نے ان دونوں ائمہ علیہ السلام میں سے کسی ایک سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کوئی شخص سوتے وقت یہ کہنا کبھی نہ چھوڑے اُعِيْدُ نَفْسِ وَذُرِّيَّتِىْ وَأَهْلَ بَيْتِىْ وَ مَالِىْ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ اِلتَّامَّاتِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَ حَامَّةٍ وَ مِنْ كُلَّ عَيْنٍ لَامَّةٍ ( میں اپنے نفس اپنی ذریت اپنے اہلبیت اور اپنے مال کو اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ میں دیتا ہوں بچانے کیلئے ہر شیطان سے ہر زہر یلے جانور سے ہر بد بین کی نگاہ سے ) ۔
یہ وہ ہے کہ جسکو جبرئیل علیہ السلام نے امام حسن و امام حسین علیہ السلام کیلئے تعویذ بنایا تھا ۔
١٣٥٣ - عبداللہ بن سنان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آنجناب نے اس سے کہا کہ تم سوتے وقت سورہ قل ھواللہ احد اور قل یا یھا الکافرون پڑھ لیا کرو اس لئے کہ یہ شرک سے براءت کا اظہار ہے اور قل ھو اللہ احد کی نسبت تو اللہ رب العزت ہی کی طرف ہے ۔
١٣٥٤ - اور بکر بن محمد نے ان ہی جناب علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے بستر خواب پر جاتے وقت تین مرتبہ یہ کہے اَلْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِىْ عَلَا فَقَهَرَ ، وَالْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِىْ بَطَنَ فَخَبَرَ ، وَ الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِىْ مَلَكَ فَقَدَرَ وَ الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِىْ يَحْيِى الْمَوْتیٰ وَيُمِيْتُ الْأَحُيَاء وَ هُوَ عَلیٰ كُلِ شَىءٍ قَدِيْرٌ (حمد اس اللہ کی جو بلند ہے اور غالب ہے اور حمد اس اللہ کی جو پوشیدہ ہے اور باخبر ہے حمد اس اللہ کی جو مالک ہے اور قادر ہے حمد اس اللہ کی جو مردہ کو زندہ کرتا ہے اور زندہ کو موت دیتا ہے اور ہر شے پر قادر ہے) ۔
تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائیگا جیسے آج ہی اسکی ماں نے اسکو پیدا کیا ہے ۔
١٣٥٥ - اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص سوتے وقت یہ آیت پڑھے گا قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۖ فَمَن كَانَ يَرْجُوا۟ لِقَآءَ رَبِّهِۦ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًۭا صَـٰلِحًۭا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦٓ أَحَدًۢا (اے رسول کہدو کہ میں بھی تمہارا ہی جیسا شکل و شباہت میں ایک آدمی ہوں فرق صرف اتنا ہے کہ میری نوع جدا ہے میرے پاس وحی آئی ہے کہ تمہارا معبود یکتا معبود ہے تو جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے حاضر ہونے کا امید وار ہے تو اسکو اچھے کام کرنے چاہئیں اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی اور کو شریک نہ کرنا چاہیئے) (سورہ کہف آیت نمبر ١١٠)
تو اس کے لئے ایک نور بلند ہو کر مسجد حرام تک جائے گا اور اس نور کو ملائکہ ملاحظہ کریں گے تو صبح تک اسکے لئے استغفار کریں گے ۔
١٣٥٦ - اور عامر بن عبداللہ بن جزاعہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو بنده خد ابھی سوتے وقت سورہ کہف کی آخری آیت قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ کی تلاوت کرے گا تو وہ خواب سے اسی وقت بیدار ہو جائیگا جس وقت بیدار ہونا چاہتا ہے ۔
١٣٥٧ - اور سعد اسکاف نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص (سوتے وقت) یہ کلمات کہے گا اسکے لئے میں ضامن ہوں کہ اسکو صبح تک کوئی بچھو یا کوئی زہریلا جانور گزند نہ پہنچائے گا أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ الَّتِىْ لَايَجَاوِزُ هُنَّ بُرٌّ وَلَا فَاِجْرٌ مِنْ شَرِّ مَاذَرَاً، وَ مِنْ شَرِّمَاْبَرَأ، وَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابْةٍ هُوَ آخِذٌ بِنَا صِيَتِهَا إِنَّ رَبِّى عَلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٌ (میں اللہ کے ان کلمات تامات کی پناہ چاہتا ہوں کہ جن سے کوئی نیک وبد شے تجاوز نہیں کر سکتی ہر اس چیز کے شرسے کہ جسے اللہ نے خلق کیا اور ہر اسکے شرسے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اور ہر اس زمین پرچلنے والے کے شرسے جسکی پیشانی اللہ تعالٰی کی گرفت میں ہے بیشک تیرا رب عدل و انصاف کی سیدھی راہ پر ہے)
١٣٥٨ - معاویہ بن عمار نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا اگر تم کو بستر خواب پر جنابت کا خوف ہو تو (سوتے وقت) یہ کہہ لو اَللَّهُمَّ إنِيْ أَعُوْذُبِكَ مِنَ الْاِحْتِلَامِ ، وَ مِنْ سُوءِ الأَحْلَامِ ، وَ مِنْ أَنْ يَتَلَاعِبَ بِىْ الشَّيْطَانَ فِيْ اليَقْضَلَةِ وَالْمُنامِ (اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں احتلام سے اور بدخوابی سے اور اس امر سے کہ خواب و بیداری میں شیطان مجھ سے کوئی کھیل کھیلے) ۔
١٣٥٩ - عباس بن ھلال نے حضرت امام ابو الحسن رضا علیہ السلام سے اور انہوں نے اپنے پدر بزگوار سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص ایسا نہیں ہے کہ جو سوتے وقت یہ آیت پڑھے اور اس پر گھر کی چھت گر جائے إِنَّ ٱللَّهَ يُمْسِكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَآ إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍۢ مِّنۢ بَعْدِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًۭا (بیشک اللہ ہی سارے آسمانوں اور زمین کو اپنی جگہ سے ہٹ جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر بالفرض یہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو پھر اسکے سوا کوئی اور اسکو روک نہیں سکتا بیشک وہ بڑا بردباد اور بخشنے والا ہے) (سورہ فاطر آیت نمبر ٤١)