Skip to main content

باب اذان و اقامت اور موذنین کا ثواب

حدیث ٨٤٣ - ٩١٤

٨٦٤ - حفص بن بختری نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے بیان فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے اور نماز کا وقت آگیا تو حضرت جبریل علیہ السلام نے اذان کہی اور جب انہوں نے الله اکبر اللہ اکبر کہا تو ملائیکہ نے بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کہا جب انہوں نے اشهد ان لا الله الا الله کہا تو ملائیکہ نے کہا انہوں نے اللہ کی بمیثلی کا اقرار کیا ۔ جب انہوں نے کہا کہ اشہد ان محمد رسول اللہ تو ملائیکہ نے کہا کہ کوئی نبی مبعوث ہوا جب انہوں نے حی علی الصلوۃ کہا تو ملائیکہ نے کہا یہ اپنے رب کی عبادت کیلئے لوگوں کو آمادہ
کر رہے ہیں جب انہوں نے حی علی الفلاح کہا تو ملائیکہ نے کہا کہ جس نے ان کی اتباع کی اس نے فلاح پائی ۔

٨٦٥ - منصور بن حازم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام (کلمات) اذان لیکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نازل ہوئے اور اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سراقدس حضرت علی کی آغوش میں تھا حضرت جبریل نے اذان کہی اور اقامت کہی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم خواب سے بیدار ہوئے تو آپ نے حضرت علی سے فرمایا اے علی تم نے سناء انہوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ۔ پوچھا کہ تم کو یاد ہے؟ عرض کیا جی ہاں فرمایا پھر بلال کو بلاؤ اور انہیں سکھا دو حضرت علی نے بلال کو بلوایا اور انکو اذان دینا سکھا دیا۔

٨٦٦ - زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اذان تو تم چاہے بغیر وضو کے کہہ لو ، ایک لباس میں کہہ لو ، کھڑے ہو کر کہ لو، بیٹھ کر کہ لو، جسطرف تمہارا رخ ہو کہہ لو ، مگر جب تم اقامت کہو تو باوضوہو کر اور نماز کے لئے آمادہ ہو کر -

٨٦٧ - احمد بن محمد بن ابی نصربزنطی  نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہو تو اذان کہہ لے سواری پر ہو تو اذان کہہ لے۔

٨٦٨ - ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر تم سواری پر ہو یا پیدل چل رہے ہو یا بغیر وضو کے ہو اور اذان کہہ لو تو کوئی ہرج نہیں مگر تم سوار ہو یا بیٹھے ہوئے ہو تو اقامت نہ کہو مگر یہ کہ کوئی
عذر ہو یا چوروں کی سرزمین ہو۔

٨٦٩ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ موذن کو اذان واقامت کے درمیان اتنا ثواب مل جاتا ہے جتنا خدا کی راہ میں شہید ہونے والے اور اپنے خون میں لوٹنے والے کو حضرت علی علیہ السلام نے عرض کیا پھر تو لوگ اذان دینے کے لئے آپس میں لڑیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہرگز ایسا نہیں بلکہ لوگوں پر ایک الیسا زمانہ آئے گا کہ لوگ اذان دینے کا کام ضعیفوں پر چھوڑ دیں گے تو یہی وہ گوشت و پوست ہیں جن پر اللہ نے جہنم کو حرام کر دیا ہے۔

٨٧٠ - حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آخری گفتگو جو مجھ سے میرے ولی حبیب (رسول اللہ) نے کی وہ یہ کہ انہوں نے ارشاد فرمایا اے علی (علیہ السلام جب تم نماز پڑھو تو تمہارے پیچھے جو سب سے زیادہ ضعیف شخص ہو اسکی جیسی نماز پڑھو اور اذان پر کسی ایسے شخص کو مقرر نہ کرو جو اذان دینے کی اجرت لیتا ہو۔

٨٧١ - خالد بن نجیح نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اذان میں اللہ اکبر کے ھا اور الف کو پوری فصاحت کے ساتھ کہنا حتمی اور لازمی ہے۔

 ٨٧٢ - اور ابو بصیر نے ان دونوں آئمہ میں سے کسی ایک سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ بلال ایک غلام صالح تھے انہوں نے کہدیا کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی ایک کے لئے بھی اذان نہیں کہیں گے پس اسی دن سے حی علی خیر العمل کہنا ترک کر دیا گیا ۔

٨٦٣ - حسن بن سری نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ یہ سنت ہے کہ اگر کوئی شخص اذان کہے تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لے ۔

٨٦٤ - اور خالد بن نجیح نے ان ہی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اذان اور اقامت دونوں حتمی اور لازمی ہیں اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ دونوں موقوف اور طے شدہ ہیں۔

٨٦٥ - زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اذان میں تمہارے لئے اتنی بھی آواز جائز ہے کہ جیسے تم خود کو سنا رہے ہو یا خود کو سجھا رہے ہو۔ اور (اللہ اکبر میں) ھا اور الف فصاحت اور  وضاحت سے کہو۔ اور جب تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لو یا تمہارے سامنے کوئی نام لے تو تم درود بھیجو نبی اور انکی آل پر خواہ اذان میں نام ہو یا غیر ازان میں۔
اور بغیر اپنے نفس پر زور دیئے تمہاری جتنی بھی آواز تیز ہو گی جسے اکثر لوگ سنہیں اتنا ہی تمہارا ثواب زیادہ ہوگا۔

٨٧٦ - معاویہ بن وہب نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اذان کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اسکو تم کھل کر بلند آواز سے کہو اور جب اقامت کہو تو اس سے کم اور دھیمی آواز سے اور اذان واقامت میں تم صرف دخول وقت کا انتظار کرو اور اقامت میں جلدی کرو۔

٨٧٧ - نیز عمار ساباطی نے ان ہی جناب علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب تم نماز فریضہ کے لئے کھڑے ہو تو اذان کہو اور اقامت کہو اور اذان واقامت کے درمیان فاصلہ دو خواہ بیٹھ کر یا کوئی اور بات کر کے یا تسبیح پڑھ کر راوی کا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے دریافت کیا کہ اذان واقامت کے درمیان فاصلہ کے لئے کتنی بات کافی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ الحمد لله (کافی ہے) ۔

٨٧٨ - محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو یا پیادہ چل رہا ہے اور ظاہر نہیں یا وہ سواری کی پشت پر ہے اور اذان کہہ رہا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں اگر کلمہ شہادت کہنے والا رو بقبلہ ہے تو کوئی ہرج نہیں ہے۔

٨٧٩ - اور زرارہ نے ان جناب علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب نماز کے لئے اقامت کہہ لی جائے
تو پھر امام اور تمام اہل مسجد کے لئے کلام کرنا حرام ہے سوائے اسکے کہ امام کو آگے بڑھانے کے لئے کچھ کہا جائے۔

٨٨٠ - حضرت علی علیہ السلام کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو تم میں سے سب سے اچھا قاری ہو وہ تمہاری نماز میں امامت کرے اور جو تم میں سے اچھے لوگ ہوں وہ اذان کہیں اور ایک حدیث میں ہے کہ جو تم میں سب سے زیادہ فصیح ہوں ۔

٨٨١ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مسلمانوں کے شہروں میں سے کسی شہر میں ایک سال اذان کہے تو اسکے لئے جنت واجب ہے۔

٨٨٢ - اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ موذن کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے گا۔ اسکی نگاہ آسمان تک جاتی ہے اور اسکی آواز آسمان پر گو نحیتی ہے اور ہر خشک و تر جو بھی اسکی آواز کو سنتا ہے اسکی تصدیق کرتا ہے اور مسجد میں جو
بھی اسکے ساتھ نماز پڑھتا ہے اسمیں اسکا حصہ ہے اور جو بھی اسکی آواز سن کر نماز پڑھتا ہے اسکے لئے ایک نیکی ہے۔

٨٨٣ - اور امام علیہ السلام نے فرمایا جو شخص سات سال تک صرف بنظر ثواب اذان کہے گا تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اسکے ذمہ کوئی گناہ نہ ہوگا۔

٨٨٤ - روایت کی گئی ہے کہ جب ملائیکہ اہل زمین کی اذان کی آواز سنتے ہیں تو کہتے ہیں یہ امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز ہے جو اللہ کی وحدانیت کی گواہی دے رہے ہیں پھروہ اللہ تعالٰی سے امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے طلب مغفرت کرتے رہتے ہیں جبتک کہ یہ لوگ نماز سے فارغ نہیں ہو جاتے۔

٨٨٥ - زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اذان کے لئے کم سے کم اتنی اجازت دی گئی ہے کہ ایک اذان اور ایک اقامت سے رات کا افتتاح ہو اور ایک اذان اور ایک اقامت سے دن کا افتتاح ہو اور اسکے علاوہ تمام نمازوں میں صرف اقامت جائز ہے بغیر اذان کے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام عرفات میں نماز ظہر و عصر ملا کر ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھیں اور مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کر کے ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھی ہیں۔

٨٨٦ - اور عبداللہ بن سنان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ظہر و عصر کو ایک ساتھ جمع کر کے ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ اور نماز مغرب و عشاء کو ایک ساتھ جمع کر کے ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ (سفر نہیں بلکہ) حضر میں بلا کسی عذر وسبب کے پڑھا ۔

٨٨٧ - اور روایت کی گئی ہے کہ جو شخص اذان اور اقامت کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اسکے پیچھے ملائکہ کی دو صفیں نماز پڑھتی ہیں اور جو شخص بغیر اذان کے صرف اقامت کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اسکے پیچھے ملائکہ کی صرف ایک صف نماز پڑھتی ہے۔ اور صف کی حد مشرق اور مغرب کے درمیان ہے۔

٨٨٨ - اور عباس بن ہلال کی روایت میں حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا جس شخص نے اذان اور اقامت کہی اسکے پیچھے ملائیکہ کی دو صفیں نماز پڑھتی ہیں اور اگر اس نے بغیر اذان کے صرف اقامت کہی تو اسکے داھنے جانب ایک ملک اور بائیں ایک ملک پڑھتا ہے پھر فرمایا کہ دو صفوں کو غنیمت سمجھو۔

٨٨٩ - اور ابن ابی لیلی کی روایت میں حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص اذان واقامت کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اسکے پیچھے ملائکہ کی دو صفیں نماز پڑھتی ہیں (وہ صفیں اتنی طویل ہوتی ہیں کہ ان کے دونوں کنارے نظر نہیں آتے اور جو شخص صرف اقامت کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اسکے پیچھے صرف ایک ملک نماز پڑھتا ہے)۔

٨٩٠ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو شخص اذان صبح سنتے وقت یہ کہے اللهُم إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاقْبَالِ نَهَارِكَ وَ إِدْبارِ ليلكَ وَ حَضُورِ صَلَواتِكَ، وَأَصْوَاتِ دُعَاتِكَ أَنْ تَتُوبَ عَلَى إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (اے الله میں تجھ سے سوال کرتا ہوں دن کے آنے کا واسطہ دیکر ، رات کے جانے کا واسطہ دیکر اور نماز کے وقت حاضر ہونے کا واسطہ دیکر اور تجھ سے دعا مانگنے کی آوازوں کا واسطہ دیکر کہ تو میری دعا کو قبول کرلے۔ بے شک کہ تو توبہ قبول کرنے والا اوررحم کرنے والا ہے) ۔
اور اسطرح جب اذان مغرب سنے تو کہے اور اسی دن مر جائے یا اسی شب میں مرجائے تو وہ تائب مرے گا اور حضرت علی علیہ السلام کے موذن عامر کے والد ابن نباح اپنی اذان میں حی علی خیر العمل ، حی علی خیر العمل کہا کرتے جب حضرت علی علیہ السلام نے انکو یہ کہتے دیکھا تو فرمایا کہ عدل کے ساتھ کہنے والوں کو مرحبا اور اسکے ساتھ نماز پڑھنے والوں کومرحبا اور اھلاً ۔

٨٩١ - حارث بن مغیرہ تضری نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص موذن کو یہ کہتے ہوئے سنے کہ اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا رسول اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود اللہ سوائے اس اللہ کے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں) تو یہ بھی اسکی تصدیق کرتے ہوئے بنظر ثواب کہے کہ و انا اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمدا رسول اللہ (میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس اللہ کے اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں) تو یہ دونوں شہادتیں ہر کا فر و ہر منکر سے برائت کے اظہار کے لئےاس کے واسطے کافی ہیں اور وہ اور ان دونوں شہادتوں کے ذریعہ ہر اس شخص کا معین و مددگار ہو گا جو اللہ کی وحدانیت کا اور محمد کی رسالت کا اقرار کرتے اور اسکی شہادت دیتے ہیں اور اسکو تمام کافروں اور منکروں کی تعداد کے مطابق اور تمام اقرار کرنے والوں اور اسکی شہادت دینے والوں کی تعداد کے مطابق ثواب واجر ملے گا ۔

٨٩٢ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے محمد بن مسلم سے فرمایا کہ اے محمد بن مسلم تم کسی حال میں بھی ہو ذکر خدا ہر گز نہ چھوڑو۔ اگر تم بیت الخلاء میں بھی ہو اور موذن کی اذان سنو تو اللہ تعالٰی کا ذکر کرو اور وہ کہو جو موذن کہتا ہے ۔

٨٩٣ - زید شحام نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جس نے اذان واقامت بھول کر نماز شروع کر دی ؟ آپ نے فرمایا اگر اسکو سورہ الحمد پڑھنے سے پہلے یا دا گیا تو وہ محمد وآل محمد پر درود بھیجے اور
اقامت کہے اور اگر اس نے سورہ کی قرابت شروع کر دی ہے تو پھر اپنی نماز مکمل کرلے ۔

٨٩٤ - عمار ساباطی سے روایت کی گئی انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو اذان میں ایک لفظ کہنا بھول گیا اور اذان واقامت سے فارغ ہونے کے بعد اسکو یاد آیا آپ نے فرمایا کہ وہ جو لفظ بھولا ہے اسے کہے اور اسکے بعد آخر اذان تک کہے پوری اذان اور پوری اقامت کا پھر سے اعادہ نہ کرے۔

٨٩٥ - معاویہ بن وہب نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے تثویب ( نماز صبح میں الصلوۃ خیر من النوم کہنا ) کےمتعلق دریافت کیا جو اذان واقامت کے درمیان کہا جاتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہم اسکو نہیں جانتے کہ آخر یہ ہے کیا ۔

٨٩٦ - اور حضرت علی علیہ السلام فرمایا کرتے کہ اگر کوئی لڑکا محتلم ہونے ( بالغ ہونے) سے پہلے اذان کہے تو کوئی ہرج نہیں اور اگر کوئی حالت جنابت میں ہو اور اذان کہے تو کوئی ہرج نہیں مگر غسل کرنے سے پہلے اقامت نہیں کہے گا۔

٨٩٧ - ابو بکر حضرمی اور کالیب اسدی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے ان دونوں کو اذان بتائی -

٨٩٨ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے موذن حضرات کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ امین ہوتے ہیں۔

٨٩٩ - نیز آپ نے فرمایا کہ تم لوگ جمعہ کی نماز عامہ کی اذان پر پڑھ لو اس لئے کہ یہ لوگ شدت کے ساتھ وقت کی پابندی کرتے ہیں۔

٩٠٠ - عبدالرحمن بن ابی عبداللہ نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ سفر میں اذان کے بغیر اقامت کہہ لینے کی اجازت ہے۔

٩٠١ - ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر تم راستے میں یا اپنے گھر میں اذان کہو پھر مسجد میں پہو نچکر اقامت کہو تو یہ تمہارے لئے جائز ہے۔

٩٠٢ - اور کبھی کبھی حضرت علی علیہ السلام اذان کہتے اور اقامت کوئی دوسرا شخص کہتا اور کبھی اذان کوئی دوسرا کہتا
اور اقامت آپ کہتے تھے ۔

٩٠٣ - ہشام بن ابراہیم نے ایک مرتبہ امام ابو الحسن رضا علیہ السلام سے اپنے مرض کی شکایت کی اور یہ کہ اس کے کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا تو آپ نے حکم دیا کہ وہ اپنے گھر میں باواز بلند اذان دیا کرے۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایسا ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے میرا دکھ درد دور کر دیا اور میری بہت سی اولاد ہوئی۔
محمد بن راشد کا بیان ہے کہ میں دائم المریض تھا میں اور میرے خادموں اور میرے اہل وعیال میں سے کچھ لوگوں کو مرض سے چھٹکارا نہیں تھا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ میں تنہا باقی رہ گیا تھا اور میری کوئی خدمت کرنے والا نہ تھا مگر جب میں نے ہشام سے یہ سنا تو میں نے بھی اس پر عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے بحمد للہ میرے اور میرے اہل وعیال کے سارےامراض دور کر دیئے۔

٩٠٤ - روایت کی گئی ہے کہ جو شخص اذان سنے اور وہ کہتا رہے جو موذن کہتا ہے تو اس کے رزق میں زیادتی ہوگی۔

٩٠٥ - عبداللہ بن علی سے روایت کی گئی ہے کہ اس نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں نے اپنا مال تجارت بصرے سے لادا اور مصر کی طرف چلا ابھی میں راستے میں ہی تھا کہ ایک بزرگ کو دیکھا جو طویل القامت تھے رنگ بہت سیاہ تھا سر اور داڑھی بالکل سفید تھی ان کا لباس دو پھٹی پرانی چادریں تھیں ایک سیاہ تھی اور ایک سفید میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں ۔ لوگوں نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام بلال ہیں یہ سنکر میں نے چند تختیاں اٹھائیں اور ان کے پاس پہنچا اور کہا السلام علیک ایھا الشیخ انہوں نے جواب سلام میں وعلیک السلام کہا میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو حدیث آپ نے سنی ہو وہ بیان فرمائیں ۔ انہوں نے کہا تمہیں کیا معلوم کہ میں کون ہوں؟ میں نے عرض کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موذن بلال ہیں یہ سنکر وہ رونے لگے اور میں بھی رونے لگا اور بہت سے لوگ جمع ہو گئے اور ہم لوگ روتے رہے پھر انہوں نے پوچھا بچے تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ میں نے عرض کیا میں اہل عراق میں سے ہوں انہوں نے کہا بہت خوب مبارک ہو مبارک ہو پھر تھوڑی دیر خاموش رہے اسکے بعد کہا اے بھائی عراقی اچھا لکھو۔ بسم الله الرحمن الرحیم میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے کہ موذن لوگ مومنین کی نماز و روزہ ان کے گوشت اور خون کے امین ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ تعالٰی سے جو بھی مانگیں گے اللہ ان کودیگا اور جسکی بھی شفاعت کریں گے اللہ انکی شفاعت کو قبول کرے گا۔
میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے کوئی اور حدیث ارشاد ہو ۔ آپ نے کہا لکھو۔ بسم الله الرحمن الرحیم میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص چالیس سال تک محض اللہ کی خوشنودی کے لئے اذان کہے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکو اس طرح مبعوث کرے گا کہ اسکے نامہ عمل میں چالیس صدیقوں کا عمل نیک و مقبول لکھا ہو گا۔
میں نے عرض کیا اللہ آپ پر رحم فرمائے کوئی اور حدیث ارشاد ہو ۔ آپ نے کہا لکھو ۔ بسم الله الرحمن الرحیم میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص بیس سال تک برابر اذان کہتا رہے گا اسکو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسطرح مبعوث کرے گا کہ اس کے پاس آسمان کے برابر نور ہوگا ۔
میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ۔ کوئی اور حدیث ارشاد فرمائیے آپ نے کہا لکھو۔ بسم الله الرحمن الرحیم میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص دس سال تک اذان کہتا رہے گا اللہ تعالیٰ اسکو حضرت ابراہیم خلیل کے ساتھ انکے قبہ یا انکے درجہ میں ساکن کرے گا۔
میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ۔ کوئی اور حدیث ارشاد فرمائیے آپ نے کہا لکھو۔
بسم الله الرحمن الرحیم میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ایک سال تک اذان دیتا رہے گا اللہ تعالیٰ اسکو قیامت کے دن اسطرح مبعوث کرے گا کہ اسکے سارے گناہ جتنے بھی ہوں گے خواہ کوہ احد کے وزن کے برابر کیوں نہ ہوں معاف کر دیگا۔
میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ۔ کوئی اور حدیث ارشاد ہو آپ نے کہا اچھا اسکو یاد رکھنا اور اسپر لوجہ اللہ عمل کرنا۔
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص فی سبیل اللہ ایمان واحتساب کے ساتھ تقرب الہی کے حصول کے لئے ایک نماز کے لئے بھی اذان کہے گا اللہ اسکے سارے پچھلے گناہ معاف کر دے گا اور اللہ تعالٰی اس پر یہ کرم کرے گا کہ بقیہ عمر اسکو گناہوں سے بچائے گا اور جنت میں اسکو شہداء کے ساتھ رکھے گا۔
میں نے عرض کیا اللہ تعالٰی آپ پر رحم فرمائے سب سے اچھی حدیث جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو اسے بیان فرمائیں ۔ انہوں نے کہا اے لڑکے مجھ پر وائے ہو تو نے میرے دل کی رگوں کو کاٹ دیا یہ کہکر وہ رونےلگے اور میں بھی رونے لگا اور خدا کی قسم مجھے ان پر بڑا ترس آیا ۔ پھر انہوں نے فرمایا اچھا لکھو۔
بسم الله الرحمن الرحیم میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالی تمام انسانوں کو ایک مٹی کے تودہ کی شکل میں جمع کر دیگا پھر موذنوں کے پاس نور کے فرشتے بھیجے گا جنکے ہاتھوں میں علم ہوں گے اور وہ ایسے گھوڑوں کو کھینچتے ہوئے لائیں گے جنکی لجا میں زبرجد سبز کی ہونگی اور ان کی پاکھر مشک اذفر کی ہونگی اس پر وہ موذن لوگ سوار ہو جائیں گے بلکہ ان گھوڑوں پر کھڑے ہونگے اور یہ ملائکہ ان گھوڑوں کو کھینچتے اور یہ موذن با آواز بلند اذان دیتے ہوئے چلیں گے ۔

یہ کہکر بلال پر سخت گر یہ طاری ہوا اور میں بھی رونے لگا۔ جب وہ روتے روتے خاموش ہوئے تو میں نے عرض کیا آپ کیوں روتے تھے انہوں نے کہا تم پر وائے ہو تم نے مجھے ایسی ایسی باتیں یاد دلا دیں جو میں نے اپنے حبیب اور اپنے مشفق سے سنی تھیں وہ فرما رہے تھے کہ اس ذات کی قسم کہ جس نے مجھ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا یہ موذن لوگ اپنے اپنے گھوڑوں پر کھڑے ہو کر تمام مخلوق کے سامنے سے گزریں گے اور کہیں گے اللہ اکبر اللہ اکبر جب یہ لوگ کہیں گے تو میری امت کی چیخ و پکار سنی جائے گی تو اسامہ بن زید نے پوچھا کہ یہ چیخ و پکار کیسی ہوگی آپ نے فرمایا یہ تسبیح و تحمید و تہلیل کی آواز ہو گی ۔ اور جب موذن لوگ کہیں گے ” اشهد ان لا اله الا اللہ “ تو میری امت کہے گی ہاں ہاں ہم لوگ دنیا میں اس کی تو عبادت کرتے تھے تو کہا جائے گا کہ تم لوگوں نے سچ کہا ۔ اور جب موذن صاحبان کہیں گے کہ ”اشھدان محمد رسول الله “ تو میری امت کہے گی کہ انہی نے تو ہمارے رب ذوالجلال کا پیغام ہم لوگوں تک پہنچایا اور ہم لوگ اس پر ایمان لائے حالانکہ ہم لوگوں نے اسکو دیکھا نہیں تو ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگوں نے سچ کہا یہی وہ ہیں کہ جنہوں نے تمہارے رب کا پیغام تم لوگوں تک پہنچایا تو اللہ نے بھی یہ طے کر لیا ہے کہ تم لوگوں کو اور تمہارے نبی کو ایک جگہ جمع کر دے پھر ان کو انکی منزلوں تک پہنچا دیا جائے گا اور اس میں وہ کچھ ہو گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہوگا نہ کسی کان نے سنا ہوگا نہ کسی دل میں اسکا خیال آیا ہو گا۔ پھر میری طرف نظر اٹھائی اور فرمایا اگر تم سے ہو سکے اور قوت استطاعت تو اللہ ہی دیتا ہے تو ایسا کرنا کہ بغیر موذن بنے ہوئے نہ مرنا ۔ میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے میں ایک فقیر و محتاج ہوں مجھے کچھ عطا کیجئے اور وہ چیز عنایت کیجئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اس لئے کہ آپ انکی زیارت سے مشرف ہوئے ہیں اور مجھے انکی زیارت نصیب نہ ہو سکی ۔ اور یہ بتائیں کہ آپ سے آنحضرت نے جنت کی کیا صفت بیان کی انہوں نے کہا اچھا لکھو۔
بسم الله الرحمن الرحیم میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جنت کی چار دیواری میں ایک اینٹ سونے کی ہوگی اور ایک اینٹ چاندی کی اور ایک اینٹ یاقوت کی اور اسکا گارا مشک اذفر کا ہوگا اسکے کنگرے یاقوت سرخ و سبز و زرد کے ہونگے ۔ میں نے عرض کیا اور اسکے دروازے کون کون سے ہونگے ؟ انہوں نے کہا اسکے دروازے مختلف ہونگے ایک باب رحمت ہو گا جو یا قوت سرخ کا ہوگا۔ میں نے عرض کیا اور اس کا حلقہ کس چیز کا ہوگا ؟ انہوں نے کہا اب مجھے چھوڑو تم نے ایک پیچیدہ سوال کر دیا ۔ میں نے عرض کیا آپ جب تک یہ نہ بتائیں گے کہ آپ نے رسول اللہ سے اسکے متعلق کیا سنا ہے میں اس وقت تک آپ کو نہ چھوڑوں گا۔ انہوں نے فرمایا اچھا تو پھر لکھو۔
بسم الله الرحمن الرحیم ایک باب صبر ہو گا وہ ایک چھوٹا سا دروازہ ہوگا اور ایک پٹ کا ہو گا اور یاقوت سرخ کا ہوگا۔ ایک باب شکر ہوگا جو یا قوت سفید کا ہوگا وہ دو (٢) پٹ کا ہوگا اور ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہو گی ۔ اور وہ شور کرے گا کہ پروردگار میرے اہل کو جلد میرے پاس بھیج ۔ تو میں نے عرض کیا کہ کیا دروازہ کلام کرے گا ؟ انہوں نے کہا ہاں خدائے ذوالجلال اسکو قوت گویائی عطا کر دے گا۔ اور ایک باب بلاء و آزمائش ہو گا۔ میں نے عرض کیا کہ کیا وہی تو باب صبر نہیں ہے ؟ تو انہوں نے کہا نہیں ۔ میں نے کہا پھر باب بلاء و آزمائش کیا ہے ؟ انہوں نے کہا وہ باب مصیبت و امراض اسقام و جزام ہو گا وہ یاقوت زرد کا ہو گا جس کا صرف ایک پٹ ہو گا اور بہت کم لوگ اس میں داخل ہونگے ۔ میں نے عرض کیا میں ایک مرد فقیر ہوں کچھ اور عنایت کیجئے اللہ آپ پر رحم فرمائے ۔ انہوں نے کہا لڑ کے تو نے مجھے بہت پریشان کیا اچھا سنو ۔ ایک باب اعظم ہوگا اور اس میں سے صالح بندے داخل ہونگے اور وہ صاحبان زہد و تقویٰ ہونگے جو اللہ سے محبت وانس رکھتے ہونگے ۔ میں نے عرض کیا اچھا جب یہ سب لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے تو وہاں کیا کریں گے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ دو نہروں کے پانی میں یاقوت کی کشتیوں کے اندر بیٹھ کر سیر کریں گے جنکے پتوار موتی کے ہونگے اور اس میں نور کے فرشتے ہونگے جنکے لباس نہایت گہرے سبز رنگ کے ہونگے ۔
میں نے عرض کیا اللہ آپ پر رحم فرمائے کیا نور بھی سبز رنگ کا ہوتا ہے ؟ انہوں نے کہا لباس تو سبز رنگ کا ہوگا لیکن اسکے اندر اللہ کا پیدا کیا ہوا نو ر ہو گا تا کہ یہ لوگ اس نہر کے دونوں کناروں کی سیر کریں ۔ میں نے پوچھا اس نہر کا نام کیا ہے؟ کہا جنت المادی ۔ میں نے عرض کیا کہ کیا جنت میں اسکے علاوہ کوئی اور نہر بھی ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں جنت عدن ہے جو جنت کے بالکل وسط میں ہے اور اسکی چہار دیواری یاقوت سرخ کی ہوگی ۔ اسکے سنگریزے موتی ہونگے ۔ میں نے عرض کیا کہ کیا اسکے اندر ان کے علاوہ کوئی اور نہر بھی ہوگی انہوں نے کہا ہاں جنت الفردوس ۔ میں نے عرض کیا اسکی چہار دیواری کیسی ہوگی؟ انہوں نے کہا وائے ہو تجھ پر اے لڑکے چھوڑ مجھے تو نے تو سوال کرتے کرتے میرے دل کو زخمی کر دیا ۔ میں نے عرض کیا تو آپ نے بھی تو جواب دیتے دیتے میرے ساتھ ایسا ہی کیا ہے ۔ میں آپ کو نہ چھوڑونگا جب تک کہ آپ یہ نہ بتائیں گے اسکی چہار دیواری کیسی ہے ؟ انہوں نے کہا اسکی چہار دیواری نور کی ہوگی ۔ میں نے عرض کیا اس میں عرفے (کمرے) کس چیز کے ہونگے ؟ انہوں نے کہا اس میں غرفے اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے نور کے ہونگے ۔
میں نے عرض کیا اللہ آپ پر رحم فرمائے کچھ اور بیان کیجئے ۔انہوں نے کہا تم پر وائے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسکے متعلق مجھے اتناہی بتایا تھا۔ خوش بخت ہے وہ جو اس پر ایمان رکھے ۔ میں نے عرض کیا اللہ آپ پر رحم فرمائے میں خدا کی قسم اس پر ایمان رکھنے والوں میں سے ہوں ۔ انہوں نے کہا تم پر وائے ہو جو شخص اس پر ایمان رکھتا ہوگا یا اس حق اور اس منہاج کی تصدیق کرتا ہوگا وہ کبھی دنیا اور زینت دنیا کی طرف رغبت نہیں کرے گا اور خود اپنے نفس کا حساب کرتا رہے گا ۔ میں نے عرض کیا کہ میں تو اس پر ایمان رکھتا ہوں ۔ انہوں نے کہا ہاں تم سچ کہتے ہو مگر اب اور تقرب حاصل کرو اس پر پختہ ہو جاؤ مایوس نہ ہو عمل کرو اس میں کوتاہی نہ کرو امید رکھو ، ڈرو اور اپنے آپ کو برائیوں سے بچاتے رہو ۔ پھر حضرت بلال نے گریہ کیا اور تین مرتبہ ایسی چیخ ماری کہ میں سمجھا کہ وہ اب مرے ۔ اسکے بعد بولے نجات نجات ، جلدی جلدی ، کوچ کوچ ، عمل عمل ، خبر دار تم لوگ اس میں کوتاہی نہ کرنا خبردار اس میں کوتاہی نہ کرنا ۔ پھر کہا اچھا اگرمجھ سے بیان میں کوئی کوتاہی ہوئی تو اسے معاف کرنا ۔ میں نے عرض کیا آپ سے اگر کوئی کمی اور کوتاہی ہوئی ہو تو وہ معاف ہے اللہ آپ کو جزائے خیر دے اور آپ نے وہ کیا جو آپ کا فرض تھا۔ پھر انہوں نے مجھے رخصت کیا اور کہا اللہ سے ڈرنا اور جو کچھ میں نے تمہیں بتایا ہے وہ امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتا دینا ۔ میں نے عرض کیا کہ میں انشاء اللہ ایسا ہی کرونگا پھر کہا اچھا اب میں تمہارے دین اور تمہاری امانت کو خدا کے سپرد کرتا ہوں وہ تمہیں تقویٰ کا توشہ عنایت کرے گا اور اپنی مشیت سے اپنی اطاعت میں تمہاری مدد کرے گا۔
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی اذان دے لیتے تھے اور آپ کہتے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور کبھی فرماتے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اس لئے کہ احادیث میں دونوں طرح وارد ہوا ہے۔
ویسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو موذن بھی تھے ایک حضرت بلال اور دوسرے ابن ام مکتوم - ابن ام مکتوم نا بینا تھے وہ صبح سے پہلے اذان دے دیا کرتے تھے ۔

٩٠٦ - حضرت بلال طلوع صبح کے بعد اذان دیتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن ام مکتوم رات میں اذان دے دیتے ہیں لہذا جب تم لوگ ان کی اذان سنو تو کھاؤ پیو جب تک کہ بلال کی اذان نہ سن لو مگر عامہ نے اس حدیث کو الٹ دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب بلال اذان دیں تو کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں ( تو سحر کا کھانا ترک کردو) ۔

٩٠٧ - روایت کی گئی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتقال فرمایا تو بلال نے اذان کہنا چھوڑ دیا اور عہد کیا کہ اب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کے لئے اذان نہیں کہوں گا لیکن ایک دن حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ اپنے پدر بزرگوار کے موذن کی اذان کی آواز سنوں یہ خبر بلال کو ملی تو اذان دی جب انہوں نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تو حضرت فاطمہ کو اپنے باپ کا زمانہ یاد آیا آپ نے رونا شروع کر دیا اور جب بلال اشهد ان محمدا رسول الله تک پہنچے تو حضرت فاطمہ نے ایک چیخ ماری اور منہ کے بل گر گئیں اور غش کھا گئیں ۔ لوگوں نے کہا اے بلال اذان روک دو دختر رسول دنیا سے رخصت ہو گئیں اور لوگوں نے سمجھا کہ وہ واقعتا مر گئیں چنانچہ بلال نے اذان کو قطع کر دیا اور پوری اذان نہیں کہی ۔ حضرت فاطمہ کو جب غش سے افاقہ ہوا تو کہلا بھیجا کہ اذان پوری کرو مگر بلال نے اذان پوری نہیں کی اور کہلا دیا کہ اے سیدۃ النساء مجھے ڈر ہے کہ جب آپ میری اذان سنیں گی تو آپ کے دل پر چوٹ لگے گی ۔ لہذا آپ مجھے اذان سے معاف کریں ۔

٩٠٨ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ عورت پر نہ اذان ہے ، اور نہ اقامت نہ نماز جمعہ ہے ، نہ حجر اسود کو بوسہ دینا ، نہ خانہ کعبہ میں داخل ہونا ہے اور نہ صفا و مروہ کے درمیان ہرولہ (تیز قدم چلنا) نہ سر منڈوانا ، انکےلئے ذرا سا بال تراش لینا (کافی) ہے۔
اور روایت میں ہے کہ ان کے لئے بال تراشنے میں انگلی کی ایک گرہ کے برابرکا ٹنا کافی ہے ۔

٩٠٩ - اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ عورت جب قبیلہ کی اذان سن لیتی ہے ہے تو پھر اس پر اذان اور اقامت کہنا لازم نہیں ہے اسکے لئے صرف کلمہ شہادتین کہہ لینا کافی ہے لیکن اگروه اذان و اقامت کہہ لے تو یہ افضل و بہتر ہے ۔
اور نماز عیدین میں اذان و اقامت نہیں ہے بس آفتاب کا طلوع ہونا ہی ان دونوں کی اذان ہے ۔

٩١٠ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا اگر غول بیابانی (بھوت پریت) تمہیں راستہ بہکا دیں تو تم لوگ اذان کہا کرو۔

٩١١ - نیز فرمایا کہ جب کسی بچے کی ولادت ہو تو اسکے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہو ۔

٩١٢ - نیز فرمایا کہ جس شخص نے چالیس دن تک گوشت نہیں کھا یا وہ بد خلق ہو گیا ہے اور جو بد خلق ہو جائے اسکے کان میں اذان کہو ۔

٩١٣ - نیز فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم گرامی اذان میں مکرر لیا جاتا تھا سب سے پہلے جس نے اسکو حذف کر دیا وه این ارویٰ تھا (معارف ابن قتیبہ میں ہے کہ حضرت عثمان کی ماں کا نام ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد الشمس ہے) ۔
اور روایت کی گئی ہے کہ جب مدینہ میں موذن جمعہ کی اذان دے لیا کرتا تھا تو پھر ایک منادی ندا دیا کرتا تھا کہ اب خرید و فروخت حرام ہے اللہ تعالٰی کے اس قول کی بنا پر کہيَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نُودِىَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوْمِ ٱلْجُمُعَةِ فَٱسْعَوْا۟ إِلَىٰ ذِكْرِ ٱللَّهِ وَذَرُوا۟ ٱلْبَيْعَ ۚ (اے ایمان والو جب جمعہ کے دن نماز کے لئے آواز دی جائے تو اللہ کے ذکر کے لئے دوڑو اور لین دین چھوڑ دو) (سورہ جمعہ آیت نمبر ۹)

٩١٤ - اور فضل بن شاذان نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے علل و اسباب کے سلسلے میں جن احادیث کا ذکر کیا ہے ان میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ لوگوں کو جو اذان کا حکم دیا گیا ہے اس کی بہت سی مصلحتیں اور علل و اسباب ہیں۔ اسمیں سے یہ سبب بھی ہے کہ جو نماز بھولا ہوا ہے اسکو یاد آجائے۔ جو غافل ہے وہ متنبہ ہو جائے ۔ جس کو نماز کا وقت نہ معلوم ہو اسکو وقت کا پتہ چل جائے۔ اس اذان کے ذریعے موذن لوگوں کو خالق کی عبادت کے لئے دعوت دیتا ہے اس کی طرف رغبت دلاتا ہے۔ توحید کا اقرار کرتا ہے ایمان کا اظہار اور اسلام کا اعلان کرتا ہے جو شخص بھولا ہوا ہے اسکو یاد دلاتا ہے۔ اسکو موذن اس لئے کہتے ہیں کہ وہ نماز کے لئے اعلان کرتا ہے وہ اذان اللہ اکبر سے شروع کرتا ہے اور لا اله الا اللہ پر ختم کرتا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ابتداء اسکے نام سے ہوا اور انتہا بھی اسی کے نام پر ہو چنانچہ اللہ اکبر میں پہلا نام اللہ کا ہے اور لا اله الله الا اللہ میں آخر نام اللہ کا ہے۔ اور دو دو مرتبہ اس لئے رکھا گیا تا کہ سننے والوں کے کانوں میں یہ دو مرتبہ پہنچے اور انکے لئے تاکید ہو۔ اگر کوئی ایک مرتبہ سنکر بھول جائے تو دوسری مرتبہ سنکر نہ بھولے اور چونکہ نماز دو دو رکعت ہے اس لئے اذان کا ہر فقرہ بھی دو دو مرتبہ ہے۔ اور ابتدائے اذان میں تکبیر چار مرتبہ اس لئے ہے کہ ابتدائے اذان پر انسان غافل رہتا اس سے پہلے کوئی کلام نہیں ہوتا اس لئے ابتداء کی دو تکبیریں سننے والوں کے لئے انتباہ کے طور پر ہیں کہ اب اسکے بعد اذان ہو رہی ہے۔ اور تکبیر کے بعد دونوں شہادتیں اس لئے ہیں کہ اول ایمان اللہ کی وحدانیت کا اقرار ہے اور دوسرا ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا اقرار ہے اور ان دونوں کی اطاعت اور معرفت ساتھ ساتھ ہے اور اس لئے کہ اصل ایمان یہی دونوں شہادتیں ہیں اور ان دونوں شہادتوں کو دو دو مرتبہ اس طرح رکھا جسطرح تمام حقوق کے ثبوت میں دو گواہیاں ضروری ہیں۔ پس جب بندے نے اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا اقرار کر لیا تو گویا اس نے مکمل ایمان کا اقرار کر لیا اس لئے کہ اصل ایمان اللہ پر ایمان اور اسکے رسول پر ایمان ہے اور ان دونوں شہادتوں کے بعد نماز کی طرف دعوت ہے اس لئے کہ اذان نماز کی طرف دعوت ہی دینے کے لئے وضع کی گئی ہے اور اذان کے درمیان میں نماز کی طرف بلانا اور فلاح و خیرالعمل کی طرف دعوت دینا ہے اور اذان کا اختتام اللہ تعالیٰ کے نام پر ہے جس طرح اس کی ابتداء اللہ تعالیٰ کے نام سے ہوئی ہے۔