باب سجدہ شکر اور اسمیں کیا کہنا چاہیے
حدیث ٩٦٧ - ٩٧٩
٩٦٧ - عبداللہ بن جندب نے حضرت موسی بن جعفر علیہ السلام سے روایت کی ہے اس کا بیان ہے کہ وہ جناب سجدہ شکرمیں یہ کہا کرتے تھے ۔
اَلّلهُمَّ إِني اُشْهِدُك وَ اُشْهِدَ مَلَائِكَتَكَ وَ أَنْبِیَاءَکَ وَرُسُلَکَ وَ جَمِیْعِ خَلْقَکَ إِنَّکَ (اَنْتَ) اَللهُ رَبّیِ وَ الَْاِسْلَامُ دِیْنِیْ وَمُحَمّداً نَبِيّىِ وَعَلِيّاً و الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنُ وَعَلَّىِ بْنَ الْحُسَيْنَ وَ مَحَمَّدَ بْنَ عَلِّىِ وَجَعْفَرَ بْنِ مَحَمَّدٌ ومَوْسى بْنِ جَعْفَرَوَ عَلِىَّ بْنَ مُوْسى وَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِىٍّ وَ عَلِىَّ بْنَ مُحَمّدٍ وَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِىِِّ وَ اَلْحُجَّةَ بْنَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِىِِّ أَئِمَّتِىْ بِهِم أَتَوَلَّىٰ وَ مِنْ أَعْدَائهِمُ اتَّبَراء -
(اے اللہ میں تجھے گواہ کر کے کہتا ہوں اور تیرے ملائیکہ اور تیرے انبیاء اور تیرے رسولوں کو اور تیری تمام مخلوق کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ بیشک تو ہی میرا رب ہے اور اسلام میرا دین ہے محمد میرے نبی ہیں اور حضرت علی اور حسن و حسین و علی بن حسین و محمد بن علی و جعفر بن محمد موسی بن جعفر و علی بن موسی و محمد بن علی و علی بن محمد و حسن بن على والحجة بن حسن بن علی میرے آئمہ ہیں میں ان ہی سے محبت کرتا ہوں اور ان کے دشمنوں سے براءت کا اظہار کرتا ہوں) پھر تین بار اَلّلهُمَّ إِنِّى أَشَدُكَ دَمَالْمَظْلُومِ (اے اللہ میں تجھے خون مظلوم کی قسم دیتا ہوں)۔
پھرتين بار اَلّلهُمَّ إِنِّی أَنْشَدُكَ بِأَیوَائِكَ عَلَى نَفْسِكَ لِأَعْدَائِكَ لَتَهُلَكَهُمُ بِايْدِينَا وَايْدِى الْمُؤْمنين اَلّلهُمَّ إنى أَنْشُدُكَ بِأَيْوَاتِكَ عَلَى نَفْسِكَ لِأَوْلِيَانِكَ لَتَظْفَرَنَّهُمْ بِعَدْوَک وَعَدُوِّهِمْ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ المُسْتَحْفِظِينَ مِنْ آلِ محمد (اے اللہ میں تجھے خود تیری ذات کی قسم دیکر کہتا ہوں کہ تو اُن کے دشمنوں کو ہمارے ہاتھوں اور مومنین کے ہاتھوں سے ضرور ہلاک کرادے اور میں تجھے خود تیری ذات کی قسم دیکر کہتا ہوں تو اُن کے اولیاء اور دوستداروں کو اپنے دشمنوں پر اور اُنکے دشمنوں پر ضرور فتحیاب فرما اور رحمت نازل فرما محمد پر اور آل محمد میں سے ان پر جو لوگ محفوظ و معصوم ہیں)
پھر تین بار اَللّهُمَّ إِنِّى أَسْاًلَكَ الْيُسْرَ بَعْدَ الْعُسْر(اے اللہ مشکل کے بعد آسانی عطا فرما) ۔ پھر اپنا دایاں گال زمین پر رکھکر تین بار
یَاکَھْفِىْ حِيْنَ تُغْيِيْنِى الْمذَاحِبُ وَتْضِيْقُ عَلَىً الْأَرْضَ بِمَا رَحُبَتْ وَیَابَارِىُء خَلَقِىْ رَحْمَةً بِىْ وَكُنْتَ عَنْ خَلْقِىْ غَنِيًّا صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الْمُسْتَحْفَظِينَ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ) اے مجھے اس وقت پناہ دینے والے جب مختلف راستے مجھے عاجز کر دیتے ہیں اور زمین باوجود اپنی وسعت کے مجھ پر تنگ ہو جاتی ہے۔ اے مجھ پر رحم وکرم کر کے مجھے پیدا کرنے والے تجھ کو میرے پیدا کرنے کی کوئی ضرورت لاحق نہیں تھی - تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آل محمد خصوصاً آل محمد میں جو معصوم و محفوظ ہیں ان پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔
پھر اپنا بایاں رخسار زمین پر رکھکر تین بار کہو
يَا مُذِلَّ كُلِّ جَبَّارٍ وَ يَا مُغِزَّكُلِّ ذَلِيْلِ تَدْ وَعِزَتِكَ بَالَغَ (بِیْ) مَجْھُودِیْ (اے ہر ظالم و جابر کو ذلیل کرنے والے اور اے ہر ذلیل کو عزت دینے والے تجھے اپنی عزت و جلال کی قسم مجھے میرے مقصد تک پہنچا دے) ۔
پھر سجدہ کرو اور سو مرتبہ کہوشکراً شکراً پھر اپنی حاجت کے لئے سوال کرو انشاء اللہ تعالٰی اور مخالفین کے سامنے سجدہ شکر نہ کرو بلکہ تقیہ اختیار کرو اور اسے ترک کرو ۔
٩٦٨ - جہم بن ابی جہم سے روایت کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت امام ابو الحسن موسیٰ بن جعفر علیہما السلام کو دیکھا کہ آپ نے نماز مغرب کی تین رکعت کے بعد سجدہ کیا تو میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان میں نے دیکھا کہ آپ نے تین رکعتوں کے بعد سجدہ کیا تو آپ نے فرمایا کیا واقعی تم نے مجھے سجدہ کرتے ہوئے دیکھ لیا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں تو آپ نے فرمایا پھر تم بھی اس کو نہ چھوڑنا اس میں دعا قبول ہوتی ہے۔
٩٦٩ - ابراہیم بن عبدالحمید کی روایت ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک شخص سے فرمایا کہ جب تمہیں کوئی غم و حزن لاحق ہو تو اپنے ہاتھ کو سجدہ گاہ سے مسح کرو پھر اس ہاتھ کو اپنے بائیں رخسار پر ملو پھر اسے اپنی پیشانی سے لیکراپنے داھنے رخسار پر ملو۔ (ابن عمیر کا بیان ہے کہ ابراہیم بن عبدالحمید نے مجھے اسطرح بتایا) اور ایسا تین مرتبہ کرو اور ہر مرتبہ یہ کہو
بَسْمِ اللهِ الَّذِىْ لَا إلهَ إلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الرَّحْمنُ الرَّحِيْمَ اَللّهُمَّ اَذْهِبُ عَنِّى الْغَمَّ وَالْحُزْن - (اس اللہ کے نام سے کہ جس کے سوا کوئی اللہ نہیں وہ باطن و ظاہر کا جاننے والا ہے اور رحمن ورحیم ہے اے اللہ تو میرے غم وحزن کو دور کر دے )۔
٩٧٠ - اور سلیمان بن حفص مروزی سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوالحسن رضا علیہ السلام نے مجھے خط میں تحریر فرمایا کہ تم سجدہ شکر میں سو مرتبہ شکراً شکراً کہو اور اگر چاہو تو عفواً عفواً کہو۔
٩٧١ - اور حضرت ابوالحسن امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام نماز کے بعد سجدے میں جاتے تو سر نہ اٹھاتے جب تک کہ دن نہ
چڑھ جائے۔
٩٧٢ - اور عبدالرحمن بن حجاج نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص حالت وضو میں سجدہ شکر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس نمازوں کا ثواب لکھے گا اور اس کے دس گناہوں کو محو کر دے گا۔
٩٧٣ - اور سعد بن سعد نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے سجدہ شکر کے متعلق دریافت کیا اور کہا کہ ہم اپنے اصحاب کو دیکھتے ہیں کہ وہ نماز فریضہ کے بعد ایک سجدہ کرتے ہیں اور اسکو کہتے ہیں کہ یہ سجدہ شکر ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ شکر یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ بندے کو کسی نعمت سے نوازے تو وہ یہ کہے۔ سُبْحَـٰنَ ٱلَّذِى سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُۥ مُقْرِنِينَ وَإِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (پاک و منزہ ہے وہ ذات کہ جس نے مجھے اس چیز پر قابو دیا جبکہ مجھ میں اس پر قابو پانے کی طاقت نہ تھی اور ہم سب اپنے رب کی طرف واپس پلٹنے والے ہیں اور حمد اس اللہ کی ہے جو تمام عالمین کا پروردگار ہے (سورۃ زخرف - آیت نمبر ۱۳)
٩٧٤ - اور اسحاق بن عمار نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے بیان فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب نماز پڑھتے تو جب تک اپنا دایاں رخسار زمین سے ملا نہ لیتے اور بایاں رخسار زمین سے جہاں نہ کر لیتے ہٹتے نہ تھے۔
٩٧٥ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے یہاں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ بن عمران کی طرف وحی فرمائی کہ تمہیں معلوم ہے کہ میں نے ساری مخلوق کو چھوڑ کر تمہیں اپنے کلام کے لئے کیوں منتخب کیا؟ موسی نے کہا نہیں اے میرے رب اللہ تعالی نے کہا اے موسیٰ میں نے اپنے تمام بندوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا مگر میں نے کسی ایک کو بھی ایسا نہ پایا جو تمہاری طرح میرے سامنے خود کو ذلیل کرتا ہو اے موسیٰ جب تم نماز پڑھتے ہو تو اپنے دونوں رخسار زمین پر رکھ دیتے ہو۔
٩٧٦ - اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ بندہ سجدہ کرے اور پوری ایک سانس تک یارب یارب کہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے میں موجود ہوں بتا تجھے کیا حاجت ہے۔
٩٧٧ - اور حضرت علی ابن الحسن علیہ السلام اپنے سجدہ میں عرض کیا کرتے تھے اَلّلُهُمَّ إِنْ كُنْتُ قَدْعَصَيْتُكَ فَإِنّيِ قد أَطَعَتُكَ فِي أَحَبِّ الْأَشْيَاء إِلَيْكَ وَهُوَ الْإِيْمَانُ بِكَ مَنَّاً مِنْكَ عَلَىَّ لَاَمَنَّاً مِنّىِ عَلَيْكَ، وَ تَرَکْتُ مَْعْصِيََّتَکَ فىِ أَبْغَضِ الْأَشْيَاءِ إلَيْكَ وَ هُوَ أَنْ أَدْعُولَكَ وَلَدَاً أَوْ أَدْعُو لَكَ شَرِيْكاً مَنْاً مِنْكَ عَلَىَّ لَاَ مَنَّاً مِنّىِ عَلَيْكَ، وَعَصَيْتُكَ فِئي أَشْيَاءَ عَلى غَيْرِ وَجْهِ مُكَابِرَةٍ وَلَا مَعَائِدَةٍ وَلَا اِسْتَكْبَارٍ عَنْ عِبَادَتِكَ ، وَلَا جَحُوْدٍ لِرُبُوْبِيَّتِكَ ،وَلَكِنِ اتَّبَعْتُ هَوَاىَ وَاسْتَزَلَّنِئَي الشَّيْطَانُ بَعْدَ الحُجَّةِ عَلَىَّ وَالْبَيَانِ ، فَإنْ تَعُذِبّنىِ فَبِذُنُؤبِيْ غَيْرَ ظَالِمٍ لِىْ ، وَإِنْ تَغْفِرْلِىْ وَتَرْحَمْنِيْ فَبِجُودِكَ وَ بِكَرَمِكَ يَا أَرْحَمَ اَلرَّاحِمِیْنَ - (اے اللہ اگر میں نے گناہ کیا ہے تو تیری ایک اطاعت بھی تو کی ہے اس چیز میں جو تجھے سب سے زیادہ پسند ہے اور وہ تجھ پر ایمان رکھتا ہے اور یہ تیرا مجھ پر احسان ہے میرا تجھ پر کوئی احسان نہیں ہے ۔ اور میں نے وہ گناہ چھوڑ دیا جو تجھ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے اور وہ یہ کہ میں یہ مان لوں کہ تیرا کوئی بیٹا ہے یا یہ مان لوں کہ تیرا کوئی شریک ہے یہ تیرا مجھ پر احسان ہے میرا تجھ پر کوئی احسان نہیں ہے اور میں نے چند باتوں میں اگر نافرمانی کی ہے تو نہ کبر کی بنا پر نہ عناد کی بنا پر نہ تیری عبادت سے انکار کی بنا پر نہ تیری ربو بیت سے انکار کی بنا پر بلکہ میں نے اپنی خواہش نفس کی پیروی کی اور حجت و بیان کی موجودگی کے بعد بھی شیطان نے مجھے بہکا دیا اب اگر تو میرے گناہوں پر مجھےعذاب میں مبتلا کرے تو یہ مجھ پر تیرا ظلم نہیں ہوگا اور اگر تو بخش دے تو تو ارحم الراحمین ہے یہ تیرا جودو کرم ہو گا) اور جو شخص سجدہ شکر کر رہا ہے اسکے لئے مناسب ہے کہ وہ اپنی دونوں کہنیاں زمین پر رکھے اور اپنے سینے کو زمین سے مادے۔
٩٧٨ - ابی الحسین اسدی رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جب نماز گزار نماز فریضہ کے بعد سجدہ کرتا ہے تو وہ اس لئے کہ وہ اس امر پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے احسان کیا کہ ادائے فرض کی توفیق عطا فرمائی۔ اور سجدہ شکر میں کم از کم یہ کہنا کافی ہے کہ تین مرتبہ کہے شكر الله -
٩٧٩ - اور احمد بن ابی عبداللہ نے اپنے باپ سے اور انہوں نے محمد ابی عمیر سے انہوں نے حریز سے انہوں نے مرازم سے اور انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ سجدہ شکر ہر مسلمان پر واجب ہے اس سے تیری نماز پوری ہو گی اور تیرا رب تجھ سے راضی و خوش ہو گا اور ملائیکہ تجھ پر تعجب کریں گے کہ اس بندے کو دیکھو کہ یہ جب نماز پڑھتا ہے تو سجدہ شکر ادا کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس بندے کے اور ملائکہ کے درمیان حجاب اٹھا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اے میرے ملائکہ میرے بندے کو دیکھو کہ اس نے میرے فرض کو ادا کیا اور میرے عہد کو پورا کیا پھر اس نے شکرکرتے ہوئے مجھے سجدہ بھی کیا اس بنا پر کہ میں نے اس کو نعمتیں دیں۔ میرے فرشتو یہ بتاؤ کہ اسکو دینے کے لئے میرے پاس کیا ہے؟ ملائکہ کہیں گے ہمارے پروردگار تیری رحمت ہے اللہ تعالٰی کہے گا (درست ہے) مگر اسکے علاوہ اور کیا ہے ملائکہ کہیں گے پروردگار اس کو دینے کیلئے تیری جنت ہے اللہ تعالٰی کہیگا (درست ہے) لیکن اس کے علاوہ اور کیا ہے ؟ ملائیکہ عرض کریں گے پروردگار پھر اسکے علاوہ اس کی مہمات کو حل کر دے اللہ تعالٰی کہے گا پھر اور کیا اور کیا تو ملائکہ اسکے بعد ایک ایک نیکی کو شمار کر دینگے اور اللہ تعالی کہتا رہے گا اور کیا اور کیا جب کچھ نیکی باقی نہ رہے گی تو اللہ تعالیٰ کہے گا اے میرے ملائکہ یہ بتاؤ اور کیا؟ تو ملائکہ کہیں گے پروردگار ہمیں ان کے علاوہ کچھ معلوم نہیں تو اللہ تعالٰی کہے گا میں اسکا شکریہ ادا کرونگا جسطرح اس نے میرا شکر ادا کیا ہے اور میں اپنے فضل و کرم کو لیکر خود اسکی طرف بڑھوں گا اور اپنا چہرہ اسکو دکھاؤں گا۔
مصنف کتاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اور چہروں کی طرح اللہ تعالیٰ کا چہرہ بتایا اس نے کفروشرک کیا۔ اسکا چہرہ تو انبیاء اور حجہتائے خدا صلوات اللہ علیم ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے وسیلہ سے بندے اللہ کی طرف اسکی معرفت اور اسکے دین کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور قیامت کے دن ان لوگوں کو دیکھنا سب سے بڑا ثواب واجر ہے اور یہ ہر ثواب سے بڑھا ہوا ہے اور اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍۢ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو ٱلْجَلَـٰلِ وَٱلْإِكْرَامِ (ہر مخلوق فنا ہونے والی ہے بس خدائے ذوالجلال والاکرام کا چہرہ باقی رہے گا) (سورہ رحمن آیت نمبر ٢٦ - ٢٧) نیز ارشاد فرمایا ہے فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا۟ فَثَمَّ وَجْهُ ٱللَّهِ ( تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے یعنی ادھر ہی اللہ کی طرف توجہ ہو گی ) (سورہ بقرہ آیت نمبر ١١٥) اور قران کے ظاہری الفاظ کی بناء پر احادیث سے انکار نہیں کیا جائے گا۔