Skip to main content

باب استسقاء

حدیث ١٤٨٨ - ١٥٠٥

١٤٨٨ -  عبدالرحمن بن کثیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب چار باتیں کھل کر ہونے لگیں تو چار چیزیں ظاہر ہونگی ۔ جب زنا کھل کر ہوگا تو زلزلے آئیں گے ، جب زکات روک لی جائیگی تو مویشی ہلاک ہونگے ، جب حکام فیصلہ دینے میں نا انصافی کریں گے تو آسمان سے بارشیں ہونی بند ہو جائینگی ، جب عہد شکنی ہوگی ، اپنی ذمہ داری کو پورا نہ کیا جائے گا تو مشرکین مسلمانوں پر فتحیاب ہونگے ۔

١٤٨٩ - نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر غضبناک ہوتا ہے مگر پھر بھی عذاب نازل نہیں کرتا تو چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں ، عمریں کم ہو جاتی ہیں ، تاجروں کو نفع نہیں ہوتا ، درختوں کے پھل اچھے نہیں اترتے ، دریاؤں میں پانی کم ہو جاتے ہیں ، بارش ہونی بند ہو جاتی ہے اور شریر لوگ ان پر مسلط ہو جاتے ہیں ۔

١٤٩٠ - حفص بن غیاث نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت سلیمان ابن داؤد علیہ السلام ایک دن اپنے اصحاب کے ساتھ نکلے تاکہ بارش کیلئے دعا کریں کہ راستہ میں ایک چیونٹی کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے یہ دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ تیری مخلوق میں سے میں بھی تیری ایک مخلوق ہوں ہم لوگ تیرے رزق سے مستغنی نہیں ہمیں تیرے رزق کی ضرورت ہے نبی آدم کے گناہوں کی وجہ سے ہم لوگوں کو تو ہلاک نہ کر ( چیونٹی کی یہ دعا سن کر) حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے کہا واپس چلو اب بغیر تمہاری دعا کے پانی برسے گا ۔

١٤٩١ - حفص بن بختری نے آنجناب علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی جب ارادہ کرتا ہے کہ بارش سے مخلوق کو سیراب کرے تو وہ بادل کو حکم دیتا ہے اور وہ زیر عرش سے پانی اٹھا لیتا ہے اور جب بناتات اگانے کا ارادہ نہیں کرتا تو وہ بادلوں کو حکم دیتا ہے اور وہ سمندر سے پانی اٹھاتے ہیں ۔ تو عرض کیا گیا کہ مگر سمندر کا پانی تو کھاری اور نمکین ہوتا ہے آپ نے فرمایا کہ بادل شیریں کر لیتا ہے ۔

١٤٩٢ - اور سعدان نے ان ہی علیہ السلام سے روایت کی تو آپ نے فرمایا کہ جو قطرہ بھی آسمان سے نازل ہوتا ہے اسکے ساتھ ایک فرشتہ بھی نازل ہوتا ہے اور وہ اس قطرے کو وہاں رکھ دیتا ہے جہاں اسکے لئے جگہ مقرر ہے ۔ 

١٤٩٣ - نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی نے جب اہل دنیا کو خلق کیا اس وقت سے اب تک کوئی دن ناغہ نہیں جاتا ہر روز پانی برستا ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے برساتا ہے ۔

١٤٩٤ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہوا صرف اسی مقدار سے نکلتی ہے جتنی اہل زمین کیلئے مناسب ہوسوائے زمانہ عاد کے اس لئے کہ وہ اس وقت اپنے موکلین کے قابو سے باہر ہو گئی تھی چنانچہ وہ ایک سوئی کے ناکے کے برابر نکلی اور اس سے قوم عاد ہلاک ہو گئی اور پانی بھی صرف اسی مقدار سے برستا ہے جتنا اہل زمین کیلئے مناسب ہو سوائے زمانہ نوح کے اس لئے کہ وہ اس وقت اپنے موکلین کے قابو سے باہر ہو گیا اور وہ بھی ایک سوئی کے ناکے کے برابر نکلا اور اسی سے اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو غرق کر دیا ۔

١٤٩٥ - حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ بادل بارش کی چھلنی ہے اگر یہ نہ ہو تو ہر وہ شے جس پر یہ گرے فاسد اور خراب ہو جائے ۔

١٤٩٦ - اور ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے رعد کے متعلق دریافت کیا کہ یہ رعد کیا کہتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ ایک ایسے مرد کے مانند ہے جو اونٹ پر سوار ہے اس کو ہنکاتا ہے اور اس طرح گونجتا ہے ۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا کہ میں آپ پر قربان یہ بجلی کیا ہے؟ فرمایا یہ ملائکہ کے کوڑے ہیں جس سے وہ بادل کو مارتے ہیں اور اللہ تعالٰی نے جہاں بارش کا فیصلہ کیا ہوتا ہے وہاں انکو ہنکا کر لے جاتے ہیں ۔

١٤٩٧ - نیز آپ نے فرمایا کہ رعد ایک ملک کی آواز ہے اور برق اس کا کوڑا ہے ۔

١٤٩٨ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ فرعون کے اصحاب فرعون کے پاس آئے اور بولے دریائے نیل خشک ہو گیا ہے ایسی حالت میں تو ہم لوگوں کی ہلاکت ہے ۔ فرعون نے کہا اچھا آج تم لوگ واپس جاؤ پھر جب رات ہو گئی تو دریائے نیل کے وسط میں گیا اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کئے اور کہا اے اللہ مجھے علم ہے کہ میں اس بات کو جانتا ہوں کہ اس دریا میں سوائے تیرے کوئی پانی نہیں لا سکتا لہذا ہم لوگوں کیلئے اس میں پانی لادے ۔ چنانچہ صبح ہوتے ہوتے دریائے نیل میں پانی ٹھاٹھیں مارنے لگا۔
اور نماز استسقاء صرف صحرا میں پڑھی جائے تاکہ آسمان نظر آئے اور نماز استسقاء سوائے مکہ کی مسجد کے اور کسی میں نہیں پڑھی جائے گی ۔
       اور جب تم نماز استسقاء پڑھنے کا ارادہ کرو تو جس دن تم یہ نماز پڑھو وہ دن شنبہ کا ہونا چاہیئے اس روز تم اس طرح نکلو جس طرح نماز عید کے لئے نکلتے ہیں ۔ اعلان کرنے والے تمہارے آگے آگے اعلان کرتے ہوئے چلیں یہاں تک کہ تم نماز کی جگہ پہنچو اور لوگوں کے ساتھ دو رکعت نماز بغیر اذان اور بغیر اقامت کے پڑھو پھر منبر پر جاؤ اور خطبہ پڑھو ۔ اور تمہاری ردا کا جو ( حصہ) تمہارے داہنی جانب ہے اسے بائیں جانب کر لو اور جو (حصہ) بائیں جانب ہے اسے داہنے جانب کر لو ۔ پھر قبلہ کی طرف رخ کرو اور سو مرتبہ اللہ اکبر بلند آواز سے کہو ۔ پھر اپنے داہنی جانب ملتفت ہو اور سو مرتبہ سبحان اللہ بلند آواز سے کہو پھر اپنے بائیں جانب ملتفت ہو اور سو مرتبہ لا الہ الا اللہ بلند آواز سے کہو پھر مجمع کی طرف رخ کرو اور سو مرتبہ بلند آواز سے الحمد اللہ کہو پھر تم اور سارے لوگ بلند آواز سے بارش کیلئے دعا کریں انشاء اللہ وہ تمہیں مایوس واپس نہ کرے گا۔

١٥٠٠ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بارش کیلئے دعا کرتے تو یہ کہتے اَللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَ بَهَائِمَكَ وَ انْشُرْرَحْمَتَكَ وَأَحْئِ بَلادَكَ الْمَيْتَةَ (اے اللہ تو اپنے بندوں اور اپنے جانوروں کو سیراب کر دے اپنی رحمت پھیلا دے اور اپنے مردہ شہروں کو زندہ کر دے) آپ اس دعا کی تکرار تین دفعہ کرتے تھے ۔

١٥٠١ - اور امیر المومنین علیہ السلام نے نماز استسقاء کے موقع پر خطبہ دیا اور یہ کہا 

1501 - 1.jpg

1501 - 2.jpg

(اس اللہ کی حمد جو وسیع نعمتیں دینے والا ہے ۔ غم وہم کو دور کرنے والا اور انسانوں کا پالنے والا ہے وہ اللہ وہ ہے جس نے تمام آسمانوں کو اپنی کرسی کا پایہ بنایا اور پہاڑوں کو زمین کیلئے میخ بنایا زمین کو بندوں کیلئے گہوارہ بنایا اور اس کے ملائیکہ ان سب کے ارد گرد ہیں اور حاملین عرش ان کی پشت پر ہیں اس نے اپنی قوت سے ارکان عرش کو قائم کیا اور اپنے اورپھرآفتاب کی شعاعوں کو چمکایا ۔ اور پھر آفتاب کی شعاعوں نے ظلمت کو ڈھانپ لیا ۔ اس نے زمین میں جگہ جگہ چشمے جاری کئے ، چاند کو منور کیا ستاروں کو جگمگایا ، پھر بلندی کی طرف متوجہ ہوا اس پر اپنا اقتدار دکھایا اسے پیدا اور مستحکم کیا اسے کھڑا کیا اس کی حفاظت کی ۔ تو ہر متکبر کی نخوت اسکے سامنے سرنگوں ہو گئی اور ہر مسکین کا افلاس اس کے سامنے دست طلب بڑھانے لگا ۔
         اے اللہ میں تجھے تیرے درجہ رفیع و علوئے مرتبت اور تیرے کمال فضل اور تیرے وسیع راستہ کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو محمدؐ اور آل محمدؐ پر اپنی رحمتیں نازل فرما اس لئے کہ انہوں نے تیری اطاعت کی اور لوگوں کو تیری عبادت کی طرف دعوت دی ، تیرے عہد کو پورا کیا تیرے احکام نافذ کئے تیری ہدایات کا اتباع کیا ۔ یہ تیرے بندے ہیں تیرے نبی ہیں اور تیرے ان پیغامات کے امین ہیں جو تو نے اپنے بندوں کے پاس بھیجے ہیں ۔ تیرے احکامات پر قائم ہیں ۔ تیرے اطاعت گزار بندوں کی مدد کرنے والے اور تیرے نافرمان بندوں کے عذر کو قطع کرنے والے ہیں ۔
       اے اللہ تو نے اپنی رحمت کے جن جن لوگوں کو حصے دیئے ہیں ان میں سب سے بڑا حصہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمایا اور تیرے ڈھیروں عطیات دینے کی وجہ سے جن لوگوں کے چہرے بشاش ہیں ان سے زیادہ بشاش آنحضرت کے چہرے کو بنا دے اور ان لوگوں سے زیادہ اپنی رحمت کا حصہ انہیں عطا فرما اور ان لوگوں سے زیادہ ان کی امت کی صفوں کو اپنی جنت میں داخل فرما۔ اس لئے کہ انہوں نے کبھی پتھروں کو سجدہ نہیں کیا کبھی درختوں کی پرستش نہیں کی کبھی شراب کو حلال نہیں سمجھا ۔ اور کبھی خون نہیں پیا ۔
اے اللہ جب کہ ہم لوگوں کو بے حد تنگیوں نے گھیرا ہے جب کہ ہم لوگوں پر حد درجہ مشکلات آن پڑی ہیں جب کہ عیوب نے ہمیں دانتوں سے پکڑ لیا ہے جب کہ کذب و افتراء نے ہم پر پورا قبضہ جمالیا ہے ۔ جب کہ ہم لوگوں پرقحط سالیوں نے یلغار کر دی ہے جب کہ یہ نہ برسنے والے بادل ہم لوگوں کو چھوڑ جاتے ہیں جب کہ ہمارے بوڑھے اونٹ پیاس سے بلبلا رہے ہیں تو ہم لوگ تیری بارگاہ میں حاضر ہوئے ہیں تو ہر بد حال و پریشان کی امید اور ہر طلبگار کا بھروسہ ہے ۔ ہم لوگ تجھے اس وقت آواز دے رہے ہیں جب لوگوں پر مایوسی چھائی ہوئی ہے ۔ بادل پانی نہیں برسا رہا ہے ۔ چرنے والے جانور ہلاک ہو رہے ہیں ۔ 
     اے حی و قیوم ہم لوگ تجھ سے اتنی مرتبہ دعا کرتے ہیں جتنی درختوں اور پھولوں اور ملائکہ کی صفوں اور ان نہ برسنے والے بادلوں کی تعداد ہے کہ تو ہم لوگوں کو مایوس نہ پلٹا ۔ ہم لوگوں سے ہمارے اعمال کا مواخذہ نہ فرما ہمیں ہمارے گناہوں کی سزا نہ دے بلکہ ہم لوگوں پر اپنی رحمتوں کا سایہ کر ایسے برسنے والے بادلوں کے ذریعے جن سے ندی نالے گڑھے تالاب سب بھر جائیں گھاس اور پودے روئیدہ ہو جائیں اور درختوں پر پھل لگنے لگیں تو پھولوں کو شگفتہ کر کے اپنے شہروں میں جان ڈال دے ۔ اور اپنی طرف سے جلد از جلد بہت برسنے والے ایسے منفعت بخش بادل بھیج جو اس وسیع علاقہ کو سیراب کر دیں اور اپنے بھیجے ہوئے ملائیکہ کو دکھا دے کہ مردہ میں تو اس طرح جان ڈالتا ہے اور جو آئندہ پیدا ہونے والے ہیں ان کو اس طرح نکالتا ہے ۔ اے اللہ تو ہم لوگوں کو گرج اور چمک کے ساتھ برسنے والے اور چراگاہوں کوسیر کرنے والے بادلوں سے سیراب کر جس سے ندی نالے زور شور سے بہنے لگیں ۔ اور ان بادلوں کے زیر سایہ ہم لوگوں پر یاد سموم نہ چلے اور نہ منحوس سردی ہو نہ اس کی چمک ہم پر بجلی گرائے نہ اس کی بارش کا پانی تلخ و نمکین ہو کہ پودے جل کر راکھ ہوں اور ہلاک ہو جائیں ۔ اے اللہ ہم شرک اور اسکے مقدمات سے اور ظلم اور اسکے پر از مصائب انجام سے اور فقر اور اس کے اسباب سے تیری پناہ چاہتے ہیں ۔ اے خیر کے مراکز سے خیر عطا کرنے والے ۔ برکتوں کے معدن سے برکتیں بھیجنے والے یہ برسنے والے بادل تیری طرف سے آتے ہیں تو ہی فریاد کرنے والوں کی فریاد کو پہنچنے والا ہے ۔ ہم لوگ خطا کار اور گنہگار ہیں ۔ تو مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت کرنے والا ہے اور ہم لوگ تجھ سے اپنے گناہوں کی کثرت کی مغفرت چاہتے ہیں اور اپنی خطاؤں سے تیرے سامنے توبہ کرتے ہیں اے اللہ اب ہم لوگوں پر ایسے بادل بھیج جن میں گرج چمک نہ ہو اور مسلسل موسلا دھار برسے ہم لوگوں کو ایسی بارش سے سیراب کر جو بہت وسیع علاقہ میں ہو اسکی بڑی بڑی بوندیں برکت اور نفع بخش ہوں جو ایک پر ایک گریں ایک قطرہ کے پیچھے دوسرا قطرہ آئے ایسے بادل نہ ہوں کہ جن میں بجلی کی چمک اوررعد کی جھوٹی کڑک ہو اور پانی نہ برسے اور نہ باد شمالی جو تیز چلے ( بادلوں کو اڑا لے جائے)۔ تیری طرف سے سقایت کا یہ اہتمام ہو کہ بادلوں کے دل اور تہہ بہ تہہ گھٹائیں زمین سے زیادہ اوپر نہ ہوں اور بارش ہو تو قطروں کے تار بندھ جائیں اور یہ سب کیلئے حیات بخش ہوں تالاب اور وادیاں پانی سے بھر جائیں جس سے سبزے اگیں کھیتیاں لہلہائیں شاخیں سرسبز ہوں چراگاہیں آباد ہوں گھاس کثرت سے اگ آئے اور یہاں کے لینے والوں کیلئے یہ خیر جاری ہو اور تیرے بندوں میں جو مالی حیثیت سے کمزور ہوں وہ بھی خوش حال ہو جائیں تیری آبادیوں میں جان پڑ جائے وہ تیرے پھیلے ہوئے رزق سے فیض یاب ہوں ۔ تیری رحمت کے چھپے ہوئے خزانے ابھر کر سامنے آجائیں اور یہ رحمت عام ان لوگوں پر بھی ہو جو تجھ سے پھرے ہوئے ہیں اور جو لوگ قحط زدہ ہیں ان کی چراگا ہیں سرسبز ہو جائیں جو لوگ خشک سالی کے شکار ہیں اس کی برکت سے وہ بھی جی اٹھیں ۔ میدانوں کے تالاب پانی سے لبریز ہو جائیں درختوں میں پتے اور پھولوں کے شگوفے پھوٹنے لگیں جنگلی جھاڑیوں پر گہری سبزی آجائے اور ہم لوگوں پر مایوسی کے بعد یہ احسان عام اور بخشش عمومی جو تو اپنے وحشی اور پالتو جانوروں پر اور پریشان حال مخلوقات پر کرے گا اس کیلئے تو ہمارے شکر کا مستحق ہوگا ۔
اے اللہ ہم لوگوں کو صرف تجھ سے ہی امید ہے اور صرف تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہم لوگوں کے باطن سے واقف ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں تو اس بارش کو اب مزید نہ روک اور ہم میں جو بیوقوف و نا سمجھ ہیں انکے اعمال کا ہم لوگوں سے مواخذہ نہ کر۔ ان لوگوں کی مایوسی کے بعد ان کیلئے پانی برسادے اپنی رحمت کو پھیلا دے بیشک تو مالک اور لائق حمد ہے) یہاں تک کہہ کر امیر المومنین علیہ السلام رونے لگے اور بارگاہ الہی میں عرض کرنے لگے کہ 

1501-3.JPG

(میرے مالک ہمارے پہاڑ پھٹے جارہے ہیں ۔ ہماری زمینیں خاک اڑا رہی ہیں ۔ ہمارے چوپائے پیاسے ہیں اور ہم لوگ اور یہ سب جانور پریشان ہیں اور اپنی چراگاہوں میں مارے مارے حیران پھر رہے ہیں اور اس طرح چیخ رہے ہیں جیسے کوئی زنِ پسرِ مردہ چیخ چیخ کر رو رہی ہو ۔ یہ اس لئے کہ آسمان سے پانی برسنا رک گیا ان کی ہڈیاں پسلیاں نکل آئیں ۔ ان کے جسموں پر گوشت نہیں رہ گئے ۔ ان کی چربیاں پگھل گئیں ۔ تھنوں سے دودھ ختم ہو گیا ۔ پروردگار تو ان بکریوں اور انٹینوں پر ترس کھا ۔ اور ان کے چراگاہوں میں حیران پھرنے اور اپنے باڑوں کے اندر رونے پر رحم فرما)

١٥٠٢ - اور ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز استسقاء میں اپنی ردا کو الٹ کر کیوں اوڑھتے تھے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ اپنے اور اپنے اصحاب کے درمیان ایک علامت کے طور پرپیش کرتے تھے کہ آپ نے خشک سالی کو ہریالی سے بدل دیا ہے ۔

١٥٠٤ - ایک مرتبہ اہل کوفہ کا ایک گروہ حضرت علی ابن ابی طالب کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا امیر المومنین ہمیں آپ استسقاء کی دعا پڑھا دیں ۔ تو حضرت علی علیہ السلام نے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کو بلایا اور امام حسن علیہ السلام سے کہا اے حسن تم ذرا دعائے استسقاء پڑھ دو۔ تو حضرت امام حسن علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی ۔

1504.JPG

(اے پروردگار آسمان کے دروازے کھول اور موج در موج پانی سے بھرے ہوئے تہہ بہ تہہ بادلوں کو اٹھا جس سے لگاتار بارش ہو اے وہاب ہم لوگوں کو سیراب کر اپنی بھر پور بارش سے کہ جل تھل ہو جائے اور بارش کی رکاوٹوں کو دور کر کہ کھل کر بارش ہو ۔ اور پانی کو ندی نالوں کے اندر بہانے میں جلدی کر اے وہاب ۔ اے کار ساز تو ہم لوگوں کو سیراب کر کبھی تیز بارش سے کبھی ہلکی بارش سے کبھی شبنم سے کبھی بہت وسیع اور کافی پھوار سے جو پاک و مبارک ہو اورچکنے پہاڑوں اور چوڑے میدانوں اور پتھریلی زمینوں پر برسے اور وہ سب پانی میں چھپ جائیں اور ڈوب جائیں اور ہمارے میدانوں اور پہاڑوں اور دیہاتوں اور شہروں کو سیراب کرتا کہ چیزوں کے نرخ کم ہو جائیں اور ہماری کھیتی باڑی میں اور آبادیوں میں برکت دے ہم لوگوں کو دکھا دے کہ رزق موجود ہے مہنگائی ختم ہو گئی آمین یا رب العالمین) پھر آپ نے امام حسین علیہ السلام سے فرمایا کہ تم بھی دعائے استسقاء پڑھو تو امام حسین علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی ۔

 

(اے اللہ اے جہاں جہاں سے خیر کا امکان ہے وہاں وہاں سے خیر عطا کرنے والے اور رحمتوں کی کانوں سے رحمتیں نازل کرنے والے ۔ اور جو لوگ برکتوں کے اہل ہیں ان پر برکتیں جاری کرنے والے ۔ برسنے والے بادل تیری ہی طرف سے آتے ہیں تو ہی فریاد رس ہے اور تجھ ہی سے فریاد کی جاتی ہے ۔ ہم لوگ خطا کار اور گنہگار ہیں اور تو مغفرت کرنے والا اور بخشنے والا ہے ۔ اے اللہ ہم لوگوں پر ایسے بادل بھیج جو جم کر برسیں اور ان میں گرج و چمک نہ ہو ہم لوگوں کو ایسے بادل سے سیراب کر جو بہت برسنے والا ہو جو پودے اگانے والا ہو وسعت اور کشادگی پیدا کرنے والا ہو مسلسل اور موسلا دھار ہو جسے زمین ہضم کر سکے جس سے پودے نشو و نما پائیں اور انہیں سرسبز و شاداب بنائیں پانی بہے تو پہاڑوں میں سرسراہٹ کی آواز ہو اوپر سے گرے تو کھنکھناہٹ پیدا ہو ۔ ہر طرف بوندیں ٹپکائے ۔ اور وہ بوندیں ایک دوسرے پر گریں اور ٹکرائیں ان میں برق و رعد کی جھوٹی گرج و چمک نہ ہو ۔ تاکہ تیرے ضعیف مکر وہ بندے بھی زندگی بسر کر سکیں اور تیری مردہ آبادیوں میں جان پڑ جائے یہ ہم لوگوں پر بڑا احسان ہو گا آمین یا رب العالمین ) اور امام حسین علیہ السلام کی یہ دعا ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ اللہ نے زور دار پانی برسا دیا ۔ 
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا اور کہا گیا کہ اے ابا عبداللہ کیا ان دعاؤں کی ان دونوں شہزادوں کو تعلیم دی گئی تھی ؟ انہوں نے کہا تم لوگوں پر افسوس کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول نہیں سنا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے اہلیت کی زبان سے حکمت کی باتیں جاری ہوتی ہیں ۔

١٥٠٥ - ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ عمر ابن خطاب نماز استسقا کیلئے نکلے تو میرے والد) عباس سے کہا آپ اٹھیں اور اپنے رب سے طلب باران کی دعا کریں، اور خود کہا اے اللہ میں تیرے نبی کے چچا کو تیری بارگاہ میں اپنا وسیلہ اور ذریعہ بنا رہا ہوں چنانچہ عباس اٹھے اور حمد وثنائے الہی بجالانے کے بعد یہ دعا کی ۔  

1505.JPG

(اے اللہ تیرے پاس بادل بھی ہیں اور پانی بھی ہے لہذا بادل کو پھیلا کر ان میں پانی انڈیل دے پھر وہ پانی ہم لوگوں پر برسا دے ۔ درختوں کی جڑوں کو مضبوط کر اور شاخوں کو ثمر دار کر۔ اے اللہ ہم لوگ اپنے ان جانوروں اور چوپایوں کی ترجمانی کرنے تیری بارگاہ میں آتے ہیں جن میں قوت گویائی نہیں ہے لہذا ہمارے اپنے نفوس اور اپنے اہالیان شہر کی شفاعت کو قبول فرما ۔ اے اللہ ہم لوگ تیرے سوا اور کسی کو نہیں پکارتے اور تیرے سوا کسی اور کی طرف رغبت نہیں رکھتے ۔ اے اللہ تو ہم لوگوں کی وسیع تر سقایت کر جو نفع بخش ہو ایسی بارش سے جو زمین کو ڈھانپ لے اور ہمہ گیر ہو ۔ اے اللہ ہم لوگ تجھ سے ہر بھوکے کی بھوک کی اور ہر عریاں کی عریانی کی اور ہر خوف زدہ کے خوف اور ہر فاقہ کش کی فاقہ کشی کی شکایت کرتے ہیں ) اسی طرح انہوں نے اللہ سے دعا کی ۔