Skip to main content

باب نماز میں عورت کے آداب

حدیث ١٠٨١ - ١٠٨٩ 

عورت پر نہ اذان ہے اور نہ اقامت نہ جمعہ ہے نہ جماعت ۔

جب عورت نماز کیلئے کھڑی ہو تو دونوں قدموں کو ملا کر رکھے درمیان میں فاصلہ نہ دے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر پستانوں کی جگہ رکھے اور جب رکوع کرے تو اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں سے اوپر یعنی زانو پر رکھے تاکہ زیادہ نہ تھکے اور اسکی سرین اوپر کو بلند نہ ہو جائے ۔ اور جب سجدہ کا ارادہ کرے تو پہلے بیٹھ جائے اسکے بعد سجدہ کرے اور زمین سے چپک جائے اور اپنی دونوں کلائیاں زمین پر رکھے اور جب کھڑے ہونے کا ارادہ کرے تو سجدے سے سر اٹھائے اور اپنے سرین کے بل بیٹھ جائے اسطرح نہیں جس طرح مرد بیٹھتے ہیں پھر کھڑے ہونے کا ارادہ کرے تو بغیر اپنی سرین اٹھائے اور زمین پر ہاتھ ٹیکے اٹھے ۔ اور جب تشہد کیلئے بیٹھے تو اپنے دونوں پاؤں اٹھائے اور اپنے زانوں ملائے ۔ اور آزاد عورت بغیر مقنع کے نماز نہیں پڑھے گی اور کنیز بغیر مقنع کے نماز پڑھے گی ۔ 

١٠٨١ - اور محمد بن مسلم نے حضرت محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ عورت اس قمیضں اور مقنع میں نماز پڑھے جو اتنا دبیز ہو کہ بدن کو چھپالے ۔ 

١٠٨٢ - اور یونس بن یعقوب نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ مرد ایک کپڑے میں نماز پڑھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس نے کہا اور عورت ؟ آپ نے فرمایا نہیں ، آزاد عورت جبکہ اسکو حیض آنے لگے بغیر سر پر دوپٹہ ڈالنے درست نہیں سوائے یہ کہ وہ دوپٹہ نہ پائے ۔

١٠٨٣ - اور علی بن جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک عورت ہے جسکے پاس صرف ایک ہی چادر ہے وہ نماز کیسے پڑھے ؟ آپ نے فرمایا وہ چادر سے خود کو لپیٹ لے اور اس سےاپنے سر کو بھی ڈھانپے اور نماز پڑھ لے اگر اسکے پاؤں کھلے رہ جاتے ہیں اور کوئی دوسرا کپڑا میسر نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ۔ 

١٠٨٤ - اور معلی بن خنیس کی روایت میں جو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ہے یہ ہے کہ میں نے ان جناب سے دریافت کیا کہ ایک عورت ہے جو ایک صدری اور ایک چادر میں نماز پڑھتی ہے اسکے پاس نہ ازار ہے اور نہ مقنع ہے ؟ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے اگر وہ چادر سے خود کو لپیٹ لیتی ہے اگر عرض میں ممکن نہ ہو تو طول میں لپیٹ لے ۔ 
  
١٠٨٥ - محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ نماز میں کنیز کیلئے مقنع نہیں ہے اور نہ مدبرہ کیلئے نماز میں مقنع ہے اور نہ مکاتبہ کیلئے نماز میں مقنع ہے جب کہ اس کے مالک نے شرط رکھ دی ہو اور وہ مملوکہ ہی ہے جب تک کہ وہ تمام تحریر شدہ رقم کو ادا نہ کر دے اور تمام حدود (سزا) میں اس پر وہی حکم جاری ہوگا جو مملوکہ پر جاری ہوتا ہے ۔ 

١٠٧٦ - راوی کا بیان ہے کہ اور میں نے آپ سے اس کنیز کیلئے دریافت کیا کہ جس کے لڑکا پیدا ہوا کہ کیا اس کے لئے نماز میں اوڑھنی واجب ہے ؟ تو آپ نے فرمایا اس پر اس وقت مقنع واجب ہو تو اس وقت بھی مقنع واجب ہونا چاہیئے تھا ۔ جب اسے حیض آنا شروع ہوا ۔ غرض اس کے لئے نماز میں مقنع نہیں ہے ۔

١٠٨٧ - عیص بن قاسم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک شخص کے متعلق روایت کی ہے کہ وہ عورت کے ازار اور اسکے کپڑوں میں نماز پڑھتا ہے اور اسکی اوڑھنی کو بطور عمامہ باندھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر نجاست سے پاک ہے تو
کوئی ہرج نہیں ۔

١٠٨٨ - اور روایت کی گئی ہے کہ عورتوں کیلئے بہترین مسجد انکا گھر ہے اور عورت کا اپنے حجرے میں نماز پڑھنا اس کے اپنے برآمدے سے افضل ہے اور اسکا اپنے اوسارے میں نماز پڑھنا اسکے اپنے صحن میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اس کا اپنے صحن میں نماز پڑھنا اپنے گھر کی چھت پر نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور عورت کیلئے اس چھت پر نماز پڑھنا جس میں حجرہ نہ بنا ہو مکروہ ہے ۔ 

١٠٨٩ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ عورتوں کو بالا خانوں کی کو ٹھریوں میں نہ رکھو ، انہیں کتابت نہ سکھاؤ، انہیں سورہ یوسف نہ پڑھاؤ، انہیں اون کاتنے کے تکلے کی تعلیم دو اور سورہ نور پڑھاؤ۔