باب کسوف و زلزله و سیاہ آندھی کی نماز اور اس کا سبب
حدیث ١٥٠٦ - ١٥٣٢
١٥٠٦ - حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ منجملہ ان نشانیوں کے جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کیلئے مقرر کی ہیں اور جس کے یہ لوگ محتاج ہیں ایک سمندر ہے جسے اللہ تعالٰی نے آسمان اور زمین کے درمیان خلق فرمایا ہے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں سورج وچاند اور ستاروں کے تیرنے کے راستے معین فرمائے اور یہ سب کے سب فلک پر ہیں پھر اس فلک پر ایک ملک مقرر کیا کہ جسکے ساتھ ستر ہزار ملائکہ ہیں جو فلک کی دیکھ بھال اور انتظام کرتے ہیں اور جب وہ لوگ فلک کو گردش دیتے ہیں تو اسکے ساتھ سورج چاند اور ستارے گردش کرتے ہیں اور اپنی اپنی منزلوں میں اترتے ہیں جسے اللہ تعالٰی نے ان کے دن ورات کیلئے معین کر دیا ہے ۔ پس جب بندوں کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں اور اللہ چاہتا ہے کہ اپنی نشانیوں میں سے کسی نشانی کے ذریعہ انکی تنبیہ کرے تو وہ اس ملک کو حکم دیتا ہے جو فلک پر موکل و مقرر ہے کہ فلک کو اسکے راستے سے ہٹا دے پس وہ ملک ان ستر ہزار ملائکہ کو حکم دیتا ہے اور فلک کو اس کے مدار سے ہٹا دو چنانچہ فرشتے اسے ہٹا دیتے ہیں پس آفتاب اس سمندر میں چلا جاتا ہے جس میں یہ ملک تھا تو اس کی روشنی ماند پڑ جاتی ہے اور اس کا رنگ بدل جاتا ہے اور جب اللہ تعالٰی یہ چاہتا ہے کہ کوئی بڑی نشانی دکھائے اور اس سے بندوں کو خوف زدہ کرے تو سورج اس سمندر میں ڈوب جاتا ہے اور اسطرح اس کو گہن لگ جاتا ہے اور اسی طرح وہ چاند کے ساتھ بھی کرتا ہے اور جب اللہ چاہتا ہے کہ اس کو جلا اور روشنی دے اور اس کو مدار پر واپس کر دے تو اس ملک کو حکم دیتا ہے جو فلک پر موکل اور مقرر ہے کہ فلک کو اس کے مدار پر واپس کردو وہ اس کو اسکے مدار پر واپس کر دیتا ہے اور سورج بھی اپنے مدار پر واپس آجاتا ہے اور اب وہ پانی میں سے صاف شفاف موتی کی طرح نکلتا ہے اور اس طرح چاند بھی ۔
راوی کا بیان ہے کہ پھر حضرت علی ابن الحسین علیہ السلام نے فرمایا لیکن ان دونوں نشانیوں سے وہی خوف زدہ ہوگا اور وہی ڈرے گا جو ہمارے شیعوں میں سے ہوگا لہذا ان دونوں میں سے کوئی نشانی ظاہر ہو تو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف رجوع کرو ۔
اس کتاب کے مصنف علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ لیکن وہ بات جو منجمین کسوف ( گہن) کے متعلق بتاتے ہیں اس کی اگرچہ اس کسوف سے کوئی مطابقت نہیں لیکن پھر بھی اسکے دیکھنے کے بعد مسجدوں میں جا کر نماز پڑھنی چاہیئے اس لئے کہ یہ کوف بھی اسی کسوف کے مثل ہے اور دیکھنے میں اس کسوف کے مشابہہ ہے جس کا ذکر امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا ہے اور اس میں مسجد کی طرف جانا اور نماز کسوف پڑھنا واجب ہے کیونکہ یہ نشانی قیامت کی نشانیوں کے مشابہہ ہے اور اسی طرح زلزلہ اور سیاہ آندھی کہ یہ نشانیاں بھی قیامت کی نشانیوں کے مشابہہ ہیں اس لئے ہم لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جب ان کو دیکھو تو قیامت کو یاد کرو توبہ وانابت کرو اللہ کی طرف رجوع کرو اور مسجدوں کی طرف جاؤ اس لئے کہ یہ زمین پر اللہ کا گھر ہیں اس میں پناہ چاہنے والا اللہ کی پناہ میں ہوگا ۔
١٥٠٧ - نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو اللہ کے مقرر کردہ راستوں پر حرکت کرتے ہیں اور اس کے حکم پر اپنی حرکت پوری کرتے ہیں۔ اور یہ کسی کے مرنے یا کسی کے جینے پرمنکسف نہیں ہوتے اور جب ان دونوں میں سے کوئی منکسف ہو (ان میں گہن لگے ) تو فوراً اپنی مسجدوں کی طرف بھا گو ۔
١٥٠٨ - اور ایک مرتبہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے عہد حکومت میں سورج کو گہن لگا تو آپ نے لوگوں کے ساتھ کسوف کی نماز باجماعت پڑھی اور اتنی دیر تک پڑھائی کہ ہر ایک شخص دوسرے کو دیکھ رہا تھا کہ اس کے پسینے سے اسکے پاؤں تر ہو رہے ہیں ۔
١٥٠٩ - ایک مرتبہ عبدالرحمن بن ابن ابی عبداللہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ کیا سیاہ آندھی اور ظلمت آسمان میں ہوتی ہے اور کسوف (گہن) بھی ؟ آپ نے فرمایا مگر ان دونوں کی نمازیں یکساں ہیں ۔
١٥١٠ - اور وہ اسباب و علل کہ جن کا ذکر فضل بن شاذان رحمہ اللہ نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت کرتے ہوئے بیان کئے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ کسوف (گہن) کے لئے نماز اس لئے قرار دی گئی کہ یہ اللہ کی آیات (نشانیوں) میں سے ہے اس لئے کہ یہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ نشانی عذاب کیلئے ظاہر ہوئی ہے یا رحمت کیلئے ۔ اس بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ چاہا کہ ان کی امت اس موقع پر اپنے خالق اور اپنے اوپر رحم کرنے کی طرف رجوع کرے تاکہ اللہ تعالٰی ان لوگوں سے اسکے شر کو دور کر دے اور اسکے مکروہات سے محفوظ رکھے ۔ جس طرح اس نے قوم یونس سے عذاب کو پھیر دیا جب ان لوگوں نے اللہ تعالٰی سے گڑ گڑا کر دعا مانگی اور اسکی نماز دس رکعت اس لئے قرار دی گئی کہ اصل نماز ہی جسکے فرض ہونے کا آسمان کی طرف سے حکم نازل ہوا ہے وہ دن اور رات میں صرف دس رکعت ہے ۔ اور وہ دس رکھتیں یہاں جمع ہونے کا آسمان کی طرف سے حکم نازل ہوا ہے وہ دن اور رات میں صرف دس رکعت ہے ۔ اور وہ دس رکھتیں یہاں جمع کر دی گئی ہیں اور اس میں سجدہ اس لئے قرار دیا گیا کہ وہ نماز ہی نہیں جس میں رکوع ہو اور سجدہ نہ ہو ۔ اور یہ سجدہ اس لئے بھی ہے کہ لوگ اپنی نماز سجدہ و خضوع و خشوع پر ختم کریں ۔
اور اس میں چار سجدے اس لئے ہیں کہ ہر وہ نماز جس میں چار سجدے نہ ہوں وہ نماز نہیں ۔ اور اس لئے کہ ہر نماز میں کم از کم چار سجدے لازمی فرض ہیں اور رکوع کے بدلے سجدہ اس لئے نہیں رکھا گیا ہے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بیٹھ کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور اس لئے کہ کھڑا شخص گہن لگنے اور گہن چھوٹنے کو دیکھ سکے گا بیٹھا ہوا نہیں اور دراصل نماز جس کو اللہ تعالٰی نے فرض کیا اس سے اس نماز کی شکل اس لئے بدلی ہوتی ہے کہ یہ ایک خاص سبب سے پڑھی جارہی ہے اور وہ کسوف (گہن) ہے اور جب سبب بدل جاتا ہے تو مسبب بھی بدل جاتا ہے ۔
١٥١١ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ حضرت ذوالقرنین جب سد تک پہنچے اور اس سے آگے بڑھے اور ظلمات میں داخل ہوئے تو ناگاہ ایک ملک ملا جو ایک پہاڑ پر کھڑا تھا اور اس کا قد پانچ سو ہاتھ کا تھا ۔ اس نے ان سے کہا اے ذوالقرنین کیا تمہارے پیچھے کوئی مسلک نہیں ، ذوالقرنین نے کہا تم کون ہو؟ اس نے کہا ۔ میں اللہ تعالیٰ کے ملائکہ میں سے ایک ملک ہوں اور اس پہاڑ پر مقرر ہوں اللہ تعالٰی نے جتنے بھی پہاڑ خلق فرمائے ہیں ان سب کی رگیں اس پہاڑ سے آکرملتی ہیں جب اللہ تعالٰی کا ارادہ ہوتا ہے کہ کسی شہر میں زلزلہ آئے تو میری طرف وحی فرماتا ہے اور میں اس کی رگ کو ہلا دیتا ہوں ۔ اور کبھی کبھی زلزلہ اس کے بغیر بھی آجاتا ہے ۔
١٥١٢ - نیز امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے زمین کو پیدا کیا اور مچھلی کو حکم دیا اس نے اس زمین کو اٹھایا اور بولی کہ میں نے اس زمین کو اپنی قوت سے اٹھایا ہے اس پر اللہ تعالٰی نے اس کے پاس ایک چھوٹی سی مچھلی فتر (جس کے چھونے سے کپکپی پڑ جائے) کے برابر بھیجی اور وہ اس کی ناک میں گھس گئی اس کی وجہ سے وہ چالیس دن تک تڑپتی رہی اب جس وقت اللہ تعالیٰ کسی زمین پر زلزلہ لانا چاہتا ہے تو اس کو یہ چھوٹی مچھلی دکھا دیتا ہے اور وہ ڈر کے مارے کانپنے لگتی ہے مگر کبھی کبھی زلزلہ اس وجہ کے علاوہ کسی دوسری وجہ سے بھی آتا ہے ۔
١٥١٣ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ زمین کو اٹھائے ۔ اور تمام شہروں میں سے ہر شہر اس مچھلی کے چھلکوں (فلس) میں سے کسی ایک چھلکے پر واقع ہے ۔ اور جب اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے کہ فلاں مقام پر زلزلہ آئے تو اس مچھلی کو حکم دیتا ہے کہ اپنا فلاں چھلکا ہلا دے وہ اس کو ہلا دیتی ہے اور اگر وہ چھلکے کو اٹھا دے تو حکم خدا سے زمین کا طبقہ ہی الٹ جائے ۔
اور کبھی کبھی زلزلہ ان تینوں وجوہ کے علاوہ کسی اور وجہ سے بھی آتا ہے اور یہ حدیثیں باہم مختلف نہیں ہیں ۔
١٥١٤ - سلیمان ویلمی نے ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے زلزلہ کے متعلق دریافت کیا کہ یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ ایک آیت (نشانی) ہے راوی نے پوچھا کہ اس کا سبب کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی رگوں پر ایک ملک مقرر کر دیا ہے پس جب اللہ تعالیٰ کسی زمین کو زلزلہ دینا چاہتا ہے تو اس ملک کو وحی کر دیتا ہے کہ فلاں فلاں رگ کو ہلا دے پس وہ ملک اس زمین کی اس رگ کو ہلا دیتا ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے ۔ پس وہ زمین مع اپنے بنے والوں کے ہل جاتی ہے ۔
راوی نے عرض کیا کہ جب ایسا ہو تو میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا نماز کسوف پڑھو اور جب نماز سے فارغ ہو تو اللہ تعالیٰ کے حضور میں سجدہ کرو اور سجدے کی حالت میں یہ کہو
(اے وہ ذات کہ جو آسمان اور زمینوں کو زوال سے روکے اور بچائے ہوئے ہے اور واقعًا اگر ان دونوں پر زوال آے تو اسکے سوا کون ہے جو اسے بچا سکے بیشک وہ حلیم اور غفور ہے ۔ اے وہ ذات جو آسمان کو بغیر اسکے اپنے اذن کے زمین پر گرنے سے بچائے ہوئے ہے ہم لوگوں کو ہر گزند سے بچالے بیشک تو ہر شے پر قادر ہے)
١٥١٥ - علی بن مهزیار سے روایت ہے اس کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا اور اس میں اھواز کے اندر زلزلوں کی شکایت کی اور لکھا کہ آپ کی رائے ہو تو میں یہاں سے نقل مکانی کرلوں ۔ تو آپ نے جواب میں تحریر فرمایا تم لوگ وہاں سے نقل مکانی نہ کرو اور چہار شنبہ و پنجشبہ اور جمعہ کو روزہ رکھو پھر غسل کرو پاک لباس پہنو اور آبادی سے باہر نکل جاؤ اور وہاں اللہ تعالیٰ سے دعا کرو وہ اس سے تم لوگوں کو نجات دے گا ۔ تو ہم لوگوں نے ایسا ہی کیا اور زلزلہ کا آنا بند ہو گیا ۔
١٥١٦ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ صاعقہ (بجلی) مومن و کافر پر گر سکتی ہے مگر ذکر خدا کرنے والے پر نہیں گر سکتی ۔
١٥١٧ - حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ ہوا کے بھی ایک سر اور دو بازو ہوتے ہیں ۔
١٥١٨ - کامل بن علاء سے روایت کی گئی ہے کہ اس کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں مقام عریض میں حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام کے ساتھ تھا کہ تیز آندھی آئی تو آپ تکبیر کہنے لگے پھر فرمایا کہ تکبیر آندھی کو رد کر دیتی ہے ۔
١٥١٩ - نیز آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب آندھی کو بھیجتا ہے تو یا بر بنائے رحمت بھیجتا ہے یا بربنائے عذاب لہذا جب تم لوگ آندھی کو آتے دیکھو تو یہ کہو اَللّهُمَّ إنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَ خَيْرَ مَا اَرْسَلْتَ لَهُ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِهَا وَ شَرِّمَا أَرْسَلْتَ لَهُ (اے اللہ ہم لوگ تجھ سے اس آندھی میں جو خیر ہے وہ چاہتے اور جس غیر کیلئے یہ بھیجی گئی ہے وہ چاہتے ہیں اور ہم لوگ اس کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں اور جس شر کیلئے یہ بھیجی گئی ہے اس سے تیری پناہ چاہتے ہیں) اور اس کے بعد تم لوگ تکبیر کہو اور تکبیر میں اپنی آوازیں بلند رکھو یہ آندھی کے زور کو توڑ دے گی ۔
١٥٢٠ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہوا کو گالی نہ دو اس لئے کہ یہ اس پر مامور ہے اور نہ پہاڑ کو نہ ساعتوں کو نہ دنوں کو اور نہ راتوں کو گالی دو ورنہ تم لوگ گنہگار ہو گے اور یہ گالی تمہاری طرف پلٹ کر آئے گی ۔
١٥٢١ - نیز آپ نے فرمایا کہ ہوا جب بھی نکلتی ہے تو معینہ مقدار میں نکلتی ہے سوائے زمانہ عاد کے اس لئے کہ وہ اپنے خزنیہ داروں کے قابو سے باہر ہو گئی تھی اور سوئی کے ناکے کے برابر نکل آئی تھی اور اس نے قوم عاد کو ہلاک کر دیا ۔
١٥٢٢ - علی بن رئاب سے اور انہوں نے ابو بصیر سے روایت کی ہے ان کا بیان ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے چاروں سمت کی ہواؤں کے متعلق دریافت کیا یعنی شمال و جنوب اور مغرب و مشرق کی ہواؤں کے متعلق اور عرض کیا کہ لوگ تو اسکے متعلق کہتے ہیں کہ باو شمالی جنت سے آتی ہے اور باو جنوبی جہنم سے آتی ہے ۔ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی کے پاس ہواؤں کے بہت سے لشکر ہیں تو جو قوم اللہ سے سرتابی کرتی ہے وہ اس کے ذریعہ اس کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے اور ان میں سے ہر نوع کی ہوا پر ایک ملک مقرر ہے اور اس نوع کی ہوا اس ملک کی اطاعت کرتی ہے پس جب اللہ تعالٰی کا ارادہ ہوتا ہے کہ کسی قوم کو عذاب دے تو اس نوع کی ہوا کے مُلک کو جس کے ذریعہ وہ عذاب دینا چاہتا ہے وہی کرتا ہے اور وہ ملک اس ہوا کو حکم دیتا ہے اور ہوا بھر جاتی ہے جیسے غصہ میں آیا ہوا کوئی شہر بھرتا ہے اور ان میں سے ہر ہوا کا الگ الگ نام ہے کیا تم نے اللہ کا یہ قول نہیں سنا ہے کہ إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًۭا صَرْصَرًۭا فِى يَوْمِ نَحْسٍۢ مُّسْتَمِرٍّۢ (ہم نے ان پر ایک تند ہوا بھیجی ایک دوامی نحوست کے دن میں) (سورہ قمر آیت نمبر ۱۹) اور ایک جگہ فرماتا ہے ٱلرِّيحَ ٱلْعَقِيمَ (سوره الزاریات) نیز فرماتا ہے فَأَصَابَهَآ إِعْصَارٌۭ فِيهِ نَارٌۭ فَٱحْتَرَقَتْ ۗ (سو اس باغ پر ایک بگولا آئے جس میں آگ ہو پھر وہ باغ جل جائے) (سورہ بقرہ آیت نمبر ٢٦٦)
یہ وہ ہوائیں ہیں کہ جن سے اللہ تعالٰی نافرمانی کرنے والوں کو عذاب دیتا ہے اسکے علاوہ اللہ تعالٰی کے پاس اور ہوائیں بھی ہیں جو رحمت کی ہیں کچھ بارآور ہیں کچھ ہوائیں ہیں جو بادل اٹھاتی ہیں اور اسے ہنکا کر لے جاتی ہیں اور وہ باذن خدا قطرہ قطرہ برستا ہے کچھ ہوائیں ہیں جو بادل کو متفرق اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے بکھیرتی ہیں اور یہ وہ ہوائیں ہیں کہ جن کا ذکر اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں کیا ہے ۔
لیکن وہ چار ہوائیں تو یہ ان ملائیکہ کے نام ہیں شمال و جنوب و صبا و دیور ۔ اور ان میں سے ہر ہوا پر ایک ملک مقرر ہے پس جب اللہ تعالٰی کا ارادہ ہوتا ہے کہ شمال سے ہوا چلے تو اس ملک کو حکم دیتا ہے اس کا نام شمال ہے اور وہ خانہ کعبہ پر اترتا ہے اور رکن یمانی پر کھڑا ہوتا ہے اور اپنے بازو پھڑ پھڑاتا ہے اس سے شمالی ہوا نکل کر بر و بحر میں جہاں بھی اللہ کا ارادہ ہو پھیل جاتی ہے اور جب اللہ کا ارادہ ہوتا ہے کہ وہ صبا کو بھیجے تو اللہ تعالٰی اس ملک کو حکم دیتا ہے جس کا نام صبا ہے اوروہ خانہ کعبہ پر اترتا ہے اور رکن یمانی پر کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنے بازو پھڑ پھڑاتا ہے اور ہوائے صبا خشکی و تری میں جہاں بھی اللہ کا ارادہ ہو پھیل جاتی ہے اور جب اللہ کا ارادہ ہوتا ہے کہ جنوب کی ہوا بھیجے تو اللہ تعالیٰ اس ملک کو حکم دیتا ہے جس کا نام جنوب ہے اور وہ بیت الحرام خانہ کعبہ پر اترتا ہے اور رکن یمانی پر کھڑا ہو کر اپنے بازو پھڑ پھڑاتا ہے تو خشکی ہو یا تری جہاں جہاں بھی اللہ کا ارادہ ہوتا ہے جنوب کی ہوا پھیل جاتی ہے اور جب اللہ تعالی کا ارادہ ہوتا ہے کہ دبور (پھچوائی) ہوا چلے تو اس ملک کو حکم دیتا ہے جس کا نام دیور ہے وہ بیت الحرام پر اتر کر اپنے دونوں بازو پھڑ پھڑاتا ہے تو خشکی یا تری جہاں بھی اللہ چاہتا ہے وہاں دبور (پھچوائی) ہوا پھیل جاتی ہے ۔
١٥٢٣ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جنوب کی ہوا بہت اچھی ہے کہ مسکنوں پر سے برف پگھلا دیتی ہے درختوں میں پھل آنے لگتے ہیں اور وادیوں میں پانی بہنے لگتا ہے ۔
١٥٢٤ - حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ ہوا پانچ قسم کی ہوتی ہے ان میں سے ایک عقیم بھی ہے اللہ تعالٰی اس کے شر سے محفوظ رکھے ۔
١٥٢٥ - اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں) جب کبھی زرد یا سرخ یا سیاہ آندھی چلتی تھی تو آپ کا چہرہ مبارک کا رنگ زرد ہو جاتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا کہ آپ بہت ڈر رہے ہیں یہاں تک کہ جب بارش کا ایک قطرہ گرتا تو آپ کا رنگ اپنی پہلی حالت پر لوٹ آتا تھا اور فرمایا کرتے کہ لو یہ رحمت لے کر آیا ۔
١٥٢٦ - زرارہ اور محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ ہم نے آنجناب سے دریافت کیا که یه سیاہ آندھی جو آتی ہے تو کیا آپ کی رائے میں اس میں بھی نماز پڑھی جائے ۔ آپ نے فرمایا کہ فضاؤں کی ہر خوفناک چیز
خواہ وہ آندھی ہو یا اندھیری یا کوئی اور ڈراؤنی چیز، جب آئے تو نماز کسوف پڑھو تا کہ وہ ساکن ہو جائے ۔
١٥٢٧ - محمد بن مسلم و برید بن معاویہ نے حضرت امام محمد باقر اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ جب گہن لگے یا آیات میں سے کوئی آیت ظاہر ہو (جیسے زلزلہ یا سیاہ آندھی وغیرہ) تو اس کی نماز پڑھو ۔ اگر تم کو یہ خوف نہ ہو کہ نماز فریضہ کا وقت چلا جائیگا چنانچہ اگر تم کو اس کا خوف ہو تو پہلے نماز فریضہ پڑھو ۔ اور اگر نماز کسوف پڑھ رہے ہو تو اس کو قطع کر دو جب نماز فریضہ پڑھ چکو تو جہاں سے تم نے نماز کسوف کو قطع کیا ہے وہاں سے آگے بڑھو اور بقیہ نماز کو اس میں شامل کرلو ۔
١٥٢٨ - علی بن فضل واسطی سے روایت ہے اس کا بیان ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا کہ جب سورج یا چاند میں گہن لگے اور میں اپنی سواری پر ہوں اترنا ممکن نہ ہو تو میں کیا کروں ؟ تو آپ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ تم جس سواری پر سوار ہو اسی پر نماز کسوف پڑھ لو ۔
١٥٢٩ - محمد بن مسلم اور فضیل بن لیسار سے روایت کی گئی ہے دونوں نے کہا کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا وہ شخص جس کو صبح کو پتہ چلا کہ رات چاند گہن تھا یا شام کو معلوم ہوا کہ دن کو سورج گہن تھا تو کیا وہ کسوف کی قضا نماز پڑھے آپ نے فرمایا اگر پورا گہن لگا تھا تو قضا پڑھے گا اور اگر گہن جزوی طور پر لگا تھا تو تم پر اسکی قضا نہیں ہے ۔
(۱۵۳۰) حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نماز کسوف کے متعلق دریافت کیا یعنی کسوف شمس و قمر کے متعلق تو آپ نے فرمایا کہ اس نماز میں دس (١٠) رکعتیں ہیں اور چار سجدے ہیں (وہ یوں کہ) پانچ رکوع کرو اور پانچویں کے بعد سجده کرو - پھر پانچ رکوع کرو اور دسویں رکوع کے بعد سجدہ کرو ۔ اور اگر چاہو تو کوئی پورا سورہ ہر رکعت میں پڑھو اگر ہر رکعت میں قراءت کر رہے ہو تو سورہ فاتحہ پڑھو اور اگر نصف سورہ پڑھ رہے ہو تو وہ بھی تمہارے لئے کافی ہے اور سورہ فاتحہ نہ پڑھو سوائے پہلی رکعت کے حتیٰ کہ دوسری رکعت شروع کر دو اور رکوع سے سر اٹھانے میں سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ نہ کہو لیکن اس رکعت میں جسکے اندر تمہارا سجدہ کرنے کا ارادہ ہو ۔
١٥٣١ - عمر بن اذنیہ نے روایت کی ہے کہ قنوت دوسری رکعت میں ہو گا رکوع سے پہلے پھر چو تھی میں پھر چھٹی میں پھر آٹھویں رکعت میں پھر دسویں رکعت میں اور اگر صرف پانچویں اور دسویں رکعت میں قنوت پڑھے تو یہ بھی جائز ہے۔
اور جب آدھی نماز کسوف سے فارغ ہو جائے مگر ابھی گہن کھلا نہ ہو تو پھر نماز کسوف پڑھے اور اگر چاہے تو بیٹھے اور گہن کھلنے تک اللہ تعالیٰ کی مجید اور بزرگی کا اظہار کرتا رہے ۔
اور یہ جائز نہیں کہ نماز فریضہ کے وقت میں جب تک نماز فریضہ نہ پڑھ لے نماز کسوف بڑھے ۔
اور اگر انسان نماز کسوف پڑھ رہا ہے اور نماز فریضہ کا وقت آجائے تو نماز کسوف کو قطع کر کے نماز فریضہ پڑھے اسکے بعد نماز کسوف کو جہاں سے قطع کیا تھا وہیں سے نماز کسوف پڑھ لے ۔
١٥٣٢ - اور حماد بن عثمان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے سامنے کسوف قمر اور اس میں لوگوں کو جو پریشانی ہوتی ہے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر گہن ذرا بھی کھل جائے تو سجھ لو کہ گہن کھل گیا ۔