باب نماز عیدین
حدیث ١٤٥٣ - ١٤٨٧
١٤٥٣ - جمیل بن دراج نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا نماز عیدین فریضہ ہے اور نماز کسوف بھی فریضہ ہے ۔ یعنی یہ دونوں چھوٹے فریضہ ہیں اور چھوٹے فریضے حریز کی روایت کی بنا پر سنت ہیں ۔
١٤٥٤ - زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا نماز عیدین امام کے ساتھ سنت ہے اور اس دن اور ان دونوں نمازوں کے قبل یا انکے بعد زوال تک کوئی نماز نہیں ہے ۔ اور نماز عید کا واجب ہونا تو یہ امام عادل کے ساتھ ہو تب واجب ہے ۔
١٤٥٥ - سماعہ بن مہران نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ عیدین کی نماز بغیر امام کی معیت کے نہیں ہوتی ۔ ویسے اگر تم تنہا پڑھو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
١٤٥٦ - زرارہ بن اعین نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ یوم فطر اور یوم اضحیٰ کی نماز بغیر امام کے نہیں ہے ۔
١٤٥٧ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نمازاضحیٰ اور نماز فطر کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان دونوں میں دو دو رکعتیں پڑھو خواہ جماعت کے ساتھ ہو خواہ بغیر جماعت کے اور سات اور پانچ تکبیریں کہو ۔
١٤٥٨ - منصور بن حازم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے بیان کیا کہ میرے پدر بزرگوار ایک مرتبہ یوم اضحیٰ پر بیمار تھے تو آپ نے اپنے گھرہی میں دو رکعت نماز پڑھی اور قربانی کی ۔
١٤٥٩ - اور جعفر بن بشیر نے عبداللہ بن سنان سے اور انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص عیدین میں لوگوں کے ساتھ جماعت میں حاضر نہیں ہو سکتا تو اس کو چاہیئے کہ غسل کرے اور جو خوشبو ہو وہ لگائے اور اپنے گھر میں نماز پڑھے جیسا کہ وہ جماعت کے ساتھ پڑھتا ۔
١٤٦٠ - ہارون بن حمزه غنوی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا یوم فطر اور یوم اضحیٰ کو (نماز پڑھنے ) صحرا کی طرف جانا اچھا ہے اگر کوئی شخص جاسکے راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا کہ آپ کی رائے کیا ہے اگر کوئی شخص بیمار ہو اور صحرا کی طرف نہ جاسکے تو کیا وہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لے ؟ آپ نے فرمایا نہیں (یہ واجب نہیں ہے)
١٤٦١ - ابن مغیرہ نے قاسم بن ولید سے روایت کی اس نے کہا کہ میں نے آنجناب علیہ السلام سے غسل یوم اضحیٰ کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ سوائے منیٰ کے اور کہیں واجب نہیں ہے ۔
١٤٦٢ - اور روایت کی گئی ہے کہ غسل عیدین سنت ہے ۔
١٤٦٣ - حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے اس کا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے دریافت کیا کہ کیا عورت کیلئے یوم جمعہ ، عید الفطر اور عید الضحیٰ اورعرفہ کا غسل ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس کیلئے بھی ہر غسل ہے ۔ اور یہ ایک سنت رائج ہے کہ یوم فطر انسان نماز کیلئے عید گاہ جانے سے پہلے کچھ کھائے اور یوم اضحیٰ نماز کیلئے عید گاہ جانے سے پہلے کچھ نہ کھائے ۔
١٤٦٤ - اور حضرت علی علیہ السلام یوم فطر نماز کیلئے جانے سے پہلے کچھ کھا لیا کرتے تھے اور یوم اضحیٰ نماز کیلئے جانے سے پہلے کچھ نہ کھاتے تھے جب تک کہ جانور ذبیح نہ کرلیں ۔
١٤٦٥ - حریز نے زرارہ سے انہوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تم (نماز کیلئے) یوم فطر نہ نکلو جب تک کہ کچھ کھانہ لو ۔ اور یوم اضحیٰ کچھ نہ کھاؤ جب تک کہ اپنی کی ہوئی قربانی کا گوشت نہ کھا لو ۔ اور قربانی کا جانور تمہاری استطاعت پر ہے اگر استطاعت نہیں ہے تو معذور ہو-
راوی کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام یوم الضحیٰ اس وقت تک نہیں کھاتے جب تک کہ اپنی کی ہوئی قربانی کا گوشت نہ کھالیتے ۔ اور یوم الفطر اس وقت تک نماز کیلئے نہ جاتے جب تک کچھ کھا نہ لیں اور فطرہ نہ ادا کر لیں پھر آپ نے فرمایا کہ اس طرح ہم لوگ بھی کرتے ہیں ۔
١٤٦٦ - حفص بن غیاث نے حضرت امام جعفر بن محمد سے اور انہوں نے اپنے پدر بزرگوار علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تمام اہل دیار و امصار پر یہ سنت ہے کہ وہ عیدین کی نماز کیلئے اپنی آبادی سے باہر کہیں نکلیں سوائے اہل مکہ کے اس لئے کہ وہ مسجد الحرام میں نماز پڑھیں گے ۔
١٤٦٧ - اور علی بن رئاب نے ابو بصیر سے اور انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ نامناسب ہے کہ عیدین کی نماز کسی چھت دار مسجد میں یا کسی مکان میں پڑھی جائے بلکہ مناسب یہ ہے کہ صحرا میں یا کسی کھلی جگہ پڑھی جائے ۔
١٤٦٨ - حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اور انہوں نے اپنے پدر بزرگوار علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ جب آپ نماز فطر یا نماز اضحیٰ کیلئے نکلتے تو نماز پڑھنے کیلئے کوئی فرش یا چٹائی لانے کو منع کر دیتے اور فرمایا کرتے کہ یہ وہ دن ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلتے تو اوپر آسمان ہوتا اور آپ اپنی پیشانی زمین پر رکھدیا کرتے ۔
١٤٦٩ - اسماعیل بن جابر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے اس کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا آپ کی رائے میں نماز عیدین کیلئے اذان و اقامت ہے ؟ آپ نے فرمایا ان دونوں میں اذان واقامت نہیں ہے بلکہ تین مرتبہ الصلوۃ الصلاۃ کی منادی کی جائے گی اور ان دونوں میں منبر بھی نہیں اور منبر اپنی جگہ سے نہیں ہٹایا جاتا بلکہ امام کیلئے مئی سے منبر کے مشابہہ ایک بلند جگہ بنادی جاتی ہے وہ اس پر کھڑا ہوتا ہے اور لوگوں کو خطبہ دیتا ہے پھر اُتر آتا ہے ۔
١٤٧٠ - حزیز نے زرارہ سے اور اس نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا اگر تمہاری نماز وتر فوت ہو گئی ہے تو عیدین کی شب میں اس کی قضا نہ پڑھو جب تک کہ اس دن ظہر کی نماز نہ پڑھ لو ۔
١٤٧١ - محمد بن فضل ہاشمی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا عیدین کے دن نماز کیلئے نکلنے سے پہلے دو رکعت نماز سنت سوائے مدینہ کے اور کسی جگہ نہیں پڑھی جائے گی اور اس کو مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پڑھیں گے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کیا تھا ۔
١٤٧٢ - اسماعیل بن مسلم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اور انہوں نے اپنے پدر بزرگوار سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک بڑا سا ڈنڈا تھا جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا تھا جس پر آپ ٹیک لگایا کرتے اور عیدین میں اس کو نکالتے اور اس کو قبلہ کی رخ سامنے کھڑا کر کے نماز پڑھتے ۔
١٤٧٣ - حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اگر عید الفطر یا عید الاضحی جمعہ کے دن پڑ جائے ؟ آپ نے فرمایا یہ ایک مرتبہ حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں پڑ گیا تو آپ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کیلئے آنا چاہتا ہے وہ آئے اور جو بیٹھ رہے تو اس کیلئے کوئی مضرت نہیں وہ ظہر کی نماز پڑھ لے اور حضرت علی علیہ السلام نے ان دونوں خطبوں میں خطبہ عید اور خطبہ جمعہ کو جمع فرمالیا تھا ۔
١٤٧٤ - اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک مرتبہ قول خدا قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ (وہ فلاح پا گیا جس نے زکوۃ ادا کردی) (سورہ الاعلی ١٤) کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ (یہ اس کے لئے ہے) جس نے فطرہ نکال دیا ۔ پھر عرض کیا گیا کہ و ذكراسم ربه فصلی (جس نے اپنے رب کا ذکر کیا اور نماز پڑھی) اس سے کیا مراد ؟ آپ نے فرمایا جو عید گاہ کیلئے نکلے اور نماز پڑھے ۔
١٤٧٥ - اور سکونی کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عید کی نماز کیلئے نکلتے تو جس راستے سے جاتے پھر اس راستے سے واپس نہیں آتے بلکہ دوسرے راستے سے واپس آتے تھے ۔
١٤٧٦ - ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ عید کے دن جب تمہارا کوچ کا ارادہ ہو اور
فجر نمودار ہو جائے تو تم جس شہر میں ہو وہاں سے نہ نکلو جب تک وہاں کی عید کی نماز میں شریک نہ ہو لو ۔
١٤٧٧ - سعد بن سعد نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے مکے وغیرہ کے مسافر کے متعلق روایت کی ہے کہ پوچھا گیا کہ کیا اس پر نمازعیدین یعنی نماز فطر اور نماز اضحیٰ ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہاں سوائے منیٰ میں قربانی کے دن کے ۔
١٤٧٨ - جابر نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب ماہ شوال کی پہلی تاریخ ہوتی ہے تو ایک منادی ندا کرتا ہے کہ اے اہل ایمان اپنے اپنے انعام اور جائزہ کیلئے چلو پھر فرمایا کہ اے جابر اللہ کا انعام ان بادشاہوں کے انعام جیسا نہیں ہے ۔ پھر فرمایا یہ دن انعام اور جائزہ کا ہے ۔
١٤٧٩ - امام حسن علیہ السلام نے دیکھا کہ کچھ لوگ عید الفطر کے دن کھیل کود رہے ہیں اور ہنس رہے ہیں تو اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے ماہ رمضان کو اپنی مخلوق کیلئے گھوڑ دوڑ کا ایک میدان بنایا ہے کہ جس میں لوگ اللہ کی اطاعت اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اس میں ایک گروہ آگے بڑھ جاتا ہے اور کامیاب ہوتا ہے اور ایک گروہ پیچھے رہ جاتا ہے اور ناکامیاب ہوتا ہے مگر تعجب اور بڑا ہی تعجب ہے ان لوگوں پر کہ اس دن جس میں نیکیاں کرنے والے ثواب پائیں گے اور کوتاہیاں کرنے والے حصول ثواب میں ناکام ہونگے ۔ یہ لوگ لہو لعب و ہنسی و مزاح میں مصروف ہیں ۔ خدا کی قسم اگر ان کی نگاہوں سے پردے ہٹا دیئے جائیں تو وہ دیکھیں گے کہ نیکیاں کرنے والا اپنی نیکی کا کیا بدلہ پا رہا ہے اور برے کام کرنے والا کس طرح سزا پا رہا ہے ۔
١٤٨٠ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جو عید بھی آتی ہے خواہ وہ عید الفطر ہو یا عید الاضحیٰ اس میں آل محمد کا غم تازہ ہو جاتا ہے ۔ تو عرض کیا گیا کہ یہ کیوں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کا حق دوسرے کے قبضے میں
ہے ۔
اور نماز عیدین دو رکعت ہے عید الفطر اور عید الاضحی ہیں ۔ نہ ان دونوں رکعتوں کے پہلے کوئی شے ہے اور نہ ان کے بعد اور یہ دورکعتیں صرف امام کے ساتھ باجماعت پڑھی جائیں گی اور جو امام کو کسی جماعت میں نہ پاسکے تو نہ اس کیلئے نماز ہے اور نہ اسکی قضا ہے اور ان دونوں کیلئے نہ اذان ہے اور نہ اقامت ہے ان دونوں کی اذان تو بس طلوع آفتاب ہے ۔ امام نماز شروع کریگا تو ایک تکبیر کہے گا پھر سورہ الحمد اور سورہ سبح اسم ربک اللہ علی کی قرأت کرے گا پھر پانچ تکبیریں کہے گا اور ہر دو تکبیروں کے درمیان قنوت پڑھے گا ساتویں تکبیر پر رکوع میں جائے گا اسکے بعد دو سجدے کرے گا اور اب اٹھے گا دوسری رکعت کیلئے تو تکبیر کہے گا اور سورہ الحمد اور سوره و لشمس وضحها کی قرات کرے گا اور چار تکبیریں قیام کے ساتھ کہے گا پھر پانچویں تکبیر پر رکوع کرے گا ۔
١٤٨١ - محمد بن فضیل نے ابو الصباح کنانی سے روایت کی ہے کہ اس کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نمازعیدین میں تکبیر کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا بارہ (١٢) تکبیریں ہیں سات تکبیریں پہلی رکعت میں اور پانچ تکبیریں دوسری رکعت میں اور جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو ایک تکبیر کہنے کے بعد یہ کہو
(میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس اللہ کے جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اے اللہ تو بڑائی اور عظمت والا ہے اور صاحب جود و قوت و سلطنت و عزت ہے میں تجھ سے آج ایسے دن میں سوال کرتا ہوں جس کو تو نے مسلمانوں کے لئے عید اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے مزید ذخیرہ قرار دیا ہے کہ تو محمدؐ اور آل محمدؐ پر اپنی رحمتیں نازل فرما نیز اپنے مقرب ملائیکہ اور اپنے انبیاء ، مرسلین پر بھی اور ہم لوگوں کی اور جمیع مومنین و مومنات اور مسلمین و مسلمات میں سے زندہ و مردہ کی مغفرت فرما۔ اے اللہ میں تجھ سے اس خیر کا طالب ہوں جس کے تیرے صالح بندے طالب ہیں اور اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے تیرے مخلص بندے تیری پناہ چاہتے ہیں ۔ الله اکبر اول شے سے بھی اور آخر شے سے بھی ۔ ہر شے کا موجد ہے اس کی انتہا تک ۔ ہر شے کا عالم ہے اسکے انجام تک ۔ اسکی طرف ہر شے کی بازگشت ہے اور ہر شے اس کی طرف پلٹے گی ۔ وہ تمام امور کو درست کرنے والے ہے اور جو لوگ قبروں میں ہیں انہیں اٹھانے والا ہے ۔ اعمال کو قبول کرنے والا ہے ۔ پوشیدہ چیزوں کو ظاہر کرنے والا ہے اور بھیدوں کو آشکار کرنے والا ہے ۔ عظیم سلطنت والا اور شدید قوت والا ہے ایسا زندہ ہے جو کبھی نہ مرے گا ۔ ایسا ہمیشہ رہنے والا ہے جس کو کبھی زوال نہیں جب وہ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہوجا وہ ہو جاتا ہے اللہ اکبر (اے اللہ ) تیری بارگاہ میں ساری آوازیں خوف زدہ ہیں تیرے سامنے سارے چہرے جھکے ہوئے ہیں تیرے آگے ساری نگاہیں محو حیرت اور تیری عظمت کے بیان سے ساری زبانیں گنگ ہیں ۔ ہر ایک کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے اور تمام امور کے مقدرات تیرے پاس ہیں جن کا فیصلہ تیرے سوا کوئی نہیں کر سکتا اور انہیں تمام و کمال تک تیرے سوا کوئی نہیں پہنچا سکتا ۔
اللہ اکبر تیری حفاظت ہر شے کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے اور تیری قوت ہر شے کو مغلوب کئے ہوئے ہے تیرا حکم ہر شے پر نافذ ہے ۔ ہر شے تیری وجہ سے قائم ہے - تیری عظمت کے سامنے ہر شے جھکی ہوئی ہے تیری طاقت کے سامنے ہر شے پست ہے تیری قدرت کے سامنے ہر شے اپنا سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے اور تیری سلطنت کے آگے ہر شے سر جھکائے ہوئے) اللہ اکبر پھر سورہ الحمد اور سورہ سبح اسم ربک الا علی پڑھو اور ساتویں تکبیر کہہ کر رکوع میں جاؤ پھر سجدہ کرو اور کھڑے ہو جاؤ ۔ سورہ حمد اور سورہ وا شمس و ضحھا پڑھو اور کہو - اَللهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهٌ وَرَسُوْلُهٌ اَللّهُمَّ أَنْتَ أَهْلُ الْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ (الله اکبر میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس اللہ کے جو اکیلا ہے اسکا کوئی شریک نہیں ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں پروردگار تو بڑائی اور عظمت والا ہے) اس کو مکمل اور پورا پڑھو جیسا کہ تم نے پہلی تکبیر میں پڑھا تھا اور ہر تکبیر میں یہی پڑھو یہاں تک کہ پانچ تکبیریں پوری ہو جائیں ۔
١٤٨٢ - حضرت امیر المومنین نے عید الفطر کے دن خطبہ دیا تو یہ کہا
(حمد اس اللہ کی جس نے آسمانوں اور زمینوں کو خلق کیا اور اندھیرے اور اجالے بنائے پھر وہ لوگ جو کافر ہیں انہوں نے اپنے رب سے منہ موڑا مگر ہم لوگ اللہ کا کسی کو شریک نہیں سمجھتے اور نہ اس کے سوا کسی کو اپنا سر پرست جانتے ہیں ۔ حمد اس اللہ کی کہ جو کچھ آسمانوں اور زمینیوں میں ہے یہ سب اس کا ہے اور اس کیلئے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور وہی حکمت والا اور خبر رکھنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ زمین کے اندر کیا داخل ہوتا اور اس میں سے کیا نکلتا ہے ۔ اور آسمان سے کیا چیز نازل ہوتی ہے اور کیا چیز اس کی طرف بلند ہوتی ہے اور وہی رحم کرنے والا اور بخشنے والا ہے ۔ ایسا ہی ہے اللہ اور نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس کے ۔ اسی کی طرف سب کی بازگشت ہے ۔ حمد اس اللہ کی جو آسمان کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے وہ بغیر اسکے حکم کے نہیں گرے گا بیشک اللہ تعالی لوگوں پر مہربانی کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
اے اللہ ہم لوگوں پر رحم فرما اور اپنی بخشش ہم لوگوں پر عام کر بیشک تو برتر و بزرگ ہے حمد اس اللہ کی جسکی رحمت سے کوئی مایوس نہیں جس کی نعمت سے کوئی خالی نہیں جسکی مہربانی سے کوئی نا امید نہیں جسکی عبادت سے کسی کو روگردانی کی تاب نہیں ۔ جسکے ایک حکم پر ساتوں آسمان قائم ہو گئے اور زمین گہوارہ بن کر شہر گئی ۔ پہاڑ ثابت قدم ہو گئے ۔ بہار اور ہوائیں چلنے لگیں فضا میں بادل تیرنے لگے ۔ سمندر اپنی حدوں میں رہنے لگا ۔ وہ ان سب کا اللہ اور ان سب پر غالب ہے ۔ بڑے بڑے عزت دار اسکے سامنے ذلیل اور بڑے بڑے متکبر اسکے سامنے حقیر ۔ تمام عمل کرنے والے اپنے عمل کا حساب دینے کیلئے خوشی سے یا ناخوشی سے اسکے سامنے حاضر ۔ ہم لوگ اسکی حمد اس طرح کرتے ہیں جس طرح کی حمد اس نے اپنی ذات کیلئے کی ہے اور جس کا وہ اہل ہے ہم لوگ اس سے مدد چاہتے ہیں اس سے طلب مغفرت کرتے ہیں اور اسی سے ہدایت کے طلبگار ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس اللہ کے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہ دلوں میں چھپی باتوں کو سمندر کی تہہ میں پوشیدہ چیزوں کو اور ظلموں کے پس پردہ اشیاء کو جانتا ہے ۔ اس سے کوئی گمشدہ چیزغائب نہیں ہے درخت کا پتہ جو گرتا ہے اور دانہ جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہے وہ اسکو جانتا ہے ۔ نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس کے ۔ ہر خشک وتر کا علم کتاب مبین میں ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ عمل کرنے والے کیا عمل کر رہے ہیں ، جانے والے کس راستے پر جا رہے ہیں اور کسی جگہ کی طرف لوٹائے جائیں گے ۔ اور ہم لوگ اللہ کی ہدایت سے ہدایت چاہتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ محمد اسکے بندے اور اسکی مخلوق کی طرف اسکے نبی اور اسکے رسول اور اسکی وحی کے امین ہیں ۔ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچایا اور اسکو نہ ماننے والوں اور اس سے منہ پھیرنے والوں سے راہ خدا میں جہاد کیا اور وہ اللہ تعالی کی عبادت کرتے رہے یہاں تک کہ انہیں موت آگئی ۔
اے اللہ کے بندوں میں تمہیں اس اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ جس کی نعمت سوا رہے گی جس کی رحمت کبھی ختم نہ ہوگی اور بندے اس سے کبھی مستغنی وبے نیاز نہیں ہو سکتے اس کی نعمتوں کا بدل اعمال نہیں ہو سکتے ۔ جس نے تقوی کی طرف رغبت دلائی اور دنیا سے اجتناب کی ہدایت کی ۔ گناہوں سے بچنے کیلئے کہا۔ وہ اپنی بقا کی وجہ سے صاحب عزت ہے اس نے موت و فنا کے ذریعے اپنی مخلوق کو تابعدار بنایا اور موت تمام مخلوقات کی انتہا اور تمام عالمین کا راستہ ہے اور جو لوگ باقی ہیں اس کی پیشانیاں اس سے بندھی ہوئی ہیں ۔ جب وہ آتی ہے تو اہل حرص و ہوا کو گرفتار کر لیتی ہے ہر لذت کو مہندم کر دیتی ہے ہر نعمت کو زائل کر دیتی ہے ہر خوشی کو ختم کر دیتی ہے ۔ اور دنیا وہ چیز ہے کہ جس کے مقدر میں اللہ تعالٰی نے فنا اور یہاں کے رہنے والوں کی قسمت میں جلا وطنی لکھ دی ہے ۔ مگر اکثر لوگ اس کی بقا چاہتے ہیں اور بنیاد کو بڑی مستحکم سمجھتے ہیں ۔ یہ (بظاہر شیریں اور سرسبز و شاداب ہے دیکھنے والوں کے دل کو لبھا لیتی ہے اور ثروت مند لوگ محتاجوں کو عطا کرنے میں بخل کرتے ہیں ۔ مگر جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ یہاں رہنا نا پسند کرتا ہے ۔ پس اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے جو کچھ اعمال صالحہ تمہارے پاس موجود ہیں ان کو لیکر یہاں سے نکل جانے کی کوشش کرو اور اس متاع قلیل سے بہت زیادہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو ۔ ضرورت سے زیادہ اس میں سے لینے کی سعی نہ کرو ۔ اس میں سے کم سے کم پر راضی رہو ۔ اور دولتمندوں کے پاس جو دولت ہے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو اسے حقیر سمجھو ۔ اس (دنیا) کو اپنا وطن نہ بناؤ اس کے اندر رہنے کو اپنے لئے باعث مضرت سمجھو عیش و عشرت و لہو لعب سے گریز کرو اس لئے کہ اس میں غفلت اور دھوکا ہے ۔ آگاہ ہو کہ دنیا رنگ بدلنے والی اور پیٹھ پھیرنے والی اور تمام ہونے والی اور کوچ کا اعلان کرنے والی ہے اور آخرت نے کوچ کی تیاری کرلی ہے وہ آئے گی اور نمودار ہوگی وہ اپنی آمد کا اعلان کر رہی ہے ۔ آگاہ ہو آج گھوڑ دوڑ کا میدان اس میں جنت کی طرف کس نے سبقت کی اور جہنم کس کا انجام ہوا اسکا فیصلہ کل ہو گا ۔ آگاہ رہو اپنی موت کے دن سے پہلےاپنی گناہوں سے وہی شخص تو بہ کرے گا جو اپنے افلاس اور اپنے فقر کے دن سے پہلے اپنے لئے کچھ کام کرلے گا ۔ اللہ تعالٰی ہم لوگوں کو اور تم لوگوں کو اس گروہ میں قرار دے جو اس سے ڈرتے اور اس سے ثواب کی امید رکھتے ہیں ۔ آگاہ ہو آج کا دن اللہ تعالٰی نے تم لوگوں کیلئے عید کا دن قرار دیا ہے اور تم لوگوں کا اس کا اہل بنایا ہے لہذا تم لوگ اللہ کو یاد کرو وہ تمہیں یاد کرے گا ۔ اس سے دعا مانگو وہ قبول کرے گا ۔ اپنا فطرہ ادا کرو اس لئے کہ یہ تمہارے نبی کی سنت ہے اور تمہارے رب کی طرف سے فریضہ واجبہ ہے لہذا تم میں سے ہر شخص اپنی طرف سے اپنے سارے اہل و عیال کی طرف سے خواہ مرد ہوں یا عورتیں چھوٹے ہوں یا بڑے بڑے آزاد ہوں یا غلام ہر ایک کی طرف سے (فطرہ) ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کھجوریں یا ایک صاع جو ادا کرے ۔
اوراللہ تعالی کی اطاعت کرو اللہ تعالٰی نے تم لوگوں پر جو فرض کیا ہے اور تمہیں جو حکم دیا ہے کہ نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو خانہ کعبہ کا حج کرو ، ماہ رمضان کے روزے رکھو، لوگوں کو نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو اپنی عورتوں اور اپنے غلاموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو ، اور اللہ کی اطاعت ان کاموں میں بھی کرو جس کے کرنے سے اللہ نے تم لوگوں کو منع کیا ہے ۔ جیسے شوہر دار عورت پر زنا کا الزام ، فواحش کا ارتکاب، شراب نوشی، ناپ طول میں کمی ترازو میں نقص ، جھوٹی گواہی ، جنگ سے فرار اللہ تعالٰی ہم لوگوں کو اور تم لوگوں کو ان سب سے محفوظ رکھے اور تقویٰ کے ساتھ ہمارے اور تمہارے لئے آخرت کو بہتر بنائے ۔ بہترین حدیث اور متقین کیلئے بلیغ ترین وعظ خدائے عزیز و حکیم کی کتاب ہے ۔ اعوذ بالله من الشيطان الرجيم ، بسم الله الرحمن الرحيم - قل هو الله احد الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفواً احد
اس کے بعد ذرا دیر کیلئے بیٹھ جائے پھر اٹھے اور وہی خطبہ پڑھے جس کو میں نے آخر خطبہ یوم جمعہ میں بیٹھنے کے بعد کھڑے ہو کر پڑھنے کیلئے تحریر کیا ہے ۔
١٤٨٣ - حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے عید الاضحیٰ میں خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا اَللهُ اُكْبَرُ اَللهُ اُكْبَرُ لَا إلهَ إلَّا اللهُ وَاللهُ اُكْبَرُ ، اَللهُ اُكْبَرُ ، وَلِلهِ الْحَمْدُ اَللهُ اُكْبَرُعَلى یحییٰ مَا هَدَانَا وَلَهٌ الشُّكُرْ فِيْمَا أَوْلَانَا ، وَالْحَمْدُ لِلهِ عَلىَ مَا رَزَقْنَا مِنْ بَہِيْمَةِ اِلْاَنْعَامِ (اور اللہ ہی کیلئے ہے حمد ہے اللہ اکبر اس بات پر کہ اس نے ہم لوگوں کی ہدایت فرمائی اور اسکا شکر ہے کہ اس نے ہم لوگوں کو اس کے لائق سمجھا ۔ اور اللہ کی حمد اس بات پر کہ جس نے چوپایوں کو ہم لوگوں کی خوراک بنایا)
١٤٨٤ - اور حضرت علی علیہ السلام قربانی کے دن جب ظہر کی نماز پڑھتے تو تکبیر کہنا شروع کرتے اور آخر ایام تشریق (پندرہ ذالحجہ) میں صبح کی نماز کے وقت تکبیر کہنا ختم کرتے ۔ چنانچہ آپ ہر نماز کے بعد تکبیر کہتے اور یہ فرماتے اَللهُ اُكْبَرُ اَللهُ اُكْبَرُ لَا إلهَ إلَّا اللهُ وَاللهُ اُكْبَرُ اَللهُ اُكْبَرُ وَلِلهِ الْحَمْدُ اور جب مصلے کی طرف جاتے تو آگے بڑھ کر لوگوں کو بغیر اذان اور بغیر اقامت نماز پڑھاتے اور جب نماز سے فارغ ہوتے تو منبر پر تشریف لے جاتے اور خطبہ شروع کرتے اور کہتے -
الله اكبر الله اكبر الله اکبر اس کے عرش کے وزن کے برابر اور اس کی منشاء کے مطابق اس کے آسمانوں اور اس کے سمندروں کے قطرات کی تعداد کے برابر، اس کیلئے اچھے اچھے نام ہیں، اور اللہ کی حمد یہاں تک کہ وہ راضی ہو جائے ، اور وہی صاحب عزت اور بخشنے والا ہے ، اللہ اکبر ہے ، کبیر ہے ، بڑائی والا ہے ، اور اللہ عزت والا ہے ، رحیم ہے ، مہربانی کرنے والا ہے ، باوجود قدرت سزا معاف کر دیتا ہے اور سوائے گمراہوں کے اس کی رحمت سے کوئی مایوس نہیں ہوتا ، اللہ اکبر کبیر ہے اور لا اله الا اللہ بہت زیادہ پاک و منزہ ہے اللہ جو مہربان اور صاحب قدرت ہے ، اللہ کیلئے حمد ہے ہم اس کی حمد کرتے ہیں اس سے مدد چاہتے ہیں اس سے مغفرت کے طالب ہیں اس سے ہدایت چاہتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس کے اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس نے ہدایت پائی اور بہت بڑی کامیابی پر فائز ہوا اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ بڑی گمراہی میں پڑ گیا ، اورسراسر گھاٹے میں رہا ۔
اللہ کے بندو میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرنا، موت کو یادرکھنا، دنیا سے اجتناب کرنا یہ وہ ہے کہ تم سے پہلے اس کے اندر رہنے والے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے اور تمہارے بعد آنے والوں میں سے کسی ایک کیلئے باقی نہیں رہے گی ۔ اس دنیا میں تمہاری راہ بھی رہی ہے جو گزشتہ لوگوں کی راہ تھی کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ ان لوگوں سے بالکل کٹ گئی ۔ قضا کا اعلان کر دیا جان پہچان سے انجان بن گئی ۔ اور الٹے پاؤں پھر گئی ۔ یہ فنا کی خبر دے رہی ہے اور اپنے ساکنین کیلئے موت کی حدی خوانی کر رہی ہے اس میں کی جو چیزیں شیریں تھیں وہ تلخ ہو گئیں ۔ جو صاف شفاف تھیں وہ گدلا گئیں اس میں سے اب اتنی ہی جاتی ہے جیسے کسی برتن کی تہہ میں ذرا سا پانی یا برتن میں ایک گھونٹ جسے پیاس کی شدت میں پیاسا چوس کر پیئے اور پیاس نہ بجھے ۔ پس اے اللہ کے بندو تم لوگ اس گھر سے کوچ کیلئے سب کے سب متفق ہو جاؤ جس کے رہنے والوں کے مقدر میں زوال ہے ۔ اس کے ساکنین کیلئے زندگی ممنوع ہو جائیگی ان کے نفوس موت سے مفلوج ہو جائینگے ۔ کوئی ایسا نہیں جو بقا کی طمع کرے اور کوئی نفس ایسا نہیں جسکو موت کا یقین نہ ہو ۔ لہذا تم لوگوں پر آرزوؤں کا غلبہ نہ ہونا چاہیئے تم لوگوں کی لمبی لمبی امیدیں نہ ہونی چاہیں اور اس دنیا میں تمناؤں کے دھوکے میں نہ رہنا چاہیئے ۔ اللہ کی عبادت زندگی بھر کرتے رہو ۔ خدا کی قسم اگر تم لوگ زن پسر مردہ کی طرح دہاڑیں مار کر بھی روتے رہے اور لوگوں کی طرح دعائیں مانگتے رہے اور تارک دنیا راہب کی طرح تضرع و زاری کرتے رہے اور پھر اپنے اموال و اولاد کو چھوڑ کر اللہ کی طرف گئے اور اس سے تقریب و بلندی درجات کی اور ان گناہوں کی مغفرت کی درخواست کی جو اسکے کراماً کاتبین تمہارے نامہ اعمال میں لکھے ہوتے ہیں تو ہمیں کم ہی امید ہے کہ تم لوگوں کو ثواب ملے بلکہ ہمیں تو ڈر ہے کہ تم لوگ اللہ کے دردناک، عذاب میں نہ مبتلا ہو جاؤ ۔
اور خدا کی قسم اگر تم لوگ دنیا میں اس وقت تک باقی رہو جب تک دنیا باقی ہے اور اللہ کی محبت اور اس کے خون میں تمہارے قلوب نمک کی طرح پگھل جائیں اور تمہاری آنکھیں آنسو کے بدلے خون بہائیں پھر بھی تمہارے یہ اعمال پورے نہیں ہونگے ۔ اور اللہ تعالٰی نے جو عظیم نعمتیں تمہیں دی ہیں اور ایمان کی طرف جو تمہاری ہدایت کی ہے اس کیلئے تم اپنی کوئی کوشش باقی نہ چھوڑو اور جب تک زمانہ قائم ہے اس وقت تک اعمال بجالاتے رہو پھر بھی تم اپنے اعمال سے اس کی جنت اور اس کی رحمت کے حقدار نہیں بن سکتے ۔ مگر یہ اس کی مہربانی ہے جو تم پر رحم کیا جارہا ہے ۔ یہ اس کی رہنمائی ہے جو تم ہدایت پا رہے ہو اور انہیں دونوں کی وجہ سے تم لوگ اس کی جنت میں پہنچو گے اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کو اور تم لوگوں کو توبہ کرنے والوں اور عبادت کرنے والوں میں قرار دے ۔
آج کا دن وہ ہے کہ جس کی حرمت عظیم ہے اور اس کی برکت کی امید کی جاتی ہے اور جس میں مغفرت کی بھی امید کی جاتی ہے ۔ لہذا اس میں اللہ کا ذکر بہت کرو ۔ اس سے طلب مغفرت کرو اس کی بارگاہ میں تو بہ کرو بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
جو شخص تم میں سے بکری کے بچے کی قربانی کرے تو وہ اس کی طرف سے کافی نہیں ہے ہاں بھیڑ کے بچے کی قربانی کافی ہے اور قربانی کے جانور کا درست اور ٹھیک ہونا یہ ہے کہ اس کی آنکھ ، کان کو دیکھ لیا جائے اگر آنکھ ، کان سلامت ہیں تو قربانی کا جانور ٹھیک ہے اور اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا یا وہ لنگڑا کر چلتا ہو تو وہ قربانی کیلئے درست اور کافی نہیں ہے ۔ اور جب تم لوگ قربانی کے جانور کو ذبح کر لو تو (اس کا گوشت) کھاؤ کھلاؤ اور ایک دوسرے کو ہدیہ کرو اور اللہ تعالٰی نے تمہیں جو جانوروں کی روزی دی ہے اس پر اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرو نماز پڑھو ، زکوۃ دو، اچھی طرح سے عبادت کرو ۔ شہادت قائم کرو ۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم پر فرض کی ہیں ان کو رغبت سے انجام دو جیسے جہاد و حج اور روزہ اس لئے کہ اس کا ثواب اتنا بڑا ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا اور ان کا ترک کرنا ایسا وبال ہے جو کبھی نہ مٹے گا، اور نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، ظالم کو ڈراؤ اور مظلوم کی مدد کرو، جو لوگ ریب اور شک میں گرفتار ہیں ان کی دستگیری کرو، عورتوں اور غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور سچ بولو ، لوگوں کی امانتیں ادا کرو اور حق پر قائم رہنے والوں میں شامل ہو جاؤ اور تمہیں یہ دنیاوی زندگی دھو کے میں نہ ڈالے اور نہ کوئی فریب دینے والا تمہیں فریب میں مبتلا کرے، بیشک بہترین بات ذکر خدا ہے اور متقیوں کیلئے سب سے فصیح و بلیغ موعظہ کتاب الہی ہے ۔ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان رجیم سے ۔ اے رسول کہہ دو کہ اللہ بے نیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا نہ اس کو کسی نے جنا اور اس کا ہمسر کوئی بھی نہیں ہے)
اور اس کے بعد سورہ قل یا ایها الکافرون آخر تك يا الهيكم التكاثر آخر تک یا سورہ العصر پڑھتے لیکن جو سورہ ہمیشہ پڑھا کرتے تھے وہ سورہ (قل هو الله احد) ہے اور جب ان سوروں میں سے کسی ایک سورہ کو پڑھ چکتے تو پھر ذرا دیر کیلئے بیٹھ جاتے اور آپ پہلے وہ شخص ہیں کہ جس نے دو خطبوں کے درمیان اس نشست کو محفوظ رکھا ۔ پھر آپ وہی خطبہ پڑھتے تھے جس کو میں نے جمعہ کے بعد تحریر کیا ہے ۔
١٤٨٥ - اور وہ علل و اسباب کہ جس کی روایت مفضل بن شاذان نیشاپوری سے کی گئی ہے اور بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت امام رضا علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا کہ یوم فطر کو یوم عید اس لئے قرار دیا گیا کہ اس میں مسلمانوں کا اجتماع ہوتا ہے وہ مجتمع ہوتے ہیں اور خدا کی خوشنودی کیلئے نکلتے ہیں اور اللہ تعالٰی نے جو ان پر احسان کیا ہے اس پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں اس لئے یہ یوم عید یوم اجتماع یوم فطر، يوم زکوۃ ، يوم رغبت اور یوم تضرع ہے نیز اس لئے کہ یہ سال کا پہلا دن ہے (رمضان کے بعد) جس میں کھانا پینا حلال ہے کیونکہ اہل حق کے نزدیک ایک سال کے مہینوں میں پہلا مہینہ ماہ رمضان ہے تو اللہ تعالٰی نے یہ چاہا کہ لوگوں کا جمع ہو جس میں لوگ اس کی حمد کریں اور اس کی تقدیس کریں ، اور اس کے علاوہ اس میں دوسری نمازوں سے زیادہ تکبیریں قرار دیں اس لئے کہ تکبیر اصل میں اللہ کی بڑائی کا اقرار ہے اور اس نے جو ہدایت کی اس کا شکر ادا کرنا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَلِتُكَبِّرُوا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (تا کہ خدا نے جو تم کو راہ پر لگا دیا ہے اس نعمت پر اس کی بڑائی بیان کرو تاکہ تم شکر گزار ہو) (سورہ بقره آیت نمبر ۱۸۵)
اور اس میں بارہ تکبیریں رکھ دیں اس لئے کہ پوری دو رکعتوں میں بارہ تکبیریں ہیں ۔ پہلی رکعت میں سات دوسری رکعت میں پانچ دونوں میں برابر برابر نہیں رکھا اس لئے کہ نماز فریضہ میں سنت ہے کہ اس کا افتتاح سات تکبیروں سے کیا جائے اس لئے یہاں بھی سات تکبیروں سے شروع کیا اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں اس لئے کہ تکبیرۃ الاحرام دن اور رات میں پانچ ہوتی ہیں تاکہ دونوں رکعتوں میں تکبیر متواتر ہو جائے ۔
١٤٨٦ - حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ نماز عیدین میں جب لوگ پانچ یا سات ہوں تو نماز باجماعت ادا کریں جیسا کہ جمعہ کے دن کرتے ہیں نیز فرمایا کہ دوسری رکعت میں قنوت پڑھا جائے گا ۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا کہ کیا بغیر عمامہ کے (یہ نماز) جائز ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں مگر عمامہ مجھے بہت پسند ہے ۔
١٤٨٧ - ابو الصباح کنانی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے راوی کا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے نماز عیدین میں تکبیر کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا بارہ تکبیریں ہیں سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں اور جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو ایک مرتبہ اللہ اکبر کہو اس کے بعد کہو
(میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس اللہ کے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اے اللہ تو ہی بڑائی اور عظمت والا ہے صاحب بخشش و قوت و قدرت و سلطنت و عزت ہے میں تجھ سے آج کے دن سوال کرتا ہوں جسے تو نے مسلمانوں کیلئے عید اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے مزید ذخیرہ قرار دیا ہے اور تمام مومنین و مومنات و مسلمین و مسلمات زندہ مردہ کو بخش دے ۔ اے اللہ میں تجھ سے اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تیرے مرسل بندوں نے کیا تھا ۔ اور اس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس سے تیرے مخلص بندوں نے پناہ چاہی تھی ۔
اللہ اکبر ہر شے کے اول و آخر ہے وہ ہر شے کا موجد اور تنہا ہے ہر شے کا عالم اور اس کے پلٹنے کی جگہ ہے ہر شے اسی کی طرف جارہی ہے اور اس طرف واپس ہو رہی ہے ۔ اور تمام امور کو درست کرنے والا ہے اور جو لوگ قبروں میں ہیں ان کو دوبارہ زندہ کرنے والا ہے ۔ بندوں کے اعمال کو قبول کرنے والا اور مخفی چیزوں کو ظاہر کرنے والا ہے بھیدوں کو افشاء کرنے والا ہے ۔ اللہ اکبر وہ عظیم قوت والا ، شدید طاقت والا ہے وہ ایسا زندہ جسے کبھی موت نہیں آئے گی وہ ہمیشہ رہنے والا ہے اس کو کبھی زوال نہیں جب وہ کسی امر کا ارادہ کر لیتا ہے تو بس وہ کہہ دیتا ہے کہ ہو جا اور وہ شے ہو جاتی ہے ۔ اللہ اکبر (پروردگار) تیرے سامنے آوازیں سہمی ہوئی ہیں ۔ تیرے حضور رخسار جھکے ہوئے ہیں ۔ آنکھیں حیرت زدہ ہیں تیری عظمت کے بیان میں زبانیں گنگ ہیں ۔ ہر ایک کی پیشانیاں تیرے دست قدرت میں ہیں اور تمام امور کے مقدرات تیری طرف سے ہیں تیرے سوا ان کو کوئی پورا نہیں کر سکتا ۔ اور وہ بغیر تیرے ان میں سے کوئی بھی اتمام کو نہیں پہنچ سکتی ۔
پروردگار ۔ ہر شے تیرے احاطہ حفاظت میں ہے ۔ ہر شے تیری قوت سے مغلوب ہے ۔ ہر شے پر تیرا حکم نافذ ہے تیری وجہ سے ہر شے قائم ہے تیری عظمت کے سامنے ہر شے سرنگوں ہے ۔ تیری طاقت کے سامنے ہر شے پست و ذلیل ہے تیری قدرت کے آگے ہر ایک کا سر تسلیم خم ہے یہ تیری طاقت کے آگے ہر شے زیر ہے ۔ اللہ اکبر)
پھر سورہ الحمد اور سورہ والشمس وضحیھا پڑھو اور ساتویں تکبیر پر رکوع کرو اور دوسری رکعت میں کہو اَللهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدأَعْبُدُهُ وَرَسُولُهُ ، اَللَّهُمَّ أَنْتَ أَهْلُ الْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ (میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس اللہ کے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اس کے بندے اور اسکے رسول ہیں اے اللہ تو بڑائی اور عظمت والا ہے) ۔۔۔۔۔۔ اور وہ سب مکمل کہو جو پہلی تکبیر کے بعد کہہ چکے ہو اور یہ ہر تکبیر میں کہنا ہے یہاں تک کہ پانچ تکبیریں پوری ہوں اور عیدین کا خطبہ بعد نماز ہے ۔