Skip to main content

باب وہ سبب کہ جسکی بنا پر نماز پڑھنے والا نماز مغرب میں اور اسکے نوافل میں قصر نہیں کرے گا خواہ سفر میں ہو خواہ حضر میں۔

حدیث ١٣١٧ - ١٣١٧

١٣١٧ - ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ مغرب کی نماز تین رکعت اور اسکے بعد (نافلہ) چار رکعت کیوں ہے خواہ حضر ہو یا سفر اس میں قصر نہیں ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم پر ہر نماز دو رکعت پڑھنے کا حکم نازل فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نماز میں دو رکعت کا حضر میں اضافہ فرما دیا اور سفر میں اسکو قصر (کم) کر دیا سوائے نماز مغرب اور نماز صبح کے پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز مغرب پڑھ رہے تھے تو آپ کو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت کی اطلاع ملی چنانچہ آپ نے اللہ تعالٰی کے شکر کیلئے اس میں ایک رکعت کا اضافہ فرما لیا ۔ اور جب امام حسن علیہ السلام پیدا ہوئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کے شکر کیلئے اس میں دو رکعت کا اضافہ فرمایا اور جب امام حسین علیہ السلام پیدا ہوئے تو آپ نے اللہ کے شکر کیلئے اس میں دو رکعت کا اور اضافہ فرما دیا پھر آپ نے فرما یا اس لئے کہ (لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ) (سورہ النساء آیت نمبر ۱۱) مرد کا عورت سے دو گنا حصہ ہے اور آپ نے اس کواسی طرح رہنے دیا خواہ حضر ہو خواہ سفر ہو ۔