باب نماز حبوه (عطیہ رسول) و تسبیح اور یہ نماز حضرت جعفر ابن ابی طالب علیہما السلام ہے
حدیث ١٥٣٣ - ١٥٤١
١٥٣٣ - ابو حمزه ثمالی نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر بن ابی طالب علیہ السلام سے فرمایا اے جعفر کیا میں تم کو بخشش دوں کیا میں تم کو عطیہ دوں کیا میں تم کو کوئی تحفہ دوں کیا میں تم کو ایک ایسی نماز کی تعلیم دوں کہ جب تم اس کو پڑھو تو اگر تم میدان جنگ سے فرار (جیسا گناہ بھی) کئے ہوئے ہو اور تمہارے اوپر جبل عالج کے سنگریزوں اور سمندر کے جھاگ کے برابر بھی گناہ ہوں تو وہ بخش دیئے جائیں ؟ انہوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا تم چار رکعت نماز پڑھو ۔ چاہو تو ہر شب میں پڑھو چاہو ہر دن میں پڑھو چاہو صرف جمعہ جمعہ پڑھو چاہو تو سال کے سال پڑھو جب نماز شروع کرو تو پندرہ مرتبه تکبیر اسطرح کہو الله اكبر وسبحان الله والحمد لله و لا الہ اللہ پھر سورہ الحمد پڑھو اور کوئی اور سورہ اور رکوع میں جاؤ اور رکوع میں دس مرتبہ وہی کہو (جو اوپر مذکور ہوا) پھر رکوع سے سر اٹھاؤ اور دس مرتبہ وہی کہو پھر سجدہ میں جاؤ اور سجدہ میں دس مرتبہ وہی کہو پھر سجدہ سے سر اٹھالو اور دس مرتبہ وہی کہو پھر کھڑے ہو جاؤ اور پندرہ مرتبہ وہی کہو اسکے بعد سورہ احمد اور کوئی اور سورہ پڑھو رکوع میں جاؤ اور رکوع میں دس مرتبہ وہی کہو پھر رکوع سے سر اٹھاؤ اور دس مرتبہ وہی کہو پھر سجدہ میں جاؤ اور سجدہ میں دس مرتبہ وہی کہو پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ اور دس مرتبہ یہی کہو پھر تشہد پڑھو اور سلام پڑھو پھر کھڑے ہو جاؤ اورآخر کی دو رکعتیں بالکل اس طرح پڑھو جس طرح یہ ابتد کی دو رکعتیں پڑھی ہیں اس کے بعد سلام پڑھو ۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا اسی تسبیح پچہتر (٧٥) مرتبہ ہوئی اور ہر رکعت میں تین سو (۳۰۰) تسبیح ہوئی یعنی اس طرح چار رکعت میں بارہ سو تسبیح ہو گئی اور اس کو اللہ تعالٰی دس گنا کر کے تمہارے نامہ اعمال میں بارہ ہزار حسنات لکھے گا اور اس میں سے ایک حسنہ کوہ احد سے بھی بڑا ہو گا ۔
١٥٣٤ - اور بعض جگہ روایت کی گئی ہے کہ نماز جعفر طیار میں سوروں کی قراءت کے بعد تسبیح ہے اور تسبیح کی ترتیب اس طرح ہے سبحان الله و الحمد لله ولا اله الله والله اكبر
ان حدیثوں میں سے جس پر بھی نمازی عمل کرے اسکے لئے صائب اور جائز ہے ۔
اور قنوت ہر دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے ہے اور پہلی رکعت میں سورہ حمد اور سورہ اذازلزت الارض کی قراءت ہے اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد اور سورہ والعادیات کی قراءت ہے اور تیسری رکعت میں سورہ حمد اور سورہ اذا
جاء نصر اللہ کی قراءت ہے اور چوتھی رکعت میں سورہ الحمد اور سورہ قل ھو اللہ احد کی قراءت ہے اور اگر تم چاہو تو ہر رکعت میں سورہ الحمد اور سورہ قل ھو اللہ احد کی قراءت کرو ۔
١٥٣٥ - اور عبداللہ بن مغیرہ کی روایت میں جو اس نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کی ہے یہ ہے کہ نماز جعفر طیار میں سوره قل هو الله احد اور قل یا ایها الکافرون پڑھو ۔
١٥٣٦ - ابراہیم بن ابی بلاد سے روایت کی گئی ہے اس کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابو الحسن یعنی امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے عرض کیا کہ جو شخص نماز جعفر طیار پڑھے اس کو کیا ثواب ملے گا تو آپ نے فرمایا اگر اسکے گناہ جبل عالج کے سنگ ریزوں اور سمندروں کے جھاگ کی تعداد کے برابر بھی ہوں تو اللہ اس کو بخش دے گا میں نے عرض کیا کہ کیا یہ بخشش ہم لوگوں کیلئے ہوگی ؟ فرمایا اور یہ کس کے لئے ہوگی یہ تو تم ہی لوگوں کیلئے خاص کر کے ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ پھر اس نماز میں میں کیا پڑھوں ؟ فرمایا قران میں سے جو چاہو پڑھو کیا اس میں اذا زلزلت الارض اور اذا جاء نصرالله اور انا انزلناه في ليلة القدر اور قل هو الله احد نہیں پڑھو گے ۔
١٥٣٧ - اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا گیا اس شخص کے متعلق جس نے نماز جعفر طیار پڑھی کہ کیا اس کو بھی وہی ثواب ملے گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر طیار کے لئے فرمایا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں خدا کی قسم ۔
١٥٣٨ - علی بن ریّان سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں نے آخری گزرے ہوئے امام علیہ السلام کو خط لکھا اور اس میں دریافت کیا کہ ایک شخص نے نماز جعفر طیار ابھی دو رکعت ہی پڑھی تھی کہ اسے ضروری کام پڑ گیا یا کوئی حادثہ پیش آگیا اس لئے اس نے آخر کی دو رکعت چھوڑ دی کیا اس کیلئے یہ جائز ہے کہ جب وہ ضرورت سے فارغ ہو تو وہ دو رکعت پوری کرے خواہ وہ اپنے مصلیٰ سے اٹھ چکا ہو ۔ یا یہ اس میں محسوب نہ ہوگی اور اس کو از سر نو چار رکعت پڑھنی چاہئے کل کی کل مقام واحد پر ؟ تو آپ نے جواب میں تحریر فرمایا ہاں اگر اس نے انتہائی ضروری امر کی وجہ سے نماز قطع کی ہے تو پھر اس سے واپس آکر وہ باقی رکعتیں پڑھ کر نماز پوری کرے انشاء اللہ ۔
(۱۵۳۹) ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تم نماز جعفر طیار جس وقت چاہو پڑھو ۔ خواہ دن میں پڑھو خواہ رات میں اگر چاہو تو اس کو نماز شب میں محسوب کر لو اور چاہو تو دن کے نوافل میں محسوب کرلو وہی تمہارے لئے دن کے نوافل میں بھی شمار ہو جائے گی اور نماز جعفر طیار میں بھی محسوب ہو جائے گی ۔
١٥٤٠ - نیز ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ روایت بھی کی ہے کہ آپ نے فرمایا اگر تم بہت جلدی میں ہو تو صرف نماز جعفر طیار (چار رکعت) پڑھ لو بعد میں تسبیحات پڑھ لینا ۔
١٥٤١ - اور حسن بن محبوب کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ نماز جعفر طیار کے آخری سجدہ میں تم یہ کہو یَا مَنْ لَبِسَ الِعزَّ و الوِقَارَ، يَا مَنْ تَعصَلَّفَ بِالْمَجْدِ وَتَكَرَّمَ بِه ، يَامَنْ لَايَنْبغِي التَسْبِيْحَ إِلَّا لَهُ يَامَنْ أَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عِلْمِّهٌ ، يَا ذَا النِّعْمَةِ وَالطَّوْلِ يَاذَا الْمَنِّ وَالْفَضْلِ ، يَاذَا الْقُدْرَةِ وَالْكَرَمِ ، أَسْأَلُكَ بِمَعَائِدِ اِلعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ وَمُنْتَهیٰ الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ وَبِاسِمِكَ الْأَعْظَمِ الْأَ عَلیٰ وَ كَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ أَن تُصَلِّي عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تَفْعَلْ بِيْ - كَذا كذا - (اے وہ ذات جو عزت و وقار کا لباس پہنے ہوئے ہے ۔ اے وہ ذات جو بزرگی و کرامت کی روا اوڑھے ہوئے ہے ۔ اے وہ ذات کہ اسکے سوا اور کسی کے لئے تسبیح روا نہیں اے وہ ذات کہ جسکا علم ہر شے کا احاطہ کئے ہوئے ہے اے صاحب نعمت و بخشش اے صاحب فضل و احسان اے صاحب قدرت و کرم میں مجھ سے تیرے عرش کی عظمت و عزت کا واسطہ دے کر اور تیری کتاب کی انتہائی رحمت کا واسطہ دے کر اور تیرے اسم اعظم واعلیٰ کا واسطہ دے کر اور تیرے کلمات تامہ (پورے) کا واسطہ دے کر تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ تو محمدؐ اور آل محمدؐ پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور یہ کام پورے کر دے۔ (یہاں اپنی حاجات کا تذکرہ کرے) ۔