Skip to main content

باب سفر میں قصر کا سبب

حدیث ١٣١٨ - ١٣١٩ 

١٣١٨ - فضل بن شاذان نیشاپوری رحمہ اللہ نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے اسکے سبب کے متعلق جو کچھ سنا تھا وہ بیان کیا کہ نمازیں سفر میں کم کردی گئیں کیونکہ مفروضہ نماز اول میں دس رکعت تھی اور سات رکعتیں اس میں بعد میں زیادہ کر دی گئیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کیلئے اس زیادتی کی تخفیف کر دی اس لئے کہ یہ اسکے سفر اسکے تعب و تکلیف اور اسکے اپنے امور میں مشغولیت اور کوچ و اقامت کا موقع ہے تاکہ اسکی معیشت کے وہ امور جو لابدی اور ضروری ہیں اس سے رہ نہ جائیں در حقیقت یہ اس پر اللہ کی رحمت و مہربانی ہے ۔ سوائے مغرب کی نماز کے کہ اس میں قصر نہ ہو گا اس لئے کہ یہ اصل میں خود ہی قصر کی ہوئی ہے ۔ اور قصر آٹھ فرسخ پر واجب ہے اس سے کم پر نہیں اس لئے کہ آٹھ فرسخ عامتہ الناس اور قافلوں اور بار برداری کرنے والوں کے ایک دن کی راہ ہے اور ایک دن کی راہ پر قصر واجب کیا گیا ۔ اور اگر ایک دن کی راہ پر قصر واجب نہ ہو تا تو پھر ہزار سال کی راہ تک بھی قصر واجب نہ ہوتا اس لئے کہ ہر روز اس روز کے بعد جو آتا وہ اس روز کے مثل ہوتا ہے ۔ اگر اس روز پر قصر واجب نہ ہو تو اسکے مثل جو دن آئیندہ آئیگا اس پر قصر واجب نہ ہوگا دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔ اور دن کے نوافل ترک کردئے جائیں گے اور رات کے نوافل ترک نہ ہوں گے اس لئے کہ وہ نماز کہ جس میں قصر نہیں ہوگا اسکے نوافل میں بھی قصر نہیں ہو گا چنانچہ مغرب کی نماز میں قصر نہیں تو اسکے بعد جو نافلہ ہے اس میں بھی قصر نہیں اور اس طرح صبح کی نماز میں قصر نہیں تو اسکے پہلے نافلہ میں بھی قصر نہیں اب رہ گئی عشاء کی نماز جس میں قصر ہے مگر اس کی دو رکعت نافلہ ترک کی جائے گی ۔ اس لئے کہ یہ دو رکعتیں پچاس کے اندر نہیں بلکہ پچاس سے زیادہ ہیں تاکہ فریضہ کی ہر ایک رکعت کے بدلہ نافلہ کی دو رکعت پوری ہو جائے اور مسافر اور مریض کیلئے یہ جائز ہے کہ مشغولیت اور تھکان  سفر کی وجہ سے نماز شب رات کی ابتداء میں پڑھ لے تا کہ اسکی نماز نہ چھوٹے ۔ اور مریض اپنی راحت کے وقت آرام کرے اور مسافر اپنے کوچ اور اپنے سفر کے اہتمام میں مشغول ہو -

١٣١٩ - سعید بن مسیب نے حضرت علی بن الحسین علیہ السلام سے دریافت کیا اور عرض کیا کہ مسلمانوں پر یہ نمازیں کب فرض کی گئیں جن پر وہ آج بھی عمل کر رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا مدینہ میں جس وقت لوگوں کو کھل کر توحید کی دعوت دی جانے لگی اسلام میں قوت آئی اور اللہ تعالٰی نے مسلمانوں پر جہاد واجب کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں سات رکعتیں زیادہ کر دیں ۔ ظہر میں دو رکعت عصر میں دو رکعت مغرب میں ایک رکعت عشاء میں دو رکعت اور فجر کو اسی پر برقرار رکھا جو مکہ میں فرض ہوئی تھی تاکہ شب والے ملائکہ جلد آسمان کی طرف پرواز کر جائیں اور دن والے ملائکہ جلد زمین پر نازل ہو جائیں ۔ اور دن کے ملائکہ اور رات کے ملائکہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز فجر کے شاہد بنتے ہیں چنانچہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ وَقُرْءَانَ ٱلْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْءَانَ ٱلْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًۭا ( اور صبح کی نماز پڑھا کرو کیونکہ صبح کی نماز پر دونوں دن و رات کے فرشتوں کی گواہی ہوتی ہے) (سورہ الاسر، آیت نمبر ٧٨) اسکے شاہد مسلمان اور دن کے ملائکہ اور رات کے ملائکہ بنیں گے ۔