Skip to main content

نجاشی کی رائے


نجاشی اپنی کتاب رجال صفحہ ۲۷۶ میں تحریر فرماتے ہیں کہ محمد بن علی بن الحسین بن موسیٰ بن بابویه قمی ابو جعفر شہر رے میں وارد ہوئے یہ ہمارے شیخ ہمارے فقیہ ہیں اور خراسان میں فرقہ شیعہ کے رئیس و سردار تھے یہ بغداد کے اندر ۳۵۵ ہ میں تشریف لائے حالانکہ وہ ابھی کمسن ہی تھے مگر یہاں کہ اکثر شیوخ نے ان سے احادیث کا درس لیا اور انہوں نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں ہیں ۔ پھر آپ نے ان کی تصنیف کردہ ایک سو نوے (۱۹۰) سے کچھ زیادہ کتب درسائل شمار کرائے اس کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ ان ہی نے اپنی کتابوں کے نام ہمیں بتائے اور انہوں نے اپنی بعض کتابوں کو میرے والد علی بن احمد بن عباس نجاشی کو پڑھ کر سنایا۔ مرحوم کا انتقال رے کے اندر ۳۸۱ ھ میں ہوا ۔