Skip to main content

باب نماز جماعت اور اسکی فضیلت

حدیث ١٠٩١ - ١٢١٨   

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱرْكَعُوا۟ مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ (نماز قائم کرو زکوۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو) (سورہ بقرہ آیت نمبر ٤٣) اس آیت میں اللہ تعالٰی نے جماعت کا اسی طرح حکم دیا ہے جس طرح نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔ اور اللہ تعالٰی نے ایک جمعہ سے لیکر دوسرے جمعہ تک پینتیس (۳۵) نماز میں واجب کی ہیں ان میں ایک نماز جماعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرض رکھی ہے ۔ اور وہ جمعہ کی نماز ہے بقیہ تمام نمازوں میں جماعت فرض نہیں ہے بلکہ سنت ہے جو شخص اسکو نا پسند کرتے ہوئے ترک کرنے اور مسلمانوں کی جماعت کو بغیر کسی سبب کے ترک کرے تو اسکی نماز ہی نہیں ہو گی ۔ اور جو شخص تین جمعہ متواتر ترک کرے بلا کسی سبب کے تو وہ منافق ہے ۔ اور آدمی کیلئے جماعت میں نماز پڑھنا اکیلے جنت میں نماز پڑھنے سے پچیس درجہ افضل ہے ۔ اور جماعت میں نماز پڑھنا فرادا نماز پڑھنے سے چو بیسں درجہ افضل ہے (اسطرح با جماعت نماز پچیس نمازوں کے برابر ہو جاتی ہے ۔

١٠٩١ - محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو اپنے پڑوس کی مسجد میں نماز پڑھنے نہ جائے اسکی نماز ہی نہیں ہے سوائے یہ کہ وہ مریض ہو یا کوئی اور مشغولیت ہو ۔

١٠٩٢ - اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قوم سے فرمایا کہ تم لوگ مسجد میں ضرور حاضر ہوا کرو ورنہ میں مع تمہارے تمہارے گھروں میں آگ لگادوں گا ۔

١٠٩٣ - نیز آپ نے فرمایا کہ جو شخص پانچوں وقت کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے تو اس سے ہر خیر کی توقع رکھو۔ 

١٠٩٤ - اور آپ علیہ السلام نے فرمایا اگر دو (۲) شخص ہیں تو جماعت ہے ۔

١٠٩٥ - حسن صیقل نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ کم سے کم جماعت کی تعداد کیا ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایک مرد اور ایک عورت اور جب مسجد میں کوئی ایک بھی نہ آئے تو پھر ایک مومن ہی جماعت ہوتا ہے اس لئے کہ جب وہ اذان و اقامت کہہ کر نماز شروع کرتا ہے تو ملائیکہ کی دو صفیں اسکے پیچھے نماز پڑھتی ہیں اور جب صرف اقامت کہتا ہے اور اذان نہیں کہتا تو اسکے پیچھے ایک صف ہوتی ہے ۔

١٠٩٦ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک اکیلا بھی جماعت ہے ۔

١٠٩٧ - اور ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز پڑھ کر اٹھے تو اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے چند لوگوں کا نام لیکر پوچھا کہ کیا فلاں فلاں نماز میں آئے تھے ان اصحاب نے کہا نہیں یا رسول اللہ آپ نے پوچھا کیا وہ لوگ مدینہ میں نہیں تھے اور غائب تھے ۔ اصحاب نے کہا نہیں یا رسول اللہ ۔ آپ نے فرمایا بات یہ ہے کہ اس نماز سے اور نماز عشاء سے زیادہ کوئی نماز بھی منافقین پر گراں نہیں ہے اگر یہ لوگ ان دونوں کی فضیلت کو جانتے تو ضرور آتے خواہ انہیں گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑتا۔

١٠٩٨ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جو نماز صبح اور نماز عشاء جماعت کے ساتھ پڑھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ضمانت میں رہتا ہے اور جو اس پر ظلم کرتا ہے وہ اللہ پر ظلم کرتا ہے جو اسکو حقیر جانتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو حقیر جانتا ہے ۔ اور جب پانی برس رہا ہو یا برف باری ہو رہی ہو تو آدمی کیلئے جائز ہے کہ اپنی قیام گاہ پر نماز پڑھ لے اور مسجد نہ جائے ۔

١٠٩٩ - اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب جو تا بھیگے تو نماز اپنی قیام گاہ میں ۔
اور میرے والد رحمہ اللہ نے جو رسالہ میرے پاس بھیجا اس میں تحریر کیا کہ اے فرزند تم کو معلوم ہو کہ جماعت میں امامت کا وہی زیادہ حقدار ہے جو قرآن کی سب سے اچھی قرآت کرتا ہو ۔ اور اگر قرأت میں سب لوگ برابر ہوں تو ان میں وہ جو سب سے زیادہ فقیہ ہو اور اگر فقہ میں بھی سب برابر ہیں تو پھر وہ جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہے اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہیں تو پھر وہ جو ان میں سب سے زیادہ سن رسیدہ ہے اور اگر سن میں بھی برابر ہیں تو پھر وہ جو ان میں سب سے زیادہ خوبرو ہو ۔ اور مسجد بنانے والا مسجد کا زیادہ حقدار ہے اور تم میں سے امام کے قریب وہ ہوں جو اسکے رشتہ دار ہوں اور متقی ہوں تا کہ اگر امام بھول جائے یا قرآت سے عاجز رہے تو لوگ اسکو امام کی جگہ کھڑا کر لیں اور سب سے افضل صف پہلی صف ہے اور پہلی صف میں بھی وہ جو امام کے قریب ہے ۔

١١٠٠ - رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قوم کا امام قوم کا نمائندہ ہوتا ہے لہذا تم لوگ اپنے میں سے سب سے افضل شخص کو امام بناؤ۔

١١٠١ - نیز آنجناب علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تمہاری خوشی یہ ہے کہ تم اپنی نمازوں کو پاک صاف رکھو تو تم میں جو سب سے بہتر ہے اسکو امام بناؤ۔ 

١١٠٢ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص کسی قوم کو نماز پڑھائے اور ان میں کوئی اس سے زیادہ عالم ہو تو اس قوم کے امور قیامت تک پستی کی طرف جائیں گے ۔
اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہارا امام اللہ کی بارگاہ میں تمہارا شفیع ہوتا ہے لہذا کسی بیوقوف شخص کو اور کسی فاسق کو اپنا شفیع نہ بناؤ۔

١١٠٣ - اور حسین بن کثیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے آپ سے امام کے پیچھے قرآت کرنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ نہیں امام قرآت کا ذمہ دار ہے اور جو لوگ اسکے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں وہ ان سب کی نمازوں کا ذمہ دار نہیں صرف قراءت کا ذمہ دار ہے ۔

١١٠٤ - محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ پانچ اشخاص کو لوگ امام نہ بنائیں اور نماز فریضہ انکے پیچھے جماعت کے ساتھ نہ پڑھیں ۔ مبروص و مجذوم و ولد الزنا اور جاہل و دیہاتی عرب جب تک وہ ترک وطن کر کے آبادی میں نہ آجائے ۔ اور جس پر کسی قسم کی حد جاری ہو چکی ہو (یعنی سزا یافتہ )

١١٠٥ - امیرالمومنین علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص کسی مجذوم و مبروص و مجنون و سزا یافتہ اور ولد الزنا کے پیچھے ہر گز نماز نہ پڑھے ۔ اور مہاجر کسی اعرابی (دیہاتی) کے پیچھے نماز نہیں پڑھے گا۔

١١٠٦ - اور آپ نے فرمایا کہ جسکی ختنہ نہ ہوئی ہو وہ قوم کی امامت نہیں کرے گا خواہ وہ قرآن کا سب سے اچھا قاری کیوں نہ ہو اس لئے کہ اس نے سب سے بڑی سنت کو ترک کیا ہوا ہے ۔ اور اسکی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور اگر وہ مرجائے تو اس پر نماز نہیں پڑھی جائیگی سوائے یہ کہ اس نے ( اس سنت کو) اپنی جان کے خطرے سے ترک کیا ہوا ہو ۔

١١٠٧ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ قیدی آزاد لوگوں کی امامت نہ کرے اور مفلوج شخص تندرست لوگوں کی امامت نہ کرے ۔

١١٠٨ - حضرت امام محمد باقر اور حضرت امام جعفر صادق علیہما السلام نے فرمایا کہ اگر ایک نابینا شخص قران کا سب سے اچھا
قاری ہو سب سے زیادہ عالم فقہ ہو اور لوگ اس پر راضی ہوں تو اسکے نماز کی امامت کرنے میں کوئی ہرج نہیں ۔

١١٠٩ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اندھا وہ ہے جو دل کا اندھا ہو وہ اندھا نہیں جو آنکھ کا اندھا ہو بلکہ اندھا وہ ہے جو اس دل کا اندھا ہو جو سینے میں ہے ۔

١١١٠ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ تین اشخاص کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے ، وہ شخص جسکا دین و اعتقاد نہ معلوم ہو ، وہ شخص جو غالی ہو اگرچہ وہ بھی اسی کا قائل ہو جسکے تم قائل ہو ، وہ شخص جو چھپا کر نہیں بلکہ لوگوں کے سامنے فسق و فجور کرتا ہو خواہ اپنے اعتقادات میں متعدل ہی کیوں نہ ہو ۔

١١١١ - اور حضرت علی بن محمد اور محمد بن علی علیہما السلام نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی جسمیت کا قائل ہو اسکو زکوۃ میں سے کچھ نہ دو اور نہ اسکے پیچھے نماز پڑھو ۔

١١١٢ - اور ابو عبداللہ برقی نے حضرت ابو جعفر ثانی (امام علی النقی علیہ السلام) کو خط لکھ کر دریافت کیا کہ میں آپ پر قربان وہ شخص جو آپ کے پدر بزرگوار اور آپ کے جد نامدار پر ٹھرا ہوا ہو (اور آپ کو امام نہ مانتا ہو) اسکے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے ؟ آپ نے فرمایا اسکے پیچھے نماز نہ پڑھو ۔ 

١١١٣ - عمر بن یزید نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک امام جماعت ہے کہ جو اپنے تمام امورمیں ٹھیک ہے عارف و عالم بھی ہے مگر وہ اپنے والدین کو ایسی درشت باتیں سناتا ہے کہ جس سے ان لوگوں کوغیظ آجاتا ہے کیا ایسے پیش نماز کے پیچھے نماز پڑھوں؟ آپ نے فرمایا اسکے پیچھے نماز پڑھو جب تک کہ وہ قطعی طور پر عاق نہ ہو جائے ( اس لئے کہ ممکن ہے وہ انہیں امر با معروف و نہی عن المنکر یا کوئی نصیحت کر رہا ہو) ۔

١١١٤ - محمد بن علی حلبی نے آنجناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اس شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو جو تمہارے لئے کفر کی گواہی دیتا ہو ( تمہیں کافر کہتا ہو) اور اس شخص کے پیچھے بھی نماز نہ پڑھو جسکے متعلق تم کفر کی گواہی دیتے ہو (اسے کافرکہتے ہو) ۔

١١١٥ - سعد بن اسماعیل نے اپنے باپ سے اور انہوں نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ راوی کا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے دریافت کیا کہ ایک شخص گناہوں سے آلودہ ہے اسکے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے یا نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں ۔

١١١٦ - اسماعیل بن مسلم سے روایت ہے کہ اس نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق کہ جو قضاء وقدر الہی کی تکذیب کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ تمام نمازیں جو اسکے پیچھے پڑھی گئی ہیں انکا اعادہ کیا جائے ۔

١١١٧ - اسماعیل جعفی نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا کہ ایک شخص ہے جو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے محبت کا دعوی کرتا ہے مگر انکے دشمن سے برآت کا اظہار نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ وہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ان لوگوں سے جو اسکے مخالف ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ (حق و باطل) خلط ملط کرتا ہے وہ دشمن ہے اسکے پیچھے نماز نہ پڑھو ۔ اس میں کوئی کراہت نہیں ہے سوائے یہ کہ وہ تقیہ کر رہا ہو ۔
اور میرے والد علیہ الرحمہ نے جو رسالہ مجھے بھیجا اس میں تحریر کیا کہ تم دو شخصوں کے علاوہ اور کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو ۔ ایک وہ شخص جسکے دین اورپرہیزگاری پر تم کو وثوق اور بھروسہ ہو ۔ اور دوسرا وہ کہ جسکی تلوار و طاقت اور دین پر طعن و تشنیع سے تم ڈرتے ہو تو بر بنائے تقیہ اور دلجوئی اسکے پیچھے نماز پڑھو اور اپنی اذان اور اپنی اقامت کہو اور سورہ کی قرأَت مگر اس نیت سے نہیں کہ اسکے پیچھے نماز پڑھ رہے ہو ۔ اگر تم اس سے پہلے سورہ کی قرأَت ختم کر رہے ہو تو ایک آیت کو باقی رکھو اور اللہ تعالیٰ کی تجید کرتے رہو اور جب وہ امام رکوع میں جانے لگے تو فوراً اس باقی آیت کو پڑھ کر تم بھی رکوع میں چلے جاؤ اور اگر قراءت کو تم ملحق نہیں کر سکتے اور تمہیں ڈر ہے کہ وہ رکوع میں چلا جائے گا تو پھر جس فقرہ کو اس نے اذان و اقامت سے حذف کر دیا ہے (یعنی حی علی خیر العمل) وہ کہو اور رکوع میں چلے جاؤ۔ 
اور اگر تم نماز نافلہ پڑھ رہے ہو اور نماز شروع ہو گئی ہے تو اس کو قطع کرو اور نماز فریضہ پڑھو ۔ اور اگر تم نماز فریضہ پڑھ رہے ہو تو اس کو قطع مت کرو بلکہ نافلہ قرار دیکر دو رکعتوں میں سلام پھیرلو پھر امام کے ساتھ نماز پڑھو لیکن اگر امام ان لوگوں میں سے ہے جن سے پر ہیز کیا جائے تو اپنی نماز قطع نہ کرو اور نہ اسکو نافلہ قرار دو اور صف میں ہو جاؤ اور اسکے ساتھ نماز پڑھو اور جب امام چوتھی رکعت کے لئے کھڑا ہو تو تم بھی اسکے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور کھڑے کھڑے تشہد پڑھو اور کھڑے کھڑے سلام پڑھ لو -

١١١٨ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب کے
ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا میرے بعد تم میں سے کوئی بھی بیٹھ کر نماز نہ پڑھائے ۔ 

١١١٩ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک مرتبہ آنحضرت اپنے گھوڑے سے گر گئے تو آپ کے دائیں پہلو میں چوٹ آئی اس لئے آپ نے حجرہ ام ابراہیم میں لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھائی ۔ 

١١٢٠ - اور جمیل بن صالح نے ایک مرتبہ سوال کیا کہ پیشنماز کیلئے دونوں میں سے کیا افضل ہے وہ اول وقت اکیلا نماز پڑھ لے یا تھوڑی تاخیر کرلے اور اہل مسجد کے ساتھ نماز پڑھے ؟ آپ نے فرمایا اگر امام ہے تو تاخیر کرلے اور اہل مسجد کے ساتھ نماز پڑھے ۔

١١٢١ - اور ایک شخص نے آنجناب سے دریافت کیا اور کہا کہ میرے گھر کے دروازے ہی پر ایک مسجد ہے اب میرے لئے افضل کیا ہے ؟ میں اپنے گھر میں دیر تک طویل نماز پڑھوں یا اہل مسجد کے ساتھ خفیف نماز پڑھوں ؟ تو آپ نے اسکے جواب میں تحریر فرمایا تم ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھو ۔

١١٢٢ - اور ایک مرتبہ حضرت علی علیہ السلام نے دو شخصوں کے متعلق فرمایا کہ ایک کہتا ہے کہ میں امام تھا اور تم ماموم تھے دوسرا کہتا کہ نہیں میں امام تھا تم میرے ماموم تھے ۔ آپ نے فرمایا کہ دونوں کی نماز پوری ہو گئی ۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا کہ اگر ایک کہے کہ میں نے تمہاری اقتداء میں نماز پڑھی اور دوسرا کہے کہ میں نے تمہاری اقتداء میں نمازبڑھی ؟ آپ نے فرمایا دونوں کی نمازیں فاسد ہو گئیں ان دونوں کو چاہئے کہ وہ از سر نو نماز پڑھیں ۔

١١٢٣ - اور جمیل بن دراج نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک قوم کا امام جماعت جنب ہو گیا اسکے پاس اتنا پانی نہیں جو غسل کے لئے کافی ہو ویسے اور لوگوں کے پاس اتنا پانی ہے کہ وہ لوگ وضو کریں تو اب ان ہی لوگوں میں کوئی شخص وضو کر کے ان لوگوں کی نماز کی امامت کرے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ امام تیمم کر کے ان لوگوں کی نماز کی امامت کرے اس لئے کہ اللہ تعالٰی نے جس طرح پانی کو طہور قرار دیا ہے اسی طرح زمین کو بھی طہور قرار دیا ہے ۔

١١٢٤ - عمر بن یزید نے ان ہی جناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی نماز کے وقت میں نماز پڑھے اور باوضو ہو کر تقیتہً ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھے تو اللہ تعالی اسکے نامہ اعمال میں پچیس درجہ لکھ دیگا ۔ پس رغبت، کے ساتھ یہ کرو۔

١١٢٥ - اور حماد بن عثمان نے آپ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص ان لوگوں کے ساتھ صف اول میں کھڑے ہو کر نماز پڑھے اس نے گویا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صف اول میں نماز پڑھی ۔

١١٢٦ - اور حفص بن بختری نے آپ سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا تمہارے لئے یہی کافی ہوگا کہ تم انکے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے اور اگر تم نے ان لوگوں کی اقتداء نہیں کی تو یہ اتناہی کافی ہے جتنا کہ اگر تم ان کی اقتداء کرتے اور کافی ہوتا ۔

١١٢٧ - سعدہ بن صدقہ نے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کہا کہ میں آپ پر قربان چند ناصبیوں کے ساتھ ہمارا گزر ہوتا ہے اور نماز قائم کی جاتی ہے اور میں وضو کے ساتھ نہیں ہوتا اب اگر میں ان لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک نہ ہوں تو وہ لوگ جو انکے جی میں آئے گا کہیں گے اس لئے میں انکے ساتھ نماز پڑھ لیتا ہوں پھر جب پلٹتا ہوں تو وضو کر کے نماز پڑھتا ہوں ، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا سبحان اللہ کیا تم اس سے نہیں ڈرتے کہ جو شخص بغیر وضو کے نماز پڑھے تو خطرہ ہے کہ زمین شق ہو جائے اور وہ اس میں سما جائے ۔

١١٢٨ - زید شمام نے آپ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اے زید تم ان لوگوں کی وضع پر چلو ان کی مسجدوں میں نماز پڑھو ان کے مریضوں کی عیادت کرو اور انکے جنازوں میں شریک ہو بلکہ اگر تم انکے امام جماعت یا مؤذن بن سکتے ہو تو ایسا بھی کرو پس اگر تم لوگ ایسا کرو گے تو وہ لوگ کہیں گے کہ دیکھو یہ ہیں جعفری لوگ اللہ تعالیٰ جعفر صادق پررحم کرے انہوں نے اپنے ماننے والوں کو کتنا اچھا ادب سکھایا ہے اور اگر تم لوگ یہ سب نہ کرو گے تو وہ لوگ یہ کہیں گے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں کو کتنا برا ادب سکھایا ہے ۔

١١٢٩ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جسکے پیچھے تم نماز پڑھ رہے ہو اس کے مطابق اذان کہو ۔

 ١١٣٠ - ایک شخص نے آپ سے عرض کیا کہ میں اپنے گھر والوں میں نماز پڑھ کر جب مسجد میں جاتا ہوں تو لوگ مجھے نماز
پڑھانے کیلئے آگے کھڑا کر دیتے ہیں آپ نے فرمایا تم آگے کھڑے ہو جاؤ تو انکو نماز پڑھاؤ تم پر کوئی گناہ نہیں ۔

١١٣١ - ہشام بن سالم نے آپ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایک ایسے شخص کے متعلق ارشاد فرمایا کہ جو اکیلے نماز پڑھ لیتا ہے پھر اسکو جماعت کی نماز ملتی ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھے اور اگر چاہے تو وہ اسی کو نماز فریضہ
قرار دیدے ۔

١١٣٢ - نیز روایت کی گئی ہے کہ ان دونوں میں جو افضل وا تم ہو گی وہی اسکے حق میں محسوب ہو گی ۔ 

١١٣٣ - اور علی بن جعفر نے اپنے بھائی حضرت امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک شخص صرف شلوار
اور ازار پہنے ہوئے جماعت کو نماز پڑھا سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اس میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ 

١١٣٤ - اور زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ سب سے آخر کی نماز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعت کے ساتھ پڑھائی وہ ایک کپڑے میں پڑھائی تھی جسکے دونوں کنارے مختلف تھے ۔ کیا میں تم کو وہ کپڑا دکھاؤں میں نے عرض کیا جی ہاں ۔ تو آپ ایک چادر نکال لائے میں نے اسے ناپا تو وہ سات ہاتھ طول میں اور آٹھ بالشت عرض میں تھا ۔

١١٣٥ - اور عمر بن یزید نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس حدیث کے مطابق دریافت کیا جسے لوگ روایت کرتے ہیں کہ کسی نماز فریضہ کے وقت کوئی مستحب نماز نہیں پڑھنی چاہیئے ۔ تو اس وقت کی حد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب اقامت کہنے والا اقامت شروع کردے راوی نے کہا مگر لوگ مختلف اوقات میں اقامت بھی تو کہتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا اس سے مراد وہ اقامت کہنے والا ہے جو اسکے ساتھ نماز پڑھے ۔

١١٣٦ - اور حفص بن سالم نے آپ سے دریافت کیا کہ جب موذن " قد قامت الصلوۃ “ کہے تو کیا لوگوں کو کھڑا ہو جانا چاہیئے یا بیٹھے رہنا چاہیئے جب تک ان کا امام جماعت نہ آجائے ۔ آپ نے فرمایا نہیں ان لوگوں کو کھڑا ہو جانا چاہیئے اگر ان کا امام جماعت آتا ہے تو ٹھیک ورنہ اپنی جماعت میں سے کسی ایک شخص کا ہاتھ پکڑ کر آگے کھڑا کر لیں ۔ 

١١٣٧ - زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب نماز کیلئے اقامت ہو جائے تو امام اور تمام اہل مسجد کیلئے کلام کرنا حرام ہے بس صرف امام سے آگے کھڑے ہونے کیلئے کہا جا سکتا ہے ۔ 

١١٣٨ - محمد بن مسلم سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو دو شخصوں کی نماز میں امامت کر رہا ہے ۔ آپ نے فرمایا وہ دونوں کے پہلو میں نہیں کھڑا ہوگا بلکہ ان دونوں کے آگے کھڑا ہو گا ۔ اور دو شخصوں کے متعلق دریافت کیا جو باجماعت نماز پڑھنا چاہتے ہیں آپ نے فرمایا ہاں امام دوسرے کو اپنے دائیں پہلو میں کھڑا کرے ۔ 

١١٣٩ - اور آپ نے بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ اپنی صفیں درست اور سیدھی رکھا کرو اس لئے کہ میں تم لوگوں کو اپنی پشت کی طرف سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے اور اپنے سامنے سے اور اس میں ایک دوسرے سے اختلاف نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف پیدا کر دیگا ۔  

١١٤٠ - اور حضرت ابو الحسن امام موسی بن جعفر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ پہلی صف میں نماز پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی راہ خدا میں جہاد کرے ۔

١١٤١ - اور حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ستونوں کے درمیان صفوں کے کھڑے ہونے میں میرے نزدیک کوئی ہرج نہیں ۔ 

١١٤٢ - اگر تم لوگ دیکھو کہ صفوں کے درمیان جگہ خالی ہے تو اسکو پر کر لو ۔ اور اگر تم لوگ دیکھو کہ پہلی صف بہت تنگ ہے تو قبلہ سے منحرف ہوئے بغیر اپنے پیچھے کی صف کے اندر آجانے میں تمہارے لئے کوئی حرج نہیں ۔ 

١١٤٣ - اور زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ مناسب یہ ہے کہ صفیں پوری اور ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہوں اور دو صفوں کے درمیان اتنا کم فاصلہ نہ ہو کہ آدمی انکے درمیان چل نہ سکے بلکہ اتنا فاصلہ ہو کہ آدمی جب سجدہ کرے تو اسکے پورے جسد کے گرنے کی جگہ ہو ۔


١١٤٤ - اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر لوگ نماز جماعت پڑھ رہے ہیں اور ان کے اور امام کے درمیان اتنا بھی فاصلہ نہ ہو کہ ایک آدمی درمیان سے چل سکے تو وہ امام ان لوگوں کا امام نہیں رہے گا ۔ اور ہر وہ صف کہ جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہی ہے اسکے اور اسکی اگلی صف کے درمیان اگر اتنا فاصلہ نہ ہو کہ ایک شخص درمیان سے گزر سکے تو انکی نماز نہ ہوگی ۔ اور اگر درمیان میں کوئی پردہ یا کوئی دیوار حائل ہو تو بھی ان کی نماز نہ ہوگی ۔ سوائے ان لوگوں کے جو دروازے کے سامنے ہیں ۔ نیز فرمایا کہ (مسجدوں میں) یہ مقصورے ( یعنی پیش نماز کے لئے کٹھرے) جابر سلاطین کی ایجاد ہیں جو شخص اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھا رہا ہے اسکی اقتداء میں باہر جو لوگ نماز پڑھ رہے ہیں ان کی نماز نہیں ہوتی ۔ 
نیز فرمایا کہ اگر کوئی عورت کسی امام کے پیچھے نماز پڑھے اور امام اور اس عورت کے درمیان اتنا فاصلہ نہیں کہ درمیان سے گزرا جاسکے تو اس عورت کی نماز نہیں ہوگی ۔ 
راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا کہ ایسے میں کوئی مرد آ جائے اور وہ بھی اس امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا چاہے تو وہ کیا کرے اسلئے کہ عورت تو امام کے دائیں پہلو میں کھڑی ہے؟ آپ نے فرمایا وہ مرد امام اور اس عورت کے درمیان کھڑا ہو جائے اور عورت ذرا ہٹ کر کھڑی ہو جائے ۔ 

١١٤٥ - اور عبد اللہ بن سنان نے جو روایت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کی ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تمہارے اور اس شخص کے درمیان جو تمہارے آگے (قبلہ کی طرف) کھڑا ہوا ہے کم سے کم ایک بکری کے بیٹھنے کی جگہ اور زیادہ سے زیادہ ایک گھوڑا باندھنے کی جگہ ہو ۔

١١٤٦ - اور عمار بن موسی نے کہا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا گیا اس امام کے متعلق جو نماز جماعت پڑھا رہا ہے اور اسکے پیچھے جماعت اس جگہ سے بہت نیچے کھڑی ہے جہاں یہ امام کھڑا ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ امام اگر بالاخانہ پر یا اسی طرح ان لوگوں سے بہت بلندی پر کھڑا ہوا ہے تو ان لوگوں کی نماز جائز نہیں ہے ۔ اور اگر امام ان لوگوں سے ایک انگل یا اس سے زیادہ یا اس سے کم کی بلندی پر ہے اور بلندی بھی سیل اور بہاؤ کی طرح ہے تو کوئی ہرج نہیں ہے اور اگر زمین مبسوط اور ہموار ہے ایک جگہ ذراسی بلندی ہے اور امام اس بلند جگہ پر کھڑا ہے اور جو لوگ اسکے پیچھے نماز پڑھ رہے وہ اس سے نشیب میں کھڑے ہیں ۔ اور زمین مبسوط اور ہموار ہے اور ایک جگہ کہیں نشیب اور ڈھلوان ہے تو کوئی ہرج نہیں ۔ اور دریافت کیا گیا کہ اگر امام اس سے پست اور نیچے مقام پر کھڑا ہو جہاں وہ لوگ کھڑے ہوں جو اسکے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں ، تو آپ نے فرمایا کوئی ہرج نہیں خواہ لوگ کسی مکان کی چھت پر یا دکان وغیرہ پر ہوں اور امام نیچے زمین پر کھڑا ہوا نماز پڑھا رہا ہو تو لوگوں کو چاہیئے کہ اسکے پیچھے نماز پڑھیں اور اسکی اقتداء کریں خواہ وہ لوگ امام سے بہت زیادہ بلندی پرکھڑے ہوں ۔

١١٤٧ - اور موسی بن بکر نے حضرت ابو الحسن امام موسی بن جعفر علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو صف میں اکیلا کھڑا ہو گیا ہے ۔ آپ نے فرمایا وہ صف شروع کر رہا ہے پھر ایک کے بعد ایک آتے رہیں گے ۔ 

١١٤٨ - اور عبدالرحمن بن ابی عبداللہ سے روایت کی گئی ہے اسکا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا جب تم مسجد میں داخل ہو اور دیکھو کہ امام رکوع میں ہے اور تمہارا خیال ہے کہ جب تک میں پہنچوں گا وہ رکوع سے سر اٹھا لے گا تو تکبیر کہو اور رکوع میں چلے جاؤ اور جب امام رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اپنی جگہ سجدہ میں چلے جاؤ اور جب وہ کھڑا ہو تو جا کر صف سے ملحق ہو جاؤ۔ 

١١٤٩ - اور روایت کی گئی ہے کہ جب وہ نماز میں شامل ہونے کیلئے جائے گا تو پاؤں کو زمین سے اٹھاتے ہوئے نہیں جائے گا بلکہ پاؤں کو گھسیٹتے ہوئے جائیگا۔

١١٥٠ - اور حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب تم نے امام کو رکوع میں پالیا اور قبل اسکے کہ وہ رکوع سے سر اٹھائے تم نے تکبیر کہہ لی تو وہ رکعت تم نے پالی ۔ اور اگر تمہارے رکوع کرنے سے پہلے اس نے رکوع سے سر اٹھا لیا تو تمہاری وہ رکعت فوت ہو گئی۔

١١٥١ - اور ابو اسامہ نے روایت کی ہے کہ اس نے آپ سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ جو امام تک پہنچ گیا جبکہ امام رکوع میں تھا ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر اس شخص نے تکبیر کہ کر اپنی پشت سیدھی کی اور رکوع میں چلا گیا تو اس نے اس رکعت کو پالیا۔

١١٥٢ - ایک شخص نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں قبیلہ کی مسجد کا امام ہوں (کبھی ایسا ہوتا ہے کہ) میں ان لوگوں کے ساتھ رکوع میں ہوتا ہوں اور کچھ لوگوں کے جوتوں کی چاپ سنتا ہوں تو رکوع میں ٹھرا رہتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا تم رکوع میں ٹہرے رہو اور رکوع کئے رہو جب ان لوگوں کے آنے کا سلسلہ منقطع ہو جائے تو سیدھے کھڑے ہو جاؤ ۔ 

١١٥٣ - اسحاق بن عمار نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ امام کو چاہیئے کہ اسکی نماز جو لوگ اسکے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں ان میں سب سے زیادہ ضعیف شخص کے مطابق ہو ۔

١١٥٤ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں معاذ ایک مسجد کے اندر امامت کیا کرتے تھے اور بہت طویل سوروں کی قراءت کیا کرتے چنانچہ ایک مرتبہ ایک شخص ادھر سے گزرا اور انہوں نے ایک طویل سورہ شروع کر دیا تو اس نے اپنی قراءت خود کر کے نماز پڑھ لی اور اپنی سواری پر سوار ہو کر روانہ ہو گیا یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے معاذ کے پاس آدمی بھیجا اور کہلایا کہ اے معاذ خبردار فتنہ پرور نہ بنو تم کو لازم ہے کہ والشمس وضحاها یا اسکے مثل سورے پڑھا کرو۔

١١٥٥ -  اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن اپنے اصحاب کے نماز کی امامت فرما رہے تھے کہ ایک بچے کے رونے کی آواز سنی تو آپ نے نماز کو خفیف کر لیا ۔ اور امام جماعت کیلئے لازم ہے کہ وہ اوسط آواز سے قرات کرے اس لئے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ”وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا "  (اور اپنی نماز نہ بہت چلا کر پڑھو اور نہ بہت چپکے سے) (سورہ الاسرا آیت نمبر ١١٠) اور جب امام سورہ فاتح کی قراءت سے فارغ ہو تو جو اسکے پیچھے کھڑا ہے وہ کہے الحمد لله رب العالمین اور سورہ فاتحہ کی قراءت کے بعد آمین کہنا جائز نہیں اس لئے کہ یہ نصاری کہا کرتے تھے ۔

١١٥٦ - اور زرارہ و محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص امام کے پیچھے کھڑا ہو اور نماز میں اسکی اقتداء کر رہا ہو اور خود سورہ کی قراءت کرنے لگے تو جب قبر سے اٹھایا جائیگا تو فطرت اسلام کے برخلاف اٹھایا جائے گا ۔

١١٥٧ - اور حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب تم امام کے پیچھے کھڑے ہو اور نماز میں اسکو امام بنائے ہوئے ہو تو اسکے پیچھے کھڑے رہ کر قراءت نہ کرو خواہ تم امام کی آواز سن رہے ہو یا
نہیں سن رہے ہو مگر یہ کہ وہ ایسی نماز ہو کہ جس میں قراءت بالجہر کی جاتی ہے اور تم قراءت نہ سنو تو پھر قراءت کرو۔ 

١١٥٨ - اور عبید بن زرارہ کی روایت ہے جو اس نے ان ہی جناب سے کی ہے کہ جب ہمہمہ اور گونج کی آواز سنی جائے تو قراءت نہ کرو۔

١١٥٩ - اور زرارہ نے جو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے  روایت کی ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تم امام جماعت ہو یا غیر امام چہار رکعتی نماز فریضہ کے اندر آخر کی دو رکعتوں میں دونوں سورے (سورہ حمد اور کوئی دوسرا) بالکل نہ پڑھو راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا کہ پھر ان دونوں میں کیا کہوں ؟ آپ نے فرمایا خواہ تم جماعت کی امامت کر رہے ہو یا اکیلے نماز پڑھ رہے ہو ” سبحان الله و الحمد لله و لا اله الا اللہ تین مرتبہ کہو یعنی نو تسبیحات مکمل کرنے کے بعد تکبیر کہو اور رکوع میں چلے جاؤ۔ 

١١٦٠ - وصیب بن حفص نے ابی بصیر سے اور انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ آخر کی دورکعتوں میں تین تسبیحوں کے بدلے کم از کم اتنا کافی ہے کہ تم سبحان الله سبحان الله سبحان اللہ کہہ لو

١١٦١ - اور زرارہ نے جو حدیث حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا اگر تم کسی امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہو تو ابتداء کی دو رکعتوں میں کوئی قراءت نہ کرو بلکہ امام کی) قراءت سنو ۔ اور آخر کی دو رکعتوں میں بھی کوئی قراءت نہ کرو اس لئے کہ اللہ تعالٰی مومنین سے فرماتا ہے کہ وَإِذَا قُرِئَ ٱلْقُرْءَانُ فَٱسْتَمِعُوا۟ لَهُۥ وَأَنصِتُوا۟ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (جب قرآن پڑھا جائے تو کان لگا کر سنو اور چپ چاپ ہو تا کہ اسی بہانے تم پر رحم کیا جائے ) (سورہ اعراف آیت نمبر (۲۰۴) یعنی نماز فریضہ میں امام کے پیچھے اور آخر کی دورکعتوں میں ابتدائی دو رکعتوں کی اتباع میں خاموش رہا جائے۔

١١٦٢ - بکر بن محمد ازدی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں ایسے شخص کو ناپسند کرتا ہوں جو کسی امام کے پیچھے ایسی نماز پڑھے جس میں قراءت بالجہر نہیں ہوتی اور وہ گدھے کی طرح کھڑا رہے ۔
راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان پھر وہ شخص کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا تسبیح پڑھتا رہے ۔
 
١١٦٣ - عمر بن اذنیہ نے زرارہ سے اور انہوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کوئی شخص امام کے پیچھے نماز کی کوئی بھی رکعت پا جائے تو اسکی یہ نماز امام کے پیچھے ہی (باجماعت) محسوب ہو گی وہ اس رکعت کو جسے اس نے پالیا ہے اپنی پہلی رکعت قرار دیگا اگر اس نے ظہر یا عصر یا عشاء کی آخر کی دو رکعت کو پالیا ہے اور ابتداء کی دو رکعتیں فوت ہو گئی ہیں تو جو رکعتیں اس نے امام کی اقتداء میں پالی ہیں اسکے اندر وہ اپنے دل میں سورہ حمد پڑھے گا اور جب امام سلام پڑھ لے گا تو یہ اٹھ کھڑا ہو گا اور آخر کی دو رکعتیں پڑھے گا اور سورہ حمد کی قراءت نہیں کرے گا اس لئے کہ اس میں تسبیح و تہلیل اور دعا ہے ان میں سوروں کی قراءت نہیں اور اگر وہ امام کے پیچھے صرف ایک رکعت پائے تو اس میں سورہ کی قراءت کرے گا اور جب امام سلام پڑھ لے تو اٹھے گا اور سورہ حمد پڑھے گا اور تشہد پڑھے گا پھر اٹھے گا اور وہ دو رکعتیں پڑھے گا جن میں سوروں کی قراءت نہیں ہے ۔

١١٦٣ - عبداللہ بن علی حلبی نے زرارہ سے اور انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے اسکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں نے آنجناب سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے اور امام نے تشہد بہت طویل کر دیا آپ نے فرمایا وہ سلام پڑھ لے اور اگر کسی ضرورت کیلئے جانا چاہتا ہے تو چلا جائے ۔

١١٦٥ - اور اسحاق بن عمار نے آپ سے دریافت کیا اور عرض کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ امام رکوع میں ہے میں بھی اسکے ساتھ رکوع میں جاتا ہوں اور تنہا ہوں اور سجدہ بھی کر لیتا ہوں اب جب میں سجدے سے سراٹھا لوں تو کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا تم بھی جماعت کے ساتھ چلو اگر وہ کھڑے ہوتے ہیں تو کھڑے ہو جاؤ اور اگر وہ لوگ بیٹھے ہیں تو تم بھی انکے ساتھ بیٹھو۔

١١٦٦ - اور سماعہ نے آپ سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ وہ مسجد میں آتا ہے اور اہل مسجد نماز میں مشغول ہیں اب یہ کیا کرے نماز فریضہ پڑھنا شروع کرے یا نافلہ " آپ نے فرمایا وہ دیکھے کہ وقت کافی ہے تو نماز فریضہ سے پہلے نماز نافلہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر اسکو وقت نکل جانے کا خطرہ ہے تو نافلہ موخر کر دے اور نماز فریضہ شروع کرے یہ اللہ تعالٰی کا حق ہے پھر جتنا چاہے نافلہ پڑھے ۔

١١٦٧ - اور محمد بن مسلم نے ان دونوں علیہما السلام میں سے کسی ایک سے پوچھا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوتا ہے ( نماز ہو رہی ہے) اور اسکو خطرہ ہے کہ اسکی ایک رکعت فوت ہو جائے گی ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ جماعت تک پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کرے اور اسی رکوع کی حالت میں چلے اور جماعت میں شامل ہو جائے ۔

١١٦٨ - ابراہیم بن میمون نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے۔ اس نے دریافت کیا کیا کوئی ایک شخص نماز فریضہ میں ان عورتوں کی امامت کرے جسکے ساتھ کوئی مرد نہ ہو آپ نے فرمایا ہاں اور اگر اس کے ساتھ کوئی لڑکا ہو تو اسکو اپنے پہلو میں کھڑا کر لے ۔

١١٦٩ - عمار ساباطی نے آنجناب سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ اس نے آپ سے دریافت کیا کہ ایک شخص ہے جو اذان دیتا ہے اور اقامت کہتا ہے تاکہ تنہا نماز پڑھے اتنے میں ایک دوسرا شخص آتا ہے اور وہ اس سے کہتا ہے کہ کیا تم باجماعت نماز پڑھو گے ۔ تو کیا ان دونوں کے لئے جائز ہے کہ اسی اذان واقامت کے ساتھ نماز پڑھیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ وہ پھر سے جماعت کے لئے اذان و اقامت کہے گا ۔

١١٧٠ - اور حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ نابالغ لڑکے کے اذان دینے میں کوئی حرج نہیں لیکن جب تک وہ بالغ اور محتلم نہ ہولے نماز کی امامت نہیں کرے گا ۔ اور اگر اس نے امام بن کر نماز پڑھائی تو اسکی نماز تو صحیح ہوجائیگی لیکن جو لوگ اسکے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں انکی نماز صحیح نہیں ہوگی ۔

١١٧١ - اور عمار ساباطی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک شخص کے متعلق دریافت کیا جو اس وقت پہنچا جب امام سلام پڑھ رہا تھا ؟ آپ نے فرمایا وہ اذان اور اقامت کہے اور اپنی نماز پڑھے ۔

١١٧٢ - نیز انہوں نے آنجناب سے دریافت کیا کہ ایک شخص مسجد میں آتا ہے اور لوگ نماز میں مشغول ہیں اور امام ایک رکعت پہلے پڑھ چکا ہے یہ تکبیر کہہ کر نماز میں شریک ہوتا ہے کہ امام دفعتاً بیمار ہو جاتا ہے اور چونکہ یہ امام کے بہت قریب ہوتا ہے اس لئے امام اسکا ہاتھ پکڑ کر امامت کیلئے آگے کر دیتا ہے ، آپ نے فرمایا تو وہ شخص لوگوں کی نماز کو تمام کرائے گا اور لوگوں کے تشہد پڑھنے تک بیٹھا رہے گا اور تشہد کے بعد ہاتھ سے دائیں بائیں اشارہ کر دیگا جس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم لوگ سلام پڑھو اور تمہاری نماز ہو گئی ۔ اور اب وہ اپنی وہ رکعت جو فوت ہو گئی تھی اسے پوری کر لیگا ۔ 

١١٧٣ - محمد بن سہل نے اپنے باپ سے روایت کی ہے ان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے پوچھا کہ ایک شخص کسی امام جماعت کے پیچھے اسکی اقتداء کرتے ہوئے اسکے ساتھ رکوع میں گیا اور امام سے پہلے ہی اس نے رکوع سے سر اٹھا لیا ؟ آپ نے فرما یا وہ پلٹ کر امام کے ساتھ رکوع میں جائے ۔

١١٧٤ - اور فضیل بن لیسار نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک شخص ہے جس نے امام کے ساتھ اسکی اقتداء میں نماز پڑھی پھر امام کے سجدے سے سر اٹھانے سے پہلے اس نے اپنا سر سجدہ سے اٹھا لیا ؟ آپ نے فرمایا وہ پھرسے سجدہ میں چلا جائے ۔

١١٧٥ - حسین بن لیسار سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک ایسے شخص سے سنا جس نے خود حضرت امام رضا علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک شخص کسی دوسرے شخص کے بائیں پہلو میں کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا مسئلہ اسکو معلوم نہ تھا اور اب اسکو معلوم ہوا جبکہ وہ نماز میں ہے اب وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا وہ بائیں سے دائیں طرف منتقل ہو جائے ۔ 

١١٧٦ - امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ عورتیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتی تھیں اور انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ مردوں سے پہلے اپنے سر نہ اٹھائیں تنگی ازار کے سبب سے ۔

١١٧٧ - اور ہشام بن سالم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ کیا ایک عورت نماز میں عورتوں کی امامت کر سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا نافلہ میں امامت کر سکتی ہے نماز فریضہ میں نہیں اور وہ عورتوں کے آگے نہیں کھڑی ہوگی۔

١١٧٨ - اور زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ اسکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں نے آپ سے دریافت کیا کہ کیا ایک عورت دیگر عورتوں کی امامت کر سکتی ہے؟ فرمایا کہ نہیں سوائے نماز میت کے اور وہ بھی اس وقت جب اس سے اول و بہتر کوئی نہ ہو ۔ وہ صف کے اندر انکے وسط میں کھڑی ہوگی وہ تکبیر کہے گی اور تمام عورتیں تکبیرکہیں گی ۔ 

١١٨٩ - ہشام بن سالم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ عورت کا اپنی خلوت میں نماز پڑھنا افضل ہے اسکے اپنے حجرے میں نماز پڑھنے سے اور اسکا اپنے حجرے میں نماز پڑھنا افضل ہے اسکے اپنے گھر میں نماز پڑھنے سے ۔ اور کوئی مرد جب کسی عورت کی امامت کرے تو وہ عورت اس مرد کے دائیں جانب پیچھے ہو گی اور اسکا سجدہ اسکے دونوں گھٹنوں کے ساتھ ہوگا ۔

١١٨٠ - اور حلبی نے آپ سے ایک شخص کے متعلق سوال کیا جو عورتوں کی امامت کرے آپ نے فرمایا صحیح ہے اور اگر انکے ساتھ لڑکے ہیں تو وہ ان عورتوں کے آگے کھڑے ہونگے خواہ وہ لڑ کے غلام ہی کیوں نہ ہوں ۔ 

١١٨١ - داؤد بن حصین نے ان جناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کوئی مقیم کسی مسافر کی امامت نہیں کرے گا اور نہ کوئی مسافر کسی مقیم کی امامت کرے گا اور اگر کوئی شخص ان حالات میں پھنس جائے اور مسافر قوم حاضر کی امامت کر رہا ہو تو جب دو رکعتیں تمام کریگا تو حاضرین میں سے کسی کا ہاتھ پکڑ کر آگے کر دیگا اور پھر وہ امامت کرے گا ۔ اور جب مسافر حاضر قوم کے پیچھے نماز پڑھے گا تو اپنی دو رکعت پوری کر کے سلام پڑھ لیگا ۔ 

١١٨٣ - اور روایت کی گئی ہے کہ اگر کسی شخص کو کسی ایسے شخص سے جان کا خطرہ ہے جو اسکے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے تو آخر کی دور کعتیں پڑھ کر تمام کرے گا اور اسے نافلہ قرار دے لیگا ۔
١١٨٤ - اور روایت کی گئی کہ اگر وہ ظہر کی نماز پڑھ رہا ہے تو اول کی دورکعتوں کو نماز فریضہ اور آخر کی دو رکعتوں کو نماز نافلہ قرار دے لیگا۔ اور اگر وہ عصر کی نماز پڑھ رہا ہے تو اول کی دورکعتوں کو نافلہ اور آخر کی دو رکعتوں کو نماز فریضہ قرار
دے لیگا۔

١١٨٤ - اور روایت کی گئی ہے کہ اگر وہ ظہر کی نماز پڑھ رہا ہے تو اول کی دو رکعتیں ظہر کی قرار دیا اور آخر کی دور کعتیں عصر کی قرار دے گا ۔ اور ان تمام احادیث کے اندر باہم کوئی اختلاف نہیں نماز پڑھنے والے کو اختیار ہے جس پر چاہے عمل کرے ۔ 

١١٨٥ - عبد اللہ بن مغیرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ منصور بن حازم ( صحابی امام جعفر صادق علیہ السلام) کہا کرتے تھے کہ جب تم امام کے پاس آؤ اور وہ دو رکعت پڑھ کر بیٹھا ہوا ہو تو تم بھی تکبیر کہو اور بیٹھ جاؤ پھر جب تم کھڑے ہو تو تکبیر کہو ۔

١١٨٦ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کے ساتھ ہو تو تمہارے لئے اتنی ہی قراءت کافی ہے جیسے تم دل ہی دل میں کچھ کہہ رہے ہو۔ اور جو شخص کسی مخالف فرقے کے پیچھے نماز پڑھے اور وہ سورہ سجدہ پڑھے اور سجدہ نہ کرے تو یہ اپنے سر کے اشارے سے سجدہ کرے اور جب امام کہے " سمع اللہ لمن حمدہ “ تو جو لوگ اسکے پیچھے ہیں وہ کہیں " الحمد للہ رب العالمین " اور اپنی آوازیں دھیمی رکھیں اور اگر وہ ان لوگوں (غیر فرقہ کے لوگوں) کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے تو کہے ربنا لک الحمد -

١١٨٧ - حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایک مجمع کے ساتھ نماز پڑھے اور صرف اپنی ذات کے لئے دعا کرے ان کے لئے نہ کرے تو اس نے ان لوگوں کے ساتھ خیانت کی ۔

١١٨٩ - ابی بکر بن سمال سے روایت کی گئی ہے اس کا بیان ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے پیچھے نماز فجر پڑھی جب وہ اپنی قراءت سے دوسری رکعت میں فارغ ہوئے تو جس طرح وہ بالجہر قراءت کر رہے تھے اسطرح آپ نے کہا اَللَّهُمْ أَغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَعَافِنَا وَاعْفُ عَنَّانِى الدَّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْ قَدِيرٌ (اے اللہ ہم لوگوں کی مغفرت کر ہم لوگوں پر رحم فرما ہم لوگوں کو عافیت دے اور ہم لوگوں کو عفو فرما دنیا اور آخرت میں ، بیشک تو ہرشے پر قادر ہے)

١١٩٠ - اور حفص بن بختری نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ امام کے لئے مناسب ہے کہ وہ بیٹھا رہے جب تک کہ اسکے پیچھے والے اپنی نمازیں تمام نہ کر لیں ۔ اور امام کے لیئے مناسب ہے کہ جو لوگ اسکے پیچھے ہیں انہیں تشہد سنائے اور اسکے پیچھے والے اسکو کچھ نہ سنائیں یعنی شہادتین ۔ اور امام ان لوگوں کو یہ بھی سنائے ۔
السلام علينا و على عباد الله الصالحین - (سلام ہو ہم پر اور اللہ کے مخلص عبادت گزاروں پر) ۔

١١٩١ - امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ ابن مسعود نے دو چیزوں سے لوگوں کی نمازیں خراب اور فاسد کردیں ایک یہ کہکر کہ تبارک اسمک و تعالی جدک اور یہ وہ چیز ہے جسے جنوں نے اپنی جہالت کی وجہ سے کہا تھا اور اللہ تعالٰی نے اسکی حکایت کی ہے اور دوسرے تشہد اول میں یہ کہکر کہ السلام علینا و على عباد الله الصالحین اور تشہد ثانی میں شہادتین کے بعد اس طرح کہنے میں کوئی ہرج نہیں کیونکہ نماز پڑھنے والا جب آخری تشہد میں شہادتین کہہ لیتا ہے توپھر نماز سے فارغ ہو جاتا ہے ۔

١١٩٢ - اور علی بن جعفر نے اپنے بھائی حضرت موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے دریافت کیا ایک ایسے شخص کے متعلق جو کسی امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے اور امام نے تشہد میں طول دیدیا اور اسکو پیشاب لگا یا اسکو ڈر ہے کہ اسکی کوئی شے فوت نہ ہو جائے یا اسکو کہیں درد کی تکلیف محسوس ہوئی تو وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ امام کو چھوڑ کر سلام پڑھے اور واپس چلا
جائے ۔
اور امام کے لئے لازم ہے وہ اپنے مصلی سے نہ اٹھے جبتک کہ وہ شخص اپنی نماز تمام نہ کرلے جو اسکے پیچھے ہے اور اگر وہ اٹھ
جائے تو اس پر کوئی گناہ بھی نہیں ہے ۔ 
اور میرے والد رحمتہ اللہ نے اپنے اس رسالہ میں جو مجھے بھیجا تھا لکھا ہے کہ تمہارے ریح یا کوئی ایسی چیز خارج ہو جائے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا تمہیں یاد آئے کہ میں بے وضو ہوں تو نماز میں تم جہاں اور جس حالت میں بھی ہو سلام پڑھ لو اور کسی شخص کو آگے بڑھا دو کہ وہ لوگوں کو بقیہ نماز پڑھا دے اور تم وضو کرو اور اپنی نماز کا اعادہ کرو ۔

١١٩٣ - حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ جو امام نماز کی امامت کر رہا ہے اگر وہ یہ بھول گیا کہ وہ جنب ہے یا اسکو کوئی حادثہ پیش آگیا یا اسکے نکسیر پھوٹ پڑی یا اسکے پیٹ میں مروڑ پیدا ہو گیا تو وہ کپڑا اپنی ناک پر رکھ لے اور کسی کو اپنی جگہ کھڑا کر دے کہ وہ اسکی جگہ نماز پڑھائے اور خود اٹھے وضو کرے اور اپنی سابق نماز کو پورا کرے اور اگر وہ جنب ہے تو غسل کرنے اور اپنی مکمل نماز پڑھے ۔

١١٩٤ - معاویہ بن میسرہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر امام کو کوئی حادثہ پیش آگیا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی جگہ کسی ایسے شخص کو امامت کے لئے آگے لائے جو اقامت سے نماز میں شریک رہا ہو اگر وہ کسی ایسے شخص کو آگے کرے گا جو ایک رکعت بعد میں شریک ہوا ہے تو اس کے متعلق عبد اللہ سنان نے ان جناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب وہ ان لوگوں کے ساتھ نماز تمام کرلے تو دائیں بائیں ان لوگوں کو اشارہ کرے تاکہ وہ سلام پھیر لیں پھر یہ اپنی باقی نماز مکمل کرلے ۔

١١٩٥ - جمیل بن دراج نے ان ہی جناب علیہ السلام سے روایت کی ہے ایک ایسے شخص کے متعلق کہ جس نے بھول کر بغیر وضو کئے ہوئے جماعت کی امامت شروع کی پھر پلٹا اور اس نے اپنی جگہ ایک ایسے شخص کو آگے کر دیا جو نہیں جانتا کہ اس امام نے جو پہلے تھا کتنی رکعت نماز پڑھائی ؟ آپ نے فرمایا جو اسکے پیچھے ہیں وہ اسکو بتائیں گے ۔

١١٩٦ - زرارہ نے ایک مرتبہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا کہ ایک شخص ہے جو نماز جماعت میں شریک ہوا اور اس نے کسی نماز کی ابھی نیت نہیں کی اور اتفاق سے امام کو کوئی حادثہ ہو گیا اور اس نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے آگے کر دیا اور اس نے لوگوں کو نماز پڑھا دی ۔ کیا اسکی نماز کے ساتھ ان لوگوں کی نماز درست ہے جبکہ اس نے کوئی نیت بھی نہیں کی تھی؟ آپ نے فرمایا کسی شخص کے لئے یہ جائز نہیں کہ کسی نماز کی جماعت میں شریک ہو اور وہ کسی نماز کی نیت نہ کرے اسکو لازم ہے کہ نیت کرے اور اگر وہ یہ نماز وہ پڑھ چکا ہے تو کسی اور نماز کی نیت کرے ورنہ ہرگز جماعت میں شریک نہ ہو اور گو کہ اس نے نماز کی نیت نہیں کی لیکن وہ لوگ جو اسکے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے انکے لئے یہ نماز کافی ہے۔

١١٩٧ - اور علی بن جعفر نے اپنے بھائی حضرت امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے ایک ایسے امام جماعت کے متعلق دریافت کیا جس سے (عین حالت نماز میں) حدث صادر ہو گیا اور اپنی جگہ پر بغیر کسی شخص کو آگے بڑھائے چلا گیا اب قوم (جماعت) کیا کرے۔ آپ نے فرمایا جماعت کی نماز بغیر امام کے نہیں ہو سکتی لہذا جماعت پر لازم ہے کہ اپنے میں سے کسی کو آگے بڑھائے تاکہ وہ انکی باقی نماز کو پورا کرائے اور انکی نماز پوری ہو ۔

١١٩٨ - اور حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ ایک شخص نے نماز جماعت کی امامت کی اور ابھی ایک ہی رکعت پڑھائی تھی کہ وہ فوت ہو گیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ اپنے اندر سے کسی کو آگے بڑھائیں وہ اس رکعت کو شمار میں رکھے گا اور فوت شدہ امام کو لوگ جماعت کے پیچھے اٹھا کر رکھیں گے اور اٹھانے میں جس جس کے ہاتھ مس ہوئے ہیں وہ غسل مس میت کریں گے ۔
اور اگر کوئی شخص حالت جنب میں یا بغیر وضو کے کسی جماعت کو نماز پڑھا دے تو اس پر اپنی نماز کا اعادہ لازم ہے مگر جماعت کے لوگوں پر نماز کا اعادہ لازم نہیں۔ اور اس پیشنماز پر یہ لازم نہیں کہ وہ ان سب کو اس سے باخبر کرے اگر اس پر باخبر کرنا لازم ہو تو وہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا ، واقعاً وہ کر ہی کیا سکتا ہے اس لئے کہ وہ شخص جو جماعت میں شریک تھا وہ مثلاً خراسان روانہ ہو گیا وہ اس کو کیسے باخبر کر سکتا جسکو وہ جانتا بھی نہیں۔ آپ نے فرمایا یہی تو موضوع بحث ہے ۔

١١٩٩ - اور حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ امام کے پیچھے نماز پڑھنے میں اگر کوئی رکعت فوت ہو گئی ہے تو اب تم جس رکعت میں شریک ہو اسکو اپنی پہلی رکعت قرار دو۔ یہ نہ کرو کہ اس رکعت کو تم آخر میں پڑھو۔
اور اگر ایسا موقع ہو کہ امام کو (تشہد کے لئے) بیٹھنا ہے اور تم کو کھڑا ہونا واجب ہے تو تم نیم نشستہ رہو پوری طرح نہ بیٹھو۔

١٢٠٠ - عبید بن زرارہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ ایک شخص نماز جماعت میں اس وقت شریک ہوا جب امام ایک رکعت پڑھا چکا تھا مگر جب امام نماز سے فارغ ہوا تو یہ بھی لوگوں کے ساتھ نکل گیا پھر اسے یاد آیا کہ اسکی ایک رکعت فوت ہو گئی ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ صرف ایک رکعت کا اعادہ کرے گا ۔

١٢٠١ - اور زیاد بن مروان قندی کی کتاب میں مرقوم ہے کہ محمد بن ابی عمیر کی نادر روایات میں سے ایک بھی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایسے شخص کے متعلق ارشاد فرمایا کہ جو ایک جماعت کو جب وہ لوگ خراسان سے نکل کر مکہ پہنچے نماز پڑھاتا رہا ۔ ناگاہ ( معلوم ہوا کہ) وہ یہودی یا نصرانی تھا ۔ آپ نے فرمایا ان لوگوں پر نماز کا اعادہ لازم ہے ۔
اور میں نے اپنے مشائخ سے سنا ہے وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں پر ان نمازوں کا اعادہ لازم نہیں ہے جو اس نے بلند آواز سے (بالجہر) پڑھائی ہیں ہاں ان نمازوں کا اعادہ لازم ہے جو اس نے بالجہر یعنی بلند آواز سے نہیں پڑھائیں اور مفصل حدیث مجمل کی تفسیر کرتی ہے ۔

١٢٠٢ - اور علی بن جعفر نے اپنے بھائی حضرت امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے ایک عورت کے متعلق دریافت کیا جو عورتوں کی امامت کرتی ہے کہ اسکی آواز تکبیر اور سوروں کی قراءت میں کتنی بلند ہونی چاہیے آپ نے فرمایا اتنی بلند کہ وہ ان عورتوں تک اس کی آواز جاسکے ۔

١٢٠٣ - اور عمار ساباطی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی روایت کی ہے اسکا بیان ہے کہ میں نے ان جناب سے ایک مرتبہ ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اور سجدے میں یا رکوع میں سبحان اللہ کہنا بھول جاتا ہے یا دونوں سجدوں کے درمیان کچھ کہنا بھول جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔

١٢٠٤ - اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ایک شخص سے پوچھا کہ وہ لوگ اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہیں جسکی دو رکعتیں نماز جماعت میں فوت ہو گئیں ہیں؟ اس نے جواب دیا وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ دونوں رکعتوں میں سورہ حمد اور کوئی سورہ پڑھے گا ۔ آپ نے فرمایا اسطرح تو وہ اول کو آخر اور آخر کو اول سے پلٹ دے گا ۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا پھر وہ کیا کرے آپ نے فرمایا وہ ہر رکعت میں سورہ الحمد پڑھے گا ۔

١٢٠٥ - اور عمار ساباطی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک شخص جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا وہ افتتاح نماز کر کے بھول گیا نہ اس نے تکبیر کہی نہ اس نے تشہد پڑھا یہاں تک کہ سلام بھی پڑھ لیا گیا ؟ آپ نے فرمایا اسکی نماز پوری ہو گئی اس پر کچھ نہیں ۔ جبکہ وہ امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے بھولا ہے اور نہ اس پر دو سہو کے سجدے ہیں اس لئے کہ امام ان سب کی نماز کا ضامن ہے جو اس کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں ۔

١٢٠٦ - محمد بن سہیل نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ امام ان تمام لوگوں کے شک وہ ہم کو اٹھا دیتا ہے جو اسکے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں سوائے تکبیر افتتاح کے ۔

١٢٠٧ - اور وہ حدیث جسکی روایت ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کی ہے کہ جب ابو بصیر نے آپ سے پوچھا کہ کیا امام نماز کا ضامن ہوتا ہے تو آپ نے فرمایا نہیں امام ضامن نہیں ہے۔ اور عمار کی روایت اور حضرت امام رضا علیہ السلام کی روایت میں کوئی اختلاف نہیں اس لئے کہ وہ لوگ جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں اگر وہ تکبیر افتتاح کے سوا کوئی اور چیز بھول جائیں تو وہ انکی نماز کا ضامن ہے لیکن اگر ماموم عمد اً کسی چیز کو ترک کر دے تو وہ اسکا ضامن نہیں ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر امام کسی جماعت کو نماز پڑھا رہا ہے تو وہ انکی نماز کے تمام کرنے کا ضامن نہیں ہو سکتا اس لئے کہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نماز تمام کرنے سے پہلے اسے کوئی حدث صادر ہو جاتا ہے یا اسے یاد آجاتا ہے کہ وہ طہارت سے نہیں ہے اور اسکی تصدیق 

١٢٠٨ - اس روایت سے جو جمیل بن دراج سے اور انہوں نے زرارہ سے اور انہوں نے ان دونوں ائمہ میں سے کسی ایک سے کی ہے راوی کا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے دریافت کیا ایک ایسے شخص کے متعلق جو جماعت کو دو رکعت نماز پڑھا چکا تھا کہ اتنے میں اسے یاد آیا کہ وہ وضو سے نہیں ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ جماعت خود اپنی نماز پورے کرے گی اس لئے کہ امام پر نماز پوری کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
اور حجتہائے خداوندی (ائمہ طاہرین) اس سے کہیں بالاتر ہیں کہ ان کی احادیث میں اختلاف ہو سوائے اس کے کہ جب صورت مسئلہ مختلف ہو جائے ۔

١٢٠٩ - ابو المغرا حمید بن مثنی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ
حفص کلبی نے آپ سے کہا کہ میں امام کے پیچھے نماز پڑھا کرتا ہوں اور وہ بلند آواز سے قراءت کرتا ہے (جب وہ آیہ رحمت
پڑھتا ہے تو) میں دعا کرتا ہوں اور (جب وہ آیہ عذاب پڑھتا ہے تو) اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں دعا کیا کرو۔

١٢١٠ - اور حسین بن عبد اللہ ارجانی نے آنجناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص اپنی مسجد میں نماز پڑھے پھر ان لوگوں کی مسجدوں میں کسی مسجد میں پہنچے اور ان لوگوں کے ساتھ بھی نماز پڑھے تو ان لوگوں کی ساری نیکیوں کو لے جائے گا
۔

١٢١١ - اور عبداللہ بن سنان نے آنجناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ہر وہ بندہ جو وقت پر نماز پڑھے اور اس سے تاریخ ہو کر ان لوگوں کے پاس جائے اور انکے ساتھ نماز پڑھے اور باوضو ہو تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے پچیس (٢٥) درجے لکھ دیتا ہے ۔

١٢١٢ - نیز عبداللہ بن سنان نے آنجناب سے عرض کیا کہ میرے دروازے پر ایک مسجد ہے اس میں مخالفین و معاندین ہوتے ہیں وہ لوگ قبل غروب نماز پڑھتے ہیں اور میں عصر کی نماز پڑھتا ہوں پھر جا کر ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں کہ تمہارے حساب میں چوبیس (٢٤) نمازیں لکھ دی جائیں ۔

١٢١٣ - امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتے ہو تو تمہارے اتنے گناہ معاف ہوتے ہیں جتنی تمہارے مخالفین کی تعداد ہے ۔

١٢١٤ -   حلبی نے ان جناب سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ جب تم نے نماز پڑھ لی اور ابھی مسجد میں ہو اور نماز جماعت قائم ہو گئی تو اگر چاہو تو مسجد سے نکل جاؤ اور چاہو تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھو اور اس کو نافلہ قرار دے لو۔

١٢١٥ - اور اسحاق بن عمار نے ان جناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ نماز پڑھو اور اسے اپنی قضا نماز قرار دیدو۔

١٢١٦ - اور معاویہ بن شریح نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص جلدی میں (مسجد) پہنچے اور امام رکوع میں ہو تو اس کو نماز اور رکوع میں شریک ہونے کیلئے صرف ایک تکبیر کہہ لینا کافی ہے ۔
اور نو وارد اس وقت جب امام سجدے میں ہو تو تکبیر کہے اور اس کے ساتھ سجدہ میں چلا جائے مگر اس رکعت کا شمار نہ ہوگا ۔

اور جو شخص امام کو اس وقت پائے جب وہ آخری رکعت میں ہے تو اس نے جماعت کی فضیلت کو پالیا ۔ اور جو شخص امام کو اس وقت پائے جب کہ اس نے آخری سجدے سے سر اٹھا لیا ہے اور تشہد پڑھ رہا ہے تو اس نے جماعت کو پالیا مگر اس کیلئے صرف اذان و اقامت نہیں ہے۔
اور جس نے امام کو اس وقت پایا جب وہ سلام پڑھ رہا ہے تو اس کو اذان و اقامت دونوں کہنا ہے۔ اور ایک مسجد میں ایک نماز کیلئے دو جماعتیں جائز نہیں ہیں ۔

١٢١٧ - چنانچہ محمد بن ابی عمیر نے ابی علی حرآنی سے روایت کی ہے اسکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے بیان کیا کہ ہم لوگوں نے مسجد میں فجر کی (با جماعت) نماز پڑھی پھر ہم میں سے کچھ لوگ تو چلے گئے اور کچھ لوگ تسبیح وغیرہ پڑھنے بیٹھ گئے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اس نے اذان کہنی چاہی ہم لوگوں نے اسے منع کیا اور اسکو اذان سے روکا ۔ تو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا تم لوگوں نے بہت اچھا کیا تم لوگ اسکو اس سے روکو اور سختی سے منع کرو میں نے عرض کیا اور اگر ایک جماعت آجائے تو؟ آپ نے فرمایا پھر وہ لوگ مسجد کے ایک کونے میں کھڑے ہوں گے لیکن ان کا کوئی امام نہ ہوگا۔
اور جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو اور سلام پڑھنا بھول جائے تو اس کیلئے امام کا سلام پڑھنا کافی ہے ۔ اور جس نے امام سے پہلے ہی بھول کر سلام پڑھ لیا تو اس کیلئے کوئی حرج نہیں ۔

١٢١٨ - حسن بن محبوب نے جمیل بن صالح سے انہوں نے سماعہ سے اور انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے ایک ایسے شخص کے متعلق کہ جس سے امام ایک رکعت پہلے تھا پھر امام کو وہم ہوا اور اس نے پانچ رکعت پڑھا دی؟ آپ نے فرمایا وہ ایک رکعت کی قضا کرے گا اور امام کے وہم والی رکعت شمار نہیں کی جائے گی۔