باب نماز شب
حدیث ١٣٩٩ - ١٤٠١
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ارشاد فرمایا ہے کہ ومن الليل فتهجد به نافلة لك عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محموداً (اور رات کے خاص حصہ میں نماز تہجد پڑھا کرو یہ سنت تمہاری خاص فضیلت ہے قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود تک پہنچائے) (سورہ الاسرا آیت نمبر ٧٩) تو نماز شب پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فرض ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بموجب کہ فتہحید یعنی نماز تہجد پڑھو اور دوسروں کیلئے سنت اور نافلہ ہے ۔
١٣٩٩ - نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وصیت میں حضرت علی علیہ السلام سے ارشاد فرمایا کہ اے علی تم پر لازم ہے نماز شب پڑھو پہلی رکعت میں سورہ الحمد اور قل ھو اللہ احد اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد اور سورہ قل یا یھا الکافرون اور پھر چھ (٦) رکعتوں میں جو سورہ چاہے پڑھو خواہ کوئی طویل سورہ پڑھو خواہ قصیر ۔
١٤٠٠ - اور روایت میں ہے کہ جو شخص نماز شب کی ابتدائی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورہ الحمد اور تیسں (٣٠) مرتبہ سورہ قل ھو اللہ احد پڑھے تو جوں ہی نماز کو تمام کرے گا اللہ اور اسکے درمیان کوئی ایسا گناہ نہ ہو گا جیسے اللہ نہ بخش دے ۔ اور نماز شفع کی دو رکعتوں میں اور وتر کی ایک رکعت میں سورہ قل ھو اللہ احد پڑھو اور نماز شفع اور نماز وتر کے درمیان سلام پڑھ کر فاصلہ دیدو ۔
١٤٠١ - اور روایت کی گئی ہے کہ جو شخص نماز وتر میں معوذتین (اعوذ برب الفلق اور اعوذ برب الناس) اور قل ھواللہ احد پڑھے گا تو اس سے کہا جائے گا کہ اللہ کے بندے خوشخبری سن اللہ نے تیری نماز وتر قبول فرمالی ۔
اور قنوت ہر دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے اور سوروں کی قراءت کے بعد ہے اور ان میں سوروں کی قراءت بالجہر(بلند آواز سے) ہوگی اور نماز وتر میں قنوت رکوع سے پہلے ہوگی ۔
اور اگر تم نماز شب کیلئے اٹھے مگر اتنا وقت نہیں ہے کہ جیسی تم چاہتے ہو کہ نماز شب ویسی پڑھو تو پھر اسکو سمیٹنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر رکعت میں صرف سورہ حمد پڑھو ۔ اور تمہیں فجر کے طلوع ہو جانے کا ڈر ہے تو دو رکعت پڑھو اور تیسری
رکعت وتر کی پڑھ لو اور اگر فجر طلوع ہو گئی ہے تو پھر دو رکعت نماز فجر پڑھو نماز شب کا وقت چلا گیا ۔ اور اگر تم نماز شب کی چار رکعتیں قبل طلوع فجر پڑھ چکے ہو تو اب نماز شب پوری پڑھ لو فجر طلوع ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو اور اس امر کی رخصت کی بھی کہیں کہیں روایت کی گئی ہے کہ آدمی نماز شب بعد طلوع سحر بھی پڑھ لے لیکن کبھی کبھی اس کو عادت نہ بنائے اور اگر تم پر نماز شب کی قضا ہے اور تم نماز شب پڑھنے کھڑے ہوئے اور تمہارے پاس اتنا وقت ہے کہ نماز شب کی قضا بھی پڑھو اور اس شب کی بھی نماز شب پڑھ لو تو قضا نماز شب پہلے پڑھو پھر اس شب کی نماز شب پڑھو اور اگر وقت صرف اتنا ہی ہے کہ اس میں ایک ہی نماز شب پڑھ سکتے ہو تو پھر پہلے اپنی اس شب کی نماز شب پڑھ لو کہ دونوں قضا نہ ہو جائیں ۔ اس کے بعد فوت شدہ نماز شب پڑھو ۔ وہ کل کی ہو یا پرسوں کی ۔