Skip to main content

خوف کے موقع پر اور میدان جنگ میں ایک دوسرے پر حملہ کرنے مد مقابل ہونے اور شمشیر زنی کے موقع پر نماز کا طریقہ

حدیث ١٣٣٤ - ١٣٤٩ 

١٣٣٤ - عبدالرحمن بن ابی عبداللہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ ذات الرقاع میں اپنے اصحاب کے ساتھ اس طرح نماز پڑھی کہ ان کو دو (۲) حصوں میں تقسیم کیا ایک حصہ کو دشمن کے مقابلہ میں کھڑا کر دیا اور دوسرا حصہ آنحضرت کے پیچھے کھڑا ہوا آپ نے تکبیر کہی تو ان لوگوں نے بھی تکبیر کہی آپ نے سوروں کی قراءت کی تو وہ لوگ خاموشی سے سنتے رہے آپ نے رکوع کیا تو ان لوگوں نے بھی رکوع کیا آپ نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا پھر آنحضرت کھڑے رہے اور ان لوگوں نے اپنی اپنی ایک اور رکعت پڑھی اور ایک دوسرے کی طرف سلام پھرا اور اپنے ساتھیوں کے پاس نکل کر چلے گئے اور وہاں پہنچ کر دشمنوں کے مقابل کھڑے ہو گئے اور اب دوسرا حصہ آیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے آکر کھڑا ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی تو ان لوگوں نے بھی تکبیر کہی آپ نے قراءت فرمائی تو وہ لوگ خاموش سنتے رہے آپ نے رکوع کیا تو ان لوگوں نے بھی رکوع کیا آپ نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے اور تشہد پڑھا پھر سلام پڑھا اور وہ لوگ اٹھ گئے اپنی ایک ایک رکعت پوری کی اس کے بعد سب نے ایک دوسرے پر سلام کیا۔ اوراللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا ہے " وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌۭ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُوٓا۟ أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا۟ فَلْيَكُونُوا۟ مِن وَرَآئِكُمْ وَلْتَأْتِ طَآئِفَةٌ أُخْرَىٰ لَمْ يُصَلُّوا۟ فَلْيُصَلُّوا۟ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا۟ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ۗ وَدَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةًۭ وَٰحِدَةًۭ ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًۭى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَن تَضَعُوٓا۟ أَسْلِحَتَكُمْ ۖ وَخُذُوا۟ حِذْرَكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا فَإِذَا قَضَيْتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ قِيَـٰمًۭا وَقُعُودًۭا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ ۚ فَإِذَا ٱطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ ۚ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتْ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ كِتَـٰبًۭا مَّوْقُوتًۭا (اور اے رسول جب تم مسلمانوں میں موجود ہو اور لڑائی ہو رہی ہو اور تم ان کو نماز پڑھانے لگو تو دو گروہ کر کے ایک کو لڑائی کے واسطے چھوڑ دو اور ان میں سے ایک جماعت تمہارے ساتھ نماز پڑھے اور اپنے حربے ، ہتھیار اپنے ساتھ لئے رہے پھر جب پہلی رکعت کے سجدے کر کے وہ لوگ دوسری رکعت فرادا پڑھ لیں تو پیچھے پشت پناہ بنیں اور دوسری جماعت جو لڑ رہی تھی جس نے اب تک نماز نہیں پڑھی وہ آئے اور تمہاری دوسری رکعت میں تمہارے ساتھ نماز پڑھے اور اپنی حفاظت کی چیزیں اور ہتھیار نماز میں اپنے ساتھ لئے رہیں ۔ کفار تو یہ چاہتے ہی ہیں کہ کاش اپنے ہتھیاروں اور اپنے سازو سامان سے تم لوگ ذراسی غفلت کرو تو وہ یکبارگی سب کے سب تم پر ٹوٹ پڑیں ہاں البتہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اتفاقا تم کو بارش کے سبب سے کچھ تکلیف پہنچے یا تم بیمار ہو تو اپنے ہتھیار نماز میں اتار کر رکھ دو اور اپنی حفاظت کرتے رہو اور خدا نے تو کافروں کیلئے ذلت کا عذاب تیار کر ہی رکھا ہے پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اٹھتے بیٹھتے لیٹتے ہر حال میں خدا کو یاد کرو پھر جب تم دشمنوں کی طرف سے مطمئن ہو جاؤ تو اپنے معمول کے مطابق نماز پڑھا کرو کیونکہ نماز تو اہل ایمان پروقت معین کر کے فرض کی گئی ہے (سورہ نساء آیت نمبر ١٠٢ - ١٠٣)
تو یہ ہے نماز خوف جسکا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ کو حکم دیا ہے ۔ 

١٣٣٥ -  نیز فرمایا کہ جو شخص خوف کی حالت میں قوم کو مغرب کی نماز پڑھائے تو پہلے گروہ کے ساتھ ایک رکعت اور دوسرے گروہ کے ساتھ دو (۲) رکعت پڑھائے گا ۔ اور جس شخص کو کسی درندے کا خوف ہو اور اس کا بھی ڈر ہو کہ نماز فوت ہو جائیگی تو قبلہ کی طرف منہ کر کے اپنی نمازاشاروں سے پڑھے ۔ اور اگر درندے کا خوف ہو تو جدھروہ گھوم رہا ہے اسی طرف یہ بھی گھومے اور اشاروں میں نماز پڑھے ۔ 

١٣٣٦ - اور علی بن جعفر نے اپنے بھائی حضرت امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ جس کو کسی درندے کا سامنا ہے اور نماز کا وقت آگیا ہے اور درندے کے خوف سے وہاں سے حرکت ممکن نہیں ؟ آپ نے فرمایا
وہ شیر کی طرف رخ کئے ہوئے اور کھڑے کھڑے اپنے سر کے اشاروں سے نماز پڑھے گا خواہ شیر غیر قبلہ کی طرف کیوں نہ ہو ۔ 

١٣٣٧ - اور سماعہ بن مہران نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک شخص کی غیر سے مڈ بھیڑ ہو گئی ہے اور نماز کا وقت آگیا ہے مگر وہ شیر کے خوف کے مارے وہاں سے بھاگ نہیں سکتا ؟ آپ نے فرمایا وہ اپنا رخ شیر کی طرف
رکھے اور کھڑے کھڑے اپنے سر کے اشاروں سے نماز پڑھے خواہ شیر غیر قبلہ (کی سمت) کیوں نہ ہو ۔

١٣٣٨ - سماعہ بن مہران نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جس کو مشرکین نے گرفتار کر لیا ہے اور نماز کا وقت آگیا ہے اور اسے اسکا ڈر ہے کہ وہ لوگ اسکو نماز پڑھنے نہ دینگے ؟ آپ نے فرمایا وہ اشارے سے نماز پڑھے گا ۔

١٣٣٩ - زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی اس کا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے عرض کیا کہ کیا نماز خوف اور نماز سفر دونوں میں قصر ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور نماز خوف تو قصر کی زیادہ حقدار ہے نماز سفر سے اس لئے کہ اس میں خوف ہے۔

١٣٤٠ - اور میں نے اپنے شیخ محمد بن حسن رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ روایت کی گئی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مندرجہ ذیل قول خدا کے متعلق دریافت کیا گیا وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا۟ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟  ( اور جب تم زمین میں سفر کرو اور تم کو اس امر کا خوف ہو کہ کفار تم سے اثنائے نماز میں فساد برپا کریں گے تو اس میں تمہارے لئے کوئی مضائقہ نہیں کہ نمازان میں سے کچھ کم کرلیا کرو) (سورہ نساء ١٠١) آپ نے فرمایا کہ یہ دوہرا قصر ہے اور وہ یہ کہ آدمی دو رکعت کو ایک رکعت کرلے ۔ اور اسکی روایت عزیز نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کی ہے۔

١٣٤١ عبدالرحمن بن ابی عبداللہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے محاذ جنگ پر نماز کے متعلق روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تکبیر اور تہلیل کرو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًۭا ۖ  (اگر تم خوف کی حالت میں ہو ، پیدل ہو یا سواری پر صرف تکبیر کہہ لو) ( سوره بقره ٢٣٩) - 

١٣٤٢ - ابو بصیر سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا وہ فرما رہے تھے کہ اگر تم کسی خوفناک سرزمین پر ہو اور تمہیں چور یا درندے کا خوف ہو تو اپنی سواری ہی پر نماز فریضہ ادا کر لو ۔

١٣٤٣ - اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے زرارہ کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا وہ شخص جسے چوروں کا خوف
ہو تو وہ اپنی سواری پر اشاروں سے نماز پڑھ لے ۔ 

١٣٤٤ - اور درندے کے خوف سے نماز میں اس امر کی رخصت ہے کہ اگر کسی شخص کو درندے سے اپنی جان کا خوف ہو تو
صرف تکبیر کہے اشارہ بھی نہ کرے ۔ یہ روایت محمد بن مسلم نے ان دونوں ائمہ میں سے کسی ایک سے کی ہے ۔ 

١٣٤٥ - اور زرارہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا وہ شخص جو چوروں اور درندے سے خوف کھا رہا ہے تو وہ نماز مواقفہ (دشمن کے مد مقابل کھڑا ہونا ) اپنی سواری پر اشارے سے پڑھے ۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا اگر دشمن کے مد مقابل کھڑا رہنے والا شخص باوضو نہ ہو تو وہ کیا کرے وہ تو سواری سے اتر بھی نہیں سکتا ، آپ نے فرمایا وہ اپنی سواری کے خندہ یا زمین پر یا گھوڑے کی ایال پر تیمم کرے اس لئے کہ اس پر بھی غبار ہوتا ہے اور نماز پڑھے اور سجدہ کیلئے رکوع سے ذرا زیادہ نیچے جھکے ۔ قبلہ رو ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ جس طرف اس کی سواری گھوم رہی ہو ادھر گھومے بس پہلی تکبیرۃ الاحرام میں قبلہ رو ہولے ۔

١٣٤٦ - عبداللہ بن علی حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ لشکر کی پیش قدمی کی حالت میں نماز سواری کی پشت پر اپنے سر کے اشارے اور تکبیر کے ساتھ ہو گی اور تلوار چلاتے وقت صرف تکبیر ہوگی بغیر اشارے کے اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے وقت جو شخص جس حال میں اور جس رخ پر ہے اسی حال میں اشارے سے نماز پڑھے گا ۔

١٣٤٧ - امام علیہ السلام نے بیان کیا کہ یوم صِفّین حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ لوگوں کی ظہر و عصر و مغرب و عشاء کی نمازیں فوت ہو گئیں آپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ ہر پیدل اور ہر سوار الله اکبر لا اله الا اللہ اور سبحان اللہ کہ لے ۔

١٣٤٨ - اور عبداللہ بن مغیرہ کی کتاب میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ آپس میں تلواریں چلتے وقت ہر نماز کے بدلے کم سے کم ایک تکبیر یا دو تکبیریں کہہ لینے کی اجازت ہے ۔ سوائے نماز مغرب کے اس لئے کہ اس کیلئے تین تکبیریں ہیں ۔

١٣٤٩ - سماعہ بن مہران نے آنجناب علیہ السلام سے ہنگام قتال کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا جب دو لشکر آپس میں ٹکرائیں اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں تو اس وقت کی نماز تکبیر ہے اور جب ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے ہوئے ہوں اور جماعت کی نماز نہیں ہو سکتی تو نماز اشاروں سے ہوگی ۔ 
          اور برہنہ شخص بیٹھ کر نماز پڑھے گا اور اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ پر رکھ لے گا اور اگر عورت ہے تو وہ اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ پر رکھے گی اور دونوں اشارے سے نماز پڑھیں گے ۔ اور ان کا سجدہ انکے رکوع سے زیادہ جھکا ہوگا وہ دونوں نہ رکوع کریں گے اور نہ سجدہ تا کہ ان کا پیچھا ظاہر نہ ہو پس وہ اپنے سر کے اشارہ کریں گے ۔ اور اگر سب باجماعت پڑھنا چاہتے ہیں تو سب ایک صف میں رہیں گے ۔ اور پانی یا کیچڑ میں نماز اشاروں سے ہوگی اور رکوع سے زیادہ سجدہ جھکا ہوا ہو گا ۔