Skip to main content

باب نماز شب کا وقت

حدیث ١٣٧٥ - ١٣٨٦ 

١٣٧٥ - عبید بن زرارہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز عشاء پڑھ لیا کرتے تو اپنے بستر خواب پر پہلے جایا کرتے اور پھر نصف شب تک کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے ۔

١٣٧٦ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز شب کا وقت نصف شب سے آخر شب تک ہے ۔

١٣٧٧ - عمر بن حنظلہ نے ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں نے اٹھارہ راتوں تک اس امر کی نیت کی کہ نماز شب کیلئے اٹھوں گا مگر نہ اٹھ سکا تو اب کیا میں اول شب ہی میں نماز شب پڑھ لیا کروں ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ دن میں اسکی قضا پڑھ لیا کرو مجھے یہ پسند نہیں کہ اول شب میں نماز شب پڑھنے کی عادت پڑ جائے ۔ 

١٣٧٨ - اور معاویہ بن وھب سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں نے آنجناب علیہ السلام سے عرض کیا کہ آپ کے صالح دوستداروں میں سے ایک دوستدار نے مجھ سے شکایت کی کہ میں تو نیند سے تنگ ہوں اور کہا کہ میں نماز شب کیلئے اٹھنے کا ارادہ کرتا ہوں مگر نیند ایسی غالب ہوتی ہے کہ صبح ہو جاتی ہے چنانچہ اکثر مسلسل ایک ماہ یا دو ماہ تک نماز شب قضا ہو جاتی ہے اور مجھے یہ بات بہت گراں محسوس ہوتی ہے ؟ آپ نے یہ سن کر فرمایا کہ اللہ یہ تو خوشی کی بات ہے واللہ یہ تو خوشی ہے (کہ یہ تم کو گراں محسوس ہوتی ہے) مگر آپ نے اول شب میں نماز شب پڑھنے کی اجازت نہیں دی اور فرمایا کہ دن میں اسکی قضا افضل ہے ۔

١٣٧٩ - عبد اللہ بن مسکان نے لیث مرادی سے روایت کی ہے کہ اسکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ گرمیوں کے زمانے میں جب رات چھوٹی ہوتی ہے کیا نماز شب اول شب پڑھ لی جائے ؟ آپ نے فرمایا ہاں تم نے کیا اچھی بات سوچی اور تم نے اچھا کیا ( یعنی سفر میں)

١٣٨٠ - راوی کا بیان ہے کہ پھر میں نے ان جناب سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ جسکو سفر میں جنابت کا
خوف ہوتا ہے یا جاڑے میں تو کیا وہ نماز وتر پڑھنے میں تعجیل کرے اور اول شب میں پڑھ لے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔ 

١٣٨١ - ابو جریر بن ادریس نے حضرت ابو الحسن امام موسیٰ بن جعفرعلیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ سفر
میں نماز شب رات کے ابتدائی حصہ میں مکمل کے اندر پڑھ لو اور وتر اور دو رکعت فجر بھی ۔ 
بہر حال جہاں کہیں بھی روایت کی گئی ہے کہ نماز شب اول شب میں پڑھ لی جائے تو یہ سفر کیلئے ہے کیونکہ تشریح کرنے والی احادیث مجمل احادیث کا مفہوم بتاتی ہیں ۔ 

١٣٨٢ - علاء نے محمد بن مسلم سے روایت کی ہے اور انہوں نے دونوں آئمہ علیہما السلام میں سے کسی ایک سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جسکی آنکھ شب میں ایک یا دو مرتبہ کھلتی ہو پس اگروہ اس میں اٹھ کھڑا ہوا تو یہ اس کو اختیار ہے ورنہ شیطان آکر اسکے کان میں پیشاب کر دیتا ہے ۔ کیا تم میں سے کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ جب کوئی ایسا شخص صبح کو اٹھتا ہے جو نماز تہجد کیلئے نہیں اٹھا تو وہ سست بو جہل اور کسل مند اٹھتا ہے ۔

١٣٨٣ - اور حسن صیقل نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں اس شخص سے نفرت کرتا ہوں جو میرے پاس آکرعمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق دریافت کرتا ہے پھر کہتا ہے کہ کیا یہ زیادہ کیا گیا ہے ؟   گویا اسکا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شے میں کوئی کمی کر دی تھی ۔ اور میں ناپسند کرتا ہوں اس شخص کو جو قرآن کی تلاوت کرے اور رات کے کچھ حصہ تک بیدار رہے اور نماز شب کیلئے کھڑا نہ ہو یہاں تک کہ جب صبح ہو جائے تو جلدی سے اٹھ کر نماز صبح کیلئے کھڑا ہو جائے ۔

١٣٨٤ - اور ابو حمزہ ثمالی نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو کوئی بھی بندہ یہ نیت کرتا ہے کہ فلاں وقت اس خواب سے بیدار ہو جاؤں گا تو اللہ اسکی نیت کو جانتا ہے اور اس پر دو فرشتے مقرر کر دیتا ہے جو اسی ساعت معین پر اس بندے کو ہلا دیتے ہیں ۔ 

١٣٨٥ - عمیص بن قاسم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ جب کسی بندے پر حالت نماز میں نیند غالب ہو جائے تو اسکو چاہیئے کہ اپنا سر رکھ کر سو رہے اس لئے کہ مجھے ڈر ہے کہ اگر اسکا ارادہ یہ کہنے کا ہو کہ پروردگار مجھے جنت میں داخل کر اور وہ نیند کے جھونکے میں کہیں یہ نہ کہہ دے کہ پروردگار تو مجھے جہنم میں داخل کر دے ۔

١٣٨٦ - ذکریا نقاض نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے قول خدا لَا تَقْرَبُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنتُمْ سُكَـٰرَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا۟ مَا تَقُولُونَ (نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ تا کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اسکو سمجھو بھی کہ کیا کہہ رہے ہو) (سورہ النساء آیت نمبر ٤٣) کے متعلق روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا نیند کا نشہ بھی اسی کے ذیل میں ہے ۔