Skip to main content

باب نماز کے سلسلہ میں چند نادر احادیث

حدیث ١٥٦١ - ١٥٧٣

١٥٦١ - بکیرین اعین نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز چاشت کبھی نہیں پڑھی ۔

١٥٦٢ - عبدالواحد بن مختار انصاری نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے اس کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں نے آنجناب سے نماز چاشت کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ سب سے پہلے تمہاری قوم نے پڑھنی شروع کی جن کا شمار غافل اور جاہل لوگوں میں تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نماز کبھی نہیں پڑھی ۔ 
         نیز آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت علی علیہ السلام ایک شخص کی طرف سے ہو کر گزرے تو دیکھا کہ وہ نماز چاشت پڑھ رہا ہے حضرت علی علیہ السلام نے کہا تو یہ کون سی نماز پڑھ رہا ہے ؟ اس نے کہا امیر المومنین میں اس کو چھوڑ دوں ؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کیا ایک بندہ نماز پڑھ رہا تو میں اس کو منع کردوں ۔

١٥٦٣ - زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی نماز چاشت نہیں پڑھی ۔ میں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے مجھے یہ نہیں بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم دن کے ابتدائی حصہ میں چار رکعت نماز پڑھتے تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں مگر وہ ان چار رکعتوں کو ان آٹھ رکعتوں میں شمار کر لیتے تھے جو بعد ظہر پڑھی جاتی ہے ۔

١٥٦٤ - عبد اللہ بن سنان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ماہ رمضان میں نماز کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ تیرہ (۱۳) رکعتیں ہیں جن میں نماز وتر بھی شامل ہے ۔ اور دو رکعتیں نماز فجر سے پہلے کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے ۔ اور اگر اس سے زیادہ ہوتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر عمل کرنے کے زیادہ حقدار تھے ۔

١٥٦٥ - اور عقبہ بن خالد نے آنجناب علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اس کو دوسرے شخص نے پکارا تو اس نے بھول کر اسکا جواب دیدیا تو اب وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا وہ اپنی نماز پڑھتا ر ہے ۔

١٥٦٦ - عمران حلبی نے آنجناب علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ سہو اور بھول کی وجہ سے نماز میں تخفیف مناسب ہے ۔

١٥٦٧ - اور سماعہ بن مہران نے ان ہی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ صدقہ میں غلام کو دینا اور اسکو آزاد کرنا جائز ہے اور جب وہ دس سال کا ہو جائے تو وہ لوگوں کی امامت بھی کرے گا ۔

١٥٦٨ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا اگر تم ان (مخالفین) کے ساتھ نماز پڑھو تو تمہارے مخالفین کی تعداد کے برابر تمہارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔

١٥٦٩ - اور عبدالرحمن بن ابی عبداللہ نے آنجناب علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر تم نماز پڑھو تو اپنی نعلین میں نماز پڑھو بشر طیکہ وہ طاہر اور پاک ہو اس لئے کہ یہ بھی سنت میں داخل ہے ۔ 

١٥٧٠ - اور حلبی نے ان ہی جناب علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا اگر تم سفر کے اندر غیر وقت نماز میں کوئی نماز پڑھ لو تو اس میں تمہارے لئے کوئی ہرج نہیں (یعنی غیر وقت فضیلت میں) ۔

١٥٧١ - اور عائذ احمسی سے روایت کی گئی ہے اس کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرا ارادہ تھا کہ میں آپ سے نماز کے متعلق سوال کروں گا مگر آپ نے میرے سوال سے پہلے ہی یہ فرمایا کہ اگر تم اپنی پانچوں وقت کی فرض نماز کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرو گے تو اللہ تعالٰی ان کے سوا اور کسی نماز کیلئے باز پرس نہیں کرے گا۔

١٥٧٢ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ مومن جب تک حالت وضو میں ہے اس کا شمار تعقیبات پڑھنے والوں میں ہوگا ۔

١٥٧٣ - عبد الله بن سنان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے اس کا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے عرض کیا یہ بتائیں کہ ایک شخص کی نماز ہائے نافلہ بہت سی قضا ہیں اور اتنی کثرت سے ہیں کہ اس کو معلوم نہیں کہ کتنی ہیں اب وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا وہ نماز پڑھے اور اتنی کثرت سے کہ اس کو یہ معلوم نہ رہے کہ کتنی پڑھی ہے تو اس میں سے جتنے کا اسے علم ہے اس کی قضا ہو جائیگی ۔
                   راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا مگر اب اس کی قضا پڑھنے پر تو وہ قادر نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسے حصول معاش میں مشغول تھا کہ بغیر اس کے چارہ نہ تھا یا اپنے کسی برادر مومن کے کام میں لگا ہوا تھا تو پھر اس پر کچھ نہیں ہے ۔ اور اگر وہ دنیا جمع کرنے میں مصروف تھا اور اس مشغولیت نے اس کو اس نماز ( نافلہ) سے باز رکھا تو وہ اس کی قضا پڑھے ورنہ جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا تو اس کا شمار نماز کو خفیف اور بے وقعت سمجھنے والوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احترام نہ کرنے والوں میں ہوگا ۔ میں نے عرض کیا مگر وہ قضا پڑھنے پر قادر نہیں تو کیا اس کیلئے جائز ہے کہ وہ اس کے عوض کچھ تصدق کر دے ؟ یہ سنکر آپ ذرا دیر خاموش ہوئے پھر فرمایا ہاں پھر وہ کوئی صدقہ نکال دے ۔ میں نے عرض کیا وہ کتنا صدقہ نکالے " آپ نے فرمایا اپنی وسعت دولت کے مطابق اور کم از کم ہر نماز کے بدلے ہر مسکین کو ایک مد (جو اہل حجاز کے نزدیک ۱/۳ اور اہل عراق کے نزدیک ۲ رطل کا ہوتا ہے اور ایک رطل شام میں پانچ پونڈ کا اور مصر میں پونے سولہ اونس کا ہوتا ہے) میں نے عرض کیا کتنی نماز کہ جس پر ہر مسکین کو ایک مد دینا پڑے گا ۔ آپ نے فرمایا شب کی نمازوں میں ہر دو رکعت پر ایک مد اور دن کی نمازوں میں ہر دو رکعت پر ایک مد ۔ میں نے عرض کیا مگر اتنا دینے پر تو وہ قادر نہیں ۔ تو آپ نے فرمایا پھر ایک رات کی نمازوں پر ایک مد اور ایک دن کی نمازوں پر ایک مد مگر نماز پڑھنا افضل ہے نماز پڑھنا افضل ہے نماز پڑھنا افضل ہے ۔

       الحمد لله کہ کتاب من لايضره الفقيه تصنيف شيخ سعيد ابى جعفر محمد بن علی بن الحسین بن موسیٰ بن بابویه قمی قدس اللہ روحہ و نور ضریحہ کے جز اول کا اردو ترجمہ آج تمام ہوا ۔

سید حسن امداد ممتاز الافاضل (غازی پوری)
 ۱۷ دسمبر ۱۹۹۲ روز پنجشبه
 مطابق ۲۱ جمادی الثانیه ۱۴۱۳ھ