Skip to main content

نماز جمعہ کا واجب ہونا اسکی فضیلت اور کن لوگوں سے جمعہ ساقط ہے اور کیفیت نماز و خطبه

حدیث ١٢١٩ - ١٢٦٤

١٢١٩ - حضرت ابو جعفر امام محمد باقر علیہ السلام نے زرارہ بن اعین سے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک پینتیس (۳۵) نمازیں فرض کی ہیں ان سے ایک نماز اللہ تعالیٰ نے جماعت کے ساتھ فرض کی ہے اور وہ نماز جمعہ ہے اور اسے نو (۹) طرح کے لوگوں سے ساقط کر دیا ہے ۔ بچہ ، بوڑھا ، مجنوں ، مسافر ، غلام ، عورت ، مریض ، اندھا اور جو شخص (جہاں نماز جمعہ ہو رہی ہے اس سے) دو فرسخ پر ہو ۔ اور اس میں قراءت بالجہر (بلند آواز سے) ہے اور اس میں غسل واجب ہے اور اس میں امام کو دو قنوت پڑھنا ہے ایک قنوت پہلی رکعت میں رکوع سے پہلے اور دوسرا قنوت دوسری رکعت میں بعد رکوع اور جو اکیلے یہ نماز پڑھے اس کیلئے ایک قنوت پہلی رکعت میں رکوع سے پہلے ۔ اور زرارہ سے یہ روایت کرنے میں حریز تنہا ہیں ۔
اور یہ بات کہ جسکو میں استعمال کرتا ہوں اور اس پر فتوی دیتا ہوں اور اس پر ہمارے مشائخ تھے یہ ہے کہ قنوت تمام نمازوں کے اندر جمعہ اور غیر جمعہ میں دوسری رکعت کے اندر قراءت کے بعد قبل رکوع ہے ۔ 

١٢٢٠ - اور زرارہ کا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے دریافت کیا کہ جمعہ کتنے لوگوں پر واجب ہے تو آپ نے فرمایا جمعہ مسلمانوں میں سے سات افراد ہوں تو واجب ہے اور مسلمانوں میں پانچ سے کم پر جمعہ واجب نہیں ہے ان میں سے ایک امام ہے پس جب سات افراد جمع ہو جائیں تو ان میں سے ایک امامت کرے گا اور خطبہ دیگا بشرطیکہ انہیں کوئی خوف نہ ہو ۔

١٢٢١ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ وہ دو رکعت جسکا اضافہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن کیلئے فرمایا ہے وہ مقیم (غیر مسافر) کیلئے ان دو خطبوں کی جگہ ہے جبکہ وہ امام کے ساتھ نماز جمعہ پڑھتا، پس جو شخص جمعہ کے دن بغیر جماعت کے نماز پڑھے تو وہ ظہر کی طرح چار رکعت پڑھے جس طرح تمام دنوں میں پڑھتا ہے ۔ 

١٢٢٢ - نیز آنجناب علیہ السلام نے فرمایا کہ جمعہ کے دن نماز جمعہ کا وقت زوال آفتاب کی ساعت سے اور اسکا وقت سفر و حضر دونوں میں ایک ہے اور یہ بہت تنگ وقت ہے اور نماز عصر کا وقت جمعہ کے دن عصر کا ابتدائی وقت ہے جو تمام دنوں میں ہوتا ہے ۔

١٢٢٣ - عبدالرحمن بن ابی عبداللہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا اگر بارش میں کوئی شخص نماز جمعہ چھوڑ دے تو کوئی حرج نہیں ۔

١٢٢٤ - محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا اگر سات نفر مومنین کی تعداد ہے تو نماز جمعہ واجب ہے اور اس سے کم تعداد پر واجب نہیں ہے ۔ امام اور قاضی اور دو مدعی اور مدعا علیہ اور دو گواہ اور ایک وہ جو امام کے سامنے حد جاری کرے ۔

١٢٢٥ - اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز جمعہ کا اول وقت زوال آفتاب سے لیکر ایک ساعت تک ہے لہذا اسکی پابندی کرو اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس وقت کے اندر بندہ اللہ تعالیٰ سے جس خیر کا بھی سوال کرے گا اللہ اسکو عطا کر دیگا ۔ 
اور میرے والد علیہ الرحمہ نے جو رسالہ میرے پاس بھیجا اس میں تحریر فرمایا کہ اگر تم سے ممکن ہو تو جمعہ کے دن جب آفتاب طلوع ہو تو چھ رکعت نماز پڑھو ۔ اور جب روشنی ہر طرف پھیل جائے تو چھ رکعت اور نماز واجب سے پہلے دو رکعت اور بعد نماز واجب چھ رکعت پڑھو ۔ اور احمد بن محمد بن عيسیٰ کے نوادر میں ہے کہ اور عصر کے بعد دو رکعت ۔
اور اگر تم اپنے تمام نوافل کو جمعہ کے دن قبل زوال یا نماز واجب کے بعد موخر کر لو تو وہ سولہ (۱۲) رکعتیں ہیں مقدم کرنے سے مؤخر کرنا افضل ہے اور جب جمعہ کے دن زوال آفتاب ہو جائے تو نماز واجب کے علاوہ کوئی اور نماز نہ پڑھو ۔ اور شب جمعہ نماز عشاء میں سورہ جمعہ اور سورہ سبح اسم ربک الا علی پڑھو اور صبح کی اور ظہر و عصر کی نماز میں سورہ جمعہ اور سورہ منافقین پڑھو اور اگر تم نماز ظہر کے اندر ان دونوں کو پڑھنا بھول گئے یا ان میں سے ایک پڑھنا بھول گئے اور تم نے ان دونوں کے علاوہ دوسرا سورہ پڑھنا شروع کر دیا پھر تمہیں یاد آ گیا تو اگر تم نے ابھی وہ دوسرا سورہ آدھا نہیں پڑھا ہے تو سورہ جمعہ اور منافقین کی طرف واپس آجاؤ ۔ اور اگر آدھا پڑھ لیا ہے تو اسکو تمام کرو اور دو رکعت پڑھ کر سلام پڑھو اور اسے نافلہ قرار دیدو ۔ اور سورہ جمعہ اور سورہ منافقین کے ساتھ پھر سے نماز پڑھ لو ۔
اور کوئی حرج نہیں اگر تم عشاء، صبح اور عصر کی نماز بغیر سورہ جمعہ اور سورہ منافقین کے پڑھو لیکن افضل یہ ہے کہ انکو سورہ جمعہ اور سورہ منافقین کے ساتھ پڑھو۔
اور اگر کسی کا ارادہ ہو کہ نماز میں فلاں سورہ پڑھے گا مگر وہ کوئی اور سورہ پڑھنے لگا تو وہ اسے چھوڑ کر اسی سورہ کی طرف پلٹ جائے ۔ سوائے سورہ قل هو الله احد کے اس لئے کہ اس سورہ کو جب شروع کر دیا تو پھر اسکو چھوڑ کر دوسرا نہیں پڑھا جائیگا سوائے جمعہ کے دن نماز ظہر میں اس لئے کہ اس دن نماز ظہر میں اسے چھوڑ کر سورہ جمعہ اور منافقین کی طرف رجوع کر سکتے ہیں ۔ اور یوم جمعہ نماز ظہر میں سورہ جمعہ اور منافقین کو چھوڑ کر کوئی دوسرا پڑھنے کی جو رخصت کی روایت کی گئی ہے تو وہ مریض ، مسافر یا جو شخص عجلت میں ہو اس کیلئے ہے ۔

١٢٢٦ - صفوان بن یحییٰ نے علی بن یقطین سے روایت کی ہے ان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابو الحسن علیہ السلام سے دریافت کیا کہ سفر کے اندر جمعہ کی دونوں رکعتوں میں کیا پڑھا جائے ؟ آپ نے فرمایا ان دونوں میں قل هو الله احد پڑھو ۔

١٢٢٧ - جعفر بن بشیر اور عبداللہ بن جبلہ نے عبداللہ بن سنان سے اور انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے راوی کا بیان ہے کہ میں نے ان جناب کو فرماتے ہوئے نماز جمعہ کے متعلق سنا کہ آپ نے فرمایا کہ اگر تم عجلت میں ہو تو کوئی حرج نہیں اگر تم سورہ جمعہ اور منافقین کے علاوہ کوئی دوسرا سورہ پڑھ لو ۔ اور روز جمعہ کا غسل طلوع فجر سے لیکر زوال آفتاب تک ہے اور یہ سنت واجبہ ہے اسکو وضو سے شروع کرنا چاہیئے ۔

١٢٢٨ - اور حضرت امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام پنجشبہ ہی سے جمعہ کا اہتمام شروع کر دیا کرتے تھے ۔ 

١٢٢٩ - اورحلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا نماز جمعہ کا وقت زوال آفتاب ہے اور سفر میں بھی نماز ظہر کا وقت زوال آفتاب ہے اور جمعہ کے دن عصر کا وقت حالت حضر میں وہ ہے جو نماز ظہر کا وقت جمعہ کے علاوہ دوسرے ایام میں ہوتا ہے ۔

١٢٣٠ - اور حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جب امام جمعہ کا خطبہ دے تو اس وقت کوئی بات نہیں کرنی چاہیئے اور خطبہ کی طرف التفات ہونی چاہیئے جیسے نماز میں ۔ اور نماز جمعہ جو دو رکعت قرار دیدی گئی ہے وہ دو خطبوں کی وجہ سے اور ان دونوں کو آخر کی دو رکعتوں کے عوض قرار دیدیا گیا ہے۔ چنانچہ یہ دونوں خطبے بھی نماز ہی ہیں جب تک کہ امام منبر سے نہ اترے ۔

١٢٣١ - اور علاء نے محمد بن مسلم سے انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب امام جمعہ کے خطبہ سے فارغ ہو جائے تو اگر کوئی شخص کلام کرے تو کوئی حرج نہیں ان دونوں خطبوں اور نماز جمعہ کے درمیان خواہ وہ قراءت سن رہا ہو یا نہ سن رہا ہو یہ اس کیلئے کافی ہے ۔

١٢٣٢ - سماعہ نے ان ہی جناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ امام کے ساتھ جمعہ کی نماز دو رکعت ہے اور جو اکیلے پڑھے تو چار رکعت ہے ۔

١٢٣٣ - حماد بن عثمان نے عمران حلبی سے روایت کی ہے اس کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جو جمعہ کی نماز چار رکعت پڑھ رہا ہے کیا وہ اس میں قراءت بآواز بلند کرے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور دوسری رکعت میں قنوت بھی ۔ 
اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رخصت ہے اور اجازت ہے مگر اصل یہ ہے کہ اسکو بآواز بلند اس وقت پڑھا جائے گا جب خطبہ ہو اور جب انسان اکیلیے پڑھ رہا ہے تو وہ بالکل ایسی ہی ہے جیسی تمام دنوں میں نماز ظہر ہوتی اور اس میں خفی آواز سے قراءت ہوگی اور اسی طرح سفر میں جو شخص نماز جمعہ جماعت کے ساتھ بغیر خطبہ کے پڑھے تو وہ قراءت بلند آواز سے کرے گا اگر چہ اس کیلئے یہ نئی بات ہو گی اور اسی طرح اگر کوئی شخص سفر میں خطبہ کے ساتھ دو رکعت پڑھے تو اس میں قراءت بلند آواز سے کرے گا ۔

١٢٣٤ - فضل بن عبدالملک نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر کسی نے نماز جمعہ کی ایک رکعت کو بھی پالیا تو اس نے نماز جمعہ کو پالیا ۔ اور اگر اس سے وہ بھی فوت ہو گئی تو وہ چار رکعت پڑھے ۔ 

١٢٣٥ - حلبی نے ان جناب سے روایت کی ہے کہ اگر کسی نے امام کو آخری رکعت کے رکوع سے پہلے پالیا تو اس نے نماز کو پالیا ۔ اور اگر اس نے امام کو رکوع کے بعد پایا تو پھر وہ چار رکعت ہے بمنزلہ ظہر کے (جو تمام ایام میں ہوتی ہے) ۔

١٢٣٦ - عبدالرحمن بن حجاج نے حضرت امام ابو الحسن علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جس نے بروز جمعہ جماعت میں نماز پڑھی اور جب امام نے رکوع کیا تو لوگوں کے اژدھام نے اسکو دیوار یا ستون تک پہنچا دیا نتیجہ میں نہ وہ رکوع کر سکا اور نہ سجدہ کر سکا یہاں تک کہ لوگوں نے سجدہ سے اپنے سر اٹھالئے اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ رکوع کر کے اٹھے اور صف سے ملحق ہو جائے جبکہ ابھی لوگ حالت قیام میں ہیں یا وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ رکوع کرے اور سجدہ کرے پھر صف میں کھڑا ہو جائے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ 

١٢٣٧ - سلیمان بن داؤد منقری نے حفص بن غیاث سے روایت کی ہے انکا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا ایک ایسے شخص کے متعلق کہ جو نماز جمعہ میں شریک ہوا اور لوگوں کا بہت اژدھام تھا نتیجہ میں وہ امام کے ساتھ صرف تکبیر کہہ سکا اور رکوع کر سکا مگر سجدہ نہیں کر سکا کہ اتنے میں امام اٹھ کھڑا ہوا اور اب لوگ دوسری رکعت میں ہیں اور یہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے کہ اتنے میں امام رکوع میں آگیا اور اب وہ اژدھام مردم کی وجہ سے دوسری رکعت میں رکوع تو نہیں کر سکا مگر سجدہ کرنے پر قادر ہو گیا تو اب وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا پہلی رکعت میں اسکی رکوع تک نماز درست ہو گئی صرف سجدہ رہ گیا ۔ اب جب کہ اس نے دوسری رکعت میں سجدہ کیا تو اگر اس نے ان دونوں سجدوں کو اول کی نیت سے کیا ہے تو پہلی رکعت اسکی مکمل ہو گئی اور جب امام سلام پڑھ لے تو یہ اٹھے اور ایک رکعت پڑھے اور اس میں سجدہ کرے پھر تشہد پڑھے اور سلام پڑھے۔ اور اگر اس نے ان دو سجدوں کو پہلی رکعت کی نیت سے نہیں کیا ہے تو یہ نہ پہلی رکعت کے لئے کافی ہے اور نہ دوسری رکعت کیلئے کافی ہے اسکو چاہیئے کہ وہ دو سجدے پہلی رکعت کی نیت سے کرے اور اسکے بعد ایک رکعت پوری پڑھے اور اس میں سجدہ کرے ۔

١٢٣٨ - ربعی بن عبد اللہ اور فضیل بن لیسار نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ سفر میں نہ نماز جمعہ ہے نہ نماز عید الفطر ہے اور نہ نماز عید الاضحی ہے ۔

١٢٣٩ - ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر شب جمعہ کو شام سے لیکر صبح تک عرش کے اوپر منادی کراتا رہتا ہے کہ آگاہ رہو جو مومن اس شب طلوع فجر سے پہلے تک اپنی آخرت اور دنیا کیلئے دعا کرے گا میں اسے قبول کروں گا ۔ آگاہ رہو جو مومن طلوع فجر سے پہلے تک میری بارگاہ میں اپنے گناہوں سے تو بہ کرے گا میں اسکی توبہ قبول کرونگا۔ آگاہ رہو کہ جو مومن تنگی زرق میں مبتلا  ہے اگر وہ طلوع فجر سے پہلے تک مجھ سے زیادتی رزق کیلئے دعا کرے گا تو میں اسکا رزق وسیع کر دونگا ۔ آگاہ رہو جو مومن بیمار ہے اگر وہ قبل طلوع فجر مجھ سے شفا کی درخواست کرے گا تو میں اسے شفا دیدونگا ۔ آگاہ ہو کہ جو مومن محبوس و مغموم ہے اگر وہ مجھ سے قید سے رہائی کی التجا کرے گا تو میں اس کی رہائی کی راہ کھول دونگا۔ آگاہ رہو جس مومن پر ظلم ہوا ہے اگر وہ طلوع فجر سے پہلے اس ظلم کا بدلہ لینے کیلئے مجھ سے درخواست کرے تو میں اسکی مدد کرونگا اور اس کے ظلم کا بدلہ لوں گا۔
                            آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مسلسل طلوع فجر تک یہ منادی کراتا رہتا ہے ۔ 

١٢٤٠ - عبد العظیم بن عبداللہ الحسنی رضی اللہ عنہ نے ابراہیم بن ابی محمد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے عرض کیا فرزند رسول آپ اس حدیث کے متعلق کیا فرماتے ہیں جسے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالٰی ہر شب جمعہ کو دنیاوی آسمان پر اترتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ لعنت کرے ان تحریف کرنے والوں پر جو کلام کو اسکے موقع و محل سے ہٹا دیتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ہر گز ارشاد نہیں فرمایا بلکہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی ہر رات کے آخری تہائی حصہ میں اور شب جمعہ کے ابتدائی حصہ میں ایک ملک کو دنیاوی آسمان پر نازل کرتا ہے اور اسے حکم دیتا ہے اور وہ اعلان کرتا ہے کیا کوئی سوال کرنے والا ہے جسے میں عطا کروں کیا کوئی تو بہ کرنے والا ہے جسکی تو بہ میں قبول کروں ۔ کیا کوئی طلب مغفرت کرنے والا ہے جسکی میں مغفرت کر دوں ۔ اور اے خیر کے طلب کرنے والے آگے آ اور اے شر کے طلب کرنے والے پیچھے ہٹ ۔ اور وہ طلوع فجر تک مسلسل یہ ندا دیتا رہتا ہے اور جب فجر طلوع ہو جاتی ہے تو وہ اپنی جگہ ملکوت سماء میں واپس چلا جاتا ہے مجھ سے یہ حدیث بیان کی میرے پدر بزرگوار نے اور انہوں نے اسکی روایت میرے جد نامدار سے کی اورانہوں نے اپنے آبائے کرام سے کی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ۔

١٢٤١ - اور ان جناب سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ آفتاب روز جمعہ سے افضل کسی دن بھی طلوع نہیں ہوا اور وہ دن کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیر المومنین علیہ السلام کو غدیر خم میں اپنا جانشین مقرر کیا وہ جمعہ کا دن تھا ۔ اور امام قائم علیہ السلام کا ظہور بھی جمعہ ہی کے دن ہوگا ۔ اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی قائم ہوگی جس میں اللہ تعالیٰ تمام اولین و آخرین کو ایک جگہ جمع فرمائے گا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ذَٰلِكَ يَوْمٌۭ مَّجْمُوعٌۭ لَّهُ ٱلنَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌۭ مَّشْهُودٌۭ (یہ وہ دن ہو گا جس دن سارے جہان کے لوگ جمع کئے جائیں گے اور یہی وہ دن ہوگا کہ ہماری بارگاہ میں سب حاضر کئے جائیں گے) (سورہ ھود آیت نمبر ١٠٣) ۔ 

١٢٤٢ - محمد بن مسلم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے حضرت یعقوب علیہ السلام کے اس قول کے متعلق دریافت کیا جو انہوں نے اپنے فرزندوں سے کہا کہ ”سوف استغفر لكم ربی “ میں اپنے رب سے تم لوگوں کیلئے مغفرت کیلئے دعا کروں گا۔ فرمایا اس دعا کو انہوں نے شب جمعہ کی سحر تک کیلئے مؤخر کیا تھا ۔

١٢٤٣ - اور ابو بصیر نے ان دونوں ائمہ علیہا السلام میں سے کسی ایک سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کوئی بندہ مومن اپنی حاجت کیلئے اللہ سے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالی اس دعا کو جو اس نے مانگی ہے اس کی حاجت پوری کرنے کیلئے روز جمعہ تک کیلئے مؤخر کر دیتا ہے تا کہ یوم جمعہ کی فضیلت خصوصی ظاہر ہو جائے ۔

١٢٤٤ - داود بن سرحان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے قول خدا وَشَاهِدٍۢ وَمَشْهُودٍۢ اور گ ود ( اور گواہ کی اور جسکی گواہی دی جائے گی) (سورہ البروج آیت نمبر ۳) کے متعلق روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا شاہد سے مراد یوم جمعہ ہے ۔ 

١٢٤٥ -  اور معلی بن خنیس نے ان ہی جناب سے یہ بھی روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تم میں جس شخص کو روز جمعہ کی توفیق اللہ دے اسکو چاہیے کہ سوائے عبادت کے اور کسی شے میں مشغول نہ ہو اس لئے کہ اس میں بندوں کی مغفرت کی جاتی ہے اور ان پر رحمت نازل کی جاتی ہے ۔

١٢٤٦ - اور اصبغ بن نباتہ نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ شب جمعہ ایک روشن شب اور اس کا دن ایک روشن دن ہے جو شخص شب جمعہ میں مرتا ہے اللہ تعالٰی اس کیلئے فشار قبر سے براءت لکھ دیتا ہے اورجو شخص جمعہ کے دن مرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کیلئے جہنم سے براءت کا پروانہ لکھ دیتا ہے ۔

١٢٤٧ - ہشام بن حکم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے ایک شخص کے متعلق کہ وہ کچھ کار خیر مثلا صدقہ و صوم وغیرہ کی طرح کی کوئی چیز کرنا چاہتا ہے ۔ آپ نے فرمایا مستحب ہے کہ اس طرح کار خیر جمعہ کو کرے اس لئے کہ یوم جمعہ میں عمل دو گنا ہو جاتا ہے ۔ 

١٢٤٨ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اپنے اہل وعیال کیلئے جمعہ کے دن کچھ پھل اور کچھ گوشت وغیرہ خرید کر لے جایا کرو کہ وہ جمعہ کے آنے سے خوش ہو جائیں ۔

١٢٤٩ - اور ابراہیم بن ابی البلاد کی روایت میں ہے جو انہوں نے زرارہ سے اور انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کی ہے آپ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن شعر پڑھے گا اس کا مزا وہ اسی دن چکھے گا ( اور اسکو سزا مل جائیگی) ۔ 

١٢٥٠ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم لوگ کسی شیخ و بزرگ کو دیکھو کہ وہ جمعہ کے دن ایام جاہلیت کی باتیں کر رہا ہے تو اسکا سر توڑو خواہ پتھر سے کیوں نہ ہو ۔

١٢٥١ - عبداللہ بن سنان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ جو شخص شب جمعہ بعد مغرب کے نافلہ کے آخری سجدے میں یہ کہے اور اگر ہر شب کو یہ کہے تو افضل ہے اَللّهُمَّ إِنْىِّ أَسْأَلُكَ بِوَجْهِكَ الْكَرِيْمِ وَاِسْمِكَ الْعَظِيْمِ أَنْ تُصَلِّىَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَ أِنْ تَغْفِرَ لِىْ ذنبِىُ الْعَظِيْمِ (اے اللہ میں مجھے تیرے وجہ کریم اور تیرے اسم عظیم کا واسطہ دیکر کہتا ہوں کہ تو محمد اور انکی آل پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور میرے عظیم گناہوں کوبخش دے) یہ سات مرتبہ کہے ۔ تو جوں ہی وہ سلام پھیرے گا اللہ اسکی مغفرت کر دیگا ۔
نیز فرمایا کہ پنجشبہ کی شام اور جمعہ کی شب کو ملائکہ آسمان سے اپنے ساتھ سونے کے قلم اور چاندی کی تختیاں لئے ہوئے نازل ہوتے ہیں اور وہ پنجشبہ کی شام جمعہ کی شب اور جمعہ کے دن غروب آفتاب تک سوائے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کے اور کچھ لکھتے ہی نہیں ۔

١٢٥٢ - اور جمعہ کے دن صبح کو اپنی ضروریات کے لئے دوڑ دھوپ مکروہ ہے اور یہ نماز جمعہ کی وجہ سے مکروہ ہے اور نماز کے بعد جائز ہے اس میں برکت ہوتی ہے ۔ یہ حدیث حضرت ابو الحسن علی ابن محمد علیہما السلام سے سریّ کے جواب میں وارد ہوئی ہے ۔

١٢٥٣ - ابو ایوب خزاز نے ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق دریافت کیا فَإِذَا قُضِيَتِ ٱلصَّلَوٰةُ فَٱنتَشِرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَٱبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ ( سورہ جمعہ) تو آپ نے فرمایا نماز جمعہ کے دن کیلئے ہے اور زمین پر پھیلنا، سنیچر کے دن کیلئے ہے ۔ 

١٢٥٦ - نیز آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ سنیچر بنی ہاشم اور اتوار بنی امیہ کیلئے ہے لہذا اتوار کو کسی کام کے اختیار کرنے سے پرہیز کرو ۔

١٢٥٥ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی کہ پروردگار میری اُمت کے لئے سنیچر کی اور پنجشبہ کی صبح کو
مبارک قرار دے ۔

١٢٥٦ - حضرت امام رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو چاہیئے کہ وہ خوشبو لگانا کسی دن بھی نہ چھوڑیں اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایک دن بعد ایک دن اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو جمعہ کو تو چھوڑنا ہی نہیں چاہیئے ۔

١٢٥٧ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کسی جمعہ کے دن خوشبو نہ ملتی تھی تو آپ وہ کپڑا منگواتے جو زعفران سے رنگا ہوا ہو اس پر پانی چھڑکتے پھر اسکو اپنے ہاتھ سے مس کرتے اور اپنے چہرے پر ملتے ۔

١٢٥٨ - اور محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب دو (۲) قریوں (گاؤوں) کے درمیان تین میل کا فاصلہ ہو تو کوئی حرج نہیں اگر یہاں بھی جمعہ کی نماز ہو اور وہاں بھی جمعہ کی نماز ہو اور دو جماعتوں کے درمیان تین میل سے کم فاصلہ نہ ہونا چاہیئے ۔ 

١٢٥٩ - نیز آنجناب نے فرمایا کہ ملائیکہ مقربین ہر جمعہ کے دن اپنے ساتھ چاندی کے صفحات اور سونے کے قلم لیکر آتے
ہیں اور تمام مساجد کے دروازوں پر نور کی کرسی لگا کر بیٹھ جاتے ہیں اور لکھتے رہتے ہیں کہ جمعہ کی نماز میں پہلا کون آیا دوسرا کون آیا یہاں تک کہ امام نماز پڑھا کر نکل جائے اور جب امام نکل جاتا ہے تو یہ بھی صحیفہ کو لپیٹ لیتے ہیں ۔

١٢٦٠ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص نماز جمعہ میں ایمان کے ساتھ اور اپنے عمل کا احتساب کرتا ہوا آئے ( تو اس کے سارے گناہ محو کر دیئے جاتے ہیں اور) اسکا عمل از سر نو شروع ہوتا ہے ۔

١٢٦١ - حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص پنجشبہ کو دوا نہ پیئے تو عرض کیا گیا یا امیر المومنین یہ کیوں ؟ آپ نے فرمایا تا کہ نماز جمعہ میں آنے کیلئے وہ کمزور نہ ہو جائے ۔

١٢٦٢ - نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر واعظ اپنے وعظ سنے والوں کیلئے قبلہ بنتا ہے اور وعظ سننے والے واعظ کیلئے قبلہ بنتے ہیں ۔ یعنی نماز جمعہ و نماز عیدین اور نماز استسقاء میں ۔

١٢٦٣ - امیر المومنین علیه السلام نماز جمعہ کیلئے خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا ۔
1263 Dua - 1.jpg

1263 Dua - 2.jpg

خطبہ جمعہ کا ترجمہ

حمد اس اللہ کی جو حاکم و سر پرست و لائق حمد صاحب حکمت و صاحب بزرگی ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ غیب کا جاننے والا ہے مخلوق کو خلق کرنے والا ہے ۔ پانی کے قطرات برسانے والا ہے ۔ دنیا و آخرت کے تمام امور کو درست کرنے والا ہے ۔ آسمان اور زمینوں کا مالک و وارث ہے ۔ اس کی شان ایسی عظیم ہے کہ جسکے مثل کوئی شے نہیں ۔ اس کی عظمت کے سامنے ہر شے پست اور اسکی عزت کے سامنے ہر شے ذلیل ہے اسکی قدرت کے سامنے ہر شے سر تسلیم خم کئے ہوئے اسکی ہیبت کے سامنے ہر شے دم بخود، اور ربوبیت کے سامنے ہر شے سرنگوں ہے ۔ یہ وہ ذات ہے جو آسمان کو سنبھالے ہوئے ہے کہ وہ بغیر اسکے اذن کے زمین پر نہ گرے گا اور بغیر اسکے حکم کے قیامت قائم نہ ہوگی بغیر اسکے علم کے آسمانوں اور زمینوں میں کوئی شے پیدا نہ ہو گی ۔ جو کچھ ہو چکا ہم اس پر اس کا شکر کرتے ہیں اور جو کچھ آئیندہ ہو گا ہم اس میں اسکی مدد چاہتے ہیں ہم اس سے طلب مغفرت کرتے اوراُس سے ہدایت کے طلبگار ہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس اکیلے اللہ کے اسکا کوئی شریک نہیں ۔ وہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے ۔ سرداروں کا سردار ہے وہ تمام آسمانوں اور زمینوں پر تسلط رکھتا ہے سب پر غالب ہے سب سے بڑا اور سب سے بلند ہے وہ صاحب شکوہ اور بزرگی ہے ۔ قیامت کے دن کا حاکم ہے اور ہمارے اگلے آباؤ اجداد کا رب ہے ۔ 
اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ محمد اسکے بندے اور اسکے رسول ہیں اس نے ان کو حق کے ساتھ حق کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق پر شاہد بنا کر بھیجا چنانچہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو جیسا اس نے حکم دیا تھا پہنچا دیا نہ زیادتی کی نہ کمی اور اللہ کی راہ میں اسکے دشمنوں سے جہاد کیا جس میں نہ کوئی کمزوری دکھائی نہ ستی اور صبر واحتساب کے ساتھ اللہ کے بندوں میں اللہ کیلئے نصیحتیں فرماتے رہے پھر اللہ تعالیٰ نے انکی روح قبض فرمائی اس حال میں کہ اللہ ان کے عمل سے راضی رہا ان کی کوشش کو قبول کیا اور ان کی مغفرت فرمائی ۔
اے اللہ کے بندوں میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرو اور ان گزرتے ہوئے ایام کے اندر اللہ کی اطاعت میں جو بھی عمل حسب استطاعت تم سے ہو سکے اسکو غنیمت سمجھو ۔ اور اس دنیا کو ترک کر دو اس لئے کہ اگر تم اس کو ترک نہ کرنا چاہو گے تو وہ خود تم کو ترک کر دیگی ۔ اور اگر تم اسکو جدید اور نئی بنانا چاہو گے تو وہ تمہیں پرانا اور بوڑھا بنا دے گی ۔ تم لوگوں کی اور اسکی مثال ان سواروں جیسی ہے کہ وہ راستے پر چلے اور تقریباً انہوں نے راستہ طے کر لیا ۔ اور ایک نشان کی طرف بڑھے اور تقریباً وہ وہاں تک پہنچ گئے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شے منزل کی طرف روانہ کر دی جاتی ہے اور وہ چلتے چلتے اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی کا ایک دن باقی ہے اور وہ اس سے آگے نہیں بڑھتا اور سب سے حریص طالب دنیا جد و جہد میں مصروف رہتے ہیں بالآخر دنیا کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ۔ لہذا تم لوگ دنیاوی عزت و وقار کے حصول میں ایک دوسرے کا مقابلہ نہ کرو اور دنیا کی زینتوں اور نعمتوں کو دیکھ کر مبہوت نہ ہو جاؤ۔ اور اسکی شدت اور سختیوں کو دیکھ کر واویلا نہ کرو ۔ اس لئے کہ یہ دنیاوی عزت و وقار ختم ہونے پر ہے اور اسکی زینتیں اور نعمتیں مائل بہ زوال ہیں اور اس کی شدت، اور سختیاں ختم ہو جائینگی ۔ ان میں سے ہر ایک کی مدت اپنی انتہاء کو پہنچے گی ۔ اس میں ہر زندہ فنا اور بلاء کی طرف مائل ہے ۔ اگر تم عقل رکھتے ہو تو کیا تم لوگوں کے لئے اپنے اسلاف کے آثار اور اپنے گذشتہ آباء واجداد کی زندگیاں تمہاری عبرت اور نگاہ رکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے جو لوگ گزر گئے وہ واپس نہیں آئے اور جو تم میں سے باقی بچے ہیں وہ ٹہرنے والے نہیں ہیں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے وَحَرَٰمٌ عَلَىٰ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـٰهَآ أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ( اور جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کر دیا ہے ان پر قیامت کے دن ہمارے پاس لوٹ کر نہ آنا حرام ہے) ( سورہ انبیاء آیت نمبر ۹۵)
نیز ارشاد باری تعالی كُلُّ نَفْسٍۢ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ ٱلنَّارِ وَأُدْخِلَ ٱلْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا مَتَـٰعُ ٱلْغُرُورِ ( ہر ذی نفس کیلئے موت کا مزہ ہے اور تم لوگ بھرپور اپنا اجر و ثواب پاؤ گے پس جو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا وہی کامیاب ہو گا اور دنیاوی زندگی تو ایک دھوکے کی چیز ہے) (آل عمران ۱۸۵)
کیا تم لوگ اہل دنیا کو نہیں دیکھتے کہ وہ صبح وشام مختلف احوال میں بسر کرتے ہیں ۔ کسی میت پر رویا جا رہا ہے ، کسی کو تعزیت ادا کی جاری ہے ، کوئی زمین پر گر کر تڑپ رہا ہے ، کوئی بیمار پرسی کر رہا ہے، کسی کی بیمار پرسی کی جارہی ہے ، کوئی جانکنی کے عالم میں ہے، کوئی دنیا کی طلب میں ہے اور موت اسکی طلب میں ہے ، کوئی غفلت میں مبتلا ہے مگر اس سے غفلت نہیں برتی جارہی ہے ۔ اور یہ باقی رہنے والے لوگ بھی گزرے ہوئے لوگوں کے نقش قدم پر جارہے ہیں ۔ اور حمد ہے اس کی جو تمام عالمین کا پروردگار ہے جو سات آسمانوں ، سات زمینوں کا رب ہے اور عرش عظیم کا رب ہے وہ ذات وہ ہے جو اپنے سوا سب کو باقی رکھتا اور فنا کرتا ہے اور اسی کی طرف ساری مخلوق پلٹتی ہے اسی کی طرف تمام کی باز گشت ہے ۔ واضح ہو کہ یہ دن وہ دن ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کیلئے عید قرار دیا ہے یہ تمہارے دنوں کا سردار ہے تمہاری تمام عیدوں سے افضل ہے اور اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں تم لوگوں کو حکم دیا ہے کہ اس دن اس کے ذکر کیلئے سعی کرو لہذا اس دن بڑی رغبت اور خلوص نیت سے کام لو اللہ کی بارگاہ میں خوب گڑ گڑاؤ دعائیں مانگو رحمت و مغفرت کیلئے درخواست کرو ۔ اس لئے کہ اللہ تعالٰی ہر ایک کی دعا کو قبول فرمائے گا اور جو اسکی نافرمانی کرے گا اور اس کی عبادت سے انکار کرے گا اسکو جہنم میں داخل کر دیگا ۔ چنانچہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِیۡ سَیَدۡخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیۡنَ (تم مجھ سے دعا مانگو میں قبول کرونگا اور جو لوگ ہماری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلیل و خوار جہنم میں داخل ہونگے) (سورہ مومن آیت نمبر٦٠) اور اس دن میں ایک ایسی ساعت مبارک ہے کہ بندہ مومن اس میں اللہ سے جو مانگے گا اللہ تعالٰی اسکو عطا کر دیگا ۔ اور نماز جمعہ ہر مومن پر واجب ہے سوائے بچے ، مریض ، مجنوں ، بہت بوڑھے ، نابینیا ، مسافر، عورت ، عبد مملوک کے اور اس شخص کے جو دو (۲) فرسخ دوری پر ہو ۔ اور اللہ تعالٰی ہمارے اور تم لوگوں کے پچھلے گناہوں کو جو ہماری گزری عمر میں سرزد ہوئے ہیں معاف کرے اور ہمیں اور تم لوگوں کو اپنی آئیندہ زندگی میں گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ رکھے ۔ اور بہترین کلام اور بلیغ ترین وعظ اللہ کی کتاب ہے ۔ میں پناہ چاہتا ہوں اللہ کی شیطان رجیم سے بیشک اللہ تعالٰی ہی فتاح و علیم ہے بسم الله الرحمن الرحیم پھر بعد سورہ الحمد کے قل هو الله احد يا قل يا أيها الكافرون يا اذا زلزلت الارض زلزالها يا الهكم التكاثر یا سورہ العصر پڑھا جائے اور وہ سورہ جو ہمیشہ پڑھا جاتا ہے وہ سورہ قل ھو اللہ احد ہے۔ اس ( خطبے) کے بعد بیٹھ جائے اور پھر کھڑا ہو اور کہے

Khutba.jpg

ہر طرح کی حمد اللہ کیلئے ہے ہم لوگ اسکی حمد کرتے ہیں اور اس سے مدد چاہتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اس پر توکل کرتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اسی اللہ کے وہ اکیلا ہے اسکا کوئی شریک نہیں اور محمد اسکے بندے اور اسکے رسول ہیں اور ان پر اور ان کی آل پر اللہ تعالیٰ کا درود و سلام ہو اور اسکی مغفرت اور اسکی رضا ہو ۔ پروردگار اپنی رحمتیں نازل کر اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے نبی پر ایسی رحمتیں جو روز افزوں اور پاک وصاف ہوں جس سے تو انکے درجہ کو بلند کرے اور انکے فضل و شرف کو ظاہر کرے ۔ اور رحمت نازل فرما محمد وآل محمد پر اور برکت عطا فرما محمد وآل محمد کو جیسا کہ تو نے رحمت نازل کی برکت عطا فرمائی اور رحم فرمایا ابراہیم اور آل ابراہیم پر بیشک تو لائق حمد اور صاحب بزرگی ہے ۔
پروردگار تو ان اہل کتاب کافروں کو عذاب میں مبتلا کر جو تیری راہ پر چلنے سے لوگوں کو روکے ہوئے ہیں اور تیری آیتوں سے انکار کرتے ہیں تیرے رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں پروردگار ان میں آپس میں پھوٹ ڈال دے ان کے دلوں میں رعب بٹھا دے اور ان پر اپنا عذاب اپنی سزا اور اپنی طرف سے وہ جنگ مسلط کر جسکو یہ مجرم قوم رد نہ کر سکے ۔ 
پروردگار تمام مومنین و مومنات و مسلمین و مسلمات کے گناہوں کو عفو فرما ۔ پروردگار تقوی کو انکی زاد راہ بنا دے ۔ ایمان و حکمت انکے دلوں میں ڈال دے اور انہیں اسکی توفیق دے کہ وہ شکر ادا کریں تیری ان نعمتوں کا جو تو نے ان پرنازل کی ہیں اور وہ اس عہد کو پورا کریں جو تونے ان سے لیا ہے اے اللہ حق اور خالق خلق ۔
پروردگار وہ مومنین و مومنات اور مسلمین و مسلمات جو وفات پاچکے ہیں انکی مغفرت فرما نیز ان لوگوں کی بھی جو ان کے بعد ان سے ملحق ہونگے تو صاحب عزت و حکمت ہے ۔

إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَـٰنِ وَإِيتَآئِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ وَٱلْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالٰی انصاف اور لوگوں کے ساتھ نیکی کرنے اور قرابتداروں کو کچھ نہ کچھ دینے کا حکم دیتا ہے اور بدکاری و ناشائستہ حرکتوں اور سرکشی کرنے سے منع کرتا ہے اور تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو) (سوره النحل آیت نمبر ۹۰) 
تم لوگ اللہ کو یاد کرو اللہ تم لوگوں کو یاد کرے گا اس لئے کہ وہ اپنے یاد کرنے والوں کو یاد رکھتا ہے اور اللہ سے اسکی رحمت اور فضل و کرم کا سوال کرو۔ اس لئے کہ جو بھی دعا کرنے والا اس سے دعا کرتا ہے وہ اسکو مایوس نہیں کرتا رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ حَسَنَةًۭ وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ (اے ہمارے پالنے والے ہمیں دنیا میں نصیحت دے اور آخرت میں ثواب دے اور ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا) (سورہ البقرہ ٢٠١)
 
١٢٦٤ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ سب سے پہلے جس نے جمعہ کے دن خطبہ کو نماز پر مقدم کر دیا وہ عثمان تھے اس لئے کہ جب وہ نماز پڑھا لیتے تھے تو لوگ ان کا خطبہ سننے کیلئے ٹہرتے نہ تھے منتشر ہو جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم ان کا وعظ سن کر کیا کریں گے وہ خود تو اس پر عمل کرتے نہیں اور انہوں نے دین میں کیا کیا بدعتیں ایجاد کردیں  - چنانچہ جب انہوں نے یہ دیکھا تو دونوں خطبوں کو نماز پر مقدم کر دیا ۔ اور میں نے اپنے شیخ (استاد) محمد بن حسن بن ولید سے دریافت کیا کہ عامتہ المسلمین نماز جمعہ کے بعد جو تہلیل و تکبیر کیا کرتے تھے وہ کیا تھا ؟ تو آپ نے کہا کہ روایت کی گئی ہے کہ بنی امیہ نماز جمعہ کے بعد تیس مرتبہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام پر لعنت کیا کرتے تھے ۔ مگر جب عمر بن عبدالعزیز والی ہوا تو اس نے لوگوں کو اس امر سے منع کر دیا اور کہا کہ نماز کے بعد تہلیل و تکبیر (لا اله الا الله و الله اكبر) کہنا افضل ہے ۔