Skip to main content

دیگر نماز حاجت

حدیث ١٥٤٣ -  ١٥٤٨

١٥٤٣ - موسی بن قاسم بجلی نے صفوان بن یحییٰ  اور محمد بن سہل سے اور ان دونوں نے اپنے شیوخ سے اور ان لوگوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جب تم کو اللہ تعالٰی سے اپنی کوئی اہم حاجت طلب کرنی ہو تو تین روزے متواتر اور بلاناغہ رکھو ۔ چہار شنبہ اور پنجشبہ اور جمعہ کو اور جب انشاء اللہ جمعہ کا دن آئے تو غسل کرو نیا لباس پہنو اور اپنے گھر کی سب سے اوپری چھت پر چلے جاؤ ۔ اور وہاں دو رکعت نماز پڑھو پھر اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرو اور کہو -

1543..jpg

(اے اللہ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں یہ جانتے ہوئے کہ تو واحد اور صمد ہے اور میری حاجت برآوری پر تیرے سوا اور کوئی قادر نہیں ہے اور اے پروردگار تو خود جانتا ہے کہ جب تیری نعمت مجھ سے پیٹھ پھیرتی ہے تو مجھے شدید طور پر تیری احتیاج ہوتی ہے ۔ اور اب مجھ پر یہ مصیبت آپڑی اور مجھے بتانے کی ضرورت نہیں تو خود جانتا ہے کہ یہ مصیبت کیسے دور ہو ۔ تیری قدرت بہت وسیع ہے اس مصیبت کا دور کرنا تیرے لئے کوئی دشوار نہیں لہذا میں تجھے تیرے اس اسم کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ جس کو تو نے پہاڑوں پر رکھ دیا تو پاش پاش ہو گئے تو نے اس کو آسمان پر رکھ دیا تو وہ پھٹ گیا تو نے اسے ستاروں پر رکھ دیا تو وہ بکھر گئے اور زمین پر رکھ دیا تو وہ پھیل گئی اور میں تجھ سے اس حق کا واسطہ دیکر سوال کرتا ہوں جیسے تو نے محمد اور (ائمہ طاہرین ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ایک کا نام آخر تک) کے پاس ودیعت کیا ہے کہ تو محمد اور ان کے اہلبیت پر رحمت نازل فرما اور میری حاجت پوری کر دے میری مشکل کو آسان کر دے اور اس مہم میں میری مدد فرما اگر تو نے یہ کر دیا تو تیری حمد تیرا شکر اور تو نے یہ نہ کیا تو بھی تیری حمد اور تیرا شکر ۔ تو اپنے حکم میں جور سے کام نہیں لیتا تیرے فیصلہ پر کوئی اتہام نہیں رکھ سکتا تو اپنے عدل میں کبھی ظلم ونا انصافی نہیں کرتا ۔
اسکے بعد اپنا چہرہ زمین پر رکھ دو اور یہ کہو اَللّهُمَّ إِنَّ يُوْنُسْ بِنْ مَتیٰ عَبْدُكَ دَعَاكَ فِيْ بَطْنِ الْحُوْتِ وَ هُوَ عَبُدَكَ فَاسْتَجِبْتَ لَهُ وَأَنَا عَبْدُكَ أَدْعُوكَ فَاسْتَجِبْ لِىْ (اے اللہ تیرے بندے یونس بن متی نے شکم ماہی میں تجھ سے دعا کی وہ تیرے بندے تھے تو نے انکی دعا قبول کی میں بھی تو تیرا ہی بندہ ہوں تو میری دعا کو قبول فرما) ۔ 
         اس کے بعد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جب کبھی مجھے کوئی حاجت لاحق ہوتی ہے تو میں یہ دعا پڑھتا ہوں ۔ اور اس کو پڑھ کر پلٹتا ہوں تو وہ حاجت پوری ہو جاتی ہے۔

١٥٤٤ - سماعہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا جب تم لوگوں میں سے کوئی بیمار ہوتا ہے تو وہ طبیب کو بلاتا ہے اور اس کو نذرانہ دیتا اور جب کسی کو بادشاہ و حاکم سے کوئی حاجت ہوتی ہے تو اسکے دربان کو رشوت دیتا ہے ۔ لہذا جب تم میں سے کسی کو کوئی امر در پیش ہو اور اللہ کی طرف رجوع کرے تو غسل یا وضو کرے اور تھوڑا یا بہت جو ہو سکے صدقہ دے اور مسجد جائے دو رکعت نماز پڑھے پھر اللہ کی حمد و ثناء کرے اور نبی اور اسکے اہلبیت پر درود بھیجے اور یہ کہے اَللّهُمَّ إِنْ عَانَيْتَنِىْ مِنْ مَرْضِيْ (اے اللہ ( تجھے قسم ہے) مجھے میرے مرض سے شفا دے) - أَوْرَدَدْتَنِيْ مِنْ سَفَرِيْ (مجھے میرے سفر سے سلامت گھر واپس کردے) أَوْ عَافَيْتَنِيْ مِمَّا أَخَافُ مِنْ (فلاں فلاں بات سے میں ڈرتا ہوں اس سے مجھے بچالے) تو اللہ تعالی ضرور ایسا کرے گا ۔ اور اس قسم کا پورا کرنا اللہ پر واجب ہوگا اس کے شکر کے سلسلہ میں ۔

١٥٤٥ - اور حضرت علی ابن الحسین علیہ السلام جب کسی امر میں محزون و متفکر ہوتے تو دو موٹے موٹے اور سخت لباس پہنتے پھر آخر شب میں دورکعت نماز پڑھتے اور اسکے آخری سجدہ میں سو (١٠٠) مرتبہ سبحان اللہ کہتے سو (١٠٠) مرتبہ الحمد لله کہتے سو (١٠٠) مرتبہ لا الہ الا اللہ کہتے اور سو مرتبہ اللہ اکبر پھر اپنی تمام کو تاہیوں کا اعتراف کرتے جو یاد آتیں ان کا اقرارکرتے اور جو یاد نہ آئیں ان کا مجملاً اقرار کرتے پھر اپنے گھٹنے زمین پر ٹیک کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے تھے ۔ 

١٥٤٦ - یونس بن عمار سے روایت کی گئی ہے اس کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ ایک شخص مجھے بہت اذیت پہنچاتا ہے آپ نے فرمایا اس کیلئے بددعا کرو میں نے عرض کیا کہ میں نے بددعا تو کی ہے ۔ آپ نے فرمایا اس طرح نہیں بلکہ پہلے اپنے گناہوں کو ترک کرو ۔ روزہ رکھو نماز پڑھو اور صدقہ دو اور جب شب کا آخری حصہ ہو تو پورا وضو کرو پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھو پھر سجدہ کی حالت میں یہ کہو - اَللَّٰهُمَّ إِنَّ فَلَانَ بْنَ فَلَانٍ قَدْ آذَانِيْ اَللَّٰهُمَّ أَسْقَمْ بَدَنَهٌ، وَ اقْطَعَ أَثَرَهٌ وَ انْقُصَ أَجَلَهٌ، وَعَجِّلْ لَهُ ذَلِكَ فِيْ عَامِهِ هَٰذَا (اے الله فلاں فلاں نے مجھے بہت ستایا ہے اے اللہ تو اسکے بدن کو بیمار کر دے اس کے نشان کو مٹا دے اس کی عمر کو کم کر دے اس میں جلدی کر اور اسی سال یہ کر دے)
                    راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایسا ہی کیا اور تھوڑے ہی دن بعد وہ مر گیا ۔ 

١٥٤٧ - عمر بن اذنیہ نے آل سعد کے ایک بزرگ سے روایت کی ہے ان کا بیان ہے کہ میرے اور اہل مدینہ میں سے ایک شخص کے درمیان خصومت اور جھگڑا چل رہا تھا جس سے عظیم خطرہ محسوس ہو رہا تھا تو میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں گیا اور ان سے بیان کیا اور عرض کیا کہ اس سلسلہ میں کوئی دعا ہمیں تعلیم کر دیں شاید اللہ تعالٰی میرا حق مجھ کو اس سے واپس دلا دے ۔ آپ نے فرمایا جب تم نے دشمن کا ارادہ کر لیا ہے تو جاؤ ( مسجد رسول میں) قبر اور منبر کے درمیان دو رکعت یا چار رکعت نماز پڑھو اور اگر چاہو تو اپنے گھر میں پڑھو ۔ اور اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہاری مدد کرے اور کوئی چیز جو تم کو میسر ہو لو اور اس فقیر و مسکین کو صدقہ دید و جو سب سے پہلے تمہیں ملے ۔
               راوی کا بیان ہے کہ آنجناب نے جیسا کہ حکم دیا تھا میں نے ویسا ہی کیا تو میری حاجت پوری ہو گئی اور میری زمین اللہ نے مجھے واپس کر دی ۔ 

١٥٤٨ - زیاد قندی نے عبدالرحیم قصیر سے روایت کی ہے اس کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں آپ پر قربان میں نے ایک دعا اختراع کی ہے آپ نے فرمایا اپنی اختراع کو چھوڑو جب تمہیں کوئی امر اہم پیش آجائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے فریاد کرو اور دو رکعت نماز پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کرو۔ میں نے عرض کیا میں یہ کیسے کروں ؟ آپ نے فرمایا پہلے غسل اور وضو کرو پھر دو رکعت نماز پڑھو جیسے نماز فریضہ پڑھتے ہو اس میں تشہد پڑھو جو تشہد تم نماز فریضہ میں پڑھتے ہو ۔ جب تشہد سے فارغ ہو تو سلام پڑھو اور یہ کہو ۔

1548.JPG

(اے اللہ تو سلام ہے اور تیری طرف سے سلام ہے اور تیری ہی طرف سلام واپس ہوتا ہے اے اللہ تو رحمت نازل فرما محمدؐ وال محمدؐ پر ۔ محمدؐ وآل محمدؐ کو میری جانب سے سلام پہنچا دے اور ان سب پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اسکی برکت ہو پروردگار یہ دونوں رکعتیں میری جانب سے تیرے رسول کیلئے ہد یہ ہیں ۔ ان دونوں کا ثواب مجھے عطا کر جس کی امید میں نے تجھ سے کی ہے اور تیرے رسول کے بارے میں کی ہے ۔ اے مومنین کے ولی)

پھر کمرے میں جا کر چالیسں (٤٠) بار کہو - يَا حَيُّ يَا قيوم ، يَاحَيًّا لَايَمُوْتُ ، ياحى لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِ كْرَامِ ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ  (اے سدا زندہ رہنے والے اے سدا قائم رہنے والے ۔ اے وہ زندہ جس کو کبھی موت نہ آئے گی اے زندہ رہنے والے ، نہیں ہے کوئی اللہ سوائے تیرے ۔ اے صاحب جلال اور صاحب بزرگی ۔ اے رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے) پھر اپنا داہنا ر خسار زمین پر رکھو اور یہی چالیس (٤٠) مرتبہ کہو پھر اپنا بایاں رخسار زمین پر رکھو اور یہی چالیس (٤٠) مرتبہ کہو پھر اپنے دونوں ہاتھ اپنی گردن کی طرف لے جاؤ اور اپنی شہادت کی انگلی کو چالیس مرتبہ ہلاؤ اور فریاد کرو پھر اپنی داڑھی اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑو اور گریہ کرو یا اگر رونا نہ آئے تو رونے والے کی صورت بناؤ اور کہو۔ یَا مُحَمَّدُ یَا رَسُوْلَ اللهِ أَشْكُو إِلَى اللهِ وَ إِلَيْكَ حَاجَتِيْ وَأَشْكُوْ إِلَى أَهْلِ بَيْتِكَ الرَّاشِدِيْنَ حَاجَتِيْ وَبِكُمْ أَتَوَجَّهُ إِلَى اللَّهِ فِي حاجَتِيْ (اے محمدؐ اے رسول اللہ میں شکایت کرتا ہوں اللہ کی طرف اور آپ کی طرف اپنی حاجت کے متعلق اور میں شکایت کرتا ہوں آپ کے اہلبیت راشدین سے اپنی حاجت کے متعلق اور آپ لوگوں کے واسطہ سے اپنی حاجت کیلئے اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں) پھر سجدہ میں جاؤ اور یا اللہ یا اللہ اس وقت تک کہو جب تک سانس نہ ٹوٹے پھر کہو صل علی محمدؐ وآل محمدؐ ( تو رحمت نازل کر محمدؐ وال محمدؐ پر) اور میرے لئے یہ کر دے ۔
                  حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ کی بارگاہ میں ضامن ہوتا ہوں کہ یہ دعا ختم بھی نہ ہوگی کہ حاجت پوری ہو جائے گی ۔