باب نماز صبح کے بعد سونا مکروہ ہے
حدیث ١٤٣٩ - ١٤٥٢
١٤٣٩ - علاء نے محمد بن مسلم سے اور انہوں نے دونوں آئمہ علیہم السلام میں سے کسی ایک سے روایت کی ہے کہ اسکا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے صبح کے بعد سونے کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اس وقت رزق تقسیم کیا جاتا ہے میں اس وقت کسی شخص کے سونے کو مکروہ سمجھتا ہوں ۔
١٤٤٠ - جابر نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا ابلیس اپنے رات کے لشکر کو غروب آفتاب سے لیکر غروب شفق تک ہر طرف پھیلا دیتا ہے اور اپنے دن کا لشکر طلوع فجر سے لیکر طلوع آفتاب تک پھیلا دیتا ہے اور آپ نے بیان کیا کہ نبی ، علی
علیہ السلام سے فرمایا کرتے تھے کہ ان دونوں ساعتوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر زیادہ کیا کرو ۔ اورابلیس اور اسکے لشکر کے شر سے اللہ تعالی کی پناہ چاہا کرو ان دونوں ساعتوں میں اپنے بچوں کی حفاظت کیا کرو اس لئے کہ یہ دونوں ساعتیں غفلت کی ہوتی ہیں ۔
١٤٤١ - امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ صبح کا سونا منحوس ہے یہ رزق کو دور کرتا ہے ، انسان کے چہرے کا رنگ زرد و بد نما اور متغیر کر دیتا ہے ، اور یہ سونا تو بالکل منحوس ہے اللہ تعالٰی طلوع فجر اور طلوع آفتاب کے درمیان رزق تقسیم فرماتا ہے لہذا اس وقت کے سونے سے پر ہیز کرو۔
١٤٤٢ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ دن کے ابتدائی حصہ میں سونا جہل و فقر ہے اور دوپہر کا سونا اورقیلولہ کرنا نعمت ہے اور بعد عصر سونا حماقت اور مغرب و عشاء کے درمیان سونا رزق سے محروم کر دیتا ہے ۔
اور سونا چار قسم کا ہے ۔ انبیاء اپنے پشت کے بل چت سوتے ہیں اس لئے کہ وہ وحی میں مناجات کرتے ہیں ۔ مومنین اپنی داہنی کروٹ سوتے ہیں کفار کا سونا انکی بائیں کروٹ کا ہے اور شیاطین کا سونا اپنے منہ کے بل پٹ ہوتا ہے ۔
١٤٤٣ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم لوگ کسی کو منہ کے بل سوتا دیکھو تو اس کو جگادو ۔
١٤٤٤ - نیز آپ علیہ السلام نے فرمایا تین چیزیں اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں بغیر کسی بیداری کے نیند ، بغیر کسی حیرت و تعجب کے ہنسی اور پیٹ بھرے پر کھانا ۔
١٤٤٥ - اور ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ میری یاد پہلے اچھی تھی مگر اب بھول جاتا ہوں آپ نے پوچھا کیا تم پہلے قیلولہ کرتے (دوپہر کو سوتے) تھے اس نے کہا جی ہاں ۔ فرمایا کہ اب تم نے چھوڑ دیا ۔ اس نے کہا ہاں ۔ آپ نے فرمایا دوبارہ قیلولہ کرنے لگو۔ اس نے دوبارہ قیلولہ شروع کیا تو اس کا حافظہ پلٹ آیا ۔
١٤٤٦ - اور ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا پانچ اشخاص کو نیند نہیں آتی ۔ وہ شخص جس نے کسی کا خون بہایا ہو ، وہ شخص جس کے پاس مال بہت ہو مگر اس کے پاس کوئی امین نہ ہو ، وہ شخص جس نے مال دنیا کیلئے لوگوں سے جھوٹ اور فریب کی باتیں کی ہوں ، وہ شخص جس پر لوگوں کا قرض بہت زیادہ ہو مگر اس کے پاس کچھ مال نہ ہو ، وہ شخص جو کسی سے محبت کرے اور اس کی جدائی متوقع ہو ۔
١٤٤٧ - روایت کی گئی ہے کہ دو پہر کے وقت قیلولہ کرو اللہ تعالی روزہ دار کو خواب ہی میں کھلا پلا دیتا ہے ۔
١٤٤٨ - اور روایت کی گئی ہے کہ قیلولہ کرو اس لئے کہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا ۔
١٤٤٩ - امام علیہ السلام نے فرمایا کہ صبح کے وقت کا سونا منحوس ہے وہ انسان کو رزق سے محروم اور اس کے چہرے کے رنگ کو زرد کر دیتا ہے ۔ اور طلوع فجر و طلوع آفتاب کے درمیان نبی اسرائیل پر من وسلوی نازل ہوا کر تا تھا چنانچہ جو شخص اس وقت سوتا رہتا اس کا حصہ نازل نہیں ہوتا تھا اور جب بیدار ہوتا اور دیکھتا کہ اس کا حصہ نازل نہیں ہوا تو اسے کسی دوسرے سے مانگنا پڑتا تھا ۔
١٤٥٠ - امام رضا علیہ السلام نے قول خدا فَٱلْمُقَسِّمَـٰتِ أَمْرًا (پھرایک ضروری شے کو تقسیم کرتی ہیں) (سورہ الذایات آیت نمبر ٤) کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں جو نبی آدم پر رزق تقسیم کرتے ہیں فجر اور طلوع آفتاب کے درمیان چنانچہ جو اس وقت سو یا سمجھ لو کہ وہ رزق ہی سے سو گیا ۔
١٤٥١ - اور معمر بن خلاد نے حضرت امام ابو الحسن رضا علیہ السلام سے روایت کی اس وقت کہ جب آپ خراسان میں تھے ۔ راوی کا بیان ہے کہ جب آپ صبح کی نماز پڑھتے تو طلوع آفتاب تک اپنے مصلیٰ پر بیٹھے رہتے اسکے بعد آپ کے پاس ایک تھیلا لایا جاتا جس میں بہت سی مسواکیں ہوتی تھیں اور آپ ایک مسواک کے بعد دوسری مسواک کرنا شروع کرتے اس کے بعد آپ کے پاس کندر حاضر کیا جاتا اور آپ اس کو چباتے پھر اسے چھوڑ دیتے تو مصحف (قرآن مجید) حاضر کیا جاتا اور آپ اس کی تلاوت کرتے ۔
١٤٥٢ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز فجر سے لیکر طلوع آفتاب تک اپنے مصلے پر بیٹھے گا اس کو اللہ تعالی جہنم سے بچالے گا ۔