Skip to main content

باب سفینہ میں نماز

حدیث ١٣٢٠ - ١٣٣٣ 

١٣٢٠ -  عبداللہ بن علی حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کشتی میں نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا قبلہ کی طرف رخ کر کے اپنے دونوں پاؤں پھیلا دے اور اگر کشتی گھومے اور یہ قبلہ کی طرف رخ رکھ سکتا ہے تو ایسا کرے ورنہ کشتی جس طرف رخ کرے اسی رخ پر نماز پڑھتا رہے ۔ کھڑا ہونا ممکن ہو تو کھڑا ہو کر نماز پڑھے ورنہ بیٹھ کر نماز پڑھے ۔ 

١٣٢١ - اور جمیل بن دراج نے آنجناب سے عرض کیا کہ کشتی دریا کے ساحل کے قریب ہے کیا میں اس سے نکل کر نماز پڑھوں ؟
آپ نے فرمایا اسی میں نماز پڑھو کیا تم حضرت نوح علیہ السلام جیسی نماز پر راضی اور خوش نہیں ہو ۔ 

١٣٢٢ - اور ابراہیم بن میمون نے آپ سے عرض کیا کہ ہم لوگ کشتی میں اہواز جاتے ہیں اور اس میں نماز جماعت پڑھتے ہیں آپ نے فرمایا ہاں اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اس نے پھر عرض کیا اور کشتی میں جو کچھ ہے اس پر اور تار کول پر سجدہ کر لیتے ہیں آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ۔

١٣٢٣ - اور منصور بن حازم نے آنجناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تارکول بھی زمین کے بناتات میں سے ہے ۔ 

١٣٢٤ - اور زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ جو کشتی میں نوافل پڑھتا ہے آپ نے فرما یا وہ کشتی کے سر کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لے ۔

(۳۲۵) اور یونس بن یعقوب نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نہر فرات یا اس سے بھی کوئی چھوٹی نہر میں کشتی کے اندر نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اگر تم اس میں نماز پڑھو تو بھی ٹھیک اور اس میں سے نکل کر پڑھو تو بھی ٹھیک ۔ نیز اس نے آپ سے ایک ایسی کشتی میں نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا جو شرقاً وغرباً چل رہی ہے ؟ آپ نے فرمایا تم
قبلہ کی طرف رخ کر کے تکبیر کہو پھر تم کشتی کے ساتھ اس طرف پھرتے رہو جس طرف وہ تم کو پھیر رہی ہے ۔

١٣٢٦ - ہارون بن حمزہ غنوی نے آنجناب سے کشتی میں نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اگر اس پر سامان لدا
ہوا ہے اور اتنی بھاری ہے کہ تم کھڑے ہو جاؤ تو ڈگمگ نہ کرے تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر وہ ہلکی ہے تو اس پر بیٹھ کر نماز
پڑھ لینا کافی ہے ۔

١٣٢٧ - اور علی بن جعفر نے اپنے بھائی حضرت امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک شخص کشتی میں ہے کیا اسکے لئے یہ جائز ہے کہ کشتی پر جو سامان یا گھاس بھوسا ، گیہوں ، جو وغیرہ ہے اس پر چٹائی رکھ کر نماز پڑھ لے آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے ۔

١٣٢٨ - حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم کشتی پر سوار ہو اور وہ چل رہی ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھو اور اگر کھڑی ہوتو کھڑے ہو کر نماز پڑھو ۔

١٣٢٩ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی سے ارشاد فرمایا اگر اللہ تعالٰی نے تمہارے دل میں یہ ارادہ پیدا کیا کہ بحری سفر کرو تو وہ کہو جو اللہ تعالی نے کہا ہے بِسْمِ ٱللَّهِ مَجْر۪ىٰهَا وَمُرْسَىٰهَآ ۚ إِنَّ رَبِّى لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ (خدا ہی کے نام سے اسکا بہاؤ اور ٹہراؤ ہے بیشک میرا رب بخشنے والا اور مہربان ہے) (سورہ ھود آیت نمبر ٤١)
اور جب سمندر میں طوفان آئے تو تم اپنے داہنے جانب رہو اور یہ کہو بِسْمِ اللَّهِ اسْكُنْ بِسَكِينَةِ اللَّهِ وَتَرِ بِقَرَارِ اللَّهِ وَ اهْدَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّابِاللّهِ (بسم اللہ تو ساکن ہو جا الله کے دیئے ہوئے سکون کے ساتھ اور ٹہر جا اللہ کےدیئے ہوئے ٹہراؤ کے ساتھ اور دھیما ہو جا حکم خدا سے اور نہیں ہے کوئی قوت اور کوئی طاقت لیکن اللہ کی دی ہوئی)

١٣٣٠ - محمد بن مسلم نے ان دونوں ائمہ میں سے کسی ایک سے روایت کی ہے انہوں نے ارشاد کیا کہ میرے پدر بزرگوار تجارت کیلئے سمندری سفر کو مکروہ فرمایا کرتے تھے ۔ 

١٣٣١ - اور محمد بن مسلم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سمندر کے سفر کے بارے میں جو ہیجان اور طوفان میں ہو دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ آدمی کو دین سے فریب نہ کرنا چاہیئے (جبکہ اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ تم لوگ خود اپنے ہاتھوں اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو) ۔ 

١٣٣٢ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمندر میں جبکہ طوفان وہیجان ہو تو سفر کرنے کو منع کیا ہے ۔

١٣٣٣ - نیز آنجناب علیہ السلام نے فرمایا کہ کسب معاش کیلئے سمندری سفر اچھا نہیں ہے ۔