Skip to main content

باب تعقیبات نماز

حدیث ٩٤٨ - ٩٦٦ 

٩٤٨ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ نماز واجب کے بعد تمہیں کم از کم اتنا چاہیے کہ یہ کہو ۔ اللهم صل على محمدٍ وَ آلِ مُحَمد اللهم إنا نسألكَ مِنْ كُلِّ خَيْر أَحاطَ بِهِ عِلْمُكَ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ شَرَ أَحَاطَ بِهِ عِلْمُكَ - اللهُم إِنَّا سُأَلَكَ عَافِيَتَكَ فِى جَمِيع أُمُورِنَا كَلِهَا وَ نَعُوذُ بِكَ مِنْ خَزْى الدُّنْيَا وَ عَذَابِ الْآخِرَةِ -
(اے اللہ تو اپنی رحمتیں نازل فرما محمد وآل محمد پر ۔ اے اللہ ہم لوگ تجھ سے سوال کرتے ہیں ہر اس خیر کا جو تیرے احاطہ علم میں ہے ۔ اور تیری پناہ چاہتے ہیں ہر اس شر سے جو تیرے علم کے احاطہ میں ہے اے اللہ ہم لوگ اپنے تمام امور میں تجھ سے خیر و عافیت کے طلبگار ہیں اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے تیری پناہ چاہتے ہیں) ۔

٩٤٩ - اور حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ جب وہ دنیا سے جائے تو گناہوں سے اسطرح پاک ہو جیسے خالص سونا جس میں کوئی میل نہ ہو اور کسی کی حق تلفی کرنے کا جرم اسکی گردن پر نہ ہو کہ جسکا کوئی مطالبہ کرے تو اس کو چاہیے کہ پانچوں وقت کی نماز کے بعد بارہ مرتبہ سورہ قل ھواللہ احد پڑھے پھر دعا کے لئے ہاتھ پھیلائے اور کہے۔
اللهم إنى أسالك باسمك المكنون المخزون الطاهر الطهر المبارك و اسالك باسمك العظيم ، و سلطانك بِاسْمِكَ القديم أن تصلى على محمد و آل محمد يا واهب العطايا يا مطلق الأسارى بانكاك الرقابِ مِنَ النَّارِ، اسالك ان تصلي على محمد وآل محمد و ان تعتق رقبتى من النارو ان تخرجني من الدنيا امنا وَ أَنْ تُدْخِلْنِي الْجَنَّةَ سَالِمَا و ان تجعل دعائی  او له فلاحا و أوسطة نجاحا ، و أخره صلاحا انك أنت علام الغيوب -
(اے اللہ میں تیرے پوشیدہ و مخزون و پاک و مبارک نام کا واسطہ دیکر تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے اسم عظیم اور تیری سلطنت قدیم کا واسطہ دیکر تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو رحمتیں نازل فرما محمد اور ان کی آل پر۔ اے عطیات کے بخشنے والے ۔ اے اسیروں ، کو آزاد کرانے والے اے لوگوں کی گردنوں کو جہنم سے چھڑانے والے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو محمد وآل محمد پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور میری گردن کو جہنم سے چھڑا دے اور مجھے دنیا سے امن کے ساتھ نکال اور جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل کر۔ اور میری دعا کو اول میں فلاح درمیان میں نجاح (کامیابی) اور آخر میں صلاح ( درست ہونا) قرار دے۔ بیشک تو غیب کا جاننے والا ہے ) ۔
اس کے بعد امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ دعا ان اسرار میں سے ہے جنکی تعلیم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
مجھے دی اور مجھے حکم دیا کہ میں حسن و حسین (علیہما السلام) کو بھی یہ دعا تعلیم کروں۔

٩٥٠ - اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام قید خانہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا کہ اے یوسف تم ہر نماز فریضہ کے بعد یہ کہا کرو۔
اللهم اجعل لی مِن امری فرجا و مخرجا و ارزقني من حيث احتسب و من حيث لا احتسب - 
(اے اللہ میرے امر میں کشادگی اور اس سے عہدہ برآ ہونے کا راستہ پیدا کر اور مجھے وہاں سے رزق عطا کر جہاں سے گمان ہے اور وہاں سے جہاں سے مجھے گمان تک نہیں ہے) ۔

٩٥١ - اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ہر نماز کے بعد یہ کہا کرتے تھے۔
اللهم اهدنی  مِنْ عِندِكَ وَ افَضِ عَلَى مِنْ فَضْلِكَ وَأَنشر عَلَى مِنْ رَحْمَتِكَ وَ أُنزِلَ عَلَى مِنْ بَرَكَاتِكَ - 
(اے اللہ مجھے اپنے پاس سے ہدایت کر ۔ اور اپنے فضل سے مجھ کو نواز اور اپنی رحمت مجھ پر پھیلا اور اپنی برکتیں مجھ پر نازل
فرما)

٩٥٢ - صفوان بن مہران جمال کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے سر کے اوپر بلند کرتے تھے۔

٩٥٣ - اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ جب بھی کوئی بندہ اپنے دونوں ہاتھ اللہ تعالٰی کے سامنے پھیلاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو شرم آتی ہے کہ اسکو خالی ہاتھ واپس کرے چنانچہ اس ہاتھ میں اپنے فضل اور رحمت سے کچھ نہ کچھ ضرور رکھ دیتا ہے ۔ پس تم میں سے جو کوئی دعا مانگے وہ اپنے ہاتھوں کو نہ ہٹائے جب تک کہ ان سے اپنے سر اور اپنے چہرے پر مسح نہ کرے اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا جبتک وہ اپنے چہرے اور اپنے سینے پر مسح نہ کرے ۔

٩٥٤ - حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اگر اسکی ناپ تول کی جائے تو وہ پورا ہی اترے تو اسکا آخر قول یہ ہونا چاہیے ۔ سُبْحَـٰنَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَـٰمٌ عَلَى ٱلْمُرْسَلِينَ  وَٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ - (صافات آیت نمبر ۱۸۰ تا ۱۸۲)
( یہ لوگ جو باتیں خدا کے بارے میں بنایا کرتے ہیں ان سے تمہارا پروردگار عزمت کا مالک پاک صاف ہے اور پیغمبروں پر سلام ہو اور کل تعریفیں خدا ہی کے لئے سزاوار ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے ۔)
تو اسکے لئے ہر مسلم کے حسنہ میں ایک حصہ ہوگا۔

٩٥٥ - حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے ایک مرتبہ فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز سے فارغ  ہو تو اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور دعا مانگے تو ابن سبا نے کہا یا امیر المومنین کیا اللہ تعالٰی ہر جگہ نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں اس نے کہا پھر اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف کیوں اٹھائے ؟ آپ نے فرمایا کیا تم نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی وَفِى ٱلسَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ (الذاریات آیات نمبر ۲۲) (اور تم لوگوں کا رزق آسمان میں ہے جسکا تم لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے) اور جہاں رزق ہوتا ہے وہیں سے تو طلب کیا جاتا ہے اور رزق کی جگہ جسکا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے وہ آسمان ہے ۔

٩٥٦ - اور امیر المومنین علیہ السلام جب نماز زوال (ظہر) سے فارغ ہوتے تھے تو یہ کہا کرتے اللهم إنی  أَتَقَرَّبُ إِلَيْكَ بِجُودِكَ وَكَرَمِكَ وَاتقَرْب إِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ وَالْقَرَبُ إِلَيْكَ بملائِكَتِكَ المقربين وأَنْبِيَائِكَ الْمُرْسَلِينَ وَبِكَ - اللهم لَكَ الْغنى عَنى وَبِي الْفَاقَةُ إِلَيْكَ ، أَنْتَ الْغنى وَأَنَا الفقبر اليكَ ، أَقلَنِى عَثرَتِى ، وَاسْتَر عَلَث ذُنُوبِي وَاقْضِ الْيَوْمَ حَاجَتِى وَلَا تَعَذِّبُنِى بِقَبِيحِ مَا تَعْلَمُ بِهِ مِنِّى بَلْ عَفُوكَ يَسْعَنِى وَجُودَكَ (اے اللہ میں تیرے جو دو کرم کے واسطہ سے تیرا تقرب چاہتا ہوں میں تیرے بندے اور تیرے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطہ سے تیرا تقرب چاہتا ہوں۔ میں تیرے ملائیکہ مقربین اور تیرے مرسل انبیاء کے واسطہ سے اور خود تیرے واسطہ سے تیرا تقرب چاہتا ہوں۔ اے اللہ تو مجھ سے مستغنی ہے مگر میں تیرا محتاج ہوں توغنی ہے میں تیرا محتاج ہوں ۔ میری لغزشوں کو در گذر کر میری گناہوں کی پردہ پوشی فرما اور آج میری حاجت روائی کر اور میری برائیوں کی جنہیں تو جانتا ہے مجھے سزا نہ دے بلکہ اپنی عفواور اپنی بخشش کو میرے واسیع کر) -

اس کے بعد سجدہ میں گر جاؤ اور کہو یا اهل التقوى و يا أهل المغفرة يا بر ، يا رحيم ، أنت البريَى من ابى وامى وَ مِنْ جميعِ الخَلَائِقِ اقَلبَنِى بِقَضَاءِ حَاجَتِى مُجَابًا دَعَائِى مرحوما صوتِى ، قَد كَشَفْتَ أَنْوَاعِ الْبَلَاءِ عَنِى (اے تقوی کے اہل اور اے مغفرت کرنے والے اے نیک سلوک کرنے والے اے رحم کرنے والے تو میرے باپ اور میری ماں بلکہ ساری مخلوق سے زیادہ میرے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہے تو میری حاجت پوری کر کے میری دعا کو قبول کر کے اور میری آواز پر ترس کھا کر مجھے اپنی بارگاہ سے لوٹا ۔ تو مختلف قسم کی بلائیں مجھ سے ٹال بھی چکا ہے ) ۔ 

٩٥٧ - اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو شخص مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد تین مرتبہ کہے الحمد لله الذى يفعل مايشاء ولا يفعل ما يشاء غيره ، اعصلی خيرا كثيراً (اس اللہ کی حمد کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے وہ نہیں کرتا جو اسکےغیر چاہیں،  مجھے خیر کثیر عطا ہو) ۔

٩٥٨ - نیز آنجناب علیہ السلام دونوں نماز مغرب و عشاء کے درمیان کہا کرتے تھے - اللهم بِيَدِكَ مَقادير الليل والنهار وَمَقَادِيرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَمَقَادِيرَ الْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ وَ مَقَادِير الشمس وَالْقَمَرَ وَمَقَادِيرَالنَّصْرِوَ الخَذُ لان . وَ مَقَادِير الغنى والفقر، اللَّهُمَ ادْرَاعَنى شَرَ تَسَعَةِ الْجِنِ وَالْإِنْسِ وَ اجْعَلْ مُنْقَلبِيُّ إِلَى خَيْرِدَ إِيْمٍ وَ نِعيم لا يزول -
(اے اللہ تیرے ہی دست قدرت میں رات و دن کی مقدار اور دنیا و آخرت کی مقدار اور موت وحیات کی مقدار اور شمس و قمر کی مقدار اور فتح و شکست کی مقدار اور دولتمندی اور فقر کی مقدار ہے اے اللہ مجھ سے فاسق جنوں اور انسانوں کے شر کو دور کر اور میری بازگشت دائمی خیر اور لازوال نعیم قرار دے) ۔

٩٥٩ - اور محمد بن فرج سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابو جعفر محمد بن علی الرضا علیہ السلام نے میرے
پاس یہ دعا لکھ کر بھیجی اور انہوں نے مجھ کو اسکی تعلیم دی اور کہا جو شخص نماز صبح کے بعد یہ دعا پڑھے گا وہ جو بھی حاجت طلب کرے اسکے لئے آسان ہوگی اور جو ارادہ رکھتا ہو گا الله اسمیں اسکی مدد کرے گا ۔ بِسْمِ اللهِ وَ بِاللَّهِ وَ صَلَى عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ و انوض أمري إلى الله إن الله بصير بالعباد فوقاه الله سيات ما مكروا ، لا إلهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ، فاستجبناله ونجينا مِنَ الغم و كذلك ننجي المؤمنين - حسبنا الله و حَسُنَا اللَّهَ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ - فَانْقَلِبُو النسمة مِنَ اللهِ وَفَضْلٍ یمسسهُم سوء ماشاء الله ولاحول ولاقوة إلا بالله - ماشاء الله لاماشاء الناس ، ماشاء الله وَإِن كَرِهَ النَّاسُ حسبى الرب من المربوبين حسبى الخالق من المخلوقين حسبى الرازق من المرزوقين حسبى الذى لم يزل حَسْبِى - حَسْبِى مَنْ كَانَ مُنذ كُنْتُ (حَسْبِى) لَمْ يَزِلْ حَسْبِى اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ و هُوَرَبُّ الْعَرْشِ العَظيم - (اللہ کے نام سے اور اللہ کے ساتھ شروع کرتا ہوں اور اللہ تعالٰی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل پر رحمتیں نازل فرمائے میں اپنا کام اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں بیشک اللہ بندوں کے امور کا بہت اچھا دیکھ بھال کرنے والا ہے۔ پس خدا نے محفوظ رکھا اسکو لوگوں کے مکر کی برائیوں سے۔ نہیں ہے کوئی اللہ سوائے تیرے تو پاک اور منزہ ہے یقیناً میں قصور وار ہوں۔ پس ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو رنج و غم سے نجات دی اور اسطرح ہم ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔ اور اللہ ہمارے واسطے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے پس وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ کر آئے کہ ان کو کسی برائی نے مس نہیں کیا۔ سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہے کسی میں کوئی قوت نہیں بغیر اللہ کی مدد کے۔ سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہے نہ کہ لوگوں کے چاہنے سے ۔ سب کچھ خدا ہی کے چاہنے سے ہے اگر چہ لوگ اس سے کراہت کریں میرے لئے میرا رب کافی ہے تمام مربو بین کے مقابلہ میں میرے لئے میرا خالق کافی ہے تمام مخلوقین کے مقابلہ میں ، میرے لئے رزق دینے والا کافی ہے رزق پانے والوں کے مقابلہ میں ، میرے لئے اللہ رب العالمین کافی ہے ۔ میرے لئے وہی ذات کافی ہے جو ہمیشہ ہمارے لئے کافی رہا۔ میرے لئے وہی کافی ہے کہ جو میرے لئے اس وقت سے کافی ہے جب سے میں پیدا ہوا اور وہ ہمارے لئے ہمیشہ کافی رہا۔ میرے لئے اللہ کافی ہے نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اسکے میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا بھی رب ہے) ۔

٩٦٠ - نیز آپ علیہ السلام نے فرمایا جب تم نماز فریضہ ادا کر چکو تو کہو
رضيت بالله رباً ، وبالإسلام ديناً ، وَ بِالْقُرْآنِ كِتاباً وابمحمد نبياً ، وَ بِعَلی   وَلِيَا ، وَالْحَسَنِ وَالحُسَيْنِ وَعَلِی بن الحُسَيْنِ وَ محمد عَلی وَ جعفر بن محمد و موسى بن جعفر، وعَلی یابن موسى وَ محمد بن عَلی وَ عَلی بن محمد و الحسن بن عَلی وَالحجة بن الحسن بن عَلی ائمة - اللهم وليک  الحجة ناحفظه من بين يديه و من خَلْفِهِ وَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَ مِنْ نوْقه وَ مِنْ تَحْتِهِ ، وَ اَمْدِدْ لَهُ فِي عُمُرِهِ ، وَاجْعَلْهُ القَائِمُ بِأَمْرِكَ الْمُنتَصِرُلِدينِک وَأَرْهُ مَا يُحِبُّ وتَقَرَّبِهِ عَيْنَهُ فِي نفسه و في ذريته و أهْلِهِ وَمَالِهِ وَ فِى شِيعَتِهِ وَ فِى عَدُومٍ ، وَارِهِمْ مِنْهُ ما يَحْذَرُونَ وَارَهُ فِيهِمْ مَا يُجِبْ و تقريه عينه واشفِ بِهِ صُدُورَنَا وَ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ۔ (میں اس بات پر راضی اور خوش ہوں کہ اللہ میرا رب ہے اور اسلام میرا دین ہے اور قرآن میری کتاب ہے اور محمد میرے نبی ہیں اور علی میرے ولی ہیں اور حسن و حسین و علی ابن حسین و محمد بن علی و جعفر بن محمد وموسى بن جعفر و على بن موسى ومحمد بن على وعلى بن محمد وحسن بن علی اور حجت ابن الحسن بن علی ہمارے آئمہ ہیں ۔ پروردگار اپنے ولی الحجتہ کی حفاظت فرما انکے آگے سے انکے پیچھے سے انکے دائیں سے انکے بائیں سے انکے اوپر سے انکے نیچے سے، نیز ان کی عمر میں اضافہ فرما اور ان کو حکم دے کہ وہ اٹھیں اور تیرے دین کی نصرت کریں اور ان کو وہ کچھ دکھا جو وہ چاہتے ہیں اور ان کی اپنی ذات ان کی ذریت ان کے اہل وعیال ، اور انکے مال و متال اور انکے دوست اور انکے دشمنوں کے سلسلہ میں ان کی آنکھیں ٹھنڈی کر اور انکے دشمنوں کو ان کے ہاتھوں وہ دکھا دے جس سے وہ ڈرتے ہیں اور ان جناب کو وہ دکھا جو وہ اپنے دشمنوں کے لئے چاہتے ہیں اور اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کر ۔ اور ان جناب کے ذریعہ ان لوگوں کے دلوں کو اور مومن قوم کے دلوں کو تشفی عطا فرما) ۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یہ کہا کرتے تھے ۔ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَرْتُ و ما أسررت وما أعلنت واسرافى وَمَا عَلى نفسى وما أنت اعلم به مني - اللهم انت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا انت بعلمك الغَيْبِ وَبِقَدْرَتِكَ و بقدرتك عَلَى الْخَلْقِ، أَجْمَعِينَ مَا عَلِمْتَ الحياة خيرالى ناحْيِنِى ، وَ تَوَننِى إِذَا عَلِمْتُ الْوَفاةَ خيرالى، اللهم اني اسالك خشيتك في السرو العلانية، و َكلِمَة الحَقِّ فى الغضب والرضا و القصد فى الفقروالغنى واسالك نعيما لا ينفد وقرة عين لا تنقطح واسالك الرضا بالقضا وبرد العيش بعد الموت ولذة النظر الى وَجُهِكَ ، وَشَوقا إلى لِقَاتِكَ مِنْ غَيْرِ ضَرَاء مِضَرَةٌ ولا فتنة مظلمة ، اللهم زَينَا بِزِينَةِ الإِيمَانِ ، وَاجْعَلنَا هُدَاةَ مهديين ، اللهم اهدنا فيمن هديت، اللهم إني أسالك عزيمة الرشادِ والثبات في الأمرة الرشد واسالك شکرُ نِعمتک وحسن عافيتك واداء حقك ، و اسالك يارب قلبا سليما ولسانا صادِقاً واستغفرك لَمَا تَعْلَمُ و أسالك خَيْرَ مَاتَعْلَمُ ، وَأَعوذُبِكَ مِنْ شَرِمَا تَعْلَمُ وَ مَا لاتعلم ، فَإِنَّكَ تَعْلَمَ وَ لَا تَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ (پروردگارمعاف کر میرے اس گناہ کو جو میں نے آگے کیا ہے اور جو پیچھے کیا ہے جو میں نے چھپا کر کیا ہے اور جو بالاعلان کیا ہے میں نے خود اپنے نفس پر زیادتی کی ہے ۔ اوراس گناہ کو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ۔ پروردگار تو ہی مقدم ہے تو ہی موخر ہے نہیں ہے کوئی اللہ سوائے تیرے مجھے اپنے علم غیب اور تمام مخلوقات پر قدرت کا واسطہ جب تک تو یہ جانے کہ میری حیات میرے حق میں بہتر ہے تو مجھے زندہ رکھ اور جب تو یہ جانے کہ وفات میرے حق میں بہتر ہے تو مجھے وفات دیدے ۔ اے اللہ میں تجھ سے ظاہر و باطن میں تیرے خوف کا اور ناراضگی اور رضا میں کلمہ حق کہنے کا اور فقیری اور امیری میں کفایت شعاری کا طالب ہوں ۔ اور تجھ سے ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں، جو کبھی ختم نہ ہو اور آنکھ کی ٹھنڈک کا جو کبھی منقطع نہ ہو اور میں سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ میں تیری قضا پر راضی رہوں۔ موت کے بعد مجھے خشکی عیش نصیب ہو اور تیرے چہرے کی زیارت سے لطف اندوز ہوں اور میرے دل میں تیری ملاقات کا شوق بغیر کسی مضرت اور تاریک فتنوں کے خوف کے ہو۔ پروردگار مجھے زیور ایمان سے آراستہ کر اور مجھے ہدایت یافتہ لوگوں میں قرار دے۔ اے اللہ مجھے ان لوگوں میں پہنچا دے جنکی تو نے ہدایت کی ہے اے اللہ مجھے راہ راست پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے اور راہ راست پر قائم رہنے کا عزم و حوصلہ عنایت فرما۔ اور مجھے توفیق عطا کر کہ میں تیری نعمت اور تیری حسن عافیت کا شکر ادا کروں اور تیرا حق ادا کروں اور اے پروردگار میں تجھ سے قلب سلیم اور راست گو زبان کا طالب ہوں اور یہ کہ میں تجھ سے مغفرت طلب کروں ان گناہوں کی جسے تو جانتا ہے اور میں تجھ سے طلبگار ہوں اس خیر کا جسکا تجھ کو علم ہے اور تیری پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جو تیرے علم میں ہے اور میرے علم میں نہیں ہے اور تو غیب کا جاننے والا ہے)

٩٦١ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز فریضہ کے وقت یہ کلمات کہے اس نے اپنی جان اپنا گھر اور اپنا مال اور اپنی اولاد کو محفوظ کر لیا۔ أَجِيرُنفسی و مالی و ولدى وَ اهْلِی و داری و كل ما هُوَ مِنَى بِاللهِ الْوَاحِدِ الْأَحَدِ الصَّمَدِ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَکنُ لَهُ كُفُوا أَحَدَ - وَاجِيْرُ نَفْسى وَمَالِى وَوَلَدِى (وَأَهْلِي) وَ دارى وكل ما هو مني برب الفلق من شر ما خلق -  تا آخر سورہ اور اعوذ برب الناس تا آخر سورہ اور آیتہ الکرسی آخر تک
(میں اپنی جان اپنا مال اپنی اولاد اپنے اہل وعیال اور اپنے گھر بلکہ جو بھی میری ملکیت میں ہے ان سب کو اس اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں جو واحد ہے احد ہے صمد ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور اسکا کوئی کفو اور ہمسر نہیں ۔ اور میں اپنی جان و اپنا مال اور اپنی اولاد اور اپنے اہل و عیال اور اپنا گھر اور جو کچھ بھی میرا ہے ان سب کو اس پروردگار کی پناہ میں دیتا ہوں جس نے صبح کو پیدا کیا اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق کے شرسے بچانے کے لئے۔)

٩٦٢ - ھلقام بن ابی ھلقام سے روایت کی گئی ہے اسکا بیان ہے میں ایک مرتبہ حضرت ابو ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں آپ پر قربان مجھے کوئی ایسی دعا تعلیم کر دیجئے جو دنیا اور آخرت کی جامع ہو اور مختصر ہو ۔ تو آپ
نے فرمایا کہ طلوع فجر کے بعد سے طلوع آفتاب کے درمیان یہ پڑھو ۔ سبحان اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرَ اللَّهَ وَاسْتَلَهُ مِن فضْلِهِ ( اللہ پاک ہے اور عظمت والا ہے میں استغفار کرتا ہوں اللہ سے اور اس سے اس کے فضل کا سوال کرتا ہوں) ھلقام کا بیان ہے کہ اس وقت میں اور میرے گھر والے بدترین حالات میں بسر کر رہے تھے اور مجھے میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ یک بیک میرے پاس ایسے شخص کی میراث آئی کہ میں نہیں جانتا تھا کہ اسکے اور میرے درمیان قرابت ہے اور اب میں اپنے خاندان کے اندر سب سے زیادہ مالدار ہوں یہ اسی دعا کا نتیجہ ہے جسکی میرے مولا نے مجھے تعلیم دی ہے۔

٩٦٣ - زرارہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا آپ فرما رہے تھے کہ نماز فریضہ کے بعد دعا نماز نافلہ پڑھنے سے افضل ہے۔ اور اسی بناء پر یہ سنت جاری ہوئی ۔

٩٢٤ - ایک مرتبہ ھشام بن سالم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں اپنی ضرورت کی بناء پر گھر سے نکلتا ہوں لیکن میرا جی چاہتا ہے کہ نماز کے بعد تعقیبات میں مشغول رہوں ۔ آپ نے فرمایا اگر تم باوضو ہو تو تعقیبات
میں مشغول رہو ۔

٩٦٥ - نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ اے آدم کی اولاد تم لوگ مجھے نماز صبح کے
بعد ایک ساعت اور بعد نماز عصر ایک ساعت یاد کرو تو جو تمہارے ارادے ہیں ان میں تمہاری مدد کروں گا ۔

٩٦٦ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز صبح کے بعد طلوع آفتاب تک تعقیبات اور دعا میں مشغول رہنا طلب رزق کے لئے زمین میں مارے مارے پھرنے سے زیادہ بہتر ہے۔