باب انسان جب نیند سے بیدار ہو تو کیا کہے
حدیث ١٣٨٧ - ١٣٩١
١٣٨٧ - رسول اللہ صلی للہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر جاتے تھے تو فرمایا کرتے بِاسْمِكَ اَللّهُمَّ أَحْياُ وَ بِاسْمِكَ أمُوْتُ (تیرے نام کے ساتھ اے اللہ میں زندہ ہوں اور تیرے ہی نام کے ساتھ میں مرونگا) اور جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے اَلْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِيْ أَحْيَانِيْ بَعْدَ مَا أمَاتَنِىْ وَ إِلَيْهِ اِلنُّشُوْرُ (حمد اس اللہ کی جس نے مجھے مارنے کے بعد پھر زندہ کر دیا اوراس کی طرف حشر و نشر ہوگا) ۔
١٣٨٨ - اور جراح مدائینی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نیند سے اٹھے تو یہ کہے سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ النَّبِيِّيْنَ وَإلْهِ الْمُرْسَلِيْنَ ، وَرَبِّ الْمُسْتَضْعِفِيْنَ ، وَالْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِىْ يَحْيِىْ الْمَوْتَیٰ وَ هُوَ عَلیٰ كُلِّ شَيءٍ قَدِيرٌ - (پاک ہے وہ اللہ جو تمام انبیاء کا رب اور تمام رسولوں کا اللہ اور مستضعفین کا پروردگار ہے اور حمد اس اللہ کی جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور جو ہر شے پر قادر ہے) جب وہ یہ کہے گا تو اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ میرے بندے نے سچ کہا اور شکر ادا کیا ۔
١٣٨٩ - اور عبدالرحمن بن حجاج نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ جب رات کے آخر حصے میں اٹھتے تو اتنی بلند آواز سے یہ کہتے ہیں کہ تمام گھر والے سنتے اَللّهُمَّ أَعِنِّى عَلَیٰ هَوْلِ الْمُطَّلَغ، وَوَسِّعْ عَلَىَّ الْمَضْجَعَ وَارْزُقْنِىْ خَيْرَ مَاقَبْلَ الْمَوْتِ ، وَارْزُقْنِىْ خَيْرَ مَا بَعْدَ الْمَوْتِ - (اے اللہ ہول قیامت پر میری مدد فرمانا میری خوابگاہ کو وسیع کر دینا اور موت سے پہلے مجھے خیر کی روزی اور موت کے بعد بھی مجھے خیر کی روزی عطا فرمانا)
١٣٩٠ - اور ایک دوسری حدیث میں حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ جب تم اپنے بستر خواب سے اٹھو تو افق آسمان کو دیکھو اور یہ کہو
(حمد اس اللہ کی جس نے میری روح مجھے واپس کر دی میں عبادت کروں گا اور اسکی حمد کروں گا ۔ اے اللہ نہ تجھ سے پر سکون رات پوشیدہ ہے نہ برجوں والا آسمان نہ گہوارے والی زمین نہ یہ تاریکیاں جو تہہ بہ تہہ ہیں اور نہ گہرا سمندر جو رات کو سفر کرنے والی تیری مخلوق کے سامنے موجیں مارتا ہے تو آنکھوں کے اشاروں اور دلوں کے بھیدوں کو جانتا ہے ۔ ستارے ڈوب گئے آنکھیں پرخواب ہو گئیں مگر تو زندہ و قائم ہے نہ تجھے اونگھ آتی ہے نہ نیند ۔ پاک ہے اللہ جو تمام عالمین کا رب ہے اور تمام رسولوں کا اللہ اور تمام انبیاء کا خالق ہے اور حمد ہے اس اللہ کی جو تمام عالمین کا رب ہے ۔ اے اللہ میری مغفرت فرما مجھ پر رحم فرما میری توبہ کو قبول فرما بیشک تو توبہ کو قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے)۔
اسکے بعد سورہ آل عمران کی آخر کی پانچ آیتیں ان فی خلق السموات والارض سے لیکر انک لا تخلف المیعاد تک پڑھو ۔
اور تم پر لازم ہے کہ مسواک کرو اس لئے کہ وقت سحرقبل وضو مسواک کرنا سنت ہے اس کے بعد وضو کرو ۔
١٣٩١ - ابو عبیدہ حذاء نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے قول خدا تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ ٱلْمَضَاجِعِ (رات کے وقت ان کے پہلو بستروں سے آشنا نہیں ہوتے) (سورہ سجدہ ١٦) کے متعلق روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا شاید یہ تمہارا خیال ہو کہ وہ لوگ کبھی سوتے ہی نہیں میں نے عرض کیا اللہ اور اسکا رسول بہتر جانتا ہے ۔ آپ نے فرمایا اس بدن کیلئے یہ ضروری کہ تھوڑا آرام کرے تاکہ اسکا نفس نکل جائے اور جب نکل جاتا ہے تو بدن آرام کرتا ہے اور روح اس میں پلٹتی ہے اور اسی میں عمل کی قوت ہے ۔ اللہ تعالٰی نے لوگوں کا تذکرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان لوگوں کے پہلو اپنے بستروں کو چھوڑ دیتے ہیں اور وہ لوگ اپنے رب سے خوف و طمع کی ملی جلی حالت میں دعا کرتے ہیں یہ آیت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور ہمارے شیعوں میں سے جو انکی اتباع کرتے ہیں وہ اول شب میں سویا کرتے ہیں اور جب دو تہائی رات یا جس قدر اللہ چاہے گزر جاتی ہے تو وہ اپنے رب سے گڑ گڑا کر دعا کرتے ہیں رغبت کرتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے اسکی خواہش کرتے ہوئے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہاں ان لوگوں کا ذکر اپنی کتاب میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا ہے اور جو کچھ ان لوگوں کو عطا کرے گا اسے بتایا ہے ۔ اور انہیں اپنے جوار رحمت میں ساکن کرے گا اور انہیں اپنی جنت میں داخل کرے گا اور انہیں خوف سے اور ڈر سے امن میں رکھے گا ۔
میں نے عرض کیا کہ میں آپ پر قربان جب میں رات کے آخری حصہ میں اٹھوں تو کیا کہوں ؟ آپ نے فرمایا یہ کہو اَلْحَمْدُ للّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَ إلهِ الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِىْ يُحْيِيْ الْمَوْتیٰ وَيَبْعَثُ مَنْ فِى الْقُبُوْرِ (یعنی ہرطرح کی حمد سزاوار ہے تمام عالمین کے پروردگار اور تمام رسولوں کے اللہ کیلئے اور حمد اس اللہ کی جو مردوں کو زندہ کریگا اور جو لوگ قبروں میں ہیں انہیں اٹھائے گا) جب تم یہ کہو گے تو تم سے شیطان کی گندگی اور اسکا وسوسہ دور ہو جائے گا ۔