باب نماز شب پڑھنے کا ثواب
حدیث ١٣٦٠ - ١٣٧٤
١٣٦٠ - ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئے تو آپ نے فرمایا اے جبرئیل مجھے کوئی وعظ سناؤ ۔ تو انہوں نے کہا اے محمدؐ جس قدر چاہو زندہ رہو مگر آخر آپ کو مرنا ہے ۔ اور جس سے چاہو محبت کرو آخر تمہیں اس سے جدا ہونا ہے اور جو چاہو عمل کرو آخر تمہیں اللہ سے ملاقات کرنی ہے ۔ اور مومن کا شرف اسکی نماز شب ہے اور اسکی عزت یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اذیت دینے سے باز رہے ۔
١٣٦١ - بحرسقاء نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ کی رحمتوں میں سے یہ
تین چیزیں بھی ہیں ۔ شب کو نماز تہجد پڑھنا ، روزہ دار کو افطار کرانا اور اپنے بھائیوں سے ملاقات کرنا ۔
١٣٦٢ - حضرت امام ابو الحسن اول نے قول خدا وَرَهْبَانِيَّةً ٱبْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَـٰهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ٱبْتِغَآءَ رِضْوَٰنِ ٱللَّهِ (اور لذت سے کنارہ کشی کا ان لوگوں نے ایک نیا طریقہ اختیار کیا جس طرح ہم نے انکو حکم نہیں دیا تھا مگر ان لوگوں نے اللہ کی خوشنودی کیلئے ایسا کیا) (سورہ حدید آیت نمبر ٢٧) کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد نماز شب ہے ۔
١٣٦٣ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ نماز شب ضرور پڑھو یہ تمہارے نبی کی سنت اور تم سے پہلے گزرے ہوئے صالح بندوں کا طریقہ ہے ۔ اور تمہارے جسموں سے مرض کو نکال دینے والا ہے ۔
١٣٦٤ - اور ہشام بن سالم نے آنجناب علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے قول خدا إِنَّ نَاشِئَةَ ٱلَّيْلِ هِىَ أَشَدُّ وَطْـًۭٔا وَأَقْوَمُ قِيلًا (اس میں شک نہیں کہ رات کا اٹھنا نفس کو پامال کرنے اور ذکر سے تھکا دینے کا وقت ہے) (سورۃ المزمل آیت نمبر٦) کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد انسان کا اپنے بستر خواب سے اٹھنا ہے جو اللہ کیلئے ہو کسی غیر کیلئے نہ ہو ۔
١٣٦٥ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ لوگ اپنے بستر خواب سے اٹھتے ہیں تو تین قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ کہ جن کیلئے کچھ ثواب ہے ان پر کوئی عتاب نہیں دوسرے وہ کہ جن پر عتاب ہی عتاب ہے ان کیلئے کوئی ثواب نہیں تیسرے وہ کہ جن کے کیلئے نہ کوئی ثواب ہے اور نہ کوئی عتاب اب وہ کہ جن کے لئے ثواب ہے کوئی عتاب نہیں ، وہ لوگ وہ ہیں کہ جو اپنے بستر خواب سے اٹھتے ہیں تو وضو کرتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں تو یہی وہ ہیں کہ جسکو ثواب ملتا ہے انکے لئے کوئی عتاب نہیں ہے۔ اب دوسری قسم کے لوگ تو وہ لوگ ہیں جو مسلسل اللہ کی نافرمانی اور معصیت میں مشغول رہتے ہیں ان پر عتاب ہی حساب ہے ان کیلئے کوئی ثواب نہیں ہے اور تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں کہ جو مسلسل سوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ صبح نمودار ہو جاتی ہے تو ان کیلئے نہ کوئی ثواب ہے اور نہ ان پر کوئی عتاب ہے ۔
١٣٦٦ - اور عبد اللہ بن سنان نے آنجناب علیہ السلام سے قول خدا سِيمَاهُمْ فِى وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ (ان کی پیشانیوں پر گٹھے پڑے ہوئے ہیں) (سورہ فتح آیت نمبر ٢٩) کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد رات کوجاگ کر نماز پڑھنا ہے ۔
١٣٦٧ - فضیل بن لیسار نے آنجناب علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ وہ تمام گھر کے جن میں راتوں کے اندر تلاوت قرآن کے ساتھ ساتھ نمازیں پڑھی جاتی ہیں وہ اہل آسمان کیلئے اسی طرح ہیں جس طرح ستارے اہل زمین کیلئے ۔
١٣٦٨ - اور آنجناب علیہ السلام نے قول خدا إِنَّ ٱلْحَسَنَـٰتِ يُذْهِبْنَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ (نیکیاں یقینا گناہوں کو دور کر دیتی ہیں) (سورہ ہود آیت نمبر١١٤) کے متعلق فرمایا یہ مومن کی شب کے وقت کی نماز ہے کہ دن میں اس نے جو گناہ کئے ہیں یہ اسکو دور کر دیتی ہے ۔
نیز اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں امیر المومنین علیہ السلام کی راتوں کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی مدح فرمائی چنانچہ ارشاد ربانی ہے أَمَّنْ هُوَ قَـٰنِتٌ ءَانَآءَ ٱلَّيْلِ سَاجِدًۭا وَقَآئِمًۭا يَحْذَرُ ٱلْـَٔاخِرَةَ وَيَرْجُوا۟ رَحْمَةَ رَبِّهِ - (کیا جو شخص رات کے اوقات میں سجدہ کرے اور کھڑے کھڑے خدا کی عبادت کرتا ہو اور آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امید وار ہو وہ ناشکرے کافروں کے برابر ہو سکتا ہے ) (سورہ الزمرآیت نمبر ۹) یہاں اناإللیل سے مراد رات کی ساعتیں ہیں ۔
١٣٦٩ - اور امیر المومنین علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب اہل زمین پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ کرتا ہے (تو رک جاتا ہے) اور کہتا ہے کہ اگر زمین پر میرے جلال کی وجہ سے ایک دوسرے سے حجت کرنے والے اور ہماری مسجدوں کو آباد کرنے والے اور اوقات سحر میں استغفار کرنے والے نہ ہوتے تو میں عذاب نازل کر دیتا ۔
١٣٧٠ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص شب کے وقت کثرت سے نمازیں پڑھتا ہے اسکا چہرہ دن کے وقت بارونق و بشاش رہتا ہے ۔
١٣٧١ - ایک شخص حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی حاجتمندی وافلاس کا اظہار کرنے لگا اور اس میں اتنا مبالغہ کرنے لگا کہ قریب تھا کہ وہ ان سے بھوک کی بھی شکایت کرنے لگے ۔ آپ نے اس سے پوچھا کیوں جی تم نماز شب پڑھتے ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں یہ سن کر آپ اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا وہ شخص جھوٹا ہے جو یہ کہے کہ میں نماز شب پڑھتا ہوں اور دن کو بھوکا رہ جاتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے نماز شب کو دن کی خوراک کا ضامن بنا دیا ہے -
١٣٧٢ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی مزاح کو پسند کرتا ہے بشرطیکہ وہ فحش نہ ہو ۔ اور تنہائی میں غور و فکر کرنے والے کو اور تخلیہ میں وعظ و نصیحت کو اور شب کو جاگ کر نماز پڑھنے والے کو پسند کرتا ہے ۔
١٣٧٣ - نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی موت کے وقت حضرت ابوذر سے ارشاد فرمایا کہ اے ابوذر تم اپنے نبی کی وصیت کو یاد رکھو تمہیں نفع پہنچائے گی ۔ جسکی راتیں کھڑے ہو کر عبادت میں بسر ہوتی ہوں اور وہ مرجائے تو اسکے لئے جنت ہے (یہ حدیث طویل ہے میں نے اس میں سے یہاں بقدر ضرورت لیا ہے)
١٣٧٤ - جابر بن اسماعیل نے حضرت جعفر بن محمد سے اور انہوں نے اپنے پدر بزرگوار سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے راتوں کو جاگ کر قراءت و عبادت کرنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے اس سے ارشاد فرمایا سنو میں تمہیں خوشخبری سناتا ہوں کہ جو شخص شب کے دسویں حصہ میں نماز پڑھتا رہے ، پورے خلوص اور اللہ سے ثواب حاصل کرنے کی خواہش میں ، تو اللہ تعالی اپنے ملائیکہ سے کہتا ہے کہ میرے اس بندے کے نامہ اعمال میں آج کی شب جتنے دانے روئیدہ ہوئے ہیں اور جتنے پتے نکلے ہیں اور جتنے درخت ہیں اور ان کی تمام شاخوں پر کونپلیں ہیں ان سب کی تعداد کے برابر نیکیاں تحریر کر دو ۔ اور جو شخص شب کا نواں حصہ نماز میں گزارے اللہ تعالٰی اسکی دس دعائیں قبول کرے گا اور اللہ تعالیٰ اسکے نامہ اعمال کو اسکے داہنے ہاتھ میں دیگا ۔
اور جو شخص رات کا آٹھواں حصہ نماز میں بسر کرے گا اللہ تعال اسے ایک شہید صابر اور صادق النیت کا ثواب عطا کرے گا اور وہ اپنے خاندان کی شفاعت کرے گا ۔
اور جو شخص شب کا ساتواں حصہ نماز میں بسر کرے گا وہ یوم محشر اپنی قبر سے اس طرح اٹھے گا کہ اسکا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی مانند چمکتا ہوگا اور وہ صراط پر بڑے امن وامان کے ساتھ گزر جائے گا۔ اور جو شخص شب کا چھٹا حصہ نماز میں بسر کرے گا تو اسکا نام اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں میں لکھ دیا جائے گا اوراسکے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔
اور جو شخص رات کا پانچواں حصہ نماز میں بسر کرے گا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اسکی قبر میں اسکی ملاقات کو آئیں
گے ۔
اور جو شخص ایک چوتھائی رات نماز میں بسر کرے گا تو اسکا شمار سب سے پہلے کامیابی اور نجات پانے والوں میں ہوگا یہاں تک کہ وہ صراط پر سے تیز آندھی کی طرح گزر جائے گا اور بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل میں ہو جائے گا ۔ اور جو شخص ایک تہائی رات نماز میں بسر کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسکو وہ منزلت عطا کرے گا کہ کوئی ملک ایسا نہ ہو گا جو اس پر رشک و غبطہ نہ کرے اور اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس میں سے چاہو داخل ہو جاؤ۔
اور جو شخص رات کا آدھا حصہ نماز میں بسر کرے گا تو اسکو اتنا اجر ملے گا کہ اگر اس کو زمین کے ستر (٧٠) گنا وزن کے برابر بھی سونا عطا کر دیا جائے تو وہ اسکے اس اجر کے برابر نہ ہوگا ۔اور اللہ کے نزدیک وہ اس شخص سے افضل ہوگا جو اولاد اسماعیل میں سے ستر غلام آزاد کر دے ۔ جو شخص دو تھائی رات نماز میں بسر کرے گا تو عالج کی ریت کی تعداد کے برابر حسنات اسکے نامہ اعمال میں لکھ دیئے جائیں گے اور اس میں سے اسکا چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی کوہ احد سے دس گنا وزنی ہو گا ۔
جو شخص پوری رات نماز میں بسر کرے گا کتاب خدا کی تلاوت کرتے ہوئے ، رکوع کرتے ہوئے ، سجدہ کرتے ہوئے
تو اسکو اللہ تعالیٰ کثیر ثواب عطا کرے گا جس میں سے سب سے چھوٹا ثواب یہ ہوگا کہ وہ گناہوں سے اس طرح نکل جائے گا جیسے وہ ابھی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے اور اسکے نامہ اعمال میں وہ تمام حسنات لکھ دیئے جائیں گے جو اللہ نے پیدا کئے ہیں اور اس کے مثل درجات اور اسکی قبر میں مستقل طور پر نور رہے گا ۔ اور اسکے قلب سے گناہ اور حسد کا خیال نکال دے گا ۔ اسکو عذاب قبر سے محفوظ رکھے گا اور جہنم سے براءت کا پروانہ دے دیگا ۔ اور اسے امن پانے والوں میں محشور کرے گا اور اللہ تعالٰی اپنے ملائکہ سے ارشاد فرمائے گا کہ اے میرے ملائکہ میرے اس بندے کو دیکھو اس نے میری خوشنودی حاصل کرنے کیلئے رات بھر جاگ کر عبادت کی ہے ۔ لے جاؤ اسکو جنت الفردوس میں ساکن کر دو اور وہاں اس کیلئے ایک ہزار شہر ہونگے اور ہر شہر میں وہ تمام چیزیں مہیا ہونگی جس کا لوگوں کا جی چاہے گا اور اسے دیکھ کر آنکھوں کو لذت محسوس ہوگی
اور اسکو وہ کرامت و شرف و تقرب حاصل ہو گا جو کسی کے وہم وخیال میں بھی نہ ہوگا -