باب نماز پڑھتے ہوتے شخص کو اگر کسی درندے یا موذی جانور کا سامنا ہو تو اسے مار ڈالے
حدیث ١٠٦٧ - ١٠٧٣
١٠٦٧ - حلبی بن ابی العلاء نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے کہ اس نے سانپ یا بچھو کو دیکھا ؟ آپ نے فرمایا وہ اسکو مار ڈالے ۔
١٠٦٨ - محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے اور کوئی کیڑا مکوڑا اسکو اذیت دے رہا ہے ۔ آپ نے فرمایا وہ اس کو اپنے پر سے اٹھا کر پھینک دے یا ریت میں دبا دے ۔
١٠٦٩ - اور حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک شخص نماز میں مشغول ہے اور تیز قدم چلتا جاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ کوئی ہرج نہیں ہے۔
١٠٧٠ - نیز حلبی نے آنجناب سے دریافت کیا کہ ایک شخص نماز کے دوران کھٹمل پسو ، جوں یا مکھی مارتا ہے کیا اس سے اسکی نماز اور اسکا وضو ٹوٹ جائے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔
١٠٧١ - اور سماعہ بن مہران نے آنجناب سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ جو نماز فریضہ میں کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنا کیسہ یا اپنا مال و متاع بھول جاتا ہے کہ جسکے ضائع یا ہلاک ہو جانے کا خطرہ ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ نماز کو قطع کرے گا اور اپنے مال ومتاع کی حفاظت کرے گا۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا اگر اسکی سواری کھل جائے اور ڈر ہو کہ کہیں بھاگ نہ جائے یا اسے کوئی گزند نہ پہنچ جائے ؟ آپ نے فرمایا کوئی ہرج نہیں اگر وہ اپنی نماز قطع کرے اور اسکو محفوظ کرے پھر نماز پڑھے ۔
١٠٧٢ - اور عمار ساباطی نے آپ سے دریافت کیا ایک شخص ہے جو نماز پڑھ رہا ہے اس نے اپنے ارد گرد ایک سانپ دیکھا کیا یہ اس کے لئے جائز ہے کہ وہ بڑھ کر اس کو مار ڈالے ؟ آپ نے فرمایا اگر اس کے اور سانپ کے درمیان ایک قدم کا فاصلہ ہو تو یہ قدم بڑھائے اور اسکو مار ڈالے ورنہ نہیں ۔
١٠٧٣ - حریز نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جب تم نماز فریضہ میں مشغول ہو اور تم نے دیکھا کہ تمہارا غلام بھاگ رہا ہے ۔ یا تمہارا مقروض جس پر تمہارا مال قرض ہے یا کوئی سانپ ہے جس سے تم کو اپنی جان کا خطرہ ہے تو نماز کو قطع کرو ۔ غلام یا مقروض کا پیچہا کرو اور سانپ کو مار ڈالو ۔