باب : نماز میں سہو کے احکام
حدیث ٩٨٤ - ١٠٣٢
٩٨٤ - اسماعیل بن مسلم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اور انہوں نے اپنے آبائے کرام سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مجھے اپنی نماز میں شک اور وسوسہ پڑ جانے کی شکایت ہے حد یہ ہے کہ مجھے یاد نہیں رہتا کہ میں زیادہ پڑھ گیا یا کم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا کہ جب تو نماز شروع کرے تو اپنی بائیں ران میں اپنے داھنے ہاتھ کی تسبیح والی انگلی کو گڑا کر یہ کہ بسم اللهِ وَبِالله تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعُ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيمِ (اللہ کے نام سے اللہ کے ساتھ میں تو کل کرتا ہوں اللہ پر اور پناہ چاہتا ہوں سننے والے اور جاننے والے اللہ کی شیطان رجیم سے) تو اسطرح تو اس کا گلا دبا دیگا اسکو جھڑک دیگا اور اسکو اپنے سے بھگا دیگا۔
٩٨٥ - روایت کی گئی ہے عمر بن یزید سے اسکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نماز مغرب میں سہو کی شکایت کی تو فرمایا تم مغرب کی نماز سورہ قل ھو اللہ اور قل یا ایھا الکافرون کے ساتھ پڑھو ۔ اسکا بیان ہے کہ میں نے ایسا ہی کیا اور سہود نسیان جاتا رہا۔
٩٨٦ - ابو حمزہ ثمالی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنے دل کے وسوسہ سے سخت مشکل میں مبتلا ہوں۔ میں ایک عیال دار آدمی ہوں مقروض ہوں اور محتاج ہوں۔ آپ نے فرمایا ان کلمات کو بار بار کہا کرو۔ تو کلتُ عَلَى الحَيی الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى لَمْ يَتَّخِذَ صَاحِبَةً وَلَا ولداً ولَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيُّ مِنَ الذُّلِ وَكَبِرَهُ تَكْبيراً (میں نے توکل کیا اس ذات پر جوحیّ ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی ۔ حمد اس اللہ کی جس کے نہ کوئی بیوی ہے نہ کوئی بیٹا اور نہ اسکے ملک میں اسکا شریک ہے نہ وہ کمزور ہے کہ کوئی اسکی سرپرستی کرے اور اسکی بڑائی کا اظہار اچھی طرح کرتے رہا کرو)
آپ کا بیان ہے کہ چند دنوں بعد وہ شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالٰی نے میرے دل سے سارے وسوسے نکال دیئے میرے قرض ادا ہو گئے میرے رزق میں وسعت ہو گئی۔
٩٨٧ - اورعبداللہ بن مغیرہ کی روایت میں ہے کہ آنجناب نے فرمایا کہ کوئی ہرج نہیں اگر ایک شخص اپنی نماز ( کی رکعتوں) کا شمار اپنی انگوٹھی سے کرے یا ہاتھ میں کنکریاں لئے رہے اور اس سے شمار کرے۔
٩٨٨ - امام رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جب تم نماز میں بہت بھولنے لگو تو اپنی نماز پر چلتے رہو شمار نہ کرو۔
٩٨٩ - اور محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ جب تم کو سہو بہت ہونے لگے تو اسکو چھوڑو ہو سکتا ہے کہ یہ سہو تم کو خود چھوڑ دے اس لئے کہ یہ سہو شیطان کی طرف سے ہے۔
٩٩٠ - اور ابن ابی عمیر کی روایت میں محمد بن ابی حمزہ سے روایت ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص ان لوگوں میں ہے جو ہر تین (رکعت) میں سہو کرتے ہیں تو اسکا شمار کثیر السہو میں ہوگا۔
٩٩١ - زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ نماز کا اعادہ صرف پانچ موقع پر کیا جائے گا ۔ طہارت اور وقت اور قبلہ اور رکوع اور سجود میں سہو) پھر فرمایا اور سوروں کی قرات قراءت و تشہد سنت ہے اور سنت (کا سہو) فریضہ کو نہیں توڑتا۔
اور سہو میں اصل یہ ہے کہ جو شخص اپنی کسی نماز کے اندر اول کی دو رکعتوں میں سہو کرے تو اس پر اعادہ لازم ہے اور جب کوئی شخص نماز مغرب میں شک کرے تو اس پر اعادہ لازم ہے اور جو شخص نماز صبح میں شک کرے تو اس پر اعادہ لازم ہے جو شخص نماز جمعہ میں شک کرے تو اس پر اعادہ لازم ہے اور جو شخص دوسری اور تیسری رکعت میں یا تیسری اور چوتھی رکعت میں شک کرے تو وہ اکثر کو مان لے اور جب سلام پڑھ چکے تو اسکو پورا کرے جو اسکے گمان میں نقص اور کمی رہ گئی ہے۔
٩٩٢ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے عمار بن موسیٰ سے ارشاد فرمایا اے عمار میں تمہارے لئے مسئلہ سہو کو دو حکموں میں جمع کئے دیتا ہوں۔ جب تمہیں شک ہو تو اکثر کو اختیار کر لو پھر جب سلام پڑھ لو تو تمہارے گمان میں جو کمی رہ گئی ہے اسے پورا کر لو۔
٩٩٣ - اور اس حدیث کا مطلب جس میں یہ روایت کی گئی ہے کہ فقیہ کبھی نماز کا اعادہ نہیں کرتا تو اس سے مراد تسیری اور چوتھی میں شک کے ہیں ابتداء کی دو رکعتوں میں نہیں۔
اور دو سجدہ سہو اس وقت واجب ہیں کہ جب انسان کھڑے ہونے کی جگہ بیٹھ جائے یا بیٹھ جانے کی جگہ کھڑا ہو جائے یا تشہد ترک ہو جائے یا نہیں جانتا کہ زیادتی ہوئی یا کمی اور یہ دونوں سجدے سلام کے بعد زیادتی یا کمی کے لئے ہونگے۔
٩٩٤ - حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ دو سجدہ سہو سلام کے بعد کوئی بات کرنے سے پہلے ہونگے۔
٩٩٥ - لیکن صفوان بن مہران جمال کی حدیث امام جعفر امام صادق علیہ السلام سے تو اسکا بیان ہے کہ میں نے ان جناب سے دو سجدہ سہو کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر کمی کی ہے تو سلام پڑھنے سے پہلے اور اگر زیادتی کی ہے تو سلام کے بعد اور میں اسی حدیث کے پیش نظر حالت تقیہ میں فتویٰ دیتا ہوں۔
٩٩٦ - اور عمار ساباطی نے ان جناب سے دونوں سجدہ سہو کے متعلق دریافت کیا کہ کیا ان میں تکبیر اور تسبیح ہے ؟ تو آپ نے فرمایا نہیں اس لئے کہ دونوں فقط دو سجدے ہیں ۔ پس اگر سہو کرنے والا امام ہے تو جب سجدہ کرے اور سر اٹھائے تو تکبیر کہے تاکہ وہ لوگ جو اسکے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں وہ آگاہ ہو جائیں کہ امام سے سہو ہوا تھا اور اس پر لازم نہیں ہے کہ ان دونوں سجدوں میں سبحان اللہ کہے اور نہ یہ لازم ہے کہ ان دو سجدوں کے بعد تشہد پڑھے ۔
٩٩٧ - اور حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تم دونوں سجدہ سہو میں کہوگے "بسم الله و بالله و صلى الله علی محمد و آل محمد“ اور دوسری مرتبہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ "بسم الله و بالله السلام علیک ایھا النبی ورحمة الله و بركاته“
اور جو شخص اذان میں شک کرے جبکہ وہ نماز کی امامت کر رہا ہے تو جانے دے ۔ اور جو شخص تکبیر کہنے کے بعد اقامت میں شک کرے تو اسے جانے دے۔ اور جو شخص سوروں کے بعد تکبیر میں شک کرے تو اسے جانے دے ۔ جو شخص اسکے بعد سورہ کی قراءت میں شک کرے تو اسے جانے دے ۔ اور جو شخص سجدہ میں جانے کے بعد رکوع میں شک کرے تو اسے جانے دے ۔ ہر وہ چیز کہ جس میں شک دوسری حالت میں پہنچنے کے بعد ہو تو اسے جانے دے اور شک پر کوئی توجہ نہ کرے سوائے یہ کہ اس کو یقین ہو جائے اور جس شخص کو یقین ہو جائے کہ اس سے اذان و اقامت ترک ہو گئی ہے اور پھر ابھی سورہ نہیں پڑھا ہے کہ اسے یاد آیا تو ترک اذان میں کوئی مضائقہ نہیں وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے اور کہے " قدْ قَامَتِ الصَّلوة قَدْ قَامَتِ الصلوة “ اور جس شخص کو یقین ہو کہ تکبیر افتتاح نہیں کہی تو وہ پھر سے نماز پڑھے مگر اس کو یہ یقین کیسے آئے گا؟
٩٩٨ - اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ کوئی شخص تکبیر افتتاح کو نہیں بھولتا۔
٩٩٩ - اور حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا ایک ایسے شخص کے متعلق کہ وہ تکبیر کہنا بھول گیا اور نماز شروع کر دی ۔ آپ نے فرمایا اسکی بھول یہی تو ہے کہ تکبیر کہی ہے یا نہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا پھر وہ نماز پڑھتا رہے گا۔
١٠٠٠ - اور احمد بن محمد بن ابی نصر بزنطی نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ جسے شک ہے کہ وہ تکبیر افتتاح کہنا بھول گیا یہاں تک کہ اس نے رکوع کیلئے بھی تکبیر کہہ لی آپ نے فرمایا یہ اسکے بدلے
میں کافی ہے ۔
١٠٠١ - اور زرارہ سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے راوی کا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے عرض کیا کہ ایک شخص ہے جو پہلی تکبیر افتتاح بھول گیا ، آپ نے فرمایا اگر اسکو رکوع سے پہلے یاد آگیا تو تکبیر کہے پھر قراءت سورہ کرے پھر رکوع کرے اور اگر اسکو نماز میں کسی وقت یاد آئے تو وہ تکبیر کی جگہ تکبیر کہے قراءت سورہ سے پہلے ہو یا قراءت سورہ کے بعد ہو ۔ میں نے عرض کیا اور اگر اسکو بعد نماز یاد آئے تو آپ نے فرمایا کہ وہ نماز کی قضا کرے گا اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔
١٠٠٢ - اور زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب تم نے افتتاح کے بعد نماز کی اکیس تکبیروں میں سے پہلی تکبیر کہہ لی پھر تم تکبیر کہنا بھول گئے یا تم نے تکبیر نہیں کہی تو نماز کی تمام تکبیروں کے بدلے میں یہ پہلی تکبیری کافی ہے ۔
١٠٠٣ - حریز نے زرارہ سے اور انہوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے ایک ایسے شخص کے متعلق کے جس نے بلند آواز سے نماز پڑھی جہاں بلند آواز سے نہیں پڑھنا چاہیئے یا جہاں بلند آواز سے پڑھنا چاہیئے وہاں اس نے خفی آواز سے نماز پڑھی ، تو آپ نے فرمایا دونوں صورتوں میں اگر اس نے عمداً ایسا کیا ہے تو اسکی نماز باطل ہو گئی اور اس پر نماز کا اعادہ لازم ہے اور اگر وہ بھول گیا اور ایسا کیا یا اس سے سہو ہو گیا اور ایسا کیا یا اسکو معلوم نہ تھا اور ایسا کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اسکی نماز پوری ہو گئی ۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا ایک شخص پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرنا بھول گیا اوراب اسے آخر کی دورکعتوں میں یاد آیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ پہلی دو رکعتوں میں جو قراءت و تکبیر و تسبیح چھوڑ گیا ہے وہ آخر کی دو رکعتوں میں پورا کرے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔
١٠٠٤ - حسین بن حماد نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے راوی کا بیان ہے کہ میں نے ان جناب سے عرض کیا میں پہلی رکعت میں قرآت کرنا بھول جاتا ہوں آپ نے فرمایا تو دوسری رکعت میں قرآت کر لیا کرو ۔ میں نے عرض کیا میں دوسری رکعت میں قرآت بھولتا ہوں ؟ فرمایا تسیری میں قراءت کر لو میں نے عرض کیا میں اپنی پوری نماز میں قراءت بھولتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا اگر تم نے رکوع اور سجود صحیح کر لیا ہے تو تمہاری نماز ہو گئی۔
١٠٠٥ - زرارہ نے ان دونوں حضرات میں سے کسی ایک سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے رکوع اور سجود فرض کیا ہے اور قرآت تو سنت ہے مگر جس نے قراءت عمداً ترک کردی وہ نماز کا اعادہ کرے گا اور جس نے بھول کر ایسا کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔
١٠٠٦ - علاء نے محمد بن مسلم سے اور انہوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق روایت کی ہے کہ جس کو سجدہ کے بعد شک ہوا کہ اس نے رکوع نہیں کیا آپ نے فرمایا وہ اپنی نماز پڑھتا رہے جب تک کہ اسکو یقین نہ ہو جائے کہ اس نے رکوع نہیں کیا ہے اور جب اسکو اس امر کا یقین ہو جائے کہ اس نے رکوع نہیں کیا ہے تو ایسے دو سجدے بجالائے جن دونوں میں رکوع نہ ہو اور اسکی بناء اسی نماز پر رکھے جو تمام پر ہے ۔ اور اگر اسکو اس وقت یقین آیا کہ جب نماز سے فارغ ہو کر وہاں سے پلٹ چکا تھا تو پھر کھڑا ہو اور ایک رکعت دو سجدوں کے ساتھ بجالائے اور پھر اس پرکچھ نہیں ہے ۔
١٠٠٧ - عبد اللہ بن سنان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ اگر تم نماز میں سے کوئی چیز رکوع یا سجدہ یا تکبیر بھول گئے اور بعد میں یاد آیا تو جسکو تم سہواً بھولے ہو اسکی قضا کرو۔
١٠٠٨ - ابن مسکان نے ابی بصیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ جو ایک سجدہ کرنا بھول گیا اور اسے اس وقت یاد آیا جب وہ کھڑا ہو گیا آپ نے فرمایا کہ جب اسے اس وقت یاد آیا کہ وہ ابھی رکوع میں نہیں گیا ہے تو سجدہ کرے اور اگر رکوع میں چلا گیا ہے تو اپنی نماز پر چلتا رہے اور جب نماز سے سلام پھیرے تو صرف ایک سجدہ کی قضا کرے ۔ اس پر دو سجدہ سہو نہیں ہیں ۔
١٠٠٩ - اور منصور بن حازم نے آنجناب سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جس نے نماز پڑھی اور اسے یاد آیا کہ اس نے ایک سجدہ زیادہ کر لیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ ایک سجدہ کی وجہ سے نماز کا اعادہ نہیں کرے گا اگر رکوع کا معاملہ ہوتا تو نماز کا اعادہ کرتا ۔
١٠١٠ - اور عامر بن جزاعہ نے آنجناب علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب تم نے ابتداء کی دو رکعتیں درست پڑھ لی ہیں تو نماز درست پڑھ لی ۔
١٠١١ - اور علی بن نعمان رازی سے روایت ہے اس نے بیان کیا کہ میں ایک مرتبہ اپنے چند اصحاب کے ساتھ سفر میں تھا اور میں انکا امام تھا اور انکے ساتھ نماز مغرب پڑھی تو اول کی دورکعتوں پر ہی سلام پھیر لیا تو میرے اصحاب نے کہا آپ نے ہمارے ساتھ دو ہی رکعت پڑھی پس ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان گفتگو ہونے لگی ان لوگوں نے کہا ہم لوگ پھر سے نماز پڑھیں گے ۔ اور میں نے کہا لیکن ہم تو نماز کا اعادہ نہیں کریں گے بلکہ صرف ایک رکعت پڑھ کر اسے پورا کریں گے چنانچہ میں نے ایک رکعت پڑھ کر اسے پورا کیا پھر ہم لوگ چلے اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوئے اپنا معاملہ انکے سامنے رکھا تو آپ نے مجھ سے فرمایا تم نے بالکل صحیح کیا نماز کا اعادہ وہ کریگا جس کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کیا پڑھا۔
١٠١٢ - اور عمار نے آنجناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص ظہر یا عصر یا مغرب یا عشاء کی دو رکعتوں پر سلام پھیر لے اور بعد میں اسے یاد آئے تو وہ اپنی نماز پر بناء کر لے گا خواہ چین تک چل کر کیوں نہ پہنچ گیا ہو اس پر نماز کا اعادہ نہیں
ہے۔
١٠١٣ - عبید بن زرارہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ جس نے صبح کی نماز ایک رکعت پڑھی اور اس پر تشہد اور سلام پڑھ لیا اور اٹھ کر ادھر اُدھر آیا گیا پھر اسے یاد آیا کہ میں نے صرف ایک رکعت پڑھی ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ ایک رکعت پڑھ کر اس میں شامل کر دیگا۔
١٠١٤ - اور ابو کہمس نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ابتداء کی دو رکعتوں کے متعلق کہا کہ جب تشہد میں کیلئے بیٹھا تو (تشہد کے بعد) کہدیا ” السلام علیک ایھا النبی و رحمة الله و بركاته “ تو کیا اس پر نماز ختم ہو گئی ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم "السلام علينا و على عباد الله الصالحین “ کہو گے تو نماز ختم ہوگی ۔
١٠١٥ - حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب تک تمہیں یہ پتہ نہ ہو کہ تم نے دو رکعت پڑھی یا چار رکعت اور تمہارا گمان بھی کسی ایک طرف غالب نہ ہو تو تشہد پڑھ کر سلام پڑھو پھر تم دو رکعت چار سجدوں کے ساتھ پڑھو اور ان دونوں رکعتوں میں سورہ اُم الکتاب (سورہ حمد) پڑھو پھر تشہد پڑھ کر سلام پڑھو ۔ اسی طرح اگر تم نے دو رکعت پڑھی تھی تو یہ دو رکعتیں تمہاری چار رکعتیں پوری کر دینگی اور اگر تم نے چار رکعت پڑھی تھی تو یہ دور کمت نافلہ قرار پائے گی ۔
١٠١٦ - جمیل بن دراج نے ان ہی جناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایک ایسے شخص کے متعلق کہ جس نے پانچ رکعت نماز پڑھ لی فرمایا کہ اگر وہ چوتھی میں تشہد کے مقدار میں بیٹھ گیا تھا تو اسکی عبادت جائز ہے ۔
١٠١٧ - علاء نے محمد بن مسلم سے اور انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے اسکا بیان ہے کہ میں نے ان جناب سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ جس نے ظہر کی نماز میں پانچ رکعت پڑھ لی تو آپ نے فرمایا کہ اگر اسکو نہیں یاد کہ چوتھی رکعت میں بیٹھا تھا یا نہیں بیٹھا تھا تو اسکو چاہئے اس میں سے چار رکعت ظہر کی قرار دے کر بیٹھے اور تشہد پڑھے پھر بیٹھے ہی بیٹھے دو رکعت چار سجدوں کے ساتھ پڑھے اور اس میں پانچویں رکعت شامل کر دے یہ اسکا نافلہ ہو جائیگا۔
١٠١٨ - اور فضیل بن لیسار نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سہو کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اگر اسکو یاد ہے کہ فلاں چیز چھوٹ گئی ہے تو وہ اسکو پورا کرے اسکے لئے دو سجدہ سہو نہیں ہے بلکہ ہو اسکے لئے ہے جو یہ جانتا ہو کہ نماز زیادہ پڑھ گیا ہے یا نماز میں اس نے کچھ کم پڑھا ہے۔
١٠١٩ - اورحلبی نے ان ہی جناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر تمہیں یہ معلوم نہ ہو کہ تم نے چار رکعت پڑھی ہے یا پانچ رکعت یا زیادہ پڑھ گئے ہو یا کم پڑھی ہے تو تشہد پڑھو اور سلام پڑھو تو بغیر رکوع اور بغیر قرآت (سورہ) کے دو سجدے سہو کرو اوران دونوں میں خفیف تشہد پڑھ لو ۔
١٠٢٠ - اور محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے اسکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ اس نے آنجناب سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا جو امام کے ساتھ نماز میں شامل ہوا اور امام اس سے پہلے ایک رکعت پڑھ چکا تھا اب جبکہ امام نماز سے فارغ ہوا تو یہ شخص بھی لوگوں کے ساتھ نکل گیا اور اسکے بعد اسکو یاد آیا کہ اس سے ایک رکعت فوت ہو گئی ہے تو آپ نے فرمایا کہ وہ شخص صرف اس ایک رکعت کا اعادہ کرے گا۔
١٠٢١ - عبدالر حمن بن حجاج نے حضرت ابی ابراہیم علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ اس کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ ایک شخص ہے جسکو یاد نہیں کہ اس نے دو رکعت پڑھی یا تین رکعت یا چار رکعت آپ نے فرمایا کہ وہ دو رکعت کھڑے ہو کر نماز پڑھے پھر سلام پڑھے اسکے بعد دو رکعت بیٹھ کر نماز پڑھے۔
١٠٢٢ - علی بن ابی حمزہ سے اور انہوں نے حضرت عبد الصالح علیہ السلام سے روایت کی ہے اسکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ان جناب سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو بہت شک میں مبتلا رہتا ہے اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے ایک رکعت پڑھی یا دو رکعت پڑھی یا تین رکعت پڑھی یا چار رکعت اس کو نماز میں شبہ ہو جاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیا ہمیشہ ایسا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ۔ فرمایا پھر وہ اپنی نماز پڑھتا رہے اور شیطان رجیم سے پناہ چاہتا رہے ہو سکتا ہے کہ اس طرح وہ اس سے دور ہو جائے ۔
١٠٢٣ - سہل بن یسع نے اس مسئلہ کے متعلق حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جہاں تک اس کو یقین ہے اس پر بنیاد ر کھے اور سلام پڑھ کر دو سجدہ سہو کرے اور خفیف سا تشہد پڑھے ۔
١٠٢٤ - اور یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ ایسا شخص ایک رکعت کھڑے ہو کر پڑھے اور دو رکعت بیٹھ کر پڑھے ۔
اور ان احادیث میں کوئی اختلاف نہیں ہے صاحب سہو کو اختیار ہے کہ وہ ان میں سے جس پر چاہے عمل کرے درست ہو گا ۔
١٠٢٥ - اسحاق بن عمار سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں بیان کیا کہ مجھ سے حضرت ابو الحسن اول علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تمہیں شک ہو تو جہاں تک یقین ہو اس پر عمل کرو۔ میں نے عرض کیا کہ یہ اصل ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔
١٠٢٦ - اور عبداللہ بن ابی یعفور نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ وہ نماز فریضہ میں دو رکعت پڑھتا ہے اور (تشہد کیلئے) بیٹھتا نہیں آپ نے فرمایا اگر وہ صرف تیسری رکعت کیلئے کھڑا ہو گیا ہے تو بیٹھ جائے اور اگر رکوع کے بعد اسکو یاد آیا ہے تو وہ اپنی نماز کو تمام کرے اسکے بعد بیٹھے ہی بیٹھے بغیر کوئی بات کئے ہوئے دو سجدے کرے ۔
١٠٢٧ - اور محمد بن مسلم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کسی شخص کو نماز پڑھنے کے بعد شک ہو اور اسے یاد نہ آئے کہ تین رکعت پڑھی ہے یا چار رکعت اور جس وقت وہ سلام پڑھ رہا تھا اسے یقین تھا کہ اس نے پوری نماز پڑھی ہے ۔ تو وہ نماز کا اعادہ نہیں کرے گا۔ اس لئے کہ جس وقت سلام پھیرا ہے وہ حق سے زیادہ قریب ہے یہ نسبت اس کے بعد کے وقت کے ۔
١٠٢٨ - اور ابراہیم بن ہاشم کی نو اور (احادیث) میں یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا گیا ایک ایسے پیشنماز کے متعلق کہ جو چار یا پانچ آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے ان میں دو آدمی سبحان اللہ کہہ رہے ہیں اس خیال پر کہ انہوں نے تیسری رکعت پڑھی اور تین آدمی سبحان اللہ کہہ رہے ہیں اس خیال سے کہ انہوں نے چوتھی رکعت پڑھی ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ کھڑے ہو جاؤ (چوتھی رکعت کیلئے) اور یہ کہہ رہے ہیں کہ بیٹھو (چوتھی رکعت ہو چکی) اور امام ان میں سے ایک کے خیال کی طرف مائل ہے یا متعدل الو ہم ہے تو اب ان لوگوں کو کیا کرنا واجب ہے ؟ آپ نے فرمایا امام کیلئے اب سہو نہیں رہیگا جبکہ اسکے پیچھے دونوں نے اسکے سہو کو یاد دلایا اور جب امام کیلئے سہو نہیں رہے گا تو اسکے پیچھے نماز پڑھنے والوں کیلئے بھی سہو نہیں رہے گا اور سہو میں سہو نہیں ہوتا ۔ اور مغرب کی نماز میں سہو نہیں ہوتا اور نہ فجر کی نماز میں سہو ہوتا ہے اور نہ کسی بھی نماز کی ابتدائی دو رکعتوں میں سہو ہے ۔ لہذا جب امام کے پیچھے جو لوگ نماز پڑھ رہے ہیں ان میں اختلاف ہے تو امام پر اور وہ لوگ جو اسکے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں ان سب پر واجب ہے کہ (سہو کے مسئلہ پر عمل نہ کریں) بلکہ احتیاط پر عمل کریں اور نماز کا اعادہ کریں اور حزم و احتیاط سے کام لیں ۔
اور جب تم نماز ہی بھول گئے اور تمہیں یاد نہیں کہ کونسی نماز ہے تو پہلے تم وہ رکعت پڑھو پھر تین رکعت پڑھو پھر چار رکعت پڑھو اگر وہ ظہر یا عصر یا عشاء کی تھی تو تم نے چار رکعت پڑھ لی۔ اگر مغرب کی تھی تو تین رکعت پڑھ لی اور اگر فجرکی تھی تو دورکعت پڑھ لی ۔
اور اگر تم نے بھولے سے نماز میں بات کرلی اور کہا کہ اپنی صف درست کرو تو (گو) تمہاری نماز پوری ہو گئی (لیکن بھولے سے بات کرنے پر) تم دو سجدہ سہو کر لو۔
١٠٢٩ - اور روایت کی گئی ہے کہ جو شخص اپنی نماز میں بھولے سے بات کرے تو چند تکبیریں کہہ لے اور جو شخص اپنی نماز میں عمداً بات کرے تو اس پر نماز کا اعادہ لازم ہے اور جو شخص اپنی نماز میں کراہا تو سمجھ لو کہ اس نے بات کی ۔
اگر تم نماز ظہر پڑھنا بھول گئے ۔ اور سورج غروب ہو گیا مگر تم عصر کی نماز پڑھ چکے ہو تو اگر نماز مغرب کا وقت فوت ہونے سے پہلے ممکن ہو تو پہلے ظہر کی نماز پڑھ لو اور اگر ممکن نہ ہو تو پہلے مغرب کی پڑھ لو پھر ظہر کی پڑھ لو ۔ اور اگر تم ظہر کی نماز پڑھنا بھول گئے اور تمہیں اس وقت یاد آیا جب عصر کی نماز شروع کر دی تھی تو جو نماز تم پڑھ رہے اسکو ظہر کی قرار دید و بشرطیکہ تمہیں اسکا ڈر نہ ہو کہ عصر کی نماز کا وقت فوت ہو جائیگا ۔ پھر اسکے بعد تم عصر کی نماز پڑھو ۔ اور اگر تمہیں اسکا ڈر ہے کہ اسطرح عصر کا وقت فوت ہو جائیگا تو پہلے عصر کی نماز پڑھ لو اور اگر تم نماز ظہر و عصر دونوں بھول گئے اور تمہیں غروب آفتاب کے قریب یاد آیا تو اگر تم کو ان دونوں کے وقت کے فوت ہونے کا خوف نہیں ہے تو پہلے ظہر کی پڑھو پھر عصر کی پڑھو اور اگر (اتنا وقت کم ہے کہ) ایک کے خوف ہونے کا ڈر ہے تو پہلے عصر کی پڑھو ۔ اس کو مؤخر نہ کرو ۔ ورنہ دونوں فوت ہو جائینگی اور اس کے فوراً بعد پہلی (یعنی ظہر کی) پڑھو ۔ اور جب کوئی نماز تم سے فوت ہو جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھو ۔ اور اگر تمہیں اس وقت یاد آئے جب دوسری نماز فریضہ کا وقت ہے تو پہلے جس نماز کا وقت ہے اسے پڑھ لو ۔ اس کے بعد وہ فوت شدہ نماز پڑھو ۔ اور اگر ظہر و عصر دونوں فوت ہو گئی ہیں اور تمہیں اس وقت یاد آیا جب ان میں اتنا وقت باقی ہے کہ تم دونوں نمازیں پڑھ سکتے ہو تو پہلے نماز ظہر اور پھر نماز عصر پڑھو اور اگر صرف اتنا وقت ہے کہ ان دونوں میں سے صرف ایک نماز پڑھ سکتے ہو تو پہلے عصر پڑھ لو اور اگر اتنا وقت ہے کہ تم چھ رکعت پڑھ سکتے ہو تو پہلے ظہر پڑھو پھر عصر پڑھو۔
١٠٣٠ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اس شخص کی نماز فوت نہیں ہوتی جو نماز کا ارادہ کرلے ۔ اور دن (ظہر و عصر) کی نماز فوت نہیں ہوتی جب تک کہ آفتاب غروب نہ ہو جائے اور رات (مغرب وعشاء) کی نماز فوت نہیں ہوتی جب تک کہ فجر طلوع نہ ہو جائے اور یہ مسئلہ صرف شخص مضطر و علیل اور بھول جانے والے کے لئے ہے۔
اور اگر تم نماز مغرب و عشاء پڑھنا بھول گئے اور تمہیں فجر سے پہلے یاد آیا تو اگر اتنا وقت باقی ہے کہ دونوں نمازیں پڑھ سکو تو دونوں کو پڑھو اور اگر خوف ہے کہ ایک کا وقت فوت ہو جائیگا تو پہلے عشاء کی پڑھ لو پھر مغرب کی پڑھو ۔ اور اگر تمہیں بعد طلوع صبح یاد آیا تو پہلے صبح کی نماز پڑھو پھر طلوع آفتاب سے پہلے مغرب کی پڑھو پھر عشاء کی پڑھو ۔ اور اگر تم بغیر نماز صبح پڑھے سوگئے یہاں تک کہ آفتاب طلوع ہو گیا تو پہلے دو رکعت نماز پڑھو پھر صبح کی نماز پڑھو ۔ اور اگر تم دوسری رکعت میں تشہد پڑھنا بھول گئے اور تمہیں اس وقت یاد آیا جب تم نے تیسری رکعت شروع کر دی تھی تو اگر تم نے ابھی رکوع نہیں کیا ہے تو بیٹھ جاؤ اور تشہد پڑھ لو اور اگر تم کو رکوع کے بعد یاد آیا تو اپنی نماز میں چلتے رہو اور جب سلام پھیرو تو اسکے بعد دو سجدہ سہو کرو اور ان دونوں میں وہ تشہد پڑھو جو تم سے فوت ہو گیا ہے ۔ اور اگر تم نے چوتھی رکعت کے دوسرے سجدہ سے سر اٹھایا اور تم سے حدث صادر ہو گیا تو اگر تم نے شہادتین پڑھ لی ہیں تو تمہاری نماز ہو گئی ۔ اور اگر ابھی شہادتیں نہیں پڑھیں کہ حدث صادر ہو گیا تو بھی تمہاری نماز ہو گئی اب تم وضو کر کے دوبارہ مصلیٰ پر آؤ اور تشہد پڑھ لو ۔ اور اگر تم تشہد اور سلام دونوں پڑھنا بھول گئے اور جب تم نے اپنا مصلیٰ چھوڑ دیا اس وقت یاد آیا تو تم خواہ کھڑے ہو یا بیٹھے ہو قبلہ رخ ہو کر تشہد اور سلام پڑھ لو ۔
اور جس شخص کو یقین ہو جائے کہ اس نے نماز میں چھ رکعت پڑھی ہے تو وہ نماز کا اعادہ کرے اور جس شخص کو یاد نہ آئے کہ اس نے کتنی رکعتیں نماز میں پڑھی ہیں اور اس کا خیال کسی بات پر قائم نہ ہو تو دوبارہ نماز پڑھے ۔ اور جب کوئی شخص کسی کے پہلو میں کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہے جو بائیں پہلو میں ہے اور اسے معلوم نہ ہو کہ وہ بھی نماز پڑھ رہا ہے تو جب اسکو معلوم ہو جائے کہ وہ بھی نماز پڑھ رہا ہے تو اسکے داہنے پہلو میں آجائے ۔ اور جس شخص پر دو سجدہ سہو واجب ہیں اور وہ یہ دونوں سجدے کرنا بھول گیا تو اسے جب بھی یاد آئے دو سجدے کرلے۔
اور اگر ایک شخص نماز جماعت میں شامل ہوا اور اسکا خیال ہے کہ یہ لوگ ظہر کی نماز پڑھ رہے ہیں مگر وہ عصر کی نماز پڑھ رہے تھے تو اسکو چاہیئے کہ وہ اپنی نماز ظہر کو قرار دے اور عصر کی نماز بعد میں پڑھ لے ۔ اور ایک شخص نماز فریضہ پڑھنے کیلئے کھڑا ہوا اور بھول گیا اسے خیال آیا کہ میں نماز نافلہ پڑھ رہا ہوں یا ایک شخص نماز نافلہ پڑھنے کیلئے کھڑا ہوا اور اسکو خیال آیا کہ وہ نماز فریضہ پڑھ رہا ہے تو وہ جس نیت سے نماز شروع کی تھی اس پر قائم رہے اور کوئی حرج نہیں اگر ایک شخص ظہر کی نماز اس شخص کے پیچھے پڑھے جوعصر کی پڑھ رہا ہے ۔ مگر جو شخص ظہر کی نماز پڑھ رہا ہے اسکے پیچھے یہ عصر کی نماز نہیں پڑھ سکتا مگر یہ کہ اسکو خیال ہو کہ یہ بھی عصر کی پڑھ رہا ہے اور اس نے اسکے ساتھ عصر کی نماز پڑھ لی پھر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ظہر کی پڑھ رہا تھا تو یہ اسکے لئے کافی ہو جائے گا ۔
١٠٣١ - اور حسن بن محبوب نے رباطی سے انہوں نے سعید اعرج سے روایت کی ہے میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ بیان کر رہے تھے کہ ایک مرتبہ اللہ تعالٰی نے اپنے رسول پر ایسی نیند غالب کی کہ آپ نماز صبح نہیں پڑھ سکے یہاں تک کہ آفتاب طلوع ہو گیا پھر آپ اٹھے تو آپ نے نماز فجر سے پہلے دو رکعت پڑھی اسکے بعد نماز فجر پڑھی نیز آپ پر اللہ نے ایک مرتبہ ایسا سہو طاری کر دیا کہ آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پڑھ لیا پھر آپ نے ذوالشمالین کا قول نقل فرمایا کہ اللہ نے آپ کے ساتھ ایسا امت پر مہربانی کیلئے کیا تا کہ اگر کوئی مرد مسلمان سو جائے اور نماز نہ پڑھ سکے یا نماز میں سہو کر جائے تو اس پر عیب نہ لگایا جاسکے ۔ اور یہ کہا جاسکے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی تو ایسا کیا ہے ۔
١٠٣٢ - حماد بن عثمان نے ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا کہ اس سے نماز میں سے کوئی شے فوت ہو گئی اب طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت اسے یاد آیا ؟ آپ نے فرمایا کہ جب اسے یاد آئے تو پڑھ لے ۔