Skip to main content

باب : ہر صبح و شام کی مستحب دعائیں

حدیث ٩٨٠ - ٩٨٤ 

٩٨٠ - عبدالکریم بن عتبہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور اسکے غروب ہونے سے پہلے دس مرتبہ یہ کہے - لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ اَلْحَمْدُ يُحْيِىْ وَيُمِيْتُ وَهُوَ حَيُّ لَا يَمُوْتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَ هُوَ عَلَى كُلِّ شَىِءٍ قَدِيْرٌ- (نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس اللہ کے وہ اکیلا ہے اسکا کوئی شریک نہیں اس کے لئے ملک اور اس کے لئے حمد ہے وہی جلاتا اور مارتا ہے وہ زندہ ہے جو کبھی نہ مرے گا اسی کے ہاتھ خیر ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے) تو یہ اسکے اس دن کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔ 

٩٨١ - حفص بن بختری نے آنجناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے بیان فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام جب صبح ہوتی اور جب شام ہوتی تو یہ کہا کرتے تھے - اَللّهُمَّ إِنِّىْ اَشْهِدُكَ أَنَّهُ مَا أَصْبَحَ وَأَمْسَى بِىْ مِنْ نِعْمَةٍ وَ عَافِيَةٍ فِىْ دِيْنٍ أَوْ دُنْيَا فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ـ لَكَ الْحَمْدُ وَ لَكَ الشُّكَرُ بِهَا عَلَىَّ حَتّى تَرْضَى وَ بَعْدَ الرِّضَا (اے پروردگار میں تجھے گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ دین و دنیا میں جو نعمتیں اور عافیتیں صبح وشام مجھے میسرآرہی ہیں وہ سب صرف تیری طرف سے اور اکیلے تیری طرف سے ہیں تیرا کوئی شریک نہیں تیرے لئے حمد اور تیرے لئے شکر تاکہ تو مجھ سے خوش ہو اور آئندہ بھی خوش رہے)
ایسا جب صبح ہوتی تو دس مرتبہ کہتے اور جب شام ہوتی تو دس مرتبہ کہتے اور اس بناء پر اللہ نے ان کا نام عبداً شكورا لکھدیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر کے بعد کہا کرتے تھے -  اَللّهُمَّ إِنِّىْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ اَلْهَّمِ وَالْخِزْنِ وَ الْعِجْزِ وَالْكَسْلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلِّعِ الدِّيْنِ ، وَعَلَبَةِ الرِّجَالِ ، وَبَوَارِ الأَيْمِّ وَالغَفْلَةِ وِالذَّلَةِ وَالْقَسْوَةِ وَالْعِيْلَةِ وَالْمَسْكَنَةِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَاتَشْـبَعُ ، وَمِنْ قَلْبِ لا يَخْشَعُ ، وَمِنْ عَيْنِِ لَا تَدْمَعُ وَمِنْ دَعَاءِِ لَا يُسْمَعُ ، وَمِنْ صَلَاةٍ لَاتَنْفَعُ، وَأَعُوْذُبِكَ مِنْ أٍمَرَأَةِِ تُشِيْبُنْي قَبْلَ أَوَانِ مَشِيبِىْ وَأعُوذُبِكَ مِنْ وَلَدٍ يَكُوْنُ عَلَىَّ رَبَاءَ وَأَعُوْذُبِكَ مِنْ مَالِِ يَكُوْنُ عَلَىَّ عَذَاباً ، وَأَعوذُبِكَ مِنْ صَاحِبِِ خَدِيعَةٍ إِنْ رَأَى حَسَنَةً دَفَنَهَا ، وَإِنْ رَأَى سَيِّئَةً أَنْشَاهَا، اَلَلّهُمَّ لَا تَجْعَلْ لِفَاجِرٍ عِنْدِىْ يَداً وَلَامِنَّةً - (اے الله میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہم وحزن سے ، عجزو کسسل سے ، بخل و بزدلی سے ، دین میں کجی سے ، لوگوں کے مقابلہ میں مغلوب ہو جانے سے ، بے شوہر والی عورت سے ، غفلت و ذلت وقساوت قلبی و تنگدستی و مسکنت سے ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو ، ایسے قلب سے جس میں خوف خدا نہ ہو، ایسی آنکھ سے جس میں کبھی آنسو نہ آئیں ایسی دعا سے جو سنی نہ جاسکے ۔ ایسی نماز سے جو نفع نہ دے سکے۔ اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسی عورت سے جو بڑھاپے سے قبل ہی مجھے بوڑھا کر دے۔ ایسی اولاد سے جو مجھ پر حاوی اور غالب رہنے کی کوشش کرے۔ اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے مال سے جو میرے لئے عذاب بن جائے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے دھو کہ باز سے جو اگر میری اچھائی دیکھے تو اسے چھپا دے اور اگر برائی دیکھے تو اسے مشہور کر دے۔ اے اللہ تو کسی فاجر شخص کا مجھے ممنون واحسان مند نہ ہونے دے ۔)

٩٨٢ - اور ہمارے متعدد اصحاب نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میرے پدر بزرگوار جب نماز صبح پڑھتے تو یہ کہتے تھے ۔ new-1.jpg

 اے وہ ذات کہ جو مجھ سے میری شہ رگ گردن سے بھی قریب ہے ، اے وہ کہ جو انسان اور اسکے طلب کے درمیان حائل رہتا ہے)
 اے وہ ذات کہ جو منظر اعلیٰ پر ہے ، اے وہ کہ جسکے مثل کوئی شے نہیں اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ اے وہ کہ جو اُن تمام لوگوں سے زیادہ سخی ہے جن سے سوال کیا جاتا ہے ، اے تمام عطا کرنے والوں سے زیادہ عطا کرنے والے - اے تمام پکارے جانے والوں میں سب سے بہتر، اے اُن تمام میں سب سے افضل جن سے امید رکھی جاتی ہے، اے ہر سننے والے سے زیادہ سننے والے اے تمام دیکھنے والوں میں سب سے زیادہ دیکھنے والے ، اے تمام مددگاروں میں سب سے بہتر مددگار ، اے حساب کرنے والوں میں سب سے جلد حساب کرنے والے ، اے تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے ، اے حاکموں میں سب سے بڑے حاکم ، اپنی رحمتیں نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آل محمد پر اور میرے رزق میں میرے لئے وسعت دے ، میری عمر کو دراز کر اور اپنی رحمت کو مجھے پر پھیلا دے اور مجھے ان لوگوں میں قرار دے جن کے ذریعہ تو اپنے دین کی مدد کرتا ہے اور میرے بدلے کسی غیر کو یہ شرف نہ دے۔ اے اللہ تو نے میرے رزق کا اور تمام جان داروں کے رزق کا ذمہ لیا ہے پس میرے اور میرے عیال پر اپنے وسیع اور حلال رزق میں وسعت عطا فرما اور فقر و تنگدستی سے مجھے محفوظ رکھ ۔
پھر فرمایا کرتے ۔
اے دونوں محافظ فرشتوں مرحبا اے کراماً کا تبین اللہ تم دونوں کو زندہ و سلامت رکھے اللہ تم دونوں پر رحم کرے (میرے نامہ اعمال میں) تم دونوں یہ لکھ لو کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اسی اللہ کے وہ اکیلا ہے اسکا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ دین وہی ہے جو قواعد و اصول اللہ نے بنائے اور اسلام وہی ہے جسکی توصیف اللہ نے کی ۔ کتاب وہی ہے جسے اللہ نے نازل فرمایا ۔ حدیث وہی ہے جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا ۔ اور بیشک اللہ کی ذات ایک واضح حق ہے پروردگار تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک میرا بہترین تحتیہ اور بہترین سلام پہنچا دے۔ میں نے اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے صبح کی میں نے اس طرح صبح کی کہ اللہ کا شریک کسی شے کو نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہیں پکارا اور اسکے سوا کسی دوسرے کو اپنا ولی نہیں بنایا۔ میں اللہ تعالٰی کا عبد مملوک ہوں جس چیز کا اللہ نے مجھے مالک بنایا ہے اسکے سوا میں کسی شے کا مالک نہیں ہوں مجھ میں تو اتنی بھی استطاعت نہیں کہ اپنی تمنا کے مطابق کوئی خیر حاصل کرلوں اور نہ اتنی استطاعت ہے کہ جس شرسے میں ڈرتا ہوں اسکو دور کر سکوں، میں اپنے عمل کے ہاتھوں رہن ہوں، میں ایسا فقیر ہوں کہ اپنے سے زیادہ کسی کو فقیر نہیں پاتا ، میں صبح کرتا ہوں تو اللہ کی مرضی سے ، شام کرتا ہوں تو اللہ کی مرضی سے ، زندہ ہوں تو اللہ کی مرضی سے ، مرونگا تو اللہ کی مرضی سے اور اللہ ہی کی طرف میرا حشر و نشر ہو گا ۔

٩٨٣ - عمار بن موسیٰ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم صبح کرو اور شام کرو تو یہ کہو

983-new.pngمیں نے اس امر کا اقرار کرتے ہوئے صبح کی کہ ملک وحمد و عظمت و کبریائی و جبروت و حلم و علم و جلال و جمال و کمال وحسن و قدرت و تقدیس و تعظیم و تسبیح و تکبیر تحلیل و تحمید و بخشش وجود و کرم ومجد واحسان، خیر و فضل و وسعت و حول وقوت و سلطنت و عزت و قدرت۔ پھاڑنا جوڑنا اور رات ودن و ظلمت و نور دنیا و آخرت اور تمام مخلوق اور ہر طرح کا فرمان جن چیزوں کا میں نے نام لیا ہے وہ اور جن چیزوں کا نام نہیں لے سکا ان میں سے جن کا ہمیں علم ہے وہ اور جن کا علم نہیں ہے جو کچھ ہو چکا وہ اور جو آئندہ ہو گا وہ سب کا سب سارے جہاں سے رب کے لئے ہے۔ حمد اس اللہ کی جو رات کو لے گیا اور دن کو لایا اور میں اسکی طرف سے ملی ہوئی نعمت اور عافیت اور اسکے عظیم فضل و کرم میں ہوں۔ حمد اس اللہ کی کہ جس کی ہر وہ چیز ہے جو رات اور دن میں ساکن ہے اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔ حمد اس اللہ کی جو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور زندہ کو مردہ سے اور وہ دلوں کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ اے اللہ ہم تیری منشاء سے شام کرتے ہیں اور تیری ہی منشاء سے صبح - تیری ہی منشاء سے زندہ رہیں گے اور تیری ہی منشاء سے مریں گے اور تیری ہی طرف ہماری بازگشت ہوگی ۔ اور میں پناہ چاہتا ہوں تیری اس بات سے کہ میں کسی کو ذلیل کروں یا کوئی مجھ کو ذلیل کرے یا میں کسی کو گمراہ کروں یا کوئی مجھے گمراہ کرے یا کوئی مجھ پر ظلم کرے یا میں کسی پر ظلم کروں یا میں کسی کو جاہل بناؤں یا کوئی مجھے جاہل بنائے۔ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے قلب کو اپنی اطاعت اور اپنے رسول کی اطاعت پر ثابت و برقرار رکھ ۔ اے اللہ میرے قلب کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ نہ ہونے دے اور اپنے پاس سے مجھے رحمت عطا فرما بیشک تو بہت عطا کرنے والا ہے۔

پھر آپ کہا کرتے کہ (اے اللہ رات و دن یہ دو مخلوق ہیں تیری مخلوقات میں سے ان دونوں کے اندر مجھے نہ اپنی معصیت کی جرات میں مبتلا کرنا اور نہ فعل حرام کے ارتکاب میں۔ ان دونوں کے اندر مجھے اس عمل کی توفیق دے جو مقبول ہو اور وہ سعی و کوشش جو لائق شکر ہو اور وہ تجارت جس میں کبھی گھاٹا نہ ہو۔)

٩٨٤ - اور مسمع کردین سے روایت کی گئی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ چالیس دن تک نماز صبح پڑھی وہ جناب جب نافلہ پڑھتے تو دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے کہا کرتے۔

984-1.jpg

ہم لوگوں نے اور ملک نے اللہ کے لئے صبح کی ۔ اے اللہ ہم لوگ تیرے بندے کی اولاد ہیں اے اللہ ہم لوگوں کی حفاظت کر خواہ ہم لوگ اپنی حفاظت کر رہے ہوں خواہ نہ کر رہے ہوں۔ اے اللہ ہم لوگوں کی رکھوالی کر خواہ ہم لوگ اپنی رکھوالی کر رہے ہوں خواہ نہ کر رہے ہوں ۔ اے اللہ تو ہم لوگوں کی پردہ پوشی کر خواہ ہم لوگ اپنی پردہ پوشی کر رہے ہوں خواہ نہ کر رہے ہوں۔ اے اللہ ہم لوگوں کو غنی اور عافیت کے پردے میں چھپالے اے اللہ تو ہم لوگوں کو عافیت کی روزی عطا کر اور دائمی عافیت سے نواز اور عافیت پر ہم لوگوں کو شکر کی توفیق دے