Skip to main content

باب استخاره

حدیث ١٥٥٠ - ١٥٥٥

١٥٥٠ - ہارون بن خارجہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب تم لوگوں میں کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے تو لوگوں میں سے کسی ایک سے مشورہ نہ کرے بلکہ اپنے اللہ تعالی سے مشورہ کرے راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان اللہ سے مشاورت کیسے؟  فرمایا یوں کہ پہلے اللہ تعالٰی سے استخارہ کرے پھر لوگوں سے مشورہ کرے اس لئے کہ جب اللہ سے پہلے مشورہ کرے گا تو اللہ تعالٰی اپنی مخلوق میں سے جس کی زبان سے چاہے گا بہتر مشورہ جاری کرا دے گا ۔

١٥٥١ - مرازم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعت نماز پڑھے پھر اللہ تعالی کی حمد وثناء کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے اور یہ کہے اَللَّٰهُمَّ إِنْ كَانَ هَٰذَا الْأَمْرُ خَيْراً لِىْ فِي دِيْنِىْ وَ دُنْيَايَ فَيَسِّرْهُ لِيْ وَقَدِّرْهُ لِىْ وَ إِنْ كَانَ غَيْرِ ذَلِكَ فَاصْرِفْهُ عَنِّيْ (اے اللہ اگر یہ کام میرے لئے میرے دین اور میری دنیا میں بہتر ہے تو اسکو میرے لئے آسان کر دے اور اس کو میرے لئے مقدر کر دے اور اگر اس کے علاوہ ہے تو اسکو مجھ سے پھیر دے)
مرازم کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا کہ ان دونوں رکعتوں میں کیا پڑھا جائے ؟ آپ نے فرمایا ان دونوں میں قران کی جو سورہ چاہو پڑھو ۔ اگر چاہو تو ان دونوں میں قل هو الله احمد پڑھو اور چاہو تو قل یا ایھا الکافرون پڑھو ۔ اور قل هو الله احمد ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔

١٥٥٢ - محمد بن خالد قسری نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے استخارہ کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا نماز شب کی آخری رکعت میں اللہ سے استخارہ کرو سجدہ کی حالت میں ایک سو ایک (١٠١) مرتبہ میں نے عرض کیا اس میں کیسے کہوں آپ نے فرمایا یوں کہو أَسْتَخَيْرُ اللَّهَ بِرَحْمَتِهِ أَسْتَخَيْرُ اللَّهَ بِرَحْمَتِهِ -

١٥٥٣ - حماد بن عثمان نے ان ہی جناب سے روایت کی ہے استخارہ کے متعلق کہ آدمی نماز فجرکی دو رکعتوں کے آخری سجدہ میں ایک سو ایک (١٠١) مرتبہ اللہ سے استخارہ کرے پھر الحمد اللہ کہے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے اسکے بعد پچاس مرتبہ استخارہ کرے ( استخیر اللہ کہے ) پھر الحمد اللہ کہے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے اور اس کو ایک سو ایک مرتبہ پورا کرے ۔

١٥٥٤ - حماد بن عیسیٰ نے ناجیہ سے انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی آپ جب کوئی غلام یا کوئی سواری یا کوئی ہلکی پھلکی اور تھوڑی شے خریدنے کا ارادہ کرتے تو اس کے متعلق اللہ تعالٰی سے سات مرتبہ استخارہ کیا کرتے اور جب کوئی بہت بڑے کام کیلئے ارادہ کرتے تو اس کے لئے سو مرتبہ استخارہ کرتے تھے ۔

١٥٥٥ - اور معاویہ بن میسرہ نے ان ہی جناب علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو کوئی بندہ اس طرح استخارہ کرے گا تواللہ تعالی اس کے پاس خیر بہتر مشورہ بھیج دے گا ۔ وہ یہ کہے يَا أَبْصِرَ النَّاظِرِيْنَ وَ يَا أَسْمَعَ السَّامِعِينَ وَيَا أَسْرَعَ الْحَاسِبِيْنَ وَيَا أَرْحَمَ الرَّحِمِيْنَ وَيَا أَحْكَمَ الْحَاكِمِيْنَ صَلِّى عَلیٰ  مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَيْتِةِ وَخِرْلِيْ فِيْ ( اے سب سے زیادہ دیکھنے والے الے سب سے زیادہ سننے والے اے سب سے زیادہ حساب رکھنے والے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے سب سے زیادہ بہتر فیصلہ کرنے والے رحمت نازل فرما محمد اور ان کے اہلبیت پر اور اس کام میں میرے لئے جو بھلائی ہے وہ بتا دے) ۔
                         میرے والد رضی اللہ عنہ نے مجھے خط میں لکھا کہ اے فرزند جب کسی کام کا ارادہ کرو تو دو رکعت نماز پڑھو اور اللہ تعالیٰ سے ایک سو ایک مرتبہ استخارہ (طلب خیر) کرو اور جو ارادہ کیا ہے اس پر عمل کرو اور اپنی دعا میں یہ کہو لَا إِلهَ إِلاَّ اللهُ الْحَلِيْمُ الْكَرِيْمُ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ العَلِىُّ الْعَظِيْمُ ، رَبِّ بِحَقِ مُحَمَّدٍ وَآلِهٌ صَلِّ عَلیٰ  مُحَمَّدٍ وَآلِهٌ وَ خِرْلِىْ فِيْ (نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس اللہ علیم وکریم کے نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس اللہ علی و عظیم کے اے پروردگار مجھے محمدؐ وآل محمدؐ کے حق کا واسطہ محمدؐ اور انکی آل پر رحمت نازل فرما اور میرے لئے اس کام میں وہ پسند فرما جو دنیا اور آخرت میں میرے لئے بہتر ہو اور عافیت کے ساتھ ہو)