باب دعائے قنوت نماز و تر
حدیث ١٤٠٢ - ١٤٢٢
١٤٠٢ - نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز وتر کے قنوت میں یہ کہا کرتے تھے اَللَّهُمَ اَهْدِنِىْ فِيْمَنْ حَدَيْتَ وَعَافِنِىْ فِيْمَنْ عافَيْتَ ، وَتَوَلِّنِىْ فَيْمَنْ تَوَلَّيْتَ ، وَ بَارِكْ لِىْ فِيْمَا أَعْطَيْتَ ، وَقِنْىِ شَرً مَا قَضَيْتَ ، فَإِنَّكَ تَقْضِىْ وَلَا بَقْضِى عَلَيْكَ ، سُبْحَانَكَ رَبِّ الْبَيْتِ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ وَ أمِنْ بِكَ ، وَأَتْوَ كَّلُ عَلَيْكَ ، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ يَا رَحِيمُ (اے اللہ تو مجھے ہدایت بخش اور ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کر اور عافیت عطا فرما اور عافیت پانے والے لوگوں میں شامل کر اور میری کارسازی بھی فرما اور مجھے ان لوگوں کے زمرہ میں شامل کر جنکی تو نے کار سازی کی ہے ۔ اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا ہے اس میں میرے لئے برکت دے اور اس شرسے بچا جو تو جاری کر چکا ہے بیشک تو ہی حکم جاری کرتا ہے اور مجھ پر کسی کا حکم جاری نہیں ہوتا ۔ اے کعبہ کے رب تیری ذات پاک و منزہ ہے میں تجھ سے مغفرت کا طالب ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور تجھ پر ایمان لایا ہوں تجھ پر توکل کئے ہوئے ہوں اے رحم کرنے والے تیری مدد کے بغیر کوئی قوت و طاقت نہیں ہے)
١٤٠٣ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں میں جو سب سے طویل قنوت پڑھے گا وہ قیامت کے دن موقف میں سب سے طویل راحت میں رہے گا ۔
١٤٠٤ - اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کے دن قنوت اللہ کی مجد و بزرگی کا اظہار اور اللہ کے بنی پر درود اور کلمات فرج و کشادگی کا ہے اور پھر یہ دعا ہے (جو اوپر گزری ہے)
اور نماز وتر میں قنوت روز جمعہ کے قنوت کے مانند ہے پھر تم اپنی ذات کیلئے دعا کرنے سے پہلے کہو
(اے اللہ تیرا نور تمام ہوا اور تو نے ہدایت کی پس تیرے ہی لئے حمد ہے اے ہمارے رب تو نے اپنا ہاتھ کھولا اور عطا کیا پس تیرے ہی لئے حمد ہے اے ہمارے رب ۔ اور تیرا حلم بڑا عظیم ہے کہ تو نے (گناہوں کو) معاف کیا پس تیرے ہی لئے حمد ہے اے ہمارے رب ۔ تیرا چہرہ تمام چہروں میں سب سے زیادہ مکرم ہے اور تیری حجت تمام حجتوں میں سب سے بہتر ہے ۔ تیرا عطیہ تمام عطیات سے افضل و برتر ہے ۔ اے ہمارے رب تیری اطاعت کی جاتی ہے تَوتُو مشکور ہوتا ہے تیری نافرمانی کی جاتی ہے تَوتُو جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے تو مضطر اور پریشان کی دعا کو قبول کرتا ہے اور اسکی تکلیف کو دور کر دیتا ہے ۔ تو بیمار کو شفا دیتا ہے اسے کرب عظیم سے نجات دیتا ہے ۔ تیری نعمتوں کا کوئی بدل نہیں ۔ تیری نعمتوں کو کوئی شمار نہیں کرسکتا ۔ پروردگار سب کی نگاہیں تیری طرف اٹھتی ہیں اور ہر قدم تیری طرف بڑھتا ہے سب کی گردنیں تیری طرف اٹھتی ہیں اور تمام ہاتھ تیری طرف بلند ہیں اور سب زبان سے (تجھ ہی سے) دعا کرتے ہیں اور اپنی راز کی باتوں میں اور اپنے کاموں میں تجھ سے سرگوشیاں کرتے ہیں ۔ اے ہمارے پروردگار ہم لوگوں کو بخش دے ہم لوگوں پر رحم فرما اور ہم لوگوں کے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کا فیصلہ کر دے بے شک تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔
اے اللہ ہم تجھ سے شکایت کرتے ہیں کہ ہمارا نبی ہم لوگوں سے غائب ہے ہم لوگوں پر زمانے کی سختیاں ہیں ہمارے درمیان فتنے سر اٹھائے ہوئے ہیں ۔ ہمارے دشمن ہم لوگوں پر غالب آرہے ہیں ہمارے دشمنوں کی کثرت ہے ہماری تعداد کم ہے لہذا اے ہمارے پروردگار اپنی طرف سے جلد فتح دیکر اور اپنی مدد سے قوت دیکر اور امام عادل کو ظہور کا حکم دے کر اے حقیقی اللہ اور تمام عالمین کے پروردگار اس مشکل کو حل کر دے ۔)
پھر ستر مرتبه استغفر اللہ ربی و اتوب الیہ کہو اور جہنم سے اللہ کی بہت زیادہ مرتبہ پناہ چاہو ۔
١٤٠٥ - عمر بن یزید نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص اپنی نماز وتر میں ستر مرتبہ استغفر الله ربی و اتوب اليه کہے اور ایک سال تک مسلسل اسکی پابندی کرتا رہے تو اللہ تعالٰی اسکا نام ان لوگوں میں لکھ دیگا جو سحر کے وقت استغفار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسکے لئے جنت و مغفرت لازم ہو گی ۔
١٤٠٦ - اور عبد اللہ بن ابی یعفور نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ نماز وترکے قنوت میں ستر مرتبہ استغفر اللہ کہو بائیں ہاتھ کو چہرے کے سامنے رکھو اور داہنے ہاتھ سے گنتے رہو ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز وتر کے قنوت میں اللہ سے ستر مرتبہ استغفار پڑھتے اور سات مرتبہ یہ کہتے هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِبِكَ مِنَ النَّارِ) یہ جہنم سے تیری پناہ چاہنے والے کا مقام ہے) ۔
١٤٠٧ - اور عبداللہ بن سنان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تم نماز وتر میں اپنے دشمنوں کیلئے بد دعا کرو اور اگر چاہو تو انکے نام لو اور اپنے لئے طلب مغفرت کرو اور قنوت میں دونوں ہاتھ اٹھاؤ اور چہرے کے سامنے رکھو اور اگر چاہو تو اپنی ردا کو کھول لو ۔
١٤٠٨ - اور حضرت امام علی بن الحسین سید العابدین سحر کے وقت نماز وتر میں تین سو مرتبہ العفو العفو کہا کرتے تھے ۔
١٤٠٩ - اور معروف بن خربوذ نے حضرت امام محمد باقر اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام دونوں میں سے کسی ایک سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ تم نماز وتر کے قنوت میں یہ کہا کرو ۔
(نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس اللہ کے جو حلیم اور کریم ہے نہیں ہے کوئی اللہ سوائے اس اللہ کے جو بلند اور عظیم ہے ، پاک و منزہ ہے وہ اللہ جو سات آسمانوں کا رب ہے اور سات زمینوں کا رب ہے اور جو کچھ ان کے اندر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے ۔ اور عرش عظیم کا بھی رب ہے ۔ اے اللہ تو ہی وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے اور تو ہی وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کی زینت ہے اور تو ہی وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا حسن و جمال ہے ۔ تو ہی وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا ستون ہے اور تو ہی وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کو قائم رکھنے والا ہے ۔ تو ہی وہ اللہ ہے جو فریاد کرنے والوں کی فریاد کو پہنچتا ہے ۔ تو ہی وہ اللہ ہے جو مدد چاہنے والوں کی مدد کو پہنچتا ہے تو ہی وہ اللہ ہے جو کرب و تکلیف میں مبتلا لوگوں کی تکلیف کو دور کرتا ہے تو ہی وہ اللہ ہے جو غمزدہ لوگوں کو غم سے نجات دیتا ہے تو ہی وہ اللہ ہے جو مضطراور بیقرار لوگوں کی دعاؤں کی قبول کرتا ہے تو ہی وہ اللہ ہے جو تمام عالمین کا اللہ ہے اور تو ہی وہ اللہ ہے جو ہر خاص و عام پر رحم فرماتا ہے ۔ تو ہی وہ اللہ ہے جو مصیبتوں کو دور کرنے والا ہے اور تو ہی وہ اللہ ہے جسکے سامنے تمام حاجتیں پیش ہوتی ہیں ۔ اے اللہ تیرے غضب کو سوائے تیرے حلم کے کوئی اور رد نہیں کر سکتا ۔ اور تیرے عذاب سے سوائے تیری رحمت کے کوئی اور نجات نہیں دلا سکتا اور تجھ سے بچنے کی اور کوئی صورت نہیں سوائے اسکے کہ تجھ سے ہی عاجزی کے ساتھ دعا کی جائے ۔ پس اے اللہ مجھ پر اپنی طرف سے اتنی مہربانیاں کر کہ مجھے تیرے سوا کسی اور کی مہربانی کی ضرورت ہی نہ رہے اپنی اس قدرت کے ساتھ جس سے تو نے سارے ممالک (ساری دنیا) کے بسنے والوں کو زندگی دی ہے جس قدرت سے تو تمام بندوں کو محشور کرے گا ، مجھے غموں میں مبتلا کر کے ہلاک نہ کر مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما مجھے میری دعا کی قبولیت کی شناخت کرا دے اور آخر دم تک عافیت کی روزی عطا فرما میری لغزشوں سے مجھ کو بچا مجھ پر دشمنوں کو طعنہ زنی کا موقع نہ دے انہیں میری گردن پر سوار نہ کر اے اللہ اگر تو مجھے بلند کر دے تو کس میں دم ہے جو مجھے پست کرے اور اگرتو مجھے پست کر دے تو کسی میں طاقت نہیں جو مجھے بلند کر سکے اور اگر تو مجھے ہلاک کرنا چاہے تو تیرے اور میرے درمیان کوئی حائل نہیں ہو سکتا ۔ یا میرے معاملہ میں کون ہے جو مجھے ٹوک سکے ۔ اور میں جانتا ہوں کہ تیرے حکم میں ظلم و نا انصافی نہیں ہوتی ۔ اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھے سزا دینے میں کوئی عجلت نہیں اس لئے کہ عجلت وہ کرتا ہے جس کو موقع کے فوت ہو جانے کا ڈر ہو نیز جو کمزور ہوتا ہے اس کو ظلم کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور اے میرے اللہ تو اس سے بالاتر ہے پس مجھے بلاؤں کا مقصد اور اپنی سزا کا نشانہ نہ بنا مجھے مہلت دے میرے غم کو دور کر میری لغزشوں کو نظر انداز کر اور ایک بلا کے بعد دوسری بلا میرے پیچھے نہ لگا تو میری ناتوانی اور ضعف اور قلت تدبیر کو دیکھ رہا ہے ۔ میں آج کی شب تیری پناہ چاہتا ہوں مجھے پناہ دیدے ۔ میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں مجھے پناہ دے میں جنت کا طالب ہوں مجھے محروم نہ کر کہ اسکے بعد جو چاہے دعا مانگو اور ستر مرتبہ استغفر الله کہو ۔
١٤١٠ - ابو حمزه ثمالی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اپنی نماز وتر کے آخر میں بحالت قیام میں کہا کرتے تھے رَبِّ أَسَاُتْ وَ ظَلَمْتُ نَفْسِىْ وَ بِئسَ مَا صَنَعْتُ ، وَ هَذِهِ يَدَايَ جَزَاءَ بِمَا صَنَعْتَا (پروردگار میں برائی کا مرتکب ہوا میں نے خود اپنے نفس پر ظلم کیا اور جو بھی کیا وہ برا کیا اور میرے یہ دونوں ہاتھ جو کچھ انہوں نے کیا اسکی سزا کیلئے حاضر ہیں) ۔ رادی کا بیان ہے کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے کے سامنے پھیلائے اور یہ فرمایا هَذِهِ رَقْبَتِىْ خَاضِعَةٌ لَكَ لِمَا أَتَتْ (اور جو کچھ کیا ہے اس پر میری گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی ہے) ۔
راوی کا بیان ہے کہ اسکے بعد آپ اپنا سر نیچے کرتے اور گردن کے ساتھ جھکا دیتے اور کہتے وَهَا أنا ذَابَيْنَ يَدَیْکَ فَخَذْ لِنَفْسِكَ الرَّضَا مِنْ نَفْسِىْ حَتّى تَرْضى لَكَ الْعُتْبِىْ لَا أَعُوْدُ لا لَا أَعُوْدُ لَا أَعُوْدُ ( اور لے یہ میں تیرے سامنے حاضر ہوں تو جو چاہے مجھے سزا دے لے تاکہ میری سزا سے تو راضی ہو جائے (میں عہد کرتا ہوں کہ اب) ایسا نہ کروں گا ایسا نہ کروں گا ایسا نہ کروں گا ۔
راوی کا بیان ہے کہ وہ جب یہ کہہ دیا کرتے یہ کام نہ کروں گا تو خدا کی قسم وہ نہیں کرتے تھے ۔
١٤١١ - عبدالرحمن بن ابو عبید اللہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ نماز وتر میں قنوت استغفار ہے اور نماز فریضہ میں دعا ہے ۔
١٤١٢ - امیرالمومنین علیہ السلام نماز وتر کے اندر قنوت میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے ۔
(اے اللہ تو نے مجھے اپنی قدرت و تدبیر اور اپنے علم کے ساتھ بغیر کسی کمی و کوتاہی کے پیدا کیا ۔ اور اپنی قوت و طاقت سے مجھے تین اندھیروں کے درمیان سے نکالا تاکہ میں دنیا کے حصول کی تدبیر کروں اسے حاصل کروں اور پھر اسکو زائل کر دوں اور تو نے مجھے اس میں سبزے اور چراگاہیں عطا کیں اور اس میں مجھے راستہ دکھایا ۔ پس تو کتنا اچھا رب اور کتنا اچھا مالک ہے اور اے وہ ذات کہ جس نے مجھے مکرم کیا مجھے شرف دیا اور مجھے نعمتیں دیں میں تیری پناہ چاہتا ہوں زقوم ( کی خوراک) سے اور تیری پناہ چاہتا حمیم (کے پینے) سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم میں قیلولہ سے جہنم کے طبقوں میں آگ کے سایہ میں جہنم کے دن اے جہنم کے رب ۔ اے اللہ میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ میں جنت میں اسکی نہروں اسکے درختوں اسکے پھلوں اسکے پھولوں وہاں کے خادموں اور وہاں کی ازواج کے درمیان رہوں اور قیلولہ کروں اے اللہ میں تجھ سے طالب ہوں تیرے رضوان اور جنت کا جو اچھی سے اچھی چیز ہے اور تیری پناہ کا طالب ہوں تیری ناراضگی اور جہنم سے جو بدترین چیز ہے یہ وہ مقام ہے کہ جہاں تک جہنم سے تیری پناہ چاہنے والا کھڑا ہے ( یہ تین مرتبہ کہے)
اے اللہ تو اپنا خوف میرے جسم کے سارے رگ و پے میں سمودے اور میرے دل میں جتنا خوف ہے اور اس کو اور زیادہ اور شدید کر دے اور ہر روز اور ہر رات میرے نصیب و قسمت میں وہ عمل دے جو تیرے احکام کی پیروی کیلئے ہو اور تیری وحی کے مطابق ہو اور مجھے اسکے کرنے میں لذت محسوس ہو ۔ اے اللہ تو میرے مقصد میری امید میری عافیت و طلب کی انتہا ہے ۔ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کمال ایمان کا پورے یقین کا اور تجھ پر سچے تو کل کا اور تیری طرف سے حسن ظن کا ۔ میرے مالک تو میرے اوپر احسان کو کئی گنا بڑھا دے ۔ میری نماز میں تضرع و خشوع پیدا کر میری دعا کو قبولیت بخش میرے عمل کو مقبول اور میری سعی کو مشکور قرار دے میرے گناہوں کی مغفرت فرما اور تیری طرف سے مجھے فرحت و سرور عطا ہو اور رحمت ہو محمد اور انکی آل پر)
١٤١٣ - محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ قنوت ہر دوسری رکعت میں ہے خواہ وہ نماز نافلہ ہو خواہ نماز فریضہ ۔
١٤١٤ - نیز ان ہی جناب علیہ السلام سے زرارہ نے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ قنوت ہر نماز میں ہے ۔
١٤١٥ - ابان بن عثمان نے حلبی سے روایت کی ہے کہ اس نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ کیا میں نماز میں ائمہ کا نام لوں ؟ آپ نے فرمایا ان سب کا اجمالی طور پر ذکر کرو ( یعنی آل محمد کہا کرو)
١٤١٦ - نیز آپ نے فرمایا کہ جو کچھ تم نماز میں اپنے رب سے مناجات کرو گے اس کا شمار کلام میں نہیں ہے ۔
١٤١٧ - ابی ولاد حفص بن سالم حناط سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا کوئی مضائقہ نہیں اگر آدمی و تر (شفع) کی دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر لے پھر اپنی کسی ضرورت کو پورا کرے اور واپس آکر ایک رکعت ( وتر) پڑھ لے ۔
اور کوئی مضائقہ نہیں اگر کوئی شخص وتر ( شفع) کی دو رکعت پڑھے پھر پانی پیئے ، بات چیت کرے ، حجامت کرے اور اپنی کوئی ضرورت پوری کرے اور پھر سے وضو کرے اور صبح کی نماز سے پہلے بقیہ ایک رکعت نماز وتر والی پڑھ لے ۔
١٤١٨ - اور معاویہ بن عمار نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نماز وتر میں قنوت کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا قنوت قبل رکوع ہے تو راوی نے کہا اور اگر میں بھول جاؤں اور رکوع سے سراٹھانے کے بعد قنوت پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔
مصنف علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جو شخص قنوت پڑھنا بھول جائے اور رکوع میں چلا جائے تو اس کیلئے حکم یہ ہے کہ وہ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد قنوت پڑھے ۔ اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اسکو نماز وتر اور نماز صبح میں منع فرمایا ہے عامہ کے بر خلاف اس لئے کہ وہ ان دونوں نمازوں میں رکوع کے بعد قنوت پڑھتے ہیں ۔ اور اسکے علاوہ تمام نمازوں میں اسکی کوئی قید نہیں اس لئے کہ جمہور عامہ ان میں قنوت نہیں پڑھتے ۔ پھر جب انسان نماز وتر سے فارغ ہو تو دو رکعت فجر کی نماز پڑھے ۔
١٤١٩ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ نماز فجر کی دو رکعتیں فجر سے قبل اس سے ذرا قریب یا اس سے ذرا دور پڑھو اور پہلی رکعت میں سورہ الحمد اور قل یا ایھا الکافرون اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد اور قل ھو اللہ احد پڑھو اور انسان کیلئے یہ جائز ہے کہ نماز شب کے ساتھ ان دونوں رکعتوں کو بطور حاشیہ مادے اور یہ جتنی بھی نماز فجر سے قریب ہو افضل ہے اور جب فجر طلوع ہو جائے تو صبح کی نماز (نافلہ) پڑھو اور نماز فجر اور نماز صبح کے درمیان ذرا آرام کر لینا افضل ہے اور تمہارے لئے یہ بھی جائز ہے کہ صرف سلام پڑھ لو ۔
١٤٢٠ - چنانچہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے کہ سلام سے زیادہ اور کون سی چیز نماز کو زیادہ قطع
کرنے والی ہے ۔
١٤٢١ - اور سعید اعرج سے روایت کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ مولا میں آپ پر قربان میں نماز وتر پڑھنے میں مشغول ہوتا ہوں اور روزہ رکھنے کا بھی ارادہ ہوتا ہے اور دعا میں لگا رہتا ہوں اور ڈرتا ہوں کہ کہیں فجر طلوع نہ ہو جائے اور مجھے یہ بھی پسند نہیں کہ اپنی دعا کا سلسلہ منقطع کر کے پانی پی لوں جبکہ پانی کا برتن میرے آگے ہی رکھا ہوتا ہے ؟ تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ ایک یا دو قدم آگے بڑھ کر پانی پی لو اور اپنی جگہ واپس آجاؤ اور اپنی دعا کا سلسلہ منقطع نہ کرو۔
١٤٢٢ - زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ جب تم نماز وتر کا سلام پڑھ چکو تو یہ تین مرتبہ کہو سُبْحَانَ رَبِي الْمَلِكُ الْقَدَوسِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ (پاک اور منزہ ہے میرا رب جو مالک ہے ہر عیب سے بری ہے صاحب قوت و صاحب حکمت ہے) اسکے بعد یہ کہو یَاحَیُّ یَا قَيُّوْمُ يَابَرُّ يَارَحِیْمُ یَا غَنِىُّ يَا كَرِيْمَ ، اَرْزُقْنِى مِنَ التَّجَارَةِ أَعْظَمَهَا فَضْلاً وَ أَوْ سَعَهَا رِزْقاً وَ خَيْرُ حَالِىْ عَاقِبَةً فَإِنَّهُ لَا خَيْرَ فِيْمَا لَاعَاقِبَةَ لَهْ (اے زندہ اے ہمیشہ قائم رہنے والے غنی اسے کریم مجھے ایسی تجارت کی روزی عطا کر جو سب سے افضل ہو رزق میں سب سے زیادہ وسیع ہو اور اس کا انجام میرے لئے بہتر ہو اس لئے کہ اس چیز میں کوئی بھلائی نہیں جس کا انجام بھلا نہ ہو)