Skip to main content

بنی ہاشم کے لئے زکوٰۃ میں حصہ

حدیث ١٦٣٧ - ١٦٤٠

١٦٣٧ - ابو خدیجہ سالم بن مکرم جمال نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ بنی ہاشم میں سے جو زکوٰۃ لینا چاہے اسے دو وہ اس کیلئے حلال ہے یہ تو صرف نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے بعد ائمہ علیہم اسلام پر حرام ہے ۔ 

١٦٣٨ - قاسم بن سلیمان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقات اور حضرت علی علیہ السلام کے صدقات بنی ہاشم کیلئے حلال ہیں ۔ 

١٦٣٩ - حلبی نے ان ہی جناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اپنے صدقات بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کیلئے جائز قرار دے دیئے تھے ۔

١٦٤٠ - محمد بن اسماعیل بن بزیع نے روایت کی ہے اس نے کہا میں نے حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں اپنے خاندان کے بعض افراد کی طرف سے کچھ دینار بھیجے اور اس کے ساتھ آپ کو خط لکھ کر یہ بتایا کہ اس میں پچھتر (٧٥) دینار زکوٰۃ کے ہیں اور بقیہ صلہ و نذر کے ہیں تو آپ نے خود اپنے قلم سے جواب تحریر فرمایا کہ میں نے وصول پائے ۔ اور پھر چند دینار میں نے اپنی طرف سے اور ایک دوسرے شخص کی طرف سے بھیجے اور خط لکھا کہ یہ میرے عیال کی طرف سے فطرہ ہے تو آنجناب نے جواب میں خود اپنے قلم سے تحریر فرمایا کہ میں نے وصول پائے ۔ 
              اور صدقہ بنی ہاشم کیلئے حلال نہیں ہے مگر دو صورتوں میں ایک تو اس وقت جب وہ بہت پیاسے ہوں اور پانی مل جائے تو وہ پی لیں ۔ اور دوسرے ایک نبی ہاشم کا صدقہ دوسرے بنی ہاشم کیلئے (حلال ہے) ۔
              اور امام کا ان دیناروں کو وصول کرنا تو یہ اپنی ذات کیلئے نہ تھا آپ نے اسے دوسرے حاجتمندوں اور مساکین کیلئے وصول فرمایا تھا وہ خود لوگوں کے اموال سے مستغنی تھے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کیلئے خود کافی ہے جب وہ اللہ کو پکارتے تھے تو اللہ تعالٰی لبیک کہتا تھا جب وہ اللہ سے کوئی چیز طلب کرتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو عطا فرماتا تھا اور جب اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے اللہ ان کی دعا کو قبول فرماتا تھا ۔