Skip to main content

ابواب زكاة

بسم الله الرحمن الرحيم 

باب : وجوب زكاة كا سبب

حدیث ١٥٧٤ - ١٥٨٢

(حضرت شیخ سعید فقیه) ابو جعفر محمد بن علی بن موسیٰ بن بابویه قمی مصنف کتاب ہذا رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ 

١٥٧٤ - عبداللہ بن سنان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو بھی اسی طرح فرض کیا ہے جس طرح نماز کو فرض کیا ہے پس اگر کوئی شخص مال زکوٰۃ اٹھا کرعلانیہ لوگوں کو دے تو اس میں اس کیلئے کوئی عیب نہیں ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے دولتمندوں کے مال میں فقراء کیلئے اتنا حصہ فرض کر دیا ہے جو ان فقراء کیلئے کافی ہو اور اگر وہ جانتا کہ اتنا حصہ ان فقراء کیلئے کافی نہیں ہوگا تو اس سے زیادہ حصہ ان کیلئے فرض کر دیتا ۔ اور فقراء کی یہ جو بد حالی ہے وہ صرف اس لئے ہے کہ لوگ ان کو زکوٰۃ نہیں دیتے اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے کم حصہ فرض کیا ہے ۔
 
١٥٧٥ - مبارک عقرقوفی نے حضرت امام ابو الحسن موسی بن جعفر علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ زکاۃ فقراء کے رزق و روزی اور دولتمندوں کے اموال میں برکت اور اضافہ کیلئے رکھی گئی ہے ۔ 

١٥٧٦ - موسی بن بکر نے حضرت امام ابو الحسن موسی بن جعفر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ زکوٰۃ ادا کر کے اپنے اموال کی حفاظت کرو ۔

١٥٧٧ - حریز نے زرارہ اور محمد بن مسلم سے روایت کی ہے کہ ان دونوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ قول خدا إِنَّمَا ٱلصَّدَقَـٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱلْعَـٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَٱلْغَـٰرِمِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ (خيرات تو بس خاص فقیروں کا حق ہے اور محتاجوں کا اور اس زکوٰۃ وغیرہ کے کارندوں کا اور جن کی تالیف قلب کی گئی ہے اور جن کی گردنوں میں غلامی کا پھندا پڑا ہوا ہے اور قرضداروں کا جو خود (قرض) ادا نہیں کر سکتے اور اسے خدا کی راہ (جہاد) میں اور پردیسیوں کی کفالت میں خرچ کرنا چاہیئے یہ حقوق خدا کی طرف سے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا بڑا واقف کار اور حکمت والا ہے (سورہ توبہ آیت نمبر ٦٠) کیلئے آپ کی نظر میں کیا ہے کیا ان سب کو دیا جانا چاہیئے جو امام کی معرفت تک نہ رکھتے ہوں ؟ آپ نے فرمایا امام ان سب کو عطا کرے گا اس لئے کہ یہ سب اس کی اطاعت کا اقرار کرتے ہیں ۔ زرارہ نے عرض کیا خواہ وہ سب انکی معرفت بھی نہ رکھتے ہوں ؟ آپ نے فرمایا اے زرارہ اگر امام صرف انہیں کو دے جو اس کی معرفت رکھتے تو پھر (کوئی گمراہ) ہدایت کرنے کا موقع نہیں پائے گا اس لئے وہ ان لوگوں کو بھی عطا کرتا ہے تاکہ وہ دین کی طرف راغب ہوں اور اس پر ثابت قدم ہو جائیں ۔ لیکن آجکل تم اور تمہارے اصحاب صرف اسی کو رقم زکوٰۃ دیں جو معرفت رکھتا ہو ۔ لہذا تم ان مسلمانوں میں جس کو با معرفت پاؤ اس کو دو دوسروں کو نہ دو۔ پھر فرمایا کہ مؤلفتہ القلوب کا حصہ اور غلاموں کا حصہ عام ہے اور باقی حصے خاص ہیں ۔ 
            راوی کا بیان ہے میں نے عرض کیا اور اگر زکوٰۃ ان لوگوں کی ضرورت کیلئے کافی نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تو اغنیاء کے مال میں ایک حصہ فرض کر دیا ہے اگر اس کے علم میں ہوتا کہ یہ ان کی ضرورت کیلئے کافی نہیں تو اور زیادہ رکھ دیتا بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی پریشان حالی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فریضہ زکوٰۃ کی مقدار کی وجہ سے نہیں بلکہ ان لوگوں کی پریشان حالی کی اصل وجہ یہ ہے کہ لوگ ان کے حقوق ادا نہیں کرتے اگر سب لوگ مل کر ان کے حق کو صحیح صحیح ادا کریں پھر یہ فقراء بھی آرام و خیر سے زندگی بسر کریں ۔
                          اور فقراء وہ ہیں جو اپاہج ہوں اور جن کے اعضا معطل ہو گئے ہوں اور حاجتمند ہوں اور مسکین وہ ہے کہ اپاہج اور معطل الاعضاء تو نہ ہو مگر حاجتمند ہو ۔ اور عامل کارندے تو وہ زکوٰۃ کی وصولی تحصیل کرنے والے ہیں اور مؤلفتہ القلوب کا ہم اور حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ساقط ہو گیا اور غلاموں کا سہم تو اس سے رعائت کی جائیگی اس غلام مکاتب سے جو اپنی آزادی کی قیمت بر بنائے تحریر ادا کرنے سے قاصر نظر آرہا ہو ۔ اور قرضدار جس پر کسی کا کوئی حق باقی ہو سبیل اللہ یعنی جہاد اور ابن سبیل یعنی جس کا کوئی ماویٰ  و مسکن نہ ہو جیسے مسافر ، ضعیف و راہ گیر اور اگر یہ ساری اصناف کے لوگ نہ ملیں تو صاحب زکوٰۃ کو حق ہے کہ بعض صنف کو دے اور بعض کو چھوڑ دے ۔ 

١٥٧٨ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے عمار بن موسی ساباطی سے ارشاد فرمایا کہ اے عمار تم بہت مالدار ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں میں آپ پر قربان ۔ فرمایا پھر اللہ نے تم پر جو زکوٰۃ فرض کی ہے اس کو ادا کرتے ہو ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں ۔ فرمایا تم اپنے مال سے حق معلوم نکالتے ہو؟ اس نے عرض کیا جی ہاں ۔ فرمایا کیا تم اپنے قرابتداروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں فرمایا اور اپنے برادران مومن کے ساتھ بھی ؟ اس نے کہا جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا اے عمار مال فنا ہو جائیگا ، بدن بوسیدہ ہو جائیگا اور عمل باقی رہ جائیگا ۔ مگر حساب لینے والا زندہ رہے گا وہ کبھی نہ مرے گا اور اے عمار لیکن وہ مال جو (کار خیر میں صرف کر کے) آگے بھیج چکے ہو وہ تم کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے پاس نہیں جاسکتا اور جو مال تم دنیا میں چھوڑ کر جاؤ گے وہ تمہیں نہیں مل سکتا ۔

١٥٧٩ - ابی الحسین بن جعفر اسدی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے جو انہوں نے محمد بن اسماعیل برمکی سے انہوں نے عبد الله بن احمد سے انہوں نے فضل بن اسماعیل سے انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے غلام معتب سے کی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ زکوٰۃ اس لئے رکھی گئی ہے کہ اس سے دولتمندوں کا امتحان ہو جائے اور فقراء کی روزی چلے ۔ اگر تمام لوگ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کریں تو دنیا میں کوئی مسلمان فقیر و محتاج نہیں رہ جائیگا ۔ اور اللہ نے جو اس پر فرض عائد کیا وہ اسی سے غنی ہو جائیگا ۔ لوگ جو فقیر و محتاج بھوکے اور ننگے ہیں یہ صرف دولتمندوں کے گناہوں کی وجہ سے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو یہ حق ہے کہ جو لوگ اپنے اموال میں سے اللہ کے حق کو روکتے ہیں ان کو اپنی رحمت سے محروم کر دے ۔ اور میں اس ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس نے مخلوقات کو خلق کیا اور ہر طرف روزی پھیلا دی کہ دنیا کے کسی بھی خشک و تر حصے میں جب بھی کوئی مال ضائع ہوتا ہے تو وہ زکوٰۃ کے ترک کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ اور خشکی و تری کے جتنے جانور شکار ہوتے ہیں اس دن تسبیح ترک کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔ اوراللہ کے نزدیک سب سے محبوب و پسندیدہ بندہ وہ ہے جو سب سے زیادہ سخی ہو اور سب سے سخی وہ ہے جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے اور اس کے مال میں اللہ تعالیٰ نے جو مومنین کا حق فرض کیا ہے اس کے دینے میں کبھی بخل نہ کرے ۔

١٥٨٠ - حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیه السلام نے محمد بن سنان کو اس کے مسائل کے جواب میں جو خط لکھا اس میں یہ بھی تحریر کیا کہ زکوٰۃ کے عائد کرنے کا سبب یہ ہے کہ فقراء کے رزق و روزی کا اہتمام ہو اور دولتمندوں کے اموال کی حفاظت ہو ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے صحتمندوں کو اپاہجوں اور معذوروں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے لَتُبْلَوُنَّ فِىٓ أَمْوَٰلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ (تمہارے مالوں اور تمہاری جانوں کا تم سے ضرور امتحان لیا جائیگا) (آل عمران آیت نمبر ١٨٦) تو مالوں کا امتحان زکوٰۃ نکالنے سے اور جانوں کا امتحان نفوس کو صبر پر قائم رکھنے سے ہے اور اسی کے ساتھ اس میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہے اور اس میں زیادتی کی خواہش ہے اور کمزوروں اور ضعیفوں پر زیادہ رحم اور مہربانی اور مسکینوں پر زیادہ توجہ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب اور فقراء کی تقویت اور امور دین میں ان کی مدد ہے ۔ اور یہ دولتمندوں کیلئے نصیحت و عبرت ہے کہ اس سے وہ آخرت کے فقراء کا اندازہ کرلیں اور اللہ تعالٰی نے جو کچھ دیا ہے وہ اس پر اس کا شکر ادا کریں اور اللہ تعالٰی سے دعا مانگیں اور اس بات سے ڈریں کہ کہیں یہ بھی ان فقراء و مساکین کے مانند زکوٰۃ لینے، صدقہ کھانے اور صلہ رحم و حسن سلوک کے لائق نہ بن جائیں ۔ 

١٥٨١ - حضرت ابو الحسن امام موسی بن جعفر علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص اپنے پورے مال کی زکوٰۃ نکالے اور اسے مستحقین تک پہنچا دے تو پھر اس سے یہ نہیں پوچھا جائیگا یہ مال تو نے کہاں سے حاصل کیا ۔

١٥٨٢ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے ہر ایک ہزار درہم میں پچیس درہم زکوٰۃ مقرر فرمائی ہے اس لئے کہ اللہ نے تمام مخلوق کو پیدا کیا وہ جانتا ہے کہ ان میں غنی کتنے ہیں اور فقراء کتنے ہیں قوی کتنے ہیں اور ضعیف کتنے ہیں ۔ چنانچہ اس نے ہر ایک ہزار انسانوں میں پچیس عدد مسکین پیدا کئے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کا حصہ اور زیادہ مقرر کرتا اس لئے کہ وہ ان سب کا خالق ہے اس کو ان کے متعلق زیادہ علم ہے ۔