Skip to main content

باب : صدقہ کی فضیلت

حدیث ١٧٢٨ - ١٧٦٢

١٧٢٨ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی زمین آگ کی طرح تپ رہی ہوگی اور سوائے مومن کے اور کوئی سایہ میں نہ ہو گا اس لئے کہ اس کا صدقہ اس پر سایہ کئے ہو گا ۔ 

١٧٢٩ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ نیکی اور صدقہ یہ دونوں فقر دور کرتے ہیں عمر بڑھاتے ہیں اور نیکی کرنے اور صدقہ دینے والے کو ستر قسم کی بری موت سے بچاتے ہیں ۔ 

١٧٣٠ - حضرت امام جعفر صادق علیه والسلام نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اپنے مریضوں کا علاج صدقہ سے کرو اور بلاؤں کو دعا سے رد کرو اور صدقہ سات سو شیاطین کے جبڑوں سے چھڑا لیتا ہے اور کوئی چیز شیطان پر مومن کے صدقہ دینے سے زیادہ گراں نہیں ہے اور یہ کسی بندے کے ہاتھ میں پہونچنے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں پہنچ جاتا ہے ۔ 

١٧٣١ - نیز امام علیہ السلام نے فرمایا کہ صدقہ بری قسم کی موت سے بچاتا ہے اور ستر قسم کی بلاؤں کو دور کرتا ہے اور ستر شیطانوں کے جبڑوں سے چھڑا لیتا ہے اور وہ سب کے سب اس سے کہتے ہیں کہ یہ نہ کرو (یعنی صدقہ نہ دو) 

١٧٣٢ - نیز امام علیہ السلام نے فرمایا کہ مریض کے لئے مستحب ہے کہ وہ سائل کو اپنے ہاتھ سے دے اور سائل سے التجا کرے کہ وہ اس کے لئے دعا کرے ۔

١٧٣٣ - نیز امام علیہ السلام نے فرمایا کہ بہت صبح سویرے صدقہ نکالو تاکہ بلائیں اس صدقہ کو پار نہ کریں اور یہ انکے سد راہ ہو جائیں اور جو دن کے اول وقت صدقہ دیگا تو اللہ تعالیٰ اس سے ان تمام بلاؤں کو دور رکھے گا جو اس دن آسمانوں سے نازل ہونے والی ہیں اور اگر وہ شب کو اول وقت صدقہ دے گا تو اللہ تعالٰی اس سے ان تمام بلاؤں کو دور رکھے گا جو اس شب میں نازل ہونے والی ہیں ۔

١٧٣٤ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بیشک اللہ جسکے سوا کوئی اللہ نہیں ہے صدقہ کی وجہ سے بیماری سے ، طاعون سے ، جلنے سے ، غرق ہونے سے ، گر پڑنے سے اور جنون سے ضرور بچائے گا اور اس کے بعد آپ نے ستر بلاؤں کو گنوایا ۔

١٧٣٥ - اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ چھپا کر صدقہ دینا اللہ تعالیٰ کے غضب کی آگ کو بجھا دیتا ہے ۔ 

١٧٣٦ - عمار نے حضرت امام جعفر صادق علیہ والسلام سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا اے عمار خدا کی قسم پوشیدہ طور پر صدقہ دینا بالاعلان صدقہ دینے سے افضل اور بہتر ہے اور اس طرح خدا کی قسم عبادت بھی چھپا کر کرنا بالاعلان عبادت کرنے سے افضل و بہتر ہے ۔

١٧٣٧ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگوں کے پاس رات کے وقت کوئی ساتھی آئے تو اس کا سوال رد نہ کرو -

١٧٣٨ - نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صدقہ کا ثواب دس گنا ہے اور قرض کا اٹھارہ گنا اور برادران مومن کے ساتھ سلوک کا ثواب بیسں گنا اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کا ثواب چوبیسں گنا ہے ۔ 

١٧٣٩ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک مرتبہ دریافت کیا گیا کہ کون سی داد و دہش افضل ہے ؟ فرمایا اس رشتہ دار کو عطا کرنا جو تم سے دشمنی رکھتا ہے ۔

١٧٤٠ - نیز آپ نے فرمایا جبکہ تمہارا کوئی رشتہ دار محتاج ہے تو پھر صدقہ نہیں ہوگا (اسکے ساتھ سلوک کرو) ۔ 

١٧٤١ - نیز آپ نے فرمایا کہ ملعون ہے ملعون ہے وہ شخص جو اپنا بوجھ لوگوں پر ڈالے اور ملعون ہے ملعون ہے وہ شخص جو اپنے بال بچوں کو بغیر خرچہ کے چھوڑ رکھے ۔

١٧٤٢ - اور حضرت ابوالحسن امام رضا علیہ السلام نے فرمایا کہ آدمی کے لئے مناسب ہے کہ اپنے اہل وعیال کو خرچ واخراجات میں کشادگی دے تاکہ وہ سب اس کی موت کی تمنا نہ کریں ۔ 

١٧٤٣ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ ایک سائل نے آکر سوال کیا مگر یہ نہیں معلوم وہ کتنا چاہتا ہے؟ آپ نے فرمایا تمہارے دل میں اس کے لئے جتنا ترس آئے اتنا دیدو۔ اور فرمایا اسکو ایک درہم سے کم دو میں نے عرض کیا مگر زیادہ سے زیادہ کتنا دیا جائے، فرمایا چار دائق (ایک دائق ایک درہم کا چھٹا حصہ)

١٧٤٤ - وصافی نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسیٰ پر جو بھی وحی کی اس میں یہ بھی کہا کہ اے موسیٰ سائل کو کچھ تھوڑا دیکر اسکا اکرام کرو ورنہ اچھے انداز سے اسکو واپس کرو اس لئے وہ سائل جو تمہارے پاس آتا ہے وہ نہ انسان ہوتا ہے اور نہ جن بلکہ وہ اللہ تعالٰی کے ملائکہ میں سے ایک ملک ہوتا جو تمہیں اللہ کے دیئے ہوئے عطیہ میں آزماتا ہے اور اللہ نے تمہیں جس مال کا والی و مالک بنایا اس میں تمہارا امتحان لیتا ہے لہذا اے عمران کے فرزند تم نظر میں رکھو کہ تم اسکے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہو ۔

١٧٤٥ - نیز امام علیہ السلام نے فرمایا اگر تم گھوڑے کی پشت پر بھی ہو تو سائل کو کچھ نہ کچھ دیدو ۔ 

١٧٤٦ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ سائل کے سوال کو رد نہ کرو اور اگر مساکین جھوٹ نہ بولیں تو کوئی انکو بھیک دیکر فلاح نہ پاتا ۔

١٧٤٧ - ولید بن صیبح سے روایت ہے کہ اسکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک سائل آیا آپ نے اس کو دیا ۔ پھر دوسرا آیا آپ نے اس کو دیا پھر تیسرا آیا آپ نے اس کو بھی دیا پھر چوتھا آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ اللہ تم کو بہت دیگا ۔ پھر آپ نے فرمایا اگر کسی شخص کے پاس تیس چالیس ہزار درہم ہوں اور وہ چاہے ان میں سے کچھ بھی نہ رکھے اور سب مستحقین کو دیدے تو وہ یہ کر سکتا ہے ۔ مگر سنو تین قسم کے لوگوں کی دعا رد کردی جاتی ہے میں نے عرض کیا وہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا ان میں سے ایک تو وہ ہے کہ جسکے پاس مال تھا مگر اس نے اس کو بلاوجہ صرف کر دیا پھر اللہ سے دعا مانگنے لگا کہ پروردگار تو مجھے رزق عطا فرما تو اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ کیا میں نے مجھے رزق نہیں دیا تھا ۔ دوسرا وہ شخص جو اپنے گھر میں بیٹھا ہوا ہے اور طلب رزق کے لئے کوشش نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا ہے کہ پروردگار تو مجھے رزق دے تو اللہ تعالیٰ جواب دیگا کہ کیا میں نے تیرے لئے حصول رزق کی راہیں نہیں کھولیں اور تیسرے وہ شخص جس کے ایک عورت ہے اور وہ اس کو اذیت پہنچاتی ہے اور وہ دعا کرتا ہے کہ پروردگار تو مجھے اس سے نجات دے تو اللہ تعالیٰ کہے گا کہ کیا میں نے اس کا اختیار تجھے نہیں دیا ہے ۔

١٧٤٨ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے سوال کرنے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ تم سائلین کو کھانا کھلاؤ اور اگر تین سے زائد کو کھلانا چاہو تو کھلاؤ ورنہ تین کو کھلانے کے بعد تم نے اس دن کا حق ادا کر دیا ۔

١٧٤٩ - نیز آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم سائلین کو دو ان سے دعا کی درخواست کرو اس لئے کہ ان کی دعا تمہارے حق میں قبول ہوگی اور خود انکی دعا ان کے اپنے حق میں قبول نہ ہوگی ۔

١٧٥٠ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک ایسے شخص کے متعلق ارشاد فرمایا کہ جس نے کچھ درہم کسی دوسرے کو دیئے کہ وہ اس کو مستحقین میں تقسیم کر دے تو آپ نے فرمایا کہ اس تقسیم کرنے والے کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ عطا کرنے والے کو ملیگا ۔ اس سے ذرا بھی کم نہ ہو گا اور اگر یہ عطیہ ٧٠  ہاتھوں سے ہوتا ہوا بھی مستحقین کو پہونچے تو ان سب کو وہی ثواب ملے گا جو عطیہ دینے والے کو ملے گا اس سے ذرا بھی کم نہ ہو گا ۔

١٧٥١ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ کون سا صدقہ سب سے افضل ہے تو آپ نے فرمایا کہ مفلس و تنگدست کا صدقہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا ہے کہ وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌۭ ۚ سورہ حشر آیت نمبر٩ اور اگر چہ اپنے اوپر تنگی ہی کیوں نہ ہو وہ دوسروں کو اپنے نفس پر ترجیح دیتے ہیں) کیا تم اس آیت میں ان کے فضل و شرف کو دیکھتے ہو ۔ 

١٧٥٢ - حضرت امام علی ابن الحسین علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کو ضامن بنا کر یہ کہتا ہوں کہ جو کوئی ضرورت مند اور محتاج نہ ہوتے ہوئے بھی لوگوں سے مانگتا پھرے گا تو ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ وہ محتاج ہو جائے گا اور بر بنائے حاجت مجبوراً اسکو سوال کرنا پڑے گا ۔

١٧٥٣ - حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے ارشد و فرمایا کہ تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان پرکار بند رہو کہ جو شخص اپنے اوپر سوال کا دروازہ کھول لے گا اللہ تعالیٰ اس پر فقر کا دروازہ کھول دے گا ۔ 

١٧٥٤ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بغیر حاجت کسی سے سوال کرے گا تو مرتے دم تک کبھی نہ کبھی اللہ تعالیٰ اس کو محتاج بنا دے گا اور اس کے لئے جہنم کا پروانہ لکھدیا جائے گا ۔ 

١٧٥٥ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ الله  تعالٰی ایک بات اپنے لئے پسند کرتا ہے اور مخلوق کے لئے نا پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس بات کو نا پسند کرتا ہے کہ کوئی شخص مخلوق سے سوال کرے اور یہ بات پسند کرتا ہے اس سے سوال کیا جائے ۔ اور اللہ کو سب سے زیادہ پسند یہ بات ہے کہ اس سے کوئی شخص سوال کرے لہذا تم میں سے کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے میں شرم نہ کرے خواہ جوتے کے ایک تسمہ کے لئے ہی سوال کیوں نہ ہو ۔ 

١٧٥٦ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ لوگوں سے سوال کرنے سے پرہیز کرو اس لئے کہ یہ دنیا میں ذلت ہے اور فقر کو جلد بلانا ہے اور قیامت کے دن طویل حساب ہے ۔

١٧٥٧ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اگر سوال کرنے والے کو یہ معلوم ہو جائے کہ سوال کرنے میں کیا برائی ہے تو کبھی کوئی ایک دوسرے سے کچھ نہ مانگے ۔ اور اگر دینے والا یہ جان لے کہ دینے میں کیا اچھائی ہے تو کبھی کسی مانگنے والے کو بغیر دیئے واپس نہ کرے ۔

١٧٥٨ - اور انصار کے ایک گروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر سلام کیا اور آپ نے جواب سلام دیا تو ان لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگوں کی آپ سے ایک حاجت ہے آپ نے فرمایا بتاؤ کیا حاجت ہے ان لوگوں نے کہا بہت بڑی حاجت ہے آپ نے فرمایا آخر کچھ کہو تو کیا حاجت ہے ۔ ان لوگوں نے عرض کیا کہ آپ اپنے رب کے سامنے ہم لوگوں کے لئے جنت کے ضامن بن جائیں یہ سنکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سرجھکا لیا اور زمین کریدنے گئے پھر سر اٹھایا اور فرمایا اچھا میں تم لوگوں کے لئے یہ کروں گا مگر اس شرط پر کہ تم لوگ کسی سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے - چنانچہ اس کے بعد ان لوگوں میں سے کسی کا کوڑا بھی سفر میں گر جاتا تو سوال سے بچنے کے لئے کسی سے یہ نہ کہتا کہ ذرا میرا کوڑا اٹھا دو بلکہ اپنی سواری سے اتر کر خود کوڑا اٹھاتا اور لوگ دستر خوان پر بیٹھے ہوتے اورکسی ہمنشیں کے قریب پانی رکھا ہوتا تو وہ اس سے یہ نہیں کہتا کہ ذرا پانی مجھے دینا بلکہ خود اٹھ کر پانی پی لیا کرتا ۔

١٧٥٩ - امام علیہ السلام نے فرمایا کہ تم لوگ کسی سے کوئی سوال ہر گز نہ کرو خواہ ایک مسواک ہی کے دھونے کا سوال کیوں نہ ہو ۔ 

١٧٦٠ - امام جعفر علیہ السلام نے فرمایا کہ احسان جتانا احسان کی پوری عمارت کو منہدم کر دیتا ہے ۔ 

١٧٦١ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے میرے لئے چھ باتوں کو ناپسند فرمایا ہے اور میں نے ان چھ باتوں کو اپنی اولاد میں میرے بعد جو اوصیاء  ہونگے ان کے لئے اور ان کی اتباع کرنے والوں کے لئے ناپسند اور مکروہ سمجھا ہے۔ (١) نماز میں فعل عبث کرنا (۲) حالت صوم میں فحش کلامی کرنا (۳) کچھ دینے کے بعد احسان جتانا (٤) مسجد سے اندر حالت جنابت میں آنا (٥) لوگوں کے گھروں میں جھانکنا (٦) قبرستان میں ہنسنا ۔

١٧٦٢ - مسعدہ بن صدقہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اور انہوں نے اپنے آبائے طاہرین سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے کجھوروں کے باغ بغَيْبغَہ سے کھجوروں کے پانچ ٹوکرے ایک شخص کے پاس بھیجے اور وہ شخص ایسا تھا کہ امیر المومنین علیہ السلام کی طرف سے تحفہ و عطیہ کی امید اور آرزو رکھتا تھا اور جو کچھ آپ بھیجتے اسے قبول کر لیتا تھا مگر امیر المومنین علیہ السلام سے یا کسی اور سے کبھی کوئی شے طلب نہ کرتا تھا ۔ تو ایک شخص نے امیر المومنین سے کہا کہ خدا کی قسم اس نے تو آپ سے کچھ مانگا نہیں ۔ اور اس کے لئے تو پانچ کے بدلے ایک ٹوکرا کافی ہے ۔ یہ سنکر امیر المومنین نے ارشاد فرمایا اللہ تعالٰی مومنین میں تم جیسا آدمی زیادہ نہ پیدا کرے ۔ ارے دے تو رہا ہوں میں اور تم اس میں بخل کرتے ہو ۔ سنو اگر میں اس شخص کو جو مجھ سے تحفہ اور عطیہ کی امید رکھتا ہے بغیر اسکے مانگے نہ دوں اور جب وہ مانگے تو اس کو دوں تو گویا جو کچھ میں نے اس سے لیا ہے اس کی قیمت اسے ادا کر رہا ہوں اور یہ اس طرح کہ میں نے اس کو یہ عطیہ اس لئے دیا کہ وہ میرے سامنے اپنا وہ چہرہ لا رہا ہے جسے عبادت کرتے اور طلب حاجت کرتے وقت ہمارے رب اور خود اس کے اپنے رب کے سامنے زمین پر رکھ کر خاک آلود کرتا ہے ۔ پس جو شخص اپنے برادر مسلم کے ساتھ ایسا سلوک کرے یہ جانتے ہوئے یہ حسن سلوک اور یہ عطیہ اس کا ہے تو وہ جو کچھ اس کے حق میں دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو سچ نہ سمجھے گا ۔ اس لئے کہ وہ زبان سے اس کے لئے جنت کی دعا کرتا ہے مگر اپنے مال میں سے چند دنیاوی چیزوں کے دینے میں بھی بخل کرتا ہے اس لئے کہ بندہ کبھی کبھی اپنی دعا میں یہ بھی کہتا ہے (اللهم اغفر للمؤمنين و المؤمنات) اے اللہ تو تمام مومنین و مومنات کے گناہوں کو بخش دے اور جب اس نے اس کے تمام گناہوں کی مغفرت کی دعا کی تو گویا اس نے اسکے لئے جنت کی دعا کی تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ وہ زبان سے یہ کہہ اور عملی طور پر وہ اسکا ثبوت نہ دے ۔