Skip to main content

باب : حق معلوم اور عاریتًا کوئی شے لینے والے کا حق

حدیث ١٦٦٦ - ١٦٦٦

١٦٦٦ - سماعہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ حق معلوم سے مراد زکوٰۃ نہیں یہ وہ چیز ہے جو تم اپنے مال میں سے چاہتے ہو تو ہر جمعہ کو اور چاہتے ہو تو ہر مہینہ نکالتے ہو اور صاحب بزرگی کو اس کی بزرگی کی داد ملیگی۔ اور اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا ٱلْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ (اور چھپا کر فقیروں کو دو تو یہ تمہارے لئے سب سے بہتر ہے) (سورہ البقرہ آیت ٢٧١) تو اس سے مراد بھی زکوٰۃ نہیں اور کسی کو کوئی چیز عاریتاً دینا یہ بھی زکوٰۃ نہیں یہ وہ نیکی ہے جو تم خود کرتے ہو یہ قرض تم خود دیتے ہو اور اپنے گھر کا سامان کسی کو عاریتاً دینا یہ بھی زکوٰۃ نہیں اور اپنے قرابتداروں کے ساتھ کچھ حسن سلوک تو یہ بھی زکوٰۃ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَٱلَّذِينَ فِىٓ أَمْوَٰلِهِمْ حَقٌّۭ مَّعْلُومٌۭ (اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے ) (سورۃ المعارج آیت ٢٤) تو یہ حق معلوم زکوٰۃ کے علاوہ ہے یہ وہ چیز ہے جسے انسان نے خود اپنے نفس کے لئے لازم کر لیا ہے کہ اس کے مال میں استنا حق فقیروں کے لئے ہے ۔ اور اس پر یہ واجب ہے کہ اپنے اوپر جو بھی لازم کرے وہ اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق کرے ۔