Skip to main content

باب : قرضدار کو مہلت دینے کا ثواب

حدیث ١٧٠١ - ١٧٠٣

١٧٠١ - ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے حمد و ثناء الہی بجالائے انبیائے کرام پر درود بھیجا اس کے بعد فرمایا ایھا الناس تم میں سے جو لوگ یہاں موجود اور حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو جو یہاں موجود نہیں اور غائب ہیں یہ پیغام پہنچا دیں کہ جو شخص اپنے قرضدار کو مہلت دیگا تو اللہ تعالی پر لازم ہے کہ اس کو روزانہ اتنا ثواب دے جیسے اس نے اپنا مال صدقہ میں دیا ہے جبتک وہ قرض ادا نہ ہو جائے ۔
                  اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍۢ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍۢ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (اور کوئی تنگدست تمہارا قرضدار ہو تو اس کو خوشحالی تک کی مہلت دو اور اگر تم سمجھو کہ تمہارے حق میں یہ زیادہ بہتر ہے کہ اس کو اصل بھی بخش دو) (سورہ البقرہ آیت نمبر ٢٨٠) لہذا اس قرضدار کو اپنا قرض معاف کر دو یہ تمہارے لئے بہتر ہے ۔

١٧٠٢ - نیز آپ نے فرمایا کہ تنگدست کو تم بھی چھوڑ دو جس طرح اللہ نے اس کو چھوڑا ہوا ہے ۔ 

١٧٠٣ - نیز آپ نے یہ فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالٰی اس پر اس دن سایہ رکھے جس دن اللہ کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ رہے گا ۔ تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنے تنگدست قرضدار کو مہلت دے یا اپنا حق اسکو چھوڑ دے ۔