Skip to main content

باب : نصاب زکوٰة

حدیث ١٥٩٨ - ١٦١٠

١٥٩٨ - حسن بن محبوب نے عبداللہ بن سنان سے روایت کی ہے اس کا بیان ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت زکوٰة خُذْ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ صَدَقَةًۭ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا (تم ان کے اموال میں سے زکوٰۃ لو اور اس کی بدولت ان کو گناہوں سے پاک کرو اور انہیں صاف ستھرا کرو) (سورہ توبہ آیت نمبر ١٠٣) ماہ رمضان میں نازل ہوئی تو آنحضرت نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ لوگوں میں اس امر کی منادی کر دو کہ اللہ تبارک و تعالٰی نے تم لوگوں پر زکوٰۃ بھی اسی طرح واجب کر دی ہے جس طرح نماز واجب کی ہے سونے ، چاندی ، اونٹ ، بیل گائے ، بھیڑ ، بکری ، جو ، گیہوں ، کھجور اور منقی پر الله تعالٰی نے زکوٰۃ فرض کی ہے ۔ اور ان لوگوں میں یہ منادی ماہ
رمضان میں کی گئی اور مذ کورہ چیزوں کے علاوہ تمام چیزوں میں ان کو زکوٰۃ کی معافی دی گئی ۔

آپ نے فرمایا کہ پھر ان لوگوں کے اموال میں سے کسی چیز میں تعرض نہیں کیا گیا یہاں تک کہ آئیندہ ایک سال گزر گیا تو ان لوگوں نے روزہ رکھا افطار کیا تو آنحضرت نے پھر اپنے منادی کو حکم دیا کہ مسلمانوں میں ندا کر دو کہ اے مسلمانوں تم لوگ اپنے اموال میں سے زکوٰۃ ادا کرو تا کہ تمہاری نمازیں قبول کر لی جائیں ۔
               آپ نے فرمایا کہ پھر زکوٰۃ اور خراج وصول کرنے والے کارندے ان کی طرف بھیجے گئے ۔
              پس سونے پر کوئی زکوٰۃ اس وقت تک نہیں جب تک اس کی مقدار بیسں (٢٠ ) مثقال نہ پہنچ جائے اور جب اس کی مقدار بیسں مثقال پہنچ جائے تو اس پر نصف دینار ہے اور جب چوبیس مشتقال ہو جائے تو اس پر نصف دینار اور عشر (١/١٠) دینار ہے پھر اس حساب سے بیسں سے جس قدر چار چار بڑھتا جائیگا ہر چار مثقال پر ایک عشر ( ١/١٠) زکوٰۃ ہوگی یہاں تک کہ چالیس مثقال پہنچ جائے اور جب چالیس مثقال ہو تو اس پر ایک مثقال (٣٤٥ گرام) زکوٰۃ ہے ۔ 
اور چاندی پر بھی اس وقت تک کوئی زکوٰۃ نہیں جب تک اس کی مقدار دو سو درہم نہ پہنچ جائے ۔ جب اس کی تعداد دو سو (٢٠٠) درہم پہنچ جائے تو اس پر پانچ درہم زکوٰۃ ہو گی جب تک چالیس پورے نہ ہو جائیں ۔ اور روئی اور زعفران اور سبزیوں اور ترکاریوں اور پھلوں کے دانوں پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے جب تک کہ اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت پر ایک سال نہ گزر جائے ۔ اور اگر کسی شخص کے پاس پورے دو سو درہم جمع ہو گئے اور اس پر سال پورا ہو گیا اور اس میں سے اس نے پانچ درہم زکوٰۃ نکال دی اور اس کو کسی مستحق کو دیدیا مگر اس مستحق نے اس میں سے ایک درہم واپس کر دیا یہ کہکر کہ یہ کھوٹا سکہ ہے تو اس کو چاہیئے کہ وہ اس سے باقی چار درہم بھی واپس لے لے اس لئے کہ اب اس پر زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ اس کے پاس ایک کم دو سو درہم ہیں اور دو سو درہم سے کم پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔
          اور (سونے چاندی کے) ڈاوں پر زکوٰۃ نہیں ہے بشرطیکہ زکوٰۃ سے فرار کیلئے سکوں کو پکھلا کر اس کا ڈلا نہ بنوالیا گیا ہو
اگر زکوٰۃ سے بچنے کیلئے تم نے ایسا کیا ہے تو تم پر ز کوٰۃ واجب ہے ۔
اور زیورات پر زکوٰۃ نہیں ہے خواہ وہ ایک لاکھ دینار کے برابر ہوں لیکن اگر کوئی مومن اس کو عاریتاً مانگے تو اس کو عاریتاً دے دو یہی اس کی زکوٰۃ ہےاور سونے چاندی کے ڈلے پر زکوٰۃ نہیں ہے بلکہ درہم و دنیار پر زکوٰۃ ہے ۔ 

١٥٩٩ - اور زرارہ اور بکیر نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ جواہرات اور اس کے مشابہہ دیگر اشیاء پر کوئی زکوٰۃ نہیں خواہ وہ بہت زیادہ کیوں نہ ہوں ۔ 
اور چاندی کے ڈلے پر زکوٰۃ نہیں اور نہ مال یتیم پر زکوٰۃ ہے مگر یہ کہ اس سے تجارت کی جائے اگر اس سے تجارت کی جارہی ہے تو اس پر زکوٰۃ ہے اور نفع یتیم کیلئے ہو گا اور تاجر اس مال کا ضامن ہوگا ۔ اور یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ نفع ان دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا ۔
اور میرے والد رضی اللہ عنہ نے اپنے رسالے میں تحریر کیا ہے کہ کسی شخص مستحق کو رقم زکوٰۃ نصف دینار سے کم دینا جائز نہیں ہے  ۔ 

١٦٠٠ - اور محمد بن عبد الجبار نے روایت کی ہے کہ ہمارے بعض اصحاب نے احمد بن اسحاق کے ہاتھوں ایک خط حضرت امام علی النقی علیہ السلام کو تحریر کیا کہ میں زکوٰۃ کی رقم میں سے اپنے کسی نیک برادر مومن کو دو یا تین درہم دیدیا کروں ؟ آپ نے جواب میں تحریر کیا ایسا کرو ان شاء اللہ زکوٰۃ کی ادائیگی کیلئے چار چھ مہینہ کی بھی تقدیم و تاخیر (قبل از وقت اور بعد از وقت) کی بھی روایت کی گئی ہے مگر اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ جب زکوٰۃ تم پر واجب ہو اس وقت زکوٰۃ دو قبل از وقت زکوٰة دینا یا بعد از وقت زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے اس لئے کہ زکوٰۃ کا ذکر نماز کے ساتھ آیا ہے ۔ اور نماز کا قبل از وقت ادا کرنا یا بعد از وقت ادا کرنا جائز نہیں سوائے اس کے کہ اس کی قضا پڑھی جائے ۔ اسی طرح زکوٰۃ ہے اگر تم چاہتے ہو کہ اپنے مال کی زکوٰة قبل از وقت ادا کرو تا کہ کسی بنده مومن کا کام چل جائے تو ایسا کرو کہ اس کو قرض دید و اور جب زکوٰۃ کا وقت آئے تو اس قرض کو اپنی زکوٰۃ میں محسوب کرلو ۔ تاکہ تمہاری زکوٰۃ بھی محسوب ہو جائے اور تمہیں ایک مومن کو قرض دینے کا ثواب بھی مل جائے ۔

١٦٠١ - اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ قرض دینا بڑی اچھی بات ہے اگر وہ آسانی کے ساتھ واپس مل جائے تو ٹھیک اور اگر واپسی مشکل ہو تو تم اس کو اپنی زکوٰۃ میں محسوب کر لو ۔ 

١٦٠٢ - اور روایت کی گئی کہ قرض زکوٰۃ کا حامی اور مددگار ہے ۔ 
    اور اگر تمہارا کسی شخص پر قرض ہو اور وہ اس کی ادائیگی کیلئے آمادہ نہ ہو تو اگر تم چاہو تو اپنی زکوٰۃ میں محسوب کرلو ۔ اور کوئی حرج نہیں اگر کوئی شخص اپنے مال کی زکوٰۃ سے کوئی مومن غلام خریدے اور اسے آزاد کر دے اور اگر وہ آزاد کردہ کچھ مال کمانے کے بعد مر گیا تو اس کا مال مستحقین زکوٰۃ کا ہو گا اس لئے کہ وہ ان ہی کے مال سے خریدا گیا ہے ۔ 
اور اگر کوئی شخص اپنے مال کی زکوٰۃ سے اپنے باپ کو خرید کر آزاد کر دے تو یہ اس کے لئے جائز ہے ۔ 
اور اگر کسی مرد مومن کا انتقال ہو جائے اور تم چاہتے ہو کہ اس کی تجہیز و تکفین اپنے مال کی زکوٰۃ سے کرو تو وہ رقم زکوٰۃ اسکے وارثوں کو دیدو کہ وہ اسکی تجہیز و تکفین کریں اور اگر اس کا کوئی وارث نہ ہو تو تم اس کی تجہیز و تکفین کرو اور وہ رقم اپنی زکوٰۃ میں محسوب کر لو اور اگر اس کے ورثاء کو دوسرے لوگوں نے کفن وغیرہ کی قیمت دیدی ہے تو اگر تم چاہو تو تم اسکی تجہیز و تکفین اپنے پیسے سے کر دو اور اس کو اپنی زکوٰۃ میں محسوب کر لو - اور وہ رقم جو دوسروں نے اسکے ورثاء کو دیدی ہے اسے چھوڑ دو کہ وہ اپنے اخراجات میں لائیں ، اور اگر میت پر کچھ قرض ہے تو وارثوں پر اس قرض کی ادائیگی اس رقم سے لازم نہیں ہے جو تم نے یا دوسروں نے اس کے وارثوں کو دی ہے اس لئے کہ یہ میراث نہیں بلکہ یہ رقم تو اس کے مرنے کے بعد اسکے وارثوں کو ملی ہے ۔ 
اور اگر تمہاری رقم تجارت میں لگی ہوئی ہے اور تمہارے مال کی مانگ آگئی مگر تم نے اسکو فروخت نہیں کیا کہ تم اس سے زیادہ نفع کے خواہشمند ہو اور اب وہ مال تمہارے پاس ایک سال رکا رہا تو تم پر اس کی زکوٰۃ واجب ہے اگر اس مال کی مانگ نہیں آئی تو پھر تم پر اسکی زکوٰۃ لازم نہیں ہے ۔
                     اور اگر تمہارا مال تم سے غائب ہے تو تم پر اسکی زکوٰۃ بھی نہیں ہے جب تک کہ تمہارا مال تمہارے پاس واپس نہ آجائے اور آئے پر ایک سال نہ گزر جائے اور تمہارے قبضہ میں نہ رہے ۔ لیکن اگر تمہارا مال کسی ایسے شخص کے پاس ہے کہ جب تم بانگو وہ تمہیں دیدے تو اسکی زکوٰۃ تم پر لازم ہے اور اگر وہ اس کا نفع بھی تم کو پلٹائے تو اس نفع کی بھی تم پر زكوٰة لازم ہے اور اگر تم نے ایک چیز فروخت کی اور خریدار سے یہ شرط کر لی کہ وہ ایک سال یا دو سال یا اس سے زیادہ کی زکوٰۃ ادا کرے گا تو یہ تمہارے لئے جائز ہے اور تمہارے بدلے اُس پر زکوٰۃ لازم ہو گی ۔ 
              اور اگر تم نے کسی شخص سے کوئی مال قرض لیا اور وہ تمہارے پاس پورے ایک سال رہ گیا تو تم پر اسکی زکوٰۃ لازم ہے اور تم اپنے مال کی زکوٰۃ اہل ولایت کے سوا کسی غیر کو نہ دو اور اہل ولایت میں سے اپنے ماں باپ اپنی اولاد اپنے شوہر اپنی زوجہ اپنے غلام اپنے دادا اپنی دادی اور ہر اس شخص کو نہ دو جس کا نان و نفقہ تمہارے ذمہ واجب ہے ۔ اور کوئی حرج نہیں اگر اپنے مال کی زکوٰۃ اپنے بھائی اپنی بہن اپنے چچا اپنی پھوپھی اپنے ماموں اور اپنی خالہ کو دیدو ۔

١٦٠٣ - زرارہ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ ایک شخص کے پاس ایک سو ننانوے (۱۹۹) درہم اور انیسں (۱۹) دینار ہیں کیا وہ اس کی زکوٰۃ نکالے ؟ آپ نے فرمایا نہیں اس پر نہ ان درہموں کی زکوٰۃ ہے اور نہ ان دیناروں کی جب تک کہ ان کا نصاب پورا نہ ہو جائے ۔ 
                       زرارہ نے کہا کہ اور اسی طرح تمام اشیاء میں (نصاب پورا ہونے کی شرط ہے) :
                       نیز زرارہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ ایک شخص کے پاس چار (٤) اونٹ اور انتالیس (٣٩) بکریاں اور انتیسں (٢٩) گائیں ہیں کیا وہ ان سب کی زکوٰۃ ادا کرے ؟ آپ نے فرمایا نہیں وہ ان میں سے کسی کی بھی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا اس لئے کہ ان میں سے کسی کا بھی نصاب پورا نہیں ہے لہذا ان میں سے کسی کی بھی زکوٰۃ اس پر واجب نہیں ۔

١٦٠٤ - عمر بن اذنیہ نے زرارہ سے اور انہوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ اونٹوں کی پانچ سے کم تعداد پر کوئی زکوٰۃ نہیں اور جب پانچ ہوں تو نو کی تعداد تک ایک بکری زکوٰۃ ہے ۔ اور جب دس اونٹ پورے ہو جائے تو دو بکریاں اور جب ان کی تعداد پندرہ ہو جائے تو تین بکریاں اور جب بیسں ہو جائے تو چار بکریاں اور جب پچیس اونٹ ہوں تو ان کی زکوٰۃ پانچ بکریاں ہیں لیکن اگر پچیس سے ایک بھی زائد ہو تو پینتیس (٣٥) تک ان کی زکوۃ ایک بنت مخاض (اونٹ کا وہ بچہ جو دوسرے سال میں لگا ہو) ہے اور اگر اس کے پاس کوئی بنت مخاض نہ ہو تو اس کے عوض ایک ابن لبون (اونٹ کا ایک نربچہ جو تیسرے سال میں لگا ہو) دیدے ۔ اور اگر اونٹ پینتیس (٣٥) کی تعداد سے ایک بھی زائد ہو تو پینتالیس (٤٥) تک ایک بنت لبون (اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو تیسرے سال میں لگا ہو) دیدے اور اگر پینتالیس (٤٥) سے ایک بھی زائد ہو تو ساٹھ کی تعداد تک ایک حقہ (اونٹ کا مادہ بچہ جو چوتھے سال میں لگا ہو) دیدے اور اس کو حقہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اس قابل ہو گیا کہ اس پر سواری کی جائے ۔ اور اگر ساتھ سے ایک بھی زائد ہے تو پچھتر تک ایک جذعہ (وہ اونٹ جو پانچویں سال میں داخل ہو) دیدے اور اگر پچھتر سے ایک عدد بھی زائد ہے تو نوے (٩٠) کی تعداد تک دو بنت لبون (اونٹ کے دو مادہ بچے جو تیسرے سال میں لگ گئے ہوں) دیدے اور اگر نوے (۹۰) کی تعداد سے ایک بھی زائد ہو تو ایک سو بیسں (١٢٠) تک دو حقہ (وہ اونٹ جو چار سال میں داخل ہوں) اور اب اگر ایک سو بیس (۱۲۰) سے ایک بھی زائد ہو تو ہر پچاس پر ایک حقہ اور ہر چالیس پر ایک بنت لبون دیدے اور وہ شخص کہ جس پر زکوٰۃ میں ایک جذعہ (وہ اونٹ جو پانچ سال میں داخل ہو) دینا ہے جو اس کے پاس نہیں ہے لیکن اس کے پاس حقہ ہے تو وہ حقہ کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم دیدے اور جس پر حقہ واجب ہے مگر اس کے پاس نہیں ہے بلکہ جذعہ ہے تو وہ جذعہ دیدے اور زکوۃ وصول کرنے والے سے دو بکریاں یا بیس (۲۰) درہم لیلے ۔

اور جس پر بنت لبون دینا واجب ہے مگر اس کے پاس نہیں ہے بلکہ اس کے پاس حقہ ہے تو وہ اسے دے اور زکوٰۃ وصول کرنے والا اس کو دو بکریاں یا بیس درہم دے گا ۔ اور جس پر بنت لبون دینا واجب ہے مگر اسکے پاس نہیں ہے بلکہ اس کے پاس بنت مخاض ہے تو وہ اسے دے اور اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم بھی دے اور جس پر بنت مخاض دینا واجب ہے مگر اس کے پاس نہیں ہے بلکہ اس کے پاس بنت لبون ہے تو وہ اسے دیدے اور زکوٰۃ وصول کرنے والا اس کو دو بکریاں یا بیس درہم دے گا ۔ اور جس پر بنت مخاض دینا واجب ہے مگر اس کے پاس نہیں ہے بلکہ اس کے پاس نرابن لبون ہے تو اس سے ابن لبون ہی قبول کر لیا جائے گا اور وہ اس کے ساتھ کچھ اور نہ دیگا ۔ 

١٦٠٥ - ایک مرد ثقیف سے روایت کی گئی ہے اس کا بیان ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے مجھ کو بانقیا (قادسیہ) اور کوفہ کے قرب وجوار کی آبادیوں پر عامل بنایا ۔ اور حاضرین کے مجمع سے خطاب کر کے کہا کہ اپنے خراج و مالگزاری کو دیکھنا اور اسکی وصولی میں پوری کوشش کرنا ایک درہم بھی باقی نہ چھوڑنا ۔ اور اپنے علاقہ پر جانے لگنا تو مجھ سے مل کر جانا - 
                      غرض جب میں علاقہ پر جانے لگا تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ وہ جو میں نے تم سے کہا تھا وہ مصلحتاً کہا تھا (تا کہ مجوس وغیرہ ڈریں اور خراج کی وصولی میں تم کو کوئی وقت نہ ہو) دیکھنا کسی مسلمان کو یا یہودی کو یا نصرانی کو خراج کی ایک ایک درہم کی وصولی کیلئے نہ مارنا نہ پیٹنا ۔ یا ان کے وہ جانور جن سے وہ کام لیتے انہیں ایک ایک درہم کی وصولی کیلئے نہ بکوا دینا۔ اس لئے کہ ہم لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ان کے اخراجات سے جو فاضل ہے اس میں سے
لو ۔

١٦٠٦ - حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ زکوٰۃ کا مال جب تک کہ قبضہ میں نہ آجائے اس کو فروخت نہ کیا جائے ۔ اس کتاب کے مصنف علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اونٹ کو جب سے وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے ایک سال تک حوار کہتے ہیں ۔ اور جب دوسرے سال میں داخل ہو جائے تو ابن مخاض کہتے ہیں اس لئے کہ اسکی ماں پھر حاملہ ہو جاتی ہے اور جب تیرے سال میں داخل ہو جائے تو اس کو ابن لبون کہتے ہیں اس لئے کہ اس کی ماں نے پھر بچہ جنا اور اب وہ دودھ والی ہے اور جب چوتھے سال میں داخل ہو جائے تو اس کو حق اور مونث کو حقہ کہتے ہیں اس لئے کہ وہ اب اس قابل ہے کہ اس پر سوار ہوا جائے اور جب پانچویں سال میں داخل ہو جائے تو اس کو جذعہ کہتے ہیں اور جب چھٹے سال میں داخل ہو تو اسکوثنیہ کہتے ہیں اس لئے کہ اس نے اپنے دو دانت گرا دیئے ہیں اور جب ساتویں سال میں داخل ہو تو اس کو رباع کہتے ہیں اس لئے کہ اس نے اپنے رباعیہ (سامنے کے چار دانت) گرادیئے ہیں ۔ اور جب آٹھویں سال میں داخل ہو جائے تو اپنے رباعیہ کے بعد والے دانت بھی گرا دیتا ہے اور اسکو سدیس کہتے ہیں اور جب وہ نویں سال میں داخل ہو تو اس کے نئے دانت پیدا ہوتے ہیں اور اسکو بازل کہتے ہیں اور جب وہ دسویں سال میں داخل ہو تو اس کو مخلف کہتے ہیں اور اسکے بعد اسکا کوئی نام نہیں ہے ۔
            اور زکوٰۃ میں ابن مخاض سے جذعہ تک کی عمر کے اونٹ لئے جاتے ہیں اور کام کرنے والے اونٹوں پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے بلکہ صرف ان اونٹوں پر ہے جو چراگاہوں میں ہوں یا چرتے ہوں نیزان خراسانی اونٹوں پر ہے جو عربی اونٹوں کے مانند ہوں - 
اور گائے کی تعداد جب تک کہ تیسں (۳۰) نہ ہو جائے ان پر زکوٰۃ نہیں ہے اور جب ان کی تعداد تیسں (۳۰) تک پینچ جائے تو زکوٰۃ میں گائے کا یکسالہ بچہ ہے ۔ اور تیس سے زیادہ پر مزید کوئی زکوٰۃ نہیں اور جب گائے کی تعداد چالیس (٤٠) ہو جائے تو زکوٰۃ میں ایک تین سالہ بچہ دینا ہو گا پھر چالیس (٤٠) کے آگے ساٹھ (٦٠) تک مزید کچھ نہیں مگر جب تعداد ساٹھ (٦٠) ہو جائے تو ستر (۷۰) سے پہلے تک دو عدد یک سالہ بچے اور جب تعداد ستر (٧٠) ہو جائے تو اسّى (۸۰) سے پہلے تک ایک عدد ایک سالہ اور ایک عدد تین سالہ بچہ اور جب اسّی کی تعداد ہو جائے تو نوے سے پہلے تک دو (۲) عدد تین (۳) سالہ بچے اور جب تعداد پوری نوے (۹۰) ہو جائے تو اس پر تین (۳) یکسالہ گائے کے بچے ہیں ۔ اور جب گایوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جائے تو پھر یہ حساب سب ختم اور اب گایوں کا مالک ہر تیس (۳۰) پر ایک عدد یکسالہ گائے دے گا اور ہر چالیس پر ایک عدد تین (۳) سالہ گائے دے گا ۔ 
اور کام کرنے والے بیلوں پر کوئی زکوٰۃ نہیں لیکن چراگاہوں میں چرنے والے بیلوں اور گالیوں پر زکوٰۃ ہے ۔ اور ہر وہ گائے کا بچہ جو اپنے مالک کے پاس ایک سال کا پورا نہیں ہوا ہے اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے اور جب ایک سال کا پورا ہو جائے تو زکوٰۃ ( کے لئے اس کو شمار کرنا) واجب ہے ۔

١٦٠٧ - حریز نے زرارہ سے اور انہوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے راوی کا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے دریافت کیا کہ کیا بھینسوں پر بھی زکوٰۃ ہے؟ تو آپ نے فرمایا (ہاں) اسی طرح جس طرح گالیوں پر زکوٰۃ ہے ۔ 
اور بکریوں پر چالیس کی تعداد تک کوئی زکوٰۃ نہیں مگر جب اس پر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ایک سو بیس (۱۲۰) کی تعداد تک ایک بکری ہے اور جب ایک سو بیس (١٢٠) سے ایک بکری بھی زیادہ ہو جائے تو دو سو (٢٠٠) تک دو بکریاں اور جب دو سو (۲۰۰) سے ایک بکری زائد ہو جائے تو تین سو (۳۰۰) تک تین بکریوں اور جب بکریاں بہت زیادہ ہوں تو پھر یہ سب کچھ نہیں اب ہر ایک سو (١٠٠) پر ایک بکری ۔
اور زکوٰۃ وصول کرنے والا اس مقام پر جائے گا جہاں بکریاں ہیں اور بآواز بلند ندا دیگا کہ اے گروہ مسلمین کیا تمہارے مال میں اللہ تعالیٰ کا کوئی حق ہے ؟ اگر وہ لوگ کہیں کہ ہاں تو وہ حکم دیگا کہ ساری بکریوں کو نکالا جائے اور ساری بکریوں کے دو حصے کئے جائیں پھر بکریوں کے مالک کو اختیار دے گا کہ وہ ان دونوں حصوں میں سے ایک حصہ وہ اپنے لئے چن لے اور زکوٰۃ وصول کرنے والا دوسرے حصہ میں سے زکوٰۃ لے گا اور اگر بکریوں کا مالک یہ چاہے کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا اس کیلئے کوئی مخصوص بکری چھوڑ دے تو وہ یہ کر سکتا ہے اور زکوٰۃ وصول کرنے والا اسے چھوڑ کر کوئی دوسری بکری لیلے اور اگر بکریوں کا مالک یہ بھی چاہے کہ وہ خود اس کو چھوڑے اور اس کو لے تو اس کو اس کا حق نہیں ہے ۔ اور زکوٰۃ وصول کرنے والا نہ مجتمع بکریوں کو متفرق کرے گا اور نہ متفرق کو مجتمع کرے گا ۔

١٦٠٨ - اور عبد الرحمن بن حجاج نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا گوشت کھانے کیلئے رکھی ہوئی بکری یا ویسی ہی دو عدد پالی ہوئی بکریاں یا دودھ کیلئے پلی ہوئی بکری یا سانڈ چھوڑے ہوئے بکرے پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے ۔

١٦٠٩ - اور سماعہ کی روایت میں ہے کہ گوشت کھانے کیلئے بکری اور گوشت کھانے کیلئے بڑی بکری جو عموماً بکریوں میں پالی جاتی ہے اور بچہ دیتے ہوئے بکری اور سانڈ بکرے کو زکوٰۃ میں نہیں لیا جائے گا ۔

١٦١٠ - اور اسحاق بن عمار نے آنجناب سے بکری کے بچے کے متعلق سوال کیا کہ اس پر زکوٰۃ کب واجب ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جب وہ سات ماہ کا ہو جائے ۔