Skip to main content

باب: خمس

حدیث ١٦٤٤ - ١٦٦٣

١٦٤٤ - حضرت ابو الحسن امام موسی بن جعفر علیہما السلام سے ان چیزوں کے متعلق دریافت کیا گیا جو سمندر سے نکلتی ہیں جب موتی اور یاقوت اور زبرجد اور جو کان سے نکلتی ہیں جیسے سونا اور چاندی تو کیا ان سب پر زکوٰۃ ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جب اس کی قیمت ایک دینار تک پہنچ جائے تو اس پر خمس ہے ۔

١٦٤٥ - اور عبیداللہ بن علی حلبی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے خزانے کے متعلق دریافت کیا کہ اس میں کتنا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ اس میں خمس (پانچواں حصہ) ہے اور معادن میں کتنا ہے ؟ آپ نے فرمایا خمس ( پانچواں حصہ) اور سسیہ ، پیتل و لوہا جو کچھ میدانوں سے نکلتا ہے اس میں سے کتنا ؟ فرمایا ان میں سے بھی اتنا ہی لیا جائے گا جتنا سونے اور چاندی کی کان سے لیا جاتا ہے ۔

١٦٤٦ - حسن بن محبوب نے عبداللہ بن سنان سے روایت کی ہے ان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا آپ فرما رہے تھے کہ خمس نہیں ہے لیکن خاص کر کے صرف اموال غنیمت ہیں ۔ 

١٦٤٧ - احمد بن محمد بن نصر نے حضرت ابوالحسن امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے اس کا بیان ہے کہ میں نے ان جناب سے دریافت کیا کہ خزانے میں سے کتنی رقم پر خمس واجب ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جتنی پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے اتنی ہی رقم پر خمس بھی واجب ہے ۔

١٦٤٨ - محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ملاحت کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ ملاحت سے تمہاری کیا مراد ہے ؟ میں نے عرض کیا نمکین زمین میں پانی جمع ہو جاتا ہے اور پھر وہاں خشک ہو کر نمک بن جاتا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ بھی معدن کے مانند ہے اور اس میں شمس ہے میں نے عرض کیا اور گندھک اور تیل جو زمین سے نکلتا ہے ، آپ نے فرمایا یہ اور اسکے مثل تمام چیزوں میں خمس ہے ۔ 

١٦٤٩ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا بیشک اس اللہ کے سوا کوئی اللہ نہیں جس نے ہم لوگوں پر صدقہ حرام کر دیا تو ہم لوگوں کیلئے خمس کا حکم نازل فرما دیا اور لوگوں کو خمس دینا فرض ہے اور یہ ہم لوگوں کیلئے اللہ کا کرم اور تحفہ ہے اور حلال ہے ۔ 

١٦٥٠ - ابو بصیر سے روایت کی گئی ہے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا کہ کم سے کم وہ کیا چیز ہے جس سے بندہ جہنم میں داخل کر دیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا کہ جو شخص یتیم کا مال ایک درہم بھی کھائے گا وہ جہنم میں داخل ہوگا) اور ہم لوگ بھی یتیم ہیں ۔

١٦٥١ - اور زکریا بن مالک جعفی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی اللہ تعالٰی کے اس قول کے متعلق کہ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَىْءٍۢ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ (اور جان لو کہ جو نفع تم کسی چیز سے حاصل کرو تو اس میں پانچواں حصہ اللہ اور رسول ، اور رسول کے قرابتداروں اور یتیموں اور مسکینوں اور پردیسیوں کا ہے) (سورہ انفال آیت نمبر ٤١) آپ نے فرمایا کہ اللہ کا پانچواں حصہ تو یہ رسول کیلئے ہے وہ اسے راہ خدا میں صرف کریں گے اور رسول کا پانچواں حصہ تو وہ رسول کے اقربا کیلئے ہے اور ذی القربیٰ کا پانچواں حصہ تو وہ رسول کے اقربا کے لئے ہے اور یتامیٰ  سے اہلبیت رسول کے یتامیٰ مراد ہیں تو یہ چاروں حصے رسول کے قرابتداروں کے لئے ہیں اب رہ گئے مساکین اور ابن سبیل تو تم کو معلوم ہے کہ ہم لوگ صدقہ نہیں کھاتے اور یہ ہم لوگوں کیلئے حلال نہیں ہے پس یہ بھی لازماً ہمارے مساکین اور ابن سبیل کیلئے ہے - 

١٦٥٢ - اور امام رضا علیہ السلام کی توقیعات ( تحریروں) میں جو آپ نے ابراہیم بن محمد ہمدانی کو تحریر فرمایا کہ تمام اخراجات ( واجبات و مستحبات) کے بعد جو بچے گا اس میں سے خمس نکالا جائے گا ۔ 

١٦٥٣ - اور ابو عبیدہ حذّاء نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو بھی کافر ذمی کسی مسلمان سے زمین خرید کرے تو اس پر خمس ہے ۔ 

١٦٥٤ - محمد بن مسلم نے ان دونوں ائمہ میں سے کسی ایک سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگ سب سے زیادہ شدید مصیبت میں اس وقت گرفتار ہونگے جب شمس کے حقدار لوگ کھڑے ہو کر کہیں گے کہ پروردگار ہمارا حق خمس ۔ ویسے ہم لوگوں نے اپنے شیعوں کیلئے یہ حلال و مباح کر دیا ہے تاکہ ان کی ولادت طیب اور پاک ہو ۔

١٦٥٥ - اور امیرالمومنین علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص نے آکر عرض کیا یا امیرالمومنین میں نے خوب مال کمایا اور اس بات کو نہیں دیکھا کہ حلال کیا ہے حرام کیا ہے کیا میرے لئے تو بہ کی کوئی شکل ہے ؟ آپ نے فرمایا اس مال کا شمس میرے پاس لاؤ ۔ اور وہ سارے مال کا پانچواں حصہ لایا تو آپ نے فرمایا اب وہ مال تمہارا ہے جب ایک شخص نے تو بہ کرلی تو اس کے مال نے بھی اس کے ساتھ تو بہ کرئی ۔ 

١٦٥٦ - حضرت ابو الحسن علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جس سے وہ لوگ (اغیار) اس کے مال کی زکوٰۃ وصول کرتے ہیں یا اسکے مال غنیمت میں سے شمس وصول کرتے ہیں یا معادن میں سے جو کچھ نکلتا ہے اس میں سے پانچواں حصہ لے لیتے ہیں تو کیا یہ اس کی زکوٰۃ اور اس کے خمس میں محسوب ہوجائیگا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔ 

١٦٥٧ - علی بن راشد سے روایت کی گئی ہے (یہ امام علی النقی ہادی کے وکلاء میں سے تھے) کہ میں نے حضرت ابوالحسن ثالث سے عرض کیا کہ ہمارے سامنے جو چیز لائی جاتی ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ہم لوگوں کے پاس حضرت ابو جعفر علیہ السلام کی تھی ۔ تو اب میں اس کیلئے کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا جو چیز میرے والد بزرگوار کی امامت کے حوالے سے ہے وہ میری ہے اورجو چیز اسکے علاوہ ہے تو وہ از روئے کتاب خدا و سنت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میراث ہے ۔ 


١٦٥٨ - عبداللہ بن بکیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ (خدا کے فضل سے) میں اہل مدینہ میں سب سے زیادہ دولتمند ہوں مگر میں تم لوگوں میں سے کسی سے درہم قبول کرتا ہوں تو صرف اس لئے کہ تم لوگوں کی طہارت ہو جائے ۔

١٦٥٩ - یونس بن یعقوب سے روایت کی گئی ہے اس کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک قماط (بچوں کے پوتڑے بنانے والا) آپ کے پاس آیا اور عرض کیا میں آپ پر قربان ہم لوگوں کے ہاتھ بہت نفع تجارت اور بہت مال آتا ہے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ اس میں آپ کا حق ثابت ہے مگر ہم لوگ اس کے ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔ آپ نے فرمایا آجکل (تقیہ) کے دور میں اگر ہم تم لوگوں سے اس کا مطالبہ کریں تو انصاف کی بات نہ ہوگی ۔

١٦٦٠ - علی بن مہزبار سے روایت ہے اسکا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی وہ تحریر پڑھی جو آپ نے ایک شخص کے خط کے جواب میں تحریر فرمایا تھا ۔ اس میں اس نے درخواست کی تھی کہ مال خمس میں سے جو ہم نے کھایا پیا ہے اسے معاف فرما دیں ۔ تو آپ نے خود اپنے قلم سے تحریر فرمایا جس شخص کو ہمارے حق میں سے کسی شے کی شدید ضرورت ہے تو وہ اس کیلئے حلال ہے ۔

١٦٦١ - اور ابان بن تغلب نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے ایک ایسے شخص کے متعلق جو مرجاتا ہے نہ اس کا کوئی وارث ہے اور نہ غلام ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ اس آیت کے ذیل میں آئیگا يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ (تم سے لوگ مال غنیمت کیلئے پوچھتے ہیں یعنی اس کا وارث امام ہوگا) (سورہ انفال آیت نمبرا) 

١٦٦٢ - داؤد بن ب بختری نے آپ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تمام انسان ہمارے غصب کردہ حقوق سے زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن ہم نے اپنے شیعوں کیلئے اسے حلال کر دیا ۔

١٦٦٣ - حفص بن بختری نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا جبرئیل علیہ السلام نے اپنے پاؤں سے پانچ نہریں کھودیں اور ان کے پیچھے پیچھے پانی چلا ۔ فرات ، دجلہ ، مصر کا دریائے نیل ، دریائے مہران اور دریائے بلخ پس جس کی بھی ان کے پانی سے آب پاشی کی گئی وہ سب امام کا ہے ۔ دنیا کا طواف کرنے والا سمندر بحر افسیکون ہے (جو طبرستان کے اندر ہے)