Skip to main content

باب : کھیتی کاٹنے اور پھل توڑنے کا حق

حدیث ١٦٦٤ - ١٦٦٥

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَءَاتُوا۟ حَقَّهُۥ يَوْمَ حَصَادِهِ (پھلوں کے توڑنے کے دن جو اللہ کا حق ہے اسے دیدو) (سورہ اعراف  آیت نمبر ١٤١) اور وہ اس طرح کہ ایک ایک مٹھی اٹھاؤ اور ایک ایک مسکین کو (جو بھی آئے) دیتے جاؤ ۔ اور یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو جاؤ اور درخت سے پھل اتارنے کے دن ایک مٹھی کے بعد دوسری مٹھی یا لپ اٹھاؤ اور مسکینوں کو دیتے جاؤ یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو جاؤ ۔ اور زراعت کے گاہنے کے دن ایک ایک مٹھی یا لپ اٹھاؤ اور مسکینوں کو دیتے جاؤ یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو جاؤ اور باغ یا کھیت کی نگرانی کرنے والے کو اس کی معینہ اجرت دیدی جائے اور کھجور کے ناقص اور ردّی پھل چھوڑ دئے جائیں اور نگرانی کرنے کی وجہ سے اس نگران کو ایک یا دو یا تین گھچے دیدیئے جائیں اور اللہ تعالٰی کا یہ ارشاد ہے کہ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ (اسراف نہ کرو الله اسراف کرنے والے کو پسند نہیں کرتا) تو اسراف یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے مسکینوں کو سب بانٹ دے (سورہ انعام آیت نمبر٣١)

١٦٦٤ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ کھیتی رات کو نہ کاٹو درختوں کے پھل رات کو نہ اتارو ۔ بالیوں میں سے اناج نکالنا ہو تو اس کو رات کے وقت نہ نکالو۔ کھتیوں میں تخم ریزی رات کو نہ کرو اس لئے کہ جس طرح تم زراعت کاٹتے  وقت مساکین کو دیتے ہو اس طرح تخم ریزی کے وقت بھی دیتے ہو اور جب تم رات کے وقت ایسا کرو گے تو اس وقت کوئی مسکین کوئی سائل کوئی فقیر کوئی گداگر موجود نہ ہوگا ۔

١٦٦٥ - مصادف سے روایت کی گئی ہے اس نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ آپ کی زمینوں پر تھا اور لوگ کھیتی کاٹ رہے تھے کہ اتنے میں ایک سائل سوال کرتا ہوا آیا تو میں نے اس سے کہا جاؤ تمہیں اللہ روزی دیگا ۔ یہ سن کر آنجناب نے فرمایا چھی چھی یہ کہنا تم لوگوں کو مناسب نہیں جب تک کہ کم از کم تین کو نہ دے لو اور اس کے بعد دیگر سائلوں کو دو تو تمہیں اختیار ہے اور نہ دو تو اختیار ہے ۔