باب : دادو دہش اور نیکی کرنے کی فضیلت
حدیث ١٦٨٠ - ١٦٩٦
١٦٨٠ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب سے پہلے جنت میں نیکی اور اس کا کرنے والا داخل ہوگا اور وہی سب سے پہلے میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہو گا ۔
١٦٨١ - نیز آنجناب علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ دنیا میں نیکی کرنے والا آخرت میں بھی نیکی کرنے والا ہو گا ۔ اور اس کی تفسیر یہ ہے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو نیکی کرنے والوں سے کہا جائے گا کہ تم اپنی نیکیاں جس شخص کو چاہو ہبہ کر دو اور جنت میں چلے جاؤ۔
١٦٨٢ - نیز آپ نے فرمایا کہ ہر نیکی ایک صدقہ ہے اور نیک کام کا راستہ بتانے والا ویسا ہی ہے جیسا وہ نیک کام کرنے والا ہے اور کسی فریاد کرنے والے کی فریاد کو پہونچنے والے کو اللہ تعالٰی پسند فرماتا ہے ۔
١٦٨٣ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ ہر شخص کے ساتھ نیکی کرو اگر وہ اس کا اہل ہے تو ٹھیک ورنہ تم تو نیکی کرنے کے اہل ہو ۔
١٦٨٤ - نیز آنجناب علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر کسی مومن نے اپنے کسی برادر کے ساتھ حسن سلوک کیا تو گویا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حسن سلوک کیا ۔
١٦٨٥ - نیز آپ علیہ السلام نے فرمایا حسن سلوک ایسی شے ہے جو زکوٰۃ کے علاوہ ہے لہذا نیکی کر کے اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کر کے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرو ۔
١٦٨٥ - نیز آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے معروف (یعنی نیکی) کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے نام کی طرح نیک اور اچھی ہے اور نیکی کرنے سے افضل کوئی اور چیز نہیں سوائے اس نیکی کے ثواب کے اس لئے کہ اس ثواب کے مقصد سے نیکی کی جاتی ہے ۔ اور ایسا نہیں کہ جو شخص لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا چاہتا ہے وہ اسے کر بھی ڈالے اور ایسا نہیں کہ جو شخص نیکی کرنے کی طرف راغب ہے وہ اس پر قدرت بھی رکھتا ہو ۔ اور ایسا نہیں کہ ہر وہ شخص جو نیکی کرنے کی قدرت رکھتا ہو اس کو اسکا اذن بھی ملے ۔ مگر جب رغبت اور قدرت اور اذن سب جمع ہو جائیں تو طالب و مطلوب دونوں کیلئے خوش بختی مکمل ہو جاتی ہے ۔
١٦٨٧ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا انسان کو برائیوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہونے سے بچاتا ہے ۔
١٦٨٨ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بہترین صدقہ وہ ہے جو انسان خود مستغنی ہونے کے بعد کرے اور اس کو اپنے عیال سے شروع کرے ۔ اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔ اور اپنے اور اپنے اہل وعیال کے گزارے بھر اگر کوئی شخص روک لے تو اللہ کے نزدیک وہ قابل ملامت نہیں ٹھہرے گا ۔
١٦٨٩ - نیز آنجناب علیہ السلام نے فرمایا کہ برکتیں اس گھر کی طرف جس سے کار خیر ہوتا ہے اس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پہنچتی ہیں جتنی تیزی سے چھری اونٹ کے کوہان پر پہنچتی ہے یا پانی کا دھارا اپنی ڈھلان تک پہنچتا ہے ۔
١٦٩٠ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ ہر چیز کا ایک پھل ہوتا ہے اور نیکی میں پھل اس وقت آتا ہے جب اس میں جلدی کی جائے ۔
١٦٩١ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے فرمایا کہ نیکی اس وقت تک درست نہ ہوگی جب تک اس میں تین خوبیاں نہ ہوں ۔ اپنی اس نیکی کو حقیر رکھنا، اپنی نیکی کو پوشیدہ رکھنا اور نیکی کرنے میں تعمیل کرنا، اس لئے کہ جب تم اس کو حقیر سمجھو گے تو جس کے ساتھ تم نے نیکی کی ہے اس کی نظر میں اس نیکی کو تم بڑا کرلو گے ۔ اور جب تم اس کو پوشیدہ رکھو گے تو یہ تمہاری طرف سے مکمل نیکی ہوگی ۔ اور جب تم نیکی کرنے میں تعجیل کرو گے تو یہ نیکی لائق تہنیت اور مبارکباد ہوگی اور اگر اس میں یہ تینوں خوبیاں نہیں ہیں تو اس کا ثواب باطل ہو جائیگا اور وہ ضائع ہو جائیگی ۔
١٦٩٢ - اور آنجناب علیہ السلام نے مفضل بن عمر سے ارشاد فرمایا کہ اے مفضل اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ ایک شخص خوش بخت ہے یا بد بخت تو یہ دیکھو کہ وہ کس کے ساتھ نیکی کر رہا ہے اگر وہ ایسے کے ساتھ نیکی کر رہا ہے جو نیکی کا اہل ہے تو سمجھ لو کہ وہ خیر کی طرف ہے اور اگر ایسے کے ساتھ نیکی کر رہا ہے جو اسکا اہل نہیں ہے تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اس کیلئے کوئی خیرو بہتری نہیں ہے ۔
١٦٩٣ - نیز فرمایا آنجناب علیہ السلام نے کہ اللہ تعالٰی نے تمہارے اخراجات سے زیادہ جو تمہیں دیا ہے وہ اس لئے دیا ہے کہ تم اس کو وہاں صرف کرو جہاں اللہ تعالٰی نے صرف کرنے کو بتایا ہے ۔ یہ اس لئے نہیں دیا کہ تم اسکو ذخیرہ کرو ۔
١٦٩٤ - اور آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر لوگ اس طریقہ سے مال حاصل کریں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حاصل کرنے کا حکم دیا ہے اور پھر وہ مال ان چیزوں میں صرف کریں جس میں صرف کرنے کو اللہ تعالٰی نے منع کیا ہے تو یہ عمل اللہ تعالیٰ قبول نہ کرے گا اور اگر لوگ اس طریقے سے مال حاصل کریں جس طرح سے حاصل کرنے کو اللہ نے منع کیا ہے اور پھر اس مال کو ایسی چیزوں میں صرف کریں جن میں صرف کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے تو اللہ تعالیٰ کو وہ بھی قبول نہیں سوائے اس کے کہ لوگ حق پر کمائیں اور حق پر خرچ کریں ۔
١٦٩٥ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر کسی کو کسی سے کوئی نعمت ملے تو اس کو چاہیئے کہ وہ اس کا بدلہ دے اور اگر بدلہ دینے سے عاجز رہے تو اس کی تعریف و ثناء کرے اور اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اس نے کفران نعمت کیا ۔
١٦٩٦ - امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ نیکی کی راہ کاٹنے والے پر اللہ لعنت کرے تو دریافت کیا گیا کہ نیکی کی راہ کاٹنے والا کون ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ وہ شخص ہے کہ جس کے ساتھ کوئی آدمی احسان کرے اور وہ اس کے احسان کو فراموش کر دے تو (گویا) اس طرح اس نے اس آدمی کو روکا کہ آئیندہ وہ کسی اور کے ساتھ احسان نہ کرے ۔