Skip to main content

باب : سخاوت اور بخشش کی فضیلت

حدیث ١٧٠٧ - ١٧١٩

١٧٠٧ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں میں بہتر وہ لوگ ہیں جو سخی ہیں اور تم میں برے وہ لوگ ہیں جو بخیل ہیں اور برادران مومن کے ساتھ نیکی کرنا اسکی حاجت براری میں کوشش کرنا بھی خالص ایمان کی نشانی ہے اور برادران مومن کے ساتھ نیکی کرنے کو خدائے رحمن لازماً دوست رکھتا ہے ۔ اور اس میں شیطان کو نیچا دکھانا اور جہنم سے دور رہنا اور جنت میں داخل ہونا ہے ۔ پھر آپ نے جمیل سے فرمایا اے جمیل تم یہ بات اپنے غرر اصحاب تک پہنچا دو میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان میرے غرر اصحاب کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو تنگی اور خوشحالی دونوں حالتوں میں اپنے برادران مومن کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں پھر فرمایا اے جمیل جن لوگوں کے پاس زیادہ مال و دولت ہے ان کیلئے لوگوں کے ساتھ سلوک کرنا آسان ہے اور اللہ تعالٰی نے اس سلسلہ میں تنگ دست لوگوں کی مدح فرمائی ہے اور اپنی کتاب میں یہ ارشاد کیا ہے وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌۭ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِۦ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ (اور وہ لوگ اگر چہ اپنے اوپر تنگی ہی کیوں نہ ہو دوسروں کو اپنے نفس پر ترجیح دیتے ہیں اور جو شخص اپنے نفس کو حرص سے بچالے گیا تو ایسے ہی لوگ فلاح یافتہ ہیں) (سورہ حشر آیت نمبر٩)

١٧٠٨ - ایک سخی اور گناہوں میں آلودہ جوان اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے بوڑھے بخیل عابد سے ۔

١٧٠٩ - اور روایت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی فرمائی کہ سامری کو قتل نہ کرو اس لئے کہ یہ مرد سخی 
 ہے ۔

١٧١٠ - نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص کہ جو اپنے ان تمام فرائض کو ادا کر دے جو اللہ نے اس پر عائد کئے ہیں تو وہ سب سے زیادہ سخی ہے ۔ 

١٧١١ - حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جو کوئی ضمانت چاہتا ہے محمدؐ سے چار باتوں کے ساتھ جنت میں چار گھروں کی تو اسے چاہیئے کہ فقر سے نہ ڈرے اور خرچ کرے ۔ اپنے نفس کے مقابلے میں لوگوں کے ساتھ انصاف کرے دنیا میں ہر ایک کو کھلے دل سے سلام کرے ۔ بحث ، جنگ و جدال کو چھوڑے خواہ حق پر ہی کیوں نہ ہو ۔ 

١٧١٢ - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کو یقین ہے کہ اسکا عوض ملے گا وہ راہ خدا میں دل سے سخاوت کرے گا ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَمَآ أَنفَقْتُم مِّن شَىْءٍۢ فَهُوَ يُخْلِفُهُۥ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ (لوگ جو کچھ بھی اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اللہ اس کا عوض دیگا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے) (سورۃ سبا آیت نمبر ۳۹) 

١٧١٣ - اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس قول خدا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ ٱللَّهُ أَعْمَـٰلَهُمْ حَسَرَٰتٍ عَلَيْهِمْ ۖ (اس طرح اللہ ان کے اعمال کو دکھائے گا جو انہیں سرتا پا یاس ہی دکھائی دینگے) (سورہ بقرہ آیت نمبر ١٦٧) کے متعلق ارشاد فرمایا یہ وہ شخص ہے جو اپنے بخل کی بنا پر اطاعت الہی کرتے ہوئے اپنا مال خرچ نہیں کرتا اسکو بچائے رکھتا ہے پھر وہ مر جاتا ہے اور یہ مال کسی ایسے کیلئے چھوڑ جاتا ہے جو اس مال کو اطاعت الہی میں یا اللہ کی معصیت میں صرف کرتا ہے اب اگر اس نے اس کو اطاعت الہی میں صرف کیا تو وہ شخص اپنے چھوڑے ہوئے مال کو دوسرے کے ترازو میں حسرت ویاس سے دیکھتا ہے اور اگر اس نے اس مال کو معصیت الہی میں صرف کیا تو جبتک اس کا مال معصیت الہی میں صرف ہوتا رہے گا اس شخص کو اذیت ہوتی رہے گی ۔

١٧١٤ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے مال میں سے زکوٰۃ مفروضہ ادا کرتا ہے اور اپنی قوم میں عطیہ دیتا ہے وہ بخیل نہیں ہے بلکہ بخیل وہ ہے جو اپنے مال میں سے زکوٰۃ مفروضہ نہیں ادا کرتا اور اپنی قوم کے لوگوں کو عطیہ نہیں دیتا اور اسکے علاوہ دوسرے کاموں میں فضول خرچ کرتا ہے ۔ 

١٧١٥ - اور فضل بن ابی قرہ سمندی سے روایت ہے کہ اس نے کہا کہ مجھ سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ تم جانتے ہو شحیح و حریصں کون ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا وہ بخیل ہوتا ہے ۔ آپ نے فرما یا شحیح و حریصں تو بخیل سے بھی زیادہ شدید ہوتا ہے ۔ بخیل تو اپنے قبضہ میں جو مال ہے اس میں بخالت کرتا ہے اور حریصں تو غیر لوگوں کے پاس جو مال ہے اور خود اسکے پاس جو مال ہے دونوں میں حرص کرتا ہے یہاں تک کہ جو کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں دیکھتا ہے چاہتا ہے کہ وہ سب اس کا ہو جائے خواہ حلال طریقہ سے ہو یا حرام طریقہ سے اور جو کچھ اللہ نے اسے روزی دی ہے وہ اس پرقناعت نہیں کرتا ۔

١٧١٦ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کو اتنا تباہ اور کسی چیز نے نہیں کیا جتنا حرص ولالچ نے کیا ۔ پھر فرمایا کہ اس حرص و لالچ کی چال چیونٹیوں کی چال کے مانند ہے اور اس کے پھندے بھی جال کے پھندوں کے مانند ہیں ۔

١٧١٧ - اور حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کو کسی بندے کی ضرورت نہیں رہتی تو وہ اس کو بخل میں متبلا کر دیتا ہے ۔ 

١٧١٨ - اور امیر المومنین علیہ السلام نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حرص و لالچ کرنے والا ظلم کرنے والے سے زیادہ عذر رکھتا ہے تو آپ نے فرمایا تم نے غلط کہا ظالم تو کبھی تو بہ بھی کر لیتا ہے اور معافی چاہتا ہے اور ظلم سے حاصل کی ہوئی چیز اسکے مالک کو واپس کر دیتا ہے مگر حریص اور لالچی جب لالچ کرتا ہے تو زکوٰۃ و صدقہ وصلہ رحم اور مہمان کو کھانا کھلانے اور راہ خدا میں مال صرف کرنے اور نیکی کرنے کے تمام راستوں سے انکار کر دیتا ہے اور جنت پر حرام ہے کہ وہ کسی لائچی کو اپنے اندر داخل کرے ۔

١٧١٩ - اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ نجات دلانے والی چیز لوگوں کو کھانا کھلانا لوگوں کو سلام کرنا اور نماز شب ہے جبکہ سب لوگ سو رہے ہوں ۔