باب: مال زکوٰۃ ضمانت نقدین کی زکوٰۃ اور مستحق زکوٰۃ
حدیث ١٦١١ - ١٦٣١
١٦١١ - امام رضا علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ نبی تغلب نے (جو نصرانی تھے) جزیہ دینے سے انکار کیا اور حضرت عمر سے درخواست کی کہ انہیں معاف کیا جائے تو وہ ڈرے کہ یہ سب کہیں روم سے الحاق نہ کرلیں تو حضرت عمر نے ان سے صلح اس بات پر کر لی کہ جزیہ ان سے اٹھا لیا جائیگا اور ان پر دو گنی زکوٰۃ کر دی جائے گی وہ لوگ اس پر راضی ہو گئے وہ لوگ اس صلح پر قائم رہے۔ یہاں تک کہ دین حق میں طاقت آگئی ۔
١٦١٢ - اور یعقوب بن شعیب نے آنجناب سے روایت کیا کہ عشر جو ایک شخص سے وصول کیا جاتا ہے کیا وہ اس کو اپنی زکوٰۃ میں محسوب کرے ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر وہ چاہے تو ایسا کرے ۔
١٦١٣ - اور سکونی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے اور انہوں نے اپنے آبائے کرام سے اور انہوں نے حضرت علی علیہ السلام سے آپ نے فرمایا کہ عشر وصول کرنے والے نے عشر وصول کر کے جو کچھ اپنے ڈھیر میں ڈال لیا ہے تو وہ تمہاری زکوٰۃ میں شمار ہو گا اور جو نہیں ڈالا ہے وہ تمہاری زکوٰۃ میں شمار نہیں ہوگا ۔
١٦١٤ - سماعہ نے ابو بصیر سے اور انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے راوی کا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے عرض کیا کہ ایک شخص ہے جو اپنے اہل وعیال کے دو سال کے اخراجات کیلئے تین ہزار درہم چھوڑ رکھتا ہے کیا اس پر زکوٰۃ ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ وہاں موجود رہتا ہے تو اس پر زکوٰۃ ہے اور اگر غائب ہے تو اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں ۔
١٦١٥ - محمد بن نعمان احول نے آنجناب سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے اپنے مال سے زکوٰۃ نکالنے میں عجلت کی مگر مال کے ختم ہونے سے قبل زکوٰۃ دینے والا مالدار ہو گیا ؟ آپ نے فرمایا زکوٰۃ دینے والا پھر سے زکوٰۃ نکالے گا ۔
١٦١٦ - اور آنجناب سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا کہ اس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ایک ایسے آدمی کو یہ دیکھتے ہوئے دی کہ وہ مفلس اور تنگدست ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مالدار و خوشحال ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ ادائیگی زکوٰۃ اس کیلئے کافی نہیں ہے ۔
١٦١٧ - اور محمد بن مسلم نے ان ہی جناب علیہ السلام سے روایت کی اس نے آنجناب سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے اپنے مال کی زکوٰۃ کہیں بھیج دی کہ اسے تقسیم کر دیا جائے لیکن وہ درمیان میں ضائع ہو گئی تو وہ اس کی تقسیم تک اس کا ضامن ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر اسکو مستحقین مل گئے تھے اور اس نے انہیں نہیں دیا (اور دوسری جگہ بھیجا) تو وہ اس کا ضامن و ذمہ دار ہے جب تک مستحقین کو نہ پہنچا دے ۔ اور اگر اس کو زکوٰۃ کا مستحق کوئی نہیں ملا تھا جس کو یہ دیتا اس لئے اس نے دوسری جگہ بھیجا کہ مستحقین کو پہنچ جائے تو اب اس پر کوئی ذمہ داری اور ضمانت نہیں ہے اس لئے کہ رقم زکوٰۃ اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہے ۔
اور اسی طرح وہ وصی کہ جس کو وصیت کی گئی ہے وہ اس وقت تک ذمہ دار ہے کہ جس کو دینے کیلئے وصیت کی گئی وہ اس کو مل جائے اگر وہ نہ ملے تو پھر وصی پر کوئی ذمہ داری اور ضمانت نہیں ہے ۔
١٦١٨ - اور ابو بصیر نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ ایک شخص جب اپنے مال سے زکوٰۃ نکال دے اور جس قوم کو دینا ہے اس کا نام بتا دے مگر وہ رقم ضائع ہو جائے یا ان لوگوں کو بھیجے اور وہ درمیان میں ضائع ہو جائے تو اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ۔
١٦١٩ - اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیہات والوں کی نکالی ہوئی زکوٰۃ دیہات والوں میں تقسیم کیا کرتے تھے اور شہر والوں کی نکالی ہوئی زکوٰۃ شہر والوں میں تقسیم فرمایا کرتے تھے ۔ اور ان کے درمیان مساویانہ تقسیم نہیں کرتے تھے بلکہ ان میں سے جو آپ کے پاس حاضر ہوتا اسے دیتے اور جیسا دیکھتے دیتے اور اسکے لئے کوئی معینہ وقت نہ تھا ۔
١٦٢٠ - اور درست بن ابی منصور کی روایت میں ہے اس کا بیان ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس شخص کے متعلق ارشاد فرمایا جو اپنے مال کی زکوٰۃ اپنے شہر کو چھوڑ کو دوسرے شہر کو بھیجتا ہے آپ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ہے اگر وہ اس میں سے ایک تہائی یا ایک چوتھائی بھیجے ۔
١٦٢١ - اور ہشام بن حکم نے آپ سے روایت کی ہے ایک ایسے شخص کے متعلق کہ جس کو تقسیم کرنے کے لئے زکوٰۃ کی رقم دی جاتی ہے کیا اس کیلئے یہ جائز ہے کہ وہ اس رقم میں سے کچھ اپنے شہر کے علاوہ کسی دوسرے شہر کو بھی بھیج دے؟ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے ۔
١٦٢٢ - علی بن جعفر نے اپنے بھائی حضرت امام موسیٰ بن جعفر علیہما السلام سے ایک اسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو اپنے درہموں کی زکوٰۃ دینار کی شکل میں دیتا ہے اور دینار کی زکوٰۃ درہموں کی شکل میں دیتا ہے ان کی قیمت (کا اندازہ لگا کر کیا یہ اس کیلئے جائز ہے؟ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے ۔
١٦٢٣ - محمد بن خالد برقی نے حضرت ابو جعفر ثانی امام علی النقی علیہ السلام کو خط لکھ کر دریافت کیا کہ کیا گیہوں اور جو کی پیداوار میں سے جو زکوٰۃ نکالنا واجب ہے اور سونے اور درہموں پر جو زکوٰۃ واجب ہے کیا انسان کیلئے یہ جائز ہے کہ اس کے مساوی اس کی قیمت نکال دے یا یہ جائز نہیں بلکہ ہر شے کی زکوٰۃ اسی میں سے نکالنا چاہیئے؟ آپ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ ان دونوں میں سے جو اس کیلئے آسان ہو وہ کرے ۔
١٦٢٣ - عمر بن یزید نے ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے زکوٰۃ سے بچنے کیلئے کوئی زمین یا کوئی گھر خرید لیا کیا ایسا کرنا اس کے لئے موجب گناہ ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اس کی جگہ وہ زیورات یا چاندی خریدے تو بھی اس پر کوئی گناہ نہیں اس لئے کہ اس نے حق اللہ ادا نہ کر کے جو رقم بچائی ہے اس سے زیادہ اس نے اپنی رقم کو منجمد کر کے خود کو اسکے نفع سے محروم کر لیا ۔
١٦٢٥ - زرارہ اور محمد بن مسلم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جس کسی کے پاس مال ہو اور اسے رکھے ہوئے ایک سال ہو جائے تو وہ اس میں سے زکوٰۃ دے ۔ تو عرض کیا گیا کہ اور اگر وہ مال پورا ہونے سے ایک ماہ یا ایک دن پہلے وہ مال کسی اور کو ہبہ کر دے ؟ آپ نے فرمایا پھر تو اس پر کوئی زکوٰۃ لازم نہیں ہے ۔ زرارہ نے آنجناب سے یہ روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا یہ اس شخص کے مانند ہو گا جو ماہ رمضان میں ایک دن افطار کرے (روزہ نہ رکھے کچھ کھالے) پھر دن کی آخری ساعت میں سفر پر روانہ ہو جائے اور اس کی اس سفر سے یہ نیت ہو کہ وہ کفارہ باطل ہو جائے جو اس پر واجب ہو گیا ہے ۔
١٦٢٦ - حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ نو قسم کے اجناس کو (جن پر زکوٰۃ واجب ہے) اگر تم سال کے اندر ہی تبدیل کر لو تو پھر ان میں تم پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے ۔
١٦٢٧ - حضرت امام محمد باقر اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کے پاس اپنا گھر ہے ملازم ہے غلام ہے کیا وہ زکوٰۃ قبول کرے ، آپ نے فرمایا کہ ہاں اس لئے کہ گھر اور غلام مال نہیں ہے ۔
١٦٢٨ - اور کبھی کبھی اس شخص کیلئے بھی زکوٰۃ لینی حلال ہے جس کے پاس سات سو درہم ہیں اور اس شخص کیلئے حرام ہے جس کے پاس پانچ سو درہم ہیں اور یہ اس وقت کہ جب سات سو درہم والا ایسا کثیر العیال ہو کہ اگر وہ اس سات سو کو ان پر تقسیم کر دے تو وہ ان کے لئے کافی نہ ہو لہذا وہ اپنی ذات کیلئے تو زکوٰۃ نہیں لے گا اپنے اہل وعیال کیلئے لے گا ۔ اور پانچ سو درہم والے پر اس وقت زکوٰۃ لینی حرام ہے جب وہ اکیلا ہو اور کوئی ہنر جانتا ہو اور کام کرتا ہو جس سے اتنا کما لیتا ہو کہ وہ اس کے لئے کافی ہوا انشاء اللہ تعالٰی
اور شراب خوار کو مال زکوٰۃ میں سے کچھ بھی دینا جائز نہیں ہے ۔
١٦٢٩ - اور سماعہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے راوی کا بیان ہے کہ میں نے آنجناب سے عرض کیا کہ کیا ایسا شخص کہ جس کے پاس مکان ہو اور خادم ہو اس کو زکوٰۃ لینی جائز ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں مگر اس وقت نہیں کہ جب اس کا گھر غلہ کا گھر ہو اور وہ اس میں اتنا غلہ رکھتا ہو جو اس کے اور اس کے اہل وعیال کیلئے کافی ہو ۔ اور اگر اتنا غلہ نہ ہو جو خود اس کے اور اس کے عیال کے کھانے پہنے اور دیگر ضروریات کیلئے بغیر اسراف کافی نہ ہو تو اس کے لئے زکوٰۃ لینی حلال ہے ۔ اور اگر غلہ کافی ہے تو حلال نہیں ہے ۔
١٦٣٠ - اور ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جس کے پاس آٹھ سو درہم ہیں اور وہ چمڑے کے موزے بناتا اور بچتا ہے مگر وہ کثیر العیال ہے کیا وہ زکوٰۃ لے سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اے ابو محمد بتاؤ کہ کیا وہ اپنے درہموں سے اتنا نفع کما لیتا ہے کہ جس سے اس کے اہل وعیال کا خرچ چلے اور کچھ بچ بھی رہے ۔ ابو بصیر نے کہا جی ہاں ۔ آپ نے پوچھا کتنا بچ جاتا ہے ۔ ابو بصیر نے کہا یہ تو مجھے نہیں معلوم ۔ آپ نے فرمایا جتنا اسکے عیال کا خرچ ہے اس سے نصف بچ جاتا ہے تو پھر وہ زکوٰۃ نہیں لے گا ۔ اور اگر خرچ کے نصف سے کم بچتا ہے تو وہ زکوٰۃ لے گا ۔ ابو بصیر کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا اور خود اس پر اس کے اپنے مال پر زکوٰۃ لازم ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا پھر وہ کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا وہ اپنے اہل وعیال کو کھانے ، کپڑے اور اخراجات میں وسعت دے اور اس میں سے کچھ تھوڑا دوسروں کو دینے کیلئے بچا رکھے اور اس نے جو زکوٰۃ لی ہے وہ اپنے عیال پر تقسیم کر دے تاکہ یہ بھی اور لوگوں کے برابرہو جائیں۔
اور آدمی کیلئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے مال کی زکوٰۃ ایک ایسے شخص کو دیدے تاکہ وہ اب محتاج نہ رہے اور غنی ہو جائے ۔
اور یہ بھی جائز ہے کہ ایک (ہی) شخص کو ایک لاکھ دیدے ۔ اور جو شخص سوال نہیں کرتا اس کو زیادہ دے بہ نسبت اس شخص کے جو سوال کرتا ہے ۔
١٦٣١ - عبد الله بن عجلان سیکونی نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں کبھی کبھی کوئی چیز اپنے اصحاب میں حسن سلوک کے طور پر تقسیم کرتا رہتا ہوں تو تقسیم کرنے کا معیار کیا رکھوں ۔ آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے دینی رجحان وفقه و عقل و سمجھ کے معیار پر دو ۔