باب : مانعین زکوٰۃ کے متعلق جو کچھ احادیث میں وارد ہوا ہے
حدیث ١٥٨٣ - ١٥٩٥
١٥٨٣ - حریز نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا جو بھی سونے اور چاندی کا مالک ہے اگر اپنے مال میں سے زکوٰۃ دینے کو منع کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو ایک بے آب و گیاہ میدان میں قید کر دے گا اور اس پر ایک انتہائی پرانا اور زہریلا سانپ مسلط کر دے گا جو اس کو کاٹنے کیلئے دوڑائے گا اور وہ بھاگے گا مگر وہ دیکھے گا کہ اس سے فرار ممکن نہیں تو اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا دے گا اور وہ سانپ اس کو مولی کی طرح چبا جائیگا پھر طوق بن کر اس کی گردن میں پڑ جائیگا ۔ چنانچہ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا۟ بِهِۦ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ (یہ لوگ جس مال کا بخل کرتے ہیں عنقریب قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کے گلے میں پہنا دیا جائیگا) (آل عمران آیت ۱۸۰) اور جو اونٹ یا گائے ، بیل یا بھیڑ، بکری کا مالک ہے اپنے مال میں سے زکوٰۃ دینے کو منع کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک بے آب و گیاہ میدان میں قید کر دیگا اور ہر گھر والا جانور اس کو اپنے گھر سے روندے گا اور ہر درندہ اس کو اپنے دانتوں سے نوچے گا ۔ اور جو شخص کھجوروں کے درختوں یا انگور کی بیلوں یا کھیتی کا مالک ہے اور اس میں سے زکوٰۃ دینے کو منع کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے کھیت کی زمین کے سات طبقے طوق بنا کر اس کے گلے میں قیامت کے دن ڈال دیگا ۔
١٥٨٤ - معروف بن خربوذ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا تذکرہ نماز کے ساتھ ساتھ کیا ہے وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ تو جس نے نماز پڑھی اور زکوٰۃ نہیں دی تو گویا اس نے نماز بھی نہیں پڑھی ۔
١٥٨٥ - ایوب بن راشد نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ زکوٰۃ دینے سے منع کرنے والے کے گلے میں ایک انتہائی زہریلے اورانتہائی پرانے سانپ کو جس کے سرسے بال تک جھڑ گئے ہونگے طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائیگا جو اس کے دماغ کو کھاتا رہے گا ۔ اور اس کیلئے اللہ تعالیٰ کا قول ہے سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا۟ بِهِۦ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ -
١٥٨٦ - مسعدہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ملعون ہے ملعون ہے وہ شخص جو اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دے ۔
١٥٨٧ - محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو بندہ بھی اپنے مال میں سے زکوٰۃ دینے کو ذرا بھی منع کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس مال کو آگ کے اژدھے کی شکل میں قیامت کے دن بنا دیگا اور وہ اژدھا اس کی گردن میں بطور طوق لپیٹا دیا جائیگا اور جب تک وہ حساب سے فارغ نہ ہو اس کا گوشت نوچ نوچ کر کھاتا رہے گا اور اسی کیلئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا۟ بِهِۦ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ یعنی جو بخل کرے گا زکوٰۃ دینے میں ۔
١٥٨٨ - عبید بن زرارہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ جو شخص ایک درہم حق پر خرچ کرنے کو منع کرے گا اس کو باطل پر دو درہم خرچ کرنے پڑ جائیں گے ۔ اور جو شخص اپنے مال میں سے حق (زکوٰۃ) نکالنے کو منع کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی گردن میں جہنم کا ایک سانپ بطور طوق پہنا دے گا ۔
١٥٨٩ - ابان بن تغلب نے ان ہی جناب علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام میں دو (٢) خون حلال ہیں مگر اس پر عمل کوئی نہیں کرے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے قائم اہلبیت کو بھیجے گا اور جب اللہ تعالٰی ہمارے قا ئم اہلبیت کو بھیجے گا تو وہ ان دونوں پر حکم خدا جاری کرینگے ۔ یعنی وہ مرد جس کی زوجہ موجود ہے اگر وہ زنا کرے گا تو اس کو سنگسار کر دینگے اور جو زکوٰۃ دینے سے انکار کرے گا اس کی گردن مار دینگے ۔
١٥٩٠ - اور عمرو بن جمیع نے ان ہی جناب سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کوئی ایسا شخص نہیں جو زکوٰۃ ادا کرے اوراس کے مال میں کمی آجائے اور کوئی ایسا نہیں جو زکوٰۃ دینے سے انکار کرے اور اس کے مال میں زیادتی آجائے ۔
١٥٩١ - ابو بصیر کی روایت میں ہے جو انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کی ہے آپ نے فرمایا کہ جو شخص زکوٰۃ میں ایک قیراط دینے سے انکار کرے وہ نہ مومن ہے اور نہ مسلم ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَهُمُ ٱلْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ٱرْجِعُونِ لَعَلِّىٓ أَعْمَلُ صَـٰلِحًۭا فِيمَا تَرَكْتُ ۚ (یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئی تو کہنے لگے پروردگار تو مجھے پھر دنیا میں واپس کر دے تاکہ اب میں وہ عمل صالح کروں جو میں نے چھوڑ دیا تھا) (المومنون آیت نمبر ۹۹) اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس کی نماز بھی قبول نہ کی جائے گی ۔
١٥٩٢ - اور ابن مسکان نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے بیان فرمایا ایک وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے تو آپ نے پکار کر کہا اے فلاں تم یہاں سے اٹھ جاؤ اے فلاں تم یہاں سے اٹھ جاؤ اور اس طرح آپ نے پانچ آدمیوں کو پکار کر کہا کہ تم لوگ ہماری مسجد سے نکل جاؤ اس میں نماز نہ پڑھو جب کہ تم لوگ زکوٰۃ نہیں ادا کرتے ۔
١٥٩٣ - اور ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ جو شخص زکوٰۃ کی ایک قیراط دینے سے انکار کرے وہ نہ مومن ہے اور نہ مسلم وہ مرتے وقت اس بات کی تمنا کرے گا کہ وہ دوبارہ دنیا میں پلٹا دیا جائے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا قول ہے حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَهُمُ ٱلْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ٱرْجِعُونِ لَعَلِّىٓ أَعْمَلُ صَـٰلِحًۭا فِيمَا تَرَكْتُ ۚ (المومنون آیت نمبر ۹۹)
١٥٩٤ - نیز امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک وقت کی فرض نماز بیس مرتبہ حج کرنے سے بہتر ہے اور ایک حج اس گھر سے بہتر ہے جو سونے چاندی سے بھرا ہوا ہو اور اس میں سے کار خیر میں اس قدر تصدق کیا جائے کہ وہ ختم ہو جائے اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ وہ شخص فلاح نہیں پائے گا جو ہیں عدد سونے کے گھر صرف پچیس عدد درہم کی وجہ سے ضائع کر دے تو آپ سے عرض کیا گیا کہ پچیس درہم کا کیا مطلب آپ نے فرمایا جو شخص زکوٰۃ نہ دے گا اس کی نماز بھی اس وقت تک موقوف رہے گی جب تک وہ زکوٰۃ ادا نہ کر دے ۔
١٥٩٥ - نیز آنجناب علیہ السلام نے فرمایا کہ دنیا کے خشک وتر میں جو مال بھی ضائع ہوتا ہے وہ صرف زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے اور جو طائر بھی شکار ہوتا ہے وہ صرف اپنی تسبیح نہ پڑھنے کی وجہ سے ۔